بچوں کو خوددار کیسے بنائیں
تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش
الھادی انٹرنیشنل اسلامک انسٹیٹیوٹ اینڈ ریسرچ سنٹر (مندرہ گوجرخان)
گھر کے آنگن میں کھیلتے کودتے بچے بہت اچھے لگتے ہیں انہی بچوں نے بڑے ہوکر اپنی ذمہ داریاں اداکرنی ہیں ۔چنانچہ والدین پر لازم ہے کہ ان کی تعلیم و تربیت کے لیے سنجیدگی اپنائیں ۔اپنی اولادوں کو خوددار بنائیں تاکہ وہ باوقار زندگی گزار سکیں ۔اب وہ کیا طریقے اپنائے جائیں جن کی مدد سے ہم اپنی اولادوں کو خوددار بناسکتے ہیں ۔آئیے کچھ اہم مشورے ہم پیش کرتے ہیں جو آپ کے لیے معاون ثابت ہوں گے ۔
عمر کے مطابق ذمہ
داریاں فراہم کریں: Provide
Age-Appropriate Responsibilities:
اپنے بچوں کو گھر کی
چھوٹی چھوٹی ذمہ داری سونپ دیا کریں تاکہ ان کے اندر اپنے کاموں کو خود سرانجام
دینے کا شوق اور احساس ذمہ داری پیداہوسکے ۔اس وصف کی بدولت وہ اپنے کاموں میں
دوسروں پر انحصار نہیں کریں گے ۔
حرام پیشے کون کون سے ہیں ؟پڑھنے کے لیے کلک کریں
فیصلہ سازی کی حوصلہ
افزائی کریں: Encourage Decision-Making:
بچوں سے چھوٹے چھوٹے
فیصلوں میں مدد لیں ۔مثلاآپ بازار میں ہیں تو بچے سے فیصلہ لیں کہ کونساسوٹ
،کونسابرتن یا چیز لی جائے ۔بچہ اپنی رائے دے ۔اس سے بھی بچے کے اندر خودداری اور
خوداعتمادی پیداہوگی ۔
مسئلہ حل کرنا
سکھائیں: Teach Problem-Solving:
اپنے مسائل کو حل
کرنے میں بچوں کی رہنمائی کریں۔ انہیں حالات کے ذریعے سوچنے، متبادل پر غور کرنے
اور فیصلے کرنے کی ترغیب دیں۔ یہ تنقیدی سوچ اور آزادی کو فروغ دیتا ہے۔تاکہ
مستقبل میں وہ کسی انسان کے محتاج نہ رہیں بلکہ ان کی خودداری باقی رہے ۔
حقیقت پسندانہ توقعات
قائم کریں: Set
Realistic Expectations:
اپنے بچوں سے اچھی امیدیں رکھیں اور جب وہ آپ کی امید پر پورااتریں تو ان کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ ان کے اندار ایک اعتماداور خودداری کا عنصر جنم لے سکے ۔
اپنی مدد آپ کی
مہارتوں کو فروغ دیں: Foster
Self-Help Skills
چھوٹی عمر ہی سے بچوں
کو سیلف ہیلپ کا عادی بنائیں تاکہ وہ انسانوں سے امید کی بیساکھیوں پر جینے کے
عادی نہ ہوں ۔اس کی مثال یوں لے لیجئے جیسے ڈریسنگ، جوتوں کے فیتے باندھنا، اور ذاتی
حفظان صحت۔پھر آہستہ آہستہ کاموں بچے کی عمر کے حساب سے کاموں کو بڑھاتے چلے جائیں
۔بچوں میں ایک کمال کی خودداری کا وصف پیداہوجائے گا۔
ترقی کی ذہنیت کو
فروغ دیں: Promote
a Growth Mindset:
آہستہ آہستہ بچے کو
یہ بات سیکھا دیں کہ جب بھی کوئی کام کیا جاتاہے تو کبھی وہ کام ہوجاتاہے اور کبھی
وہ کام نہیں بھی ہوتا۔اس میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ اس مسئلہ کے حل کے
لیے انرجی صرف کرنی چاہیے ۔بچے کو ترقی کی
جانب بڑھنے اور اپنے زور بازو پر کوشش کا ذہن دیں ۔
سیکھنے کے مواقع
فراہم کریں: Provide
Opportunities for Learning:
بچوں کو ان کے تجربات
کو دریافت کرنے اور سیکھنے کی اجازت دیں۔ اس میں انہیں نئی سرگرمیاں آزمانے، مشاغل
کے ساتھ تجربہ کرنے، اور کامیابیوں اور ناکامیوں دونوں سے سیکھنا شامل ہو سکتا ہے۔اس
سے بچے اعتماد کے ساتھ ساتھ اپنے کام سرانجام دینے کے لیے خوداری بھی پیداہوگی ۔وہ
کاموں کو بوجھ نہیں سمجھے گا
سیکھنے میں آزادی کی حمایت: Support Independence in
Learning:
ان کی دلچسپیوں اور
تجسس کی حمایت کرکے سیکھنے کے لیے محبت کی حوصلہ افزائی کریں۔ کتابوں، تعلیمی مواد
اور تجربات تک رسائی فراہم کریں جو ان کی فکری نشوونما کو متحرک کرتے ہیں۔
انہیں خطرہ مول لینے کی اجازت دیں: Allow Them to Take Risks:
آپ احتیاط کا پہلو اپناتے ہوئے اپنے بچوں کو اپنی کوکھ میں تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ
انھیں زندگی کے مشکل حالات کے بارے میں بھی بتائیں نیز بچوں کو معقول خطرات مول
لینے کی اجازت دینے سے اعتماد اور لچک پیدا کرنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ ایک نیا کھیل
آزمانا، نئے دوست بنانا، یا کسی مشکل کام کی کوشش کر سکتا ہے۔اس سے بھی اس کی
خودداری میں اضافہ ہوگا۔
ایک معاون رہنما بنیں: Be a Supportive Guide:
ضرورت پڑنے پر رہنمائی اور مدد کی پیشکش کریں،
لیکن بچے کے لیے سب کچھ کرنے سے گریز کریں۔ صبر کریں اور انہیں تھوڑا سا جدوجہد
کرنے دیں، کیونکہ چیلنجوں پر قابو پانے بچوں میں خودداری پیداہوتی ہے۔
مالی خواندگی کو فروغ دینا: Promote Financial Literacy:
بنیادی
مالیاتی مہارتیں سکھائیں، جیسے بجٹ اور بچت۔ یہ رقم، الاؤنسز، اور سادہ مالی
فیصلوں کے بارے میں عمر کے لحاظ سے مناسب بات چیت کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔بچے کو
خرچ کرنے اور مناسب خرچ کرنے ،قناعت اور سخاوت سب ہی چیزیں سیکھائیں ۔اس سے بھی اس
میں خودداری پیداہوگی وہ معاشی فیصلوں میں کسی کا محتاج نہیں رہے گا۔
سماجی مہارتوں کی حوصلہ افزائی کریں: Encourage
Social Skills:
بچوں کے ساتھیوں کے ساتھ بات چیت اور تنازعات کو
حل کرنے کی حوصلہ افزائی کرکے سماجی مہارتوں کو فروغ دینے میں مدد کریں۔تاکہ بچے
عدم تحفظ کا شکارنہ ہوں بلکہ پورے اعتماد کے ساتھ اپنے فیصلے کرسکیں ۔
کامیابیوں کا جشن منائیں: Celebrate Achievements:
بچے کی
کامیابیوں کو تسلیم کریں اور جشن منائیں، چاہے وہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہوں۔ یہ
مثبت رویہ انہیں نئے چیلنجوں اور ذمہ داریوں کو سنبھالنے کی ترغیب دیتی ہے۔انھیں
خوددار اور غیور بھی بناتاہے
قارئین:ہماری
کوشش ہوتی ہے کہ اپنی نسل نوکی تعمیر کے لیے کوشش کی جائے ۔اس حوالے سے ہم اپنے
تجربات ،مشاہدات اور مطالعہ کی روشنی میں بچوں کی تربیت کے حوالے سے مضامین لکھتے
رہتے ہیں ۔ہماری کوشش آپ کے لیے مفید ثابت ہوتو ہماری مغفرت کی دعاکردیجئے گا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں