فرتوں کے دور میں محبت کا نبوی پیغام تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش آج کا انسان بظاہر ترقی کی بلند ترین منزلوں کو چھو رہا ہے۔ سائنس نے فاصلے سمیٹ دیے ہیں، ٹیکنالوجی نے رابطوں کو برق رفتاری عطا کر دی ہے، اور معلومات تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو چکی ہے۔ مگر ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ اسی دور میں دلوں کے فاصلے بڑھ گئے ہیں۔ زبان میں سختی، رویّوں میں تلخی، معاشروں میں تقسیم، اور افکار میں تعصب نے انسانی زندگی کو بے سکونی، انتشار اور نفرت کی آماجگاہ بنا دیا ہے۔ آج خاندانوں میں محبت کی جگہ انا نے لے لی ہے، معاشرتی تعلقات میں خلوص کی جگہ مفاد نے، اور اختلافِ رائے کی جگہ دشمنی نے۔ بالخصوص سوشل میڈیا نے جہاں اظہار کے دروازے کھولے، وہیں بدزبانی، تحقیر، تضحیک، بہتان اور نفرت انگیزی کو بھی عام کر دیا۔ ایسے پُرآشوب ماحول میں انسانیت ایک ایسے سرچشمۂ ہدایت کی محتاج ہے جو دلوں کو جوڑ دے، نفرتوں کو مٹا دے، اور انسان کو انسان سے محبت کرنا سکھا دے۔ یہ کامل، جامع اور ابدی پیغام ہمیں فقط سیرتِ طیبۂ رسولِ اکرم ﷺ میں ملتا ہے۔ آپ ﷺ کی مبارک زندگی سراپا رحمت، محبت، عفو، شفقت، حلم، رواداری اور خیر خواہی ...