مصنوعی ذہانت: ترقی کی بلند اڑان یا انسانی کنٹرول کے لیے چیلنج؟ (تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش ) (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) انسانی تاریخ میں بعض ٹیکنالوجیاں ایسی آئی ہیں جنہوں نے تہذیب کا رخ بدل دیا۔ پہیہ، طباعت، بجلی، انٹرنیٹ — اور اب مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) ۔ آج AI محض ایک سافٹ ویئر یا سہولت کا نام نہیں رہا، بلکہ یہ معیشت، طب، تعلیم، قانون، دفاع، میڈیا، حکومت، کاروبار اور روزمرہ زندگی کے ڈھانچے میں داخل ہو چکا ہے۔ اسی لیے اصل سوال یہ نہیں کہ AI مفید ہے یا مضر؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا انسان اس طاقت کو حکمت، اخلاق اور قانون کے تحت قابو میں رکھ پائے گا یا نہیں؟ جدید عالمی تحقیق بتاتی ہے کہ AI نے غیر معمولی رفتار سے ترقی کی ہے، اس کی لاگت کم ہوئی ہے، کارکردگی بڑھی ہے، اور ادارہ جاتی استعمال تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ساتھ ہی، AI سے متعلق واقعات اور نقصانات کی رپورٹیں بھی نمایاں طور پر بڑھی ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ترقی اور خطرہ دونوں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ AI کی ترقی کا سب سے روشن پہلو اس کی پیداواری صلاحیت ہے۔ Stanford HAI کے 2025 AI Index کے مطابق AI اب معیشت، حکمرانی...
سہولت کے پیچھے چھپی حیران کُن حقیقتیں تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں مصنوعی ذہانت، یعنی اے آئی، محض ایک تکنیکی ایجاد نہیں رہی بلکہ یہ معیشت، تعلیم، طب، میڈیا، روزگار، سیاست، سکیورٹی، اور انسانی فیصلوں کے ڈھانچے میں خاموشی سے داخل ہو چکی ہے۔ چند برس پہلے تک لوگ اے آئی کو ایک مددگار سافٹ ویئر سمجھتے تھے، مگر آج یہ تحریر لکھ سکتی ہے، تصویر بنا سکتی ہے، آواز کی نقل کر سکتی ہے، ویڈیو گھڑ سکتی ہے، کوڈ تیار کر سکتی ہے، طبی اشارے پڑھ سکتی ہے، اور کاروباری فیصلوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ Stanford AI Index 2025 کے مطابق 2024 میں 78 فیصد اداروں نے کسی نہ کسی درجے میں اے آئی کا استعمال رپورٹ کیا، جبکہ جنریٹو اے آئی میں عالمی نجی سرمایہ کاری 33.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ یہی نہیں، امریکہ میں نجی AI سرمایہ کاری 109.1 ارب ڈالر رہی، جو چین اور برطانیہ سے کہیں زیادہ تھی۔ اس تیز رفتار ترقی کا پہلا حیران کُن پہلو یہ ہے کہ اے آئی اب انسان کی صرف مدد نہیں کر رہی، بلکہ بعض مخصوص میدانوں میں انسان سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے۔ Stanford AI Index 2025 کے مطابق کئی تکنیکی بنچ مارکس ...