نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

پائیدار معیشت اور قناعت کا فلسفہ

پائیدار معیشت اور قناعت کا فلسفہ تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش معاشی ترقی ہر زمانے کا اہم سوال رہی ہے۔ انسان نے زمین کے سینے سے خزانے نکالے، سمندروں کی تہہ تک رسائی حاصل کی، آسمانوں میں سفر کیا، صنعتوں کے شہر آباد کیے، منڈیوں کو عالمی بنایا، تجارت کو ڈیجیٹل کر دیا، مگر اس تمام ترقی کے باوجود دل کا سکون، معاشرے کا توازن اور انسانیت کی اخلاقی سلامتی آج بھی ایک بہت بڑا سوال ہے۔ جدید دنیا دولت پیدا کرنا جانتی ہے، مگر دولت کو رحمت بنانا کم جانتی ہے۔ جدید معاشی نظام پیداوار بڑھاتا ہے، مگر خواہشات کو بھی بے قابو کر دیتا ہے۔ بازار روشن ہیں، مگر بہت سے دل اندھیرے میں ہیں۔ گھروں میں سامان بڑھ گیا ہے، مگر قناعت کم ہو گئی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سیرتِ رسول ﷺ انسانیت کو ایک ایسا معاشی فلسفہ عطا کرتی ہے جو صرف روٹی، روزگار اور تجارت کی بات نہیں کرتا، بلکہ انسان کے دل، معاشرے کے عدل، زمین کے وسائل اور آخرت کی جواب دہی کو ایک ہی اخلاقی نظام میں جوڑ دیتا ہے۔ پائیدار معیشت کا مطلب صرف یہ نہیں کہ دولت مسلسل پیدا ہوتی رہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ دولت کا بہاؤ عادلانہ ہو، وسائل ضائع نہ ہوں، کمزور محروم نہ رہیں، ...
حالیہ پوسٹس

Poverty Alleviation: مدینہ ماڈل اور آج کی دنیا

Poverty Alleviation: مدینہ ماڈل اور آج کی دنیا تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) غربت صرف خالی جیب کا نام نہیں، یہ کبھی کبھی بجھی ہوئی آنکھوں، خاموش چہروں، لرزتے ہاتھوں اور ٹوٹتے ہوئے حوصلوں کا نام بھی ہوتی ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں انسان روٹی سے پہلے عزت مانگتا ہے، کپڑے سے پہلے تحفظ چاہتا ہے، اور خیرات سے پہلے یہ خواہش رکھتا ہے کہ کوئی اسے انسان سمجھ کر دیکھے۔ دنیا نے غربت مٹانے کے لیے بڑے بڑے معاشی منصوبے بنائے، ادارے قائم کیے، اعداد و شمار مرتب کیے، بجٹ مختص کیے، مگر سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے: کیا غربت صرف پیسے سے ختم ہوتی ہے؟ یا اس کے لیے ایک ایسا نظام چاہیے جس میں انسان کی ضرورت کے ساتھ اس کی عزت، اس کے احساسات، اس کا حق اور اس کا مستقبل بھی محفوظ ہو؟ اسی سوال کا سب سے روشن جواب ہمیں مدینہ منورہ کے اس معاشرتی ماڈل میں ملتا ہے جس کی بنیاد رسول اللہ ﷺ نے رکھی۔ مدینہ صرف ایک شہر نہیں تھا، وہ ایک تصور تھا؛ ایک ایسا تصور جس میں بھوکے کو کھانا دینے کے ساتھ اسے معاشرے کا باعزت فرد بنایا گیا، بے گھر کو پناہ دینے کے ساتھ اسے بھائی چارے کا حصہ بنایا گیا، کمزور کو ...

انسانی ذہن کی ہیکنگ

انسانی ذہن کی ہیکنگ تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش   انسان ہمیشہ سے دوسرے انسان کے ذہن تک پہنچنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ کبھی خطابت کے ذریعے، کبھی اشتہار کے ذریعے، کبھی پروپیگنڈے کے ذریعے، اور کبھی تفریح کے پردے میں۔ مگر تاریخ میں پہلی بار ایک ایسی طاقت وجود میں آ چکی ہے جو انسان کے مزاج، خوف، خواہش، عادت، سیاسی رجحان، خریداری کے انداز، مذہبی حساسیت، تنہائی، غصے اور کمزوری کو ایک ساتھ پڑھ سکتی ہے؛ پھر اسی کے مطابق الفاظ، تصاویر، ویڈیوز، آوازیں اور گفتگو تیار کر سکتی ہے۔ اس طاقت کا نام ہے : مصنوعی ذہانت، یعنی اے آئی۔ یہ مضمون اے آئی کے خلاف نہیں؛ بلکہ اس بے قابو استعمال کے خلاف ہے جو انسان کو بہتر فیصلہ کرنے کے بجائے غیر محسوس انداز میں کنٹرول کرنے لگتا ہے۔ آج سوال یہ نہیں کہ اے آئی کیا کر سکتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اے آئی ہمارے ذہن کے ساتھ کیا کر رہی ہے؟ ذہن کی ہیکنگ کیا ہے؟ کمپیوٹر ہیکنگ میں کسی نظام کی کمزوری تلاش کر کے اس پر اختیار حاصل کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ذہن کی ہیکنگ میں انسان کی نفسیاتی کمزوریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے: خوف، لالچ، تنہائی، غصہ، شناخت کا بحران، شہرت کی خواہش...