تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش جدید دنیا میں انسان نے سہولت، رفتار اور معلومات کے حصول کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو اپنا سب سے قریبی ساتھی بنا لیا ہے۔ موبائل فون، سوشل میڈیا، آن لائن بینکنگ، کلاؤڈ اسٹوریج اور مصنوعی ذہانت نے زندگی کو بظاہر آسان بنا دیا ہے، مگر اسی آسانی کے پردے میں ایک خاموش مگر خطرناک حقیقت چھپی ہوئی ہے — ڈیجیٹل پرائیویسی کا زوال اور سائبر عدم تحفظ ۔یہ محض ٹیکنالوجی کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ اب یہ ایک نفسیاتی، طبی، سائنسی اور معاشرتی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ڈیجیٹل پرائیویسی سے مراد یہ ہے کہ انسان کی ذاتی معلومات—جیسے شناخت، تصاویر، پیغامات، مالی تفصیلات، لوکیشن اور خیالات—بغیر اجازت کے کسی کے استعمال، نگرانی یا تجارت کا حصہ نہ بنیں۔ مگر آج کا ڈیجیٹل صارف اکثر یہ نہیں جانتا کہ وہ جو ایک ایپ ڈاؤن لوڈ کرتا ہے، وہ اس کی زندگی کے کتنے دروازے کھول دیتا ہے۔ ہماری پسند، ناپسند، کمزوریاں اور عادات ڈیٹا کی صورت میں محفوظ ہو جاتی ہیں، اور یہی ڈیٹا بعد میں ہمارے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔ نفسیاتی پہلو: نگرانی کا خوف اور ذہنی دباؤ جب انسان کو یہ احساس ہو کہ اس کی ہر ح...
Listening Before Judging — Guidance Before Advice .................................................................................................................................. Many of us are silently carrying the weight of our struggles. Some are under mental pressure, some are confused, some ignore physical symptoms, and some simply do not know who to talk to. Through my diverse experiences, I have learned one essential truth: ............................................. 👉 No problem is small or large — ignoring it is what truly makes it serious. As a writer, researcher, general physician, and counselor, my approach is to listen, to understand, and to offer practical guidance — without judgment, without lectures. If you are experiencing mental stress, health-related confusion, or simply feel the need to talk, please remember: you are not alone. Sometimes, a simple conversation can significantly lighten the burden. With the same spirit of service, I also offer guidance i...