جدید دنیا میں جینے کا ہنر تحریر:ڈاکٹر ظہوراحمد دانش دنیا ہمیشہ بدلتی رہی ہے، لیکن آج کے دور میں تبدیلی کی رفتار پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہوچکی ہے۔ ٹیکنالوجی، معیشت، تعلیم، روزگار، تعلقات، میڈیا، سوچنے کے انداز، اور یہاں تک کہ روزمرہ زندگی کے طریقے بھی مسلسل تبدیل ہورہے ہیں۔ ایسے میں صرف وہی لوگ مضبوطی سے آگے بڑھتے ہیں جو وقت کے ساتھ خود کو بہتر بناتے رہتے ہیں۔ جو انسان سیکھنے، سمجھنے اور حالات کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا ہنر جانتا ہے، وہ نہ صرف پیچھے رہنے سے بچتا ہے بلکہ نقصان، بے یقینی اور محرومی سے بھی کافی حد تک محفوظ رہتا ہے۔ جدید دنیا میں جینے کا ہنر صرف یہ نہیں کہ انسان نئی چیزیں استعمال کرنا سیکھ لے، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ وہ اپنی فکر، عادت، کردار، مہارت اور ترجیحات کو بھی زمانے کے تقاضوں کے مطابق درست کرے۔ اس مضمون میں ہم اسی بات کو ایک مستند اور فکری انداز میں سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ آج کے دور میں خود کو اپ ڈیٹ رکھنا کیوں ضروری ہے، اور اس کے عملی طریقے کیا ہیں۔ تبدیلی کو خطرہ نہیں، حقیقت سمجھنا ہوگا بہت سے لوگ زمانے کی تبدیلی کو محض ایک فیشن یا وقتی رجحان سم...
مصنوعی ذہانت کے حیران کن خطرات مصنوعی ذہانت کے بارے میں اکثر گفتگو روزگار، خودکار ہتھیاروں یا ڈیپ فیک تک محدود رہتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے کچھ ایسے پہلو بھی ہیں جن پر عام طور پر کم بات ہوتی ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق اگر اے آئی کا استعمال بغیر مناسب نگرانی کے بڑھتا رہا تو مستقبل میں ایسے حیران کن اور پیچیدہ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں جو انسانی تہذیب کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اے آئی کا خود سے نئے علم اور حکمتِ عملی پیدا کرنا ایک دلچسپ اور قدرے خوفناک پہلو یہ ہے کہ جدید اے آئی سسٹمز بعض اوقات ایسے طریقے سیکھ لیتے ہیں جو انسانوں نے انہیں براہِ راست نہیں سکھائے ہوتے۔ مثال کے طور پر : کچھ اے آئی پروگرامز نے شطرنج اور پیچیدہ گیمز میں ایسی نئی حکمتِ عملی دریافت کی جو پہلے کسی انسانی کھلاڑی نے استعمال نہیں کی۔ بعض تحقیقی تجربات میں اے آئی نے مسئلہ حل کرنے کے لیے بالکل غیر متوقع طریقے اختیار کیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں اے آئی ایسے فیصلے بھی کر سکتی ہے جنہیں انسان مکمل طور پر سمجھ نہ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس مسئلے ک...