عورت کائنات کا
حیرت انگیز کردار
تحریر: حافظہ نورالایمان بنت ظہور حمد
)دوٹھلہ
نکیال آزاد کشمیر(
عورت محض کائنات کا ایک کردار نہیں،
بلکہ انسانی تہذیب کی خاموش معمار، جذبات کی ترجمان اور نسلوں کے مستقبل کی امین
ہے۔ وہ کبھی ماں بن کر زندگی کو جنم دیتی ہے، کبھی بیٹی بن کر گھر میں رحمت کی
خوشبو بکھیرتی ہے، کبھی بہن بن کر محبت کا حصار قائم کرتی ہے اور کبھی شریکِ حیات
بن کر زندگی کے دشوار راستوں کو سکون اور رفاقت سے روشن کردیتی ہے۔
عقل یہ تسلیم کرتی ہے کہ جس ہستی کی
تربیت سے انسان کا کردار تشکیل پاتا ہو، اسے کمزور یا غیر اہم قرار دینا خود
انسانی عقل کی توہین ہے۔ ایک تعلیم یافتہ، باکردار اور ذہنی طور پر مضبوط عورت صرف
اپنی زندگی نہیں سنوارتی؛ وہ ایک خاندان، ایک نسل اور بالآخر پورے معاشرے کی فکری
سمت بدل سکتی ہے۔
نفسیات بتاتی ہے کہ انسان کی شخصیت کی
بنیاد ابتدائی تعلقات، جذباتی تحفظ، گفتگو اور تربیت سے بنتی ہے۔ اس عمل میں ماں
اور خاندان کی دیگر خواتین کا کردار اکثر نہایت گہرا ہوتا ہے۔ عورت کی ہمدردی،
جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت، صبر اور تعلقات کو جوڑنے کی قوت معاشرتی استحکام کا
اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔ تاہم عورت کی عظمت صرف قربانی یا ممتا تک محدود نہیں؛ وہ
علم، قیادت، تجارت، تحقیق، ادب اور تخلیق کے میدان میں بھی اپنی ذہانت اور صلاحیت
ثابت کرتی ہے۔
سائنس عورت کے جسم کو کمزوری نہیں
بلکہ غیر معمولی حیاتیاتی نظم کا مظہر قرار دیتی ہے۔ حمل، ولادت اور بچے کی پرورش
کے مراحل میں جسمانی اور ہارمونی تبدیلیوں کا پیچیدہ نظام قدرت کی حیرت انگیز حکمت
کو ظاہر کرتا ہے۔ مگر عورت کی قدر کا پیمانہ صرف ماں بننا نہیں؛ ہر عورت اپنی فطری
صلاحیت، علم، کردار اور انسانی وقار کے اعتبار سے قابلِ احترام ہے۔
اسلام نے عورت کو مرد کی ملکیت نہیں
بلکہ ایک مکمل، ذمہ دار اور باوقار انسان قرار دیا۔ قرآن فرماتا ہے کہ تمام انسان
ایک ہی جان سے پیدا کیے گئے:
“تمہیں ایک جان سے پیدا کیا”
(سورۃ النساء: 1)۔
ایک اور مقام پر مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایک دوسرے کا مددگار قرار دیا گیا
ہے (سورۃ التوبہ: 71)۔ ازدواجی رشتے کی بنیاد بھی غلبہ نہیں بلکہ سکون، محبت
اور رحمت بتائی گئی ہے (سورۃ الروم: 21)۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: “تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو۔”
(جامع ترمذی)
عورت کو عزت دینا کسی پر احسان نہیں،
بلکہ عدل کا تقاضا ہے۔ اسے تعلیم، تحفظ، اظہار اور ترقی کے جائز مواقع دینا دراصل
معاشرے کے مستقبل کو مضبوط بنانا ہے۔ جس گھر میں عورت کی آواز دبائی جاتی ہے، وہاں
اکثر ایک فرد نہیں بلکہ پوری نسل کی صلاحیت خاموش ہوجاتی ہے؛ اور جہاں عورت کو
علم، احترام اور اعتماد ملتا ہے، وہاں تہذیب پروان چڑھتی ہے۔
عورت پھول ضرور ہے، مگر صرف سجاوٹ کے
لیے نہیں؛ وہ خوشبو بھی ہے، بیج بھی اور نئی بہار کا امکان بھی۔ وہ نرم ہے مگر بے
بس نہیں، حساس ہے مگر کم عقل نہیں، باحیا ہے مگر بے اختیار نہیں۔ عورت کی اصل خوب
صورتی اس کے چہرے سے زیادہ اس کے کردار، شعور، ایمان اور حوصلے میں پوشیدہ ہے۔
لہٰذا عورت کو کمزور سمجھنے کے بجائے اس کی قوت کو پہچاننا چاہیے، اسے محدود کرنے کے بجائے باوقار مواقع دینے چاہییں اور اس سے صرف قربانی کا مطالبہ کرنے کے بجائے اس کے خوابوں کا احترام بھی کرنا چاہیے؛ کیونکہ ایک باوقار عورت صرف اپنا مقدر نہیں بدلتی، وہ پوری کائناتِ انسانی کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں