انسانی لباس کی تاریخ اسلام کی روشنی میں(حصہ دوم)
تحریر:ڈاکٹر ظہوراحمددانش
(دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر )
آپ لباس پہنتے ہیں ۔مختلف علاقوں ،شہروں ،ممالک کےلوگ جداجدا
لباس پہنتے ہیں ۔ہم اس سے قبل اپنا ایک مضمون’’‘انسانی لباس کی تاریخ (حصہ اول) ‘آپ کے مطالعہ کے لیے اپنے بلاک
https://islamicrevolutionpk.blogspot.com/
پر پیش کرچکے ہیں ۔آپ اس مضمون کو بھی ضرور پڑھ لیجئے گا۔
قارئین:
لباس ہی کے موضوع کا یہ دوسرااہم مضمون پیش خدمت ہے ۔چیزوں
کی کھوج اور ان کی اصل جانناآپ کا فطری حق ہے ۔مگر اس کے لیے یہ بات بھی ذہن نشین
کرلیں کہ آپ کی ریسرچ اور تحقیق تعصب اور
جانبدار نہ ہو۔بلکہ تحقیق کے معیار پر پوری پوری اترے ۔تاکہ آپ کسی علمی خیانت کا
شکار نہ ہوسکیں ۔
ہم نے مختلف direction سے انسانی لباس کو اسٹڈی کیا تو ہمیں اس حوالے سے ایسی source of knowledgeدركار تھی ۔جس کی دیانت ،علمی مواد اور اس کے موقف کی سند بھی کمادرجے کی ہو۔چنانچہ میں نے اپنے طاقت و قدرت کے مطابق سوشل میڈیا،ویب سائٹس ،میگزین ،جرائد ،جنرل ہسٹری ،سوشل ،ہسٹری کی کتب کا مطالعہ بھی کیا۔کچھ باتیں ہم نے آپ کے سامنے اپنے پہلے مضمون میں بیان کردی تھیں ۔
قارئین :
To the best of my ability, I came to a final conclusion۔
وه نتیجہ
یہ نکلا کہ انسانی لباس کے بارے میں ایک ایسا ریفرنس ایک ایسی معلومات مستند ترین
کتاب جس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش بھی نہیں اور جو ذات اس معلومات کو دینے والی
ہے وہ ذات بھی کائنات کے خالق و مالک کی ذات ہے اور جن کے ذریعہ یہ message پہنچ
رہاہے وہ بھی کائنات کی سب سے سچی ذات ہیں ۔آپ سمجھ تو گئے ہوں گے ۔میں بات
کررہاہوں ۔اسلام اور اسلام کا بہترین ماخذقرآن ہے ۔
چنانچہ میں نے قرآن سے لباس انسانی کو سمجھنے کے لیے مدد
طلب کی تو قرآن نے میری بہترین مدد فرمائی ۔پھر احادیث کے مستند ترین مواد نے میرے لیے مزید آسانیاں
پیداکردیں ۔
قارئین:
آئیے اسلام کی روشنی میں لباس انسانی کی تاریخ اور لوازمات
کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔
خالق
کائنات ،مالک شش جہات ،خالق ،رازق ،مالک رب کے لاریب کلام قرآن مجید میں ارشاد
ہوا:
یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ
اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًاؕ-وَ لِبَاسُ التَّقْوٰىۙ-ذٰلِكَ
خَیْرٌؕ-ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ
اے آدم کی اولاد بیشک
ہم نے تمہاری طرف ایک لباس وہ اُتارا کہ تمہاری شرم کی چیزیںچھپائے اور ایک وہ کہ
تمہاری آرائش ہو اور پرہیزگاری کا لباس وہ سب سے بھلا یہ اللہ کی نشانیوں میں سے
ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں۔
قارئین:
آپ اگرNon-muslim ہیں
۔آپ غیر متعصب شخص کی حیثیت سے خالصتااسٹڈی
کاذہن رکھ کر ہماری اس کوشش کریں گے تو ہم پورے یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ آپ پر
حق واضح ہوجائے گا۔
اللہ
کریم نے ہماری پیش کردہ آیت میں ۔{ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ:اے آدم کی اولاد۔} اے اولادِ آدم ! کے الفاظ سے
خطاب کیا جارہا ہے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور
حضرت حوا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْھا کو جنت
سے زمین پر اترنے کا حکم دیا اور زمین کو ان کے ٹھہرنے کی جگہ بنایا تو وہ تمام
چیزیں بھی ان پر نازل فرمائیں جن کی دین یا دنیا کے اعتبار سے انہیں حاجت تھی۔ اُن
میں سے ایک چیز لباس بھی ہے جس کی طرف دین اور دنیا دونوں کے اعتبار سے حاجت ہے۔
دین کے اعتبار سے تو یوں کہ لباس سے ستر ڈھانپنے کا کام لیا جاتا ہے کیونکہ سترِ
عورت نماز میں شرط ہے اور دنیا کے اعتبار سے یوں کہ لباس گرمی اور سردی روکنے کے
کام آتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے جس کا ذکر اس
آیت میں فرمایا۔
پیارے قارئین:
اگر آپ
پوری توجہ کے ساتھ اس آیت کو پڑھیں توآپ کو معلوم ہوگاکہ اللہ تعالیٰ نے تین طرح کے لباس
اتارے دو جسمانی اور ایک روحانی۔ جسمانی لباس بعض تو سترِ عورت کے لئے اور بعض
زینت کے لئے ہیں ، یہ دونوں اچھے ہیں اور روحانی لباس ایمان، تقویٰ، حیا اور نیک
خصلتیں ہیں۔ یہ تمام لباس آسمان سے اترے ہیں کیونکہ بارش سے روئی اون اور ریشم
پیدا ہوتی ہے، یہ بارش آسمان سے آتی ہے اور وحی سے تقویٰ نصیب ہوتا ہے اور وحی
بھی آسمان سے آتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ لباس صرف انسانوں کے لئے بنا یا گیا
اسی لئے جانور بے لباس ہی ہوتے ہیں۔
جی قارئین :
کچھ بات
سمجھ آئی ؟امید ہے کہ بنیادی بات تو سمجھ ہی گئے ہوں گے ۔
ایک
جملے میں لباس کو سمجھ لیجئے :’’ہر وہ چیز جو انسان کی بری اور ناپسندیدہ چیز کو
چھپا لے اسے لباس کہتے ہیں‘‘
یعنی
لباس انسان کے لیے لازم جُز ہے ۔بے لباس انسان
بے وقار طرز زندگی گزار
رہاہوتاہے ۔لباس اس کی ضرورت بھی ہے اوراس میں اس کا وقار و حسن بھی ہے ۔
آپ
دنیا کی تمام ذہین ترین قابل ترین personality كو پڑھ لیں ،سمجھ
لیں ،سُن لیں ۔لیکن ان میں آپ کو کہیں نہ کہیں کوئی کہنے والے ،بولنے والے ،سمجھانے
والے کی شخصیت یاپھر اس کے موقف میں کہیں نہ کہیں کوئی بشری کمزوری( Human weakness )نظر آئے گی
یاپھر آپ محسوس کررہے ہوں گے ۔
لیکن میں لباس اور لبادے کے حوالے سے اس کائنات کی authentic personality کی زندگی پیش کردیتاہوں کہ
انھوں نے کیسا انسانی لباس اختیار کیا۔
آئیے :یہ بھی جان لیتے ہیں ۔
کائنات
کی عظیم اور معتبر ترین ہستی حضرت محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
کے لباس کی بات کریں تو آپ ﷺ نے زیادہ تر سوتی لباس پہنتے تھے اون اور روئی کا
لباس بھی کبھی کبھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے
استعمال فرمایا۔ لباس کے بارے میں کسی خاص پوشاک یا امتیازی لباس کی پابندی نہیں فرماتے
تھے۔ جبہ، قبا، پیرہن، تہبند، حلہ، چادر، عمامہ، ٹوپی، موزہ ان سب کو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے زیبِ تن فرمایا ہے۔
(سیرت
مصطفٰی، شمائل وخصائل، ص۵۸۱)
یہ بات
بھی ملتی ہے کہ :
محسن
انسانیت ﷺجب نیا کپڑا پہنتے تو اُس کا نام
لیتے عمامہ یا قمیص یا چادروغیرہ ۔یعنی اس لباس کو نام سے بھی موسوم فرمادیاکرتے ۔
قارئین
:
انسانی
لباس کی تاریخ (History
of human clothing)اسلام کے aspect سے ہم نے
پیش کرنے کی کوشش کی ۔ہم نے تو اپنے حصے کی کوشش کی ہے کہ بات آسان اور پوری
دیانت کے ساتھ آپ تک پہنچ سکے ۔ہم کس حد تک کامیاب ہوئے ۔یہ تو آپ ہی بتاسکتے
ہیں ۔
ہماری کوشش آپ کی زندگی میں کسی بہتری کا باعث بنے تو
ہماری مغفرت کی دعاضرور کردیجئے گا۔
کامنٹ باکس میں اپنی قیمتی رائے دیجئے۔تاکہ ہم بہتر سے
بہترین کی جانب گامزن ہوسکیں ۔
نوٹ:
آپ طبی مشوروں ،کیرئیر کونسلنگ ، آن لائن شارٹ کورسسز کے
لیے ہم سے رابطہ کرسکتے ہیں ۔یادرہے ۔آپ ویڈیوز کی صورت میں علمی و تحقیقی باتیں
جاننے کے خواہش مند ہیں تو آپ ہمارے یوٹیب چینل {DrZahoorDanish}چینل کو وزٹ کیجئے ۔
رابطہ نمبر: 03462914283/وٹس ایپ:03112268353
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں