نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

۔ تعلیم سے روزگار تک کا سفر



۔ تعلیم سے روزگار تک کا سفر 

ہاتھ میں ڈگری تھی، آنکھوں میں خواب تھے اور دل میں ایک یقین—کہ اب زندگی بدلنے والی ہے۔مگر جب وہ جامعہ کے دروازے سے نکل کر عملی دنیا میں داخل ہوا تو سامنے ایک ایسا سوال کھڑا تھا، جو کتاب کے کسی صفحے پر موجود نہیں تھا:

آپ نے پڑھا کیا ہے؟” سے زیادہ اہم سوال یہ تھا: “آپ کر کیا سکتے ہیں؟

یہیں سے تعلیم کا ایک نیا باب شروع ہوتا ہے۔کیونکہ درس گاہ سے سند حاصل کرنا سفر کا اختتام نہیں، بلکہ تعلیم سے روزگار تک کے اصل سفر کا آغاز ہے۔دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ عالمی ادارۂ محنت کے مطابق نوجوان پہلے کی نسبت زیادہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں؛ 2000ء میں دنیا کے تقریباً 38 فیصد نوجوان تعلیم یا تربیت میں شامل تھے، جبکہ 2023ء میں یہ شرح بڑھ کر تقریباً 48 فیصد ہوگئی۔ لیکن اسی کے ساتھ ایک نیا مسئلہ بھی نمایاں ہوا ہے: بہت سے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی قابلیت اور دستیاب ملازمتوں کی ضروریات ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ ترقی پذیر معیشتوں میں بڑی تعداد ایسے نوجوانوں کی ہے جن کی تعلیمی قابلیت ان کے کام سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ تعلیم کی اہمیت کم ہوگئی ہے؛ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تعلیم کا مفہوم وسیع ہوگیا ہے۔آج کامیابی صرف یہ نہیں کہ انسان کے پاس ڈگری ہو؛ کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنے علم کو مسئلہ حل کرنے، گفتگو کرنے، فیصلے کرنے، نئی ٹیکنالوجی استعمال کرنے، ٹیم کے ساتھ کام کرنے اور عملی نتیجہ پیدا کرنے کی صلاحیت میں بدل سکے۔ورلڈ بینک بھی اکیسویں صدی کی افرادی قوت کے لیے بنیادی علمی صلاحیت، مسئلہ حل کرنے کی اہلیت، سماجی و جذباتی مہارت، فنی و کاروباری قابلیت اور ڈیجیٹل مہارتوں کو اہم قرار دیتا ہے۔

یوں سمجھیے کہ تعلیم انسان کو راستہ دکھاتی ہے، مگر مہارت اسے اس راستے پر چلنا سکھاتی ہے۔ایک طالبِ علم اگر دورانِ تعلیم ہی اپنے شعبے کی عملی دنیا سے واقفیت پیدا کرے، تربیتی مواقع حاصل کرے، چھوٹے منصوبوں پر کام کرے، تجربہ کار لوگوں سے سیکھے، اپنی گفتگو اور پیشہ ورانہ رویّے کو بہتر بنائے اور بدلتی ٹیکنالوجی سے خود کو جوڑے رکھے تو اس کے لیے تعلیمی ادارے سے روزگار کی دنیا میں قدم رکھنا نسبتاً آسان ہوجاتا ہے۔

اسی لیے عملی تربیت، شاگردی، پیشہ ورانہ رہنمائی اور کام کے دوران سیکھنے کے مواقع کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے۔ عالمی ادارۂ محنت کے مطابق فنی مہارت کے ساتھ بنیادی قابلِ روزگار صلاحیتیں اور عملی تجربہ نوجوانوں کے لیے ملازمت کے امکانات بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔لیکن اس سفر کا ایک اور پہلو بھی ہے۔

روزگار کا مطلب صرف نوکری تلاش کرنا نہیں؛ بعض اوقات روزگار پیدا کرنا بھی ہوتا ہے۔وہ نوجوان جو کسی مسئلے کو کاروباری موقع میں بدلنا سیکھتا ہے، جو اپنی مہارت کے ذریعے کوئی خدمت فراہم کرسکتا ہے، جو چھوٹے پیمانے سے آغاز کرکے قدر پیدا کرسکتا ہے—وہ صرف اپنی زندگی نہیں بدلتا بلکہ ممکن ہے کل کسی دوسرے شخص کے لیے بھی روزگار کا ذریعہ بن جائے۔ عالمی ادارۂ محنت کی تحقیق بھی ظاہر کرتی ہے کہ مہارتوں کی تربیت اور کاروباری معاونت پر مبنی پروگرام نوجوانوں کے روزگار کے نتائج کو بہتر بنانے میں مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں۔

اسی لیے طالبِ علمی کے زمانے میں ایک سوال ضرور اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے:

میں ڈگری لے کر کہاں جاؤں گا؟

مگر اس سے بھی پہلے ایک اور سوال:

جب میں وہاں پہنچوں گا تو میرے پاس دینے کے لیے کیا ہوگا؟

کوئی ایسی مہارت؟!!کوئی ایسا تجربہ؟!!کوئی ایسا کردار؟!!کوئی ایسا حل؟!!کوئی ایسی قابلیت جس کی دنیا کو ضرورت ہو؟

جس دن نوجوان ان سوالوں کے جواب تلاش کرنا شروع کردیتا ہے، اسی دن اس کا تعلیمی سفر روزگار کے سفر میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔تعلیم ذہن کو روشن کرتی ہے، مہارت ہاتھوں کو طاقت دیتی ہے، تجربہ اعتماد پیدا کرتا ہے اور کردار انسان کو قابلِ اعتبار بناتا ہے۔ جب یہ چاروں جمع ہوجائیں تو ایک سند یافتہ نوجوان صرف ملازمت کا امیدوار نہیں رہتا، بلکہ ایک قابل، باوقار اور مفید پیشہ ور انسان بن جاتا ہے۔

اور شاید کامیابی کا اصل راز بھی یہی ہے:

مستقبل ان لوگوں کا انتظار نہیں کرتا جو صرف سند لے کر دروازہ کھٹکھٹاتے رہیں؛ مستقبل دروازے ان کے لیے کھولتا ہے جو علم کے ساتھ ہنر، خواب کے ساتھ محنت اور خواہش کے ساتھ تیاری لے کر نکلتے ہیں۔لہٰذا تعلیم مکمل ہونے پر یہ نہ کہیے: اب میری پڑھائی ختم ہوگئی۔بلکہ خود سے کہیے:!! اب میرے علم کے امتحان کا وقت شروع ہوا ہے۔

کیونکہ کمرۂ جماعت سے نکلنے والا ہر راستہ روزگار تک نہیں پہنچتاروزگار تک وہی راستہ پہنچتا ہے جس پر علم کے ساتھ مہارت، تجربہ، مسلسل سیکھنے کا جذبہ اور آگے بڑھنے کا حوصلہ بھی سفر کررہا ہو۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورت کائنات کا حیرت انگیز کردار

عورت کائنات  کا حیرت انگیز کردار تحریر: حافظہ نورالایمان  بنت ظہور حمد ) دوٹھلہ نکیال آزاد کشمیر ( عورت محض کائنات کا ایک کردار نہیں، بلکہ انسانی تہذیب کی خاموش معمار، جذبات کی ترجمان اور نسلوں کے مستقبل کی امین ہے۔ وہ کبھی ماں بن کر زندگی کو جنم دیتی ہے، کبھی بیٹی بن کر گھر میں رحمت کی خوشبو بکھیرتی ہے، کبھی بہن بن کر محبت کا حصار قائم کرتی ہے اور کبھی شریکِ حیات بن کر زندگی کے دشوار راستوں کو سکون اور رفاقت سے روشن کردیتی ہے۔ عقل یہ تسلیم کرتی ہے کہ جس ہستی کی تربیت سے انسان کا کردار تشکیل پاتا ہو، اسے کمزور یا غیر اہم قرار دینا خود انسانی عقل کی توہین ہے۔ ایک تعلیم یافتہ، باکردار اور ذہنی طور پر مضبوط عورت صرف اپنی زندگی نہیں سنوارتی؛ وہ ایک خاندان، ایک نسل اور بالآخر پورے معاشرے کی فکری سمت بدل سکتی ہے۔ نفسیات بتاتی ہے کہ انسان کی شخصیت کی بنیاد ابتدائی تعلقات، جذباتی تحفظ، گفتگو اور تربیت سے بنتی ہے۔ اس عمل میں ماں اور خاندان کی دیگر خواتین کا کردار اکثر نہایت گہرا ہوتا ہے۔ عورت کی ہمدردی، جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت، صبر اور تعلقات کو جوڑنے کی قوت معاشرتی استحکام...

پرامٹ انجئیرنگ کی عملی ورکشاپ اور مشقیں

پرامٹ انجئیرنگ کی عملی ورکشاپ اور مشقیں تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) پرامپٹ انجینئرنگ صرف پڑھنے سے نہیں آتی — یہ ویسا ہی ہے جیسے ڈرائیونگ کی کتاب پڑھ لینے کے بعد بھی اسٹیئرنگ پکڑنا ضروری ہوتا ہے۔اس باب میں ہم عملی مثالوں اور مشقوں کے ذریعے یہ فن آپ کے ہاتھ میں دیں گے، تاکہ آپ آج سے ہی بہتر پرامپٹ لکھنا شروع کر دیں۔ تعلیمی سبق تیار کرنا مقصد : AI سے ایسا سبق تیار کروانا جو ایک استاد کلاس میں استعمال کر سکے۔ پرامپٹ مثال : " آٹھویں جماعت کے لیے سورۃ الفیل کی تشریح تیار کرو، آسان اردو میں، ہر آیت کے بعد مفہوم اور اس سے ملنے والا سبق لکھو " بلاگ آرٹیکل رائٹنگ اس میں ہم کنٹینٹ رائٹنگ میں پرامپٹ کی طاقت کو آزماتے ہیں اور پھر اسی طرز پر اس کے نتائج حاصل کرتے ہیں۔ پرامپٹ مثال : " گرمیوں میں پانی زیادہ پینے کی اہمیت پر 500 الفاظ کا بلاگ لکھو، طبی فوائد اور اسلامی نقطہ نظر کے ساتھ " سوشل میڈیا مہم ڈیزائن کرنا اب ہم مارکیٹنگ میں AI کا استعمال کرکے اپنے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ پرامپٹ مثال : " عیدالفطر کے موقع پر ک...

نوجوانوں کے لیے امید بھرا پیغام

Life is a race, in which some get tired and stop moving towards the destination, and some reach the destination by facing every difficulty. (Drzahoordanish) نوجوانوں کے لیے امید بھرا پیغام تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہوں ۔جہاں و جب جاتاہوں تو ایک سوال ضرورت ہوتاہے ۔ہمارا مستقبل کیاہے ۔یعنی آج کا نوجوان اپنے مستقبل کی فکروں میں گھُلتاچلاجارہاہے ۔اسٹریس تو گویااس کی ذات کا حصہ بن گئی ہے ۔اب ایسے میں میں بہت دل جلاتاتھا کہ آخر ایسا کیا کیا جائے کہ  یہ قوم کہ معمار ٹینشن فری ہوں ۔خیر اپنے حصے کی جو ممکن کوشش تھی کرتارہا۔کافی دنوں سے سوچ رہاتھا کہ اس موضوع پر کوئی مختصر کی بات ضرور کروں ۔شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات کے حصول کے لیے ۔یہ مضمون بھی اُسی کی ایک کڑی ہے ۔ پیارے قارئین: موجودہ دور میں نوجوانوں میں مستقبل کے بارے میں بے چینی اور خوف ایک عام منظر بن چکا ہے۔ یہ خوف نہ صرف ذہنی سکون چھین لیتا ہے بلکہ زندگی کی توانائی، تخلیق اور کوششوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس مضمون میں ہم اس خوف کی نوعیت، اس کے اسباب، دنیاوی و دین...