میں نے مصنوعی ذہانت، انسانی ذہن اور بدلتی ہوئی دنیا
کے بارے میں جتنا مطالعہ کیا ہے، ایک بات بار بار میرے سامنے آتی ہے: اصل خطرہ یہ نہیں کہ مشین انسان سے
زیادہ ذہین ہو جائے گی، اصل خطرہ یہ ہے کہ کہیں انسان اپنی ذہانت استعمال کرنا ہی
نہ چھوڑ دے۔
آج AI چند
لمحوں میں ہزاروں صفحات کا خلاصہ کر سکتی ہے، پیچیدہ سوالوں کے جواب دے سکتی ہے،
تصویریں بنا سکتی ہے، زبانیں سمجھ سکتی ہے اور ایسے کام انجام دے سکتی ہے جن میں
کبھی گھنٹے یا دن لگتے تھے۔ یہ سب دیکھ کر انسان کے اندر بیک وقت حیرت بھی پیدا
ہوتی ہے، خوف بھی اور ایک خاموش سا سوال بھی:
“اگر مشین یہ سب کر لے گی، تو پھر میری
اہمیت کیا رہ جائے گی؟”
میرے مطالعے میں اس سوال کا جواب بہت واضح ہے: مشین معلومات پیدا کر سکتی ہے، مگر
معنی انسان پیدا کرتا ہے؛ مشین جواب دے سکتی ہے، مگر مقصد انسان طے کرتا ہے۔
ایک مشین لفظ “ماں” کے
ہزاروں معنی بتا سکتی ہے، مگر ماں کی جدائی میں بہنے والے آنسو محسوس نہیں کر
سکتی۔ وہ محبت پر خوبصورت تحریر لکھ سکتی ہے، مگر کسی کے لیے رات بھر جاگ نہیں
سکتی۔ وہ حوصلے پر تقریر تیار کر سکتی ہے، مگر شکست کے بعد ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ
دوبارہ کھڑے ہونے کا تجربہ نہیں رکھتی۔ یہ درد، یہ تعلق، یہ ضمیر، یہ امید—یہ
انسان کی اصل طاقت ہے۔
میں نے یہ بھی محسوس کیا ہے کہ ہم ایک عجیب نفسیاتی موڑ
پر کھڑے ہیں۔ پہلے انسان مشین کو استعمال کرتا تھا، اب خطرہ یہ ہے کہ کہیں انسان آسانی
کا عادی نہ ہو جائے۔ جب ہر سوال کا فوری جواب ملنے لگے تو صبر کم ہو سکتا ہے،
جب ہر تحریر تیار ملنے لگے تو تخلیق کمزور ہو سکتی ہے، اور جب ہر فیصلہ الگورتھم
پر چھوڑ دیا جائے تو انسان اپنے فیصلوں پر اعتماد کھو سکتا ہے۔
ذہن بھی جسم کی طرح ہے؛ جس صلاحیت کو استعمال نہ کیا
جائے، وہ کمزور پڑنے لگتی ہے۔ اگر ہم سوچنے، یاد رکھنے، سوال کرنے، تحقیق کرنے
اور تخلیق کرنے کی مشقت سے بھاگتے رہے تو ٹیکنالوجی تو طاقتور ہوتی جائے گی، لیکن
انسان اندر سے سہولت پسند اور ذہنی طور پر محتاج ہو سکتا ہے۔
اور میرے نزدیک یہی مصنوعی ذہانت کا سب سے بڑا نفسیاتی
امتحان ہے: کیا
ہم AI کو
استعمال کریں گے، یا اپنی صلاحیتیں اس کے حوالے کر دیں گے؟
لیکن تصویر کا دوسرا رخ بہت امید افزا ہے۔ تاریخ میں ہر
بڑی ایجاد نے کچھ کام ختم کیے، مگر ساتھ نئی صلاحیتوں کی قدر بھی بڑھائی۔ مصنوعی
ذہانت کے زمانے میں بھی انسان کی اہمیت ختم نہیں ہوگی، بلکہ انسان کی وہ صلاحیتیں
زیادہ قیمتی ہوں گی جنہیں صرف معلومات سے پیدا نہیں کیا جا سکتا: تخلیقی سوچ، جذباتی ذہانت، قیادت،
اخلاقی فیصلہ، ہمدردی، بصیرت، تجسس اور مشکل وقت میں ثابت قدم رہنا۔
میرے مطالعے میں ایک اور اہم بات سامنے آتی ہے: آنے
والے زمانے میں کامیاب انسان وہ نہیں ہوگا جو
AI سے زیادہ معلومات یاد رکھتا ہو؛ کامیاب وہ ہوگا جو AI
سے بہتر سوال پوچھنا جانتا ہو، حاصل شدہ
معلومات کو پرکھ سکتا ہو، غلط اور صحیح میں فرق کر سکتا ہو اور علم کو حقیقی زندگی
کے مسئلے کے حل میں بدل سکتا ہو۔یعنی مستقبل میں
صرف IQ
کافی نہیں ہوگا؛ انسان کو EQ، کردار، تخلیقی قوت اور تنقیدی سوچ
بھی درکار ہوگی۔
IQ سے
مراد ذہنی قابلیت ہے؛ یعنی آپ کتنی جلدی کسی مسئلے کو سمجھتے ہیں، حساب، منطق،
معلومات اور پیچیدہ باتوں کو کس حد تک حل کر سکتے ہیں۔ لیکن مصنوعی ذہانت کے دور
میں یہی کام مشینیں بھی بہت تیزی سے کرنے لگی ہیں، اس لیے صرف زیادہ معلومات رکھنے
والا انسان لازماً سب سے کامیاب نہیں ہوگا۔
EQ یعنی
جذباتی ذہانت اس صلاحیت کا نام ہے کہ آپ اپنے اور دوسروں کے جذبات کو سمجھ سکیں۔
کب بولنا ہے، کب خاموش رہنا ہے، غصے کو کیسے سنبھالنا ہے، پریشان انسان کو کیسے
سہارا دینا ہے اور لوگوں کے ساتھ اعتماد کا رشتہ کیسے بنانا ہے۔ مثال کے طور پر AI کسی غم زدہ شخص کے لیے تسلی کے الفاظ
لکھ سکتی ہے، مگر ایک حساس انسان اس کے چہرے، خاموشی اور لہجے سے سمجھ سکتا ہے کہ اس
وقت اسے نصیحت نہیں، کسی کے ساتھ کی ضرورت ہے۔
قارئین:
اس لیے بچوں اور نوجوانوں کو صرف یہ سکھانا کافی نہیں
کہ AI کیسے
استعمال کرنی ہے؛ انہیں یہ بھی سکھانا ہوگا کہ AI
کے بغیر کیسے سوچنا ہے۔
کبھی کتاب خود پڑھیں، کبھی مسئلہ خود حل کریں، کبھی خاموش بیٹھ کر اپنے ذہن کو
سوچنے دیں، کبھی کسی انسان کی بات بغیر موبائل دیکھے سنیں۔ کیونکہ آنے والے دور
میں شاید سب سے نایاب صلاحیت یہی ہو: گہری
توجہ اور آزاد سوچ۔
میں مستقبل سے خوف زدہ نہیں ہوں؛ البتہ اس انسان سے
ضرور فکر مند ہوں جو اپنی ہر مشکل کا حل مشین سے مانگنے لگے۔ کیونکہ انسان کی عظمت
اس میں نہیں کہ اسے کبھی مشکل پیش نہ آئے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ مشکل سے گزرتے
ہوئے خود کو بہتر بناتا ہے۔
AI
آپ کو ایک منٹ میں جواب دے سکتی ہے، مگر دانائی وقت،
تجربے، غلطیوں، تعلقات اور زندگی کے زخموں سے پیدا ہوتی ہے۔ معلومات ڈاؤن لوڈ
ہو سکتی ہیں، مگر پختگی ڈاؤن لوڈ نہیں ہوتی۔
اسی لیے میرے نزدیک مستقبل کا سب سے طاقتور انسان وہ
نہیں ہوگا جو AI سے
بھاگے گا، اور نہ وہ جو اپنی ہر صلاحیت AI کے
حوالے کر دے گا؛ بلکہ وہ ہوگا جو کہے گا:
“مشین میری مددگار ہے، میری سوچ کی مالک نہیں۔AI میری رفتار بڑھا سکتی ہے، مگر میری سمت میں خود طے کروں گا۔اس لیے اپنی سوچ کو زندہ رکھیے، کتاب سے رشتہ نہ توڑیے، سوال کرنا نہ چھوڑیے، انسانوں کو سننا سیکھیے، اپنی تخلیقی صلاحیت کو استعمال کیجیے، جسمانی اور ذہنی محنت کو زندگی کا حصہ بنائیے اور روز کچھ ایسا ضرور کیجیے جو آپ کے دماغ کو سوچنے پر مجبور کرے۔مصنوعی ذہانت جتنی طاقتور ہوتی جائے، انسان کو اتنا ہی زیادہ انسان بننا ہوگا۔اور اسلام انسان کو یہی یاد دلاتا ہے کہ اسے محض معلومات نہیں بلکہ عقل، شعور، اختیار، ضمیر اور ذمہ داری عطا کی گئی ہے۔ علم اور ٹیکنالوجی ضرور حاصل کیجیے، مگر انہیں خیر، اخلاق اور انسانیت کے تابع رکھیے؛ کیونکہ اللہ کے نزدیک اصل قدر صرف ذہانت کی نہیں، بلکہ اس ذہانت کو صحیح راستے میں استعمال کرنے کی ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں