ہار ماننا آپشن نہیں
زندگی ہمیشہ ہماری مرضی کے مطابق نہیں چلتی۔ کبھی راستے
آسان ہوتے ہیں اور کبھی ایسا لگتا ہے جیسے ہر دروازہ بند ہو گیا ہو۔ انسان محنت
کرتا ہے، دعا کرتا ہے، امید باندھتا ہے، پھر بھی کبھی ناکامی سامنے آ کھڑی ہوتی
ہے۔ ایسے لمحوں میں دل تھک جاتا ہے اور انسان خود سے پوچھنے لگتا ہے: کیا واقعی مجھ سے نہیں ہوگا؟
لیکن شاید اصل سوال یہ نہیں کہ ہم گرے کیوں، بلکہ یہ ہے
کہ گرنے کے بعد ہم کیا کرتے ہیں۔
ناکامی ایک واقعہ ہے، ہماری شناخت نہیں۔ امتحان میں
ناکام ہونا یہ ثابت نہیں کرتا کہ آپ ناکام انسان ہیں۔ کاروبار میں نقصان یہ فیصلہ
نہیں کہ آپ میں صلاحیت نہیں۔ کسی تعلق کا ختم ہو جانا یہ نہیں کہ آپ محبت کے قابل
نہیں۔ کبھی صرف طریقہ غلط ہوتا ہے، کبھی وقت مناسب نہیں ہوتا، اور کبھی زندگی ہمیں
وہ سبق سکھا رہی ہوتی ہے جسے کامیابی کبھی نہیں سکھا سکتی۔
مضبوط انسان وہ نہیں جو کبھی روتا نہیں، خوف محسوس نہیں
کرتا یا تھکتا نہیں۔ مضبوط انسان بھی ٹوٹتا ہے، آنکھیں بھیگتی ہیں، دل بھی بوجھل
ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ اپنے درد کو اپنی کہانی کا آخری باب نہیں بننے
دیتا۔
ہار نہ ماننے کا مطلب ضد بھی نہیں۔ اگر ایک راستہ مسلسل
نقصان دے رہا ہے تو راستہ بدل لینا شکست نہیں، حکمت ہے۔ مقصد قائم رہ سکتا ہے،
طریقہ بدل سکتا ہے۔ دریا بھی چٹان سے ٹکرا کر وہیں ختم نہیں ہو جاتا؛ رخ بدلتا ہے،
مگر بہنا نہیں چھوڑتا۔
بڑی منزلیں بھی چھوٹے قدموں سے حاصل ہوتی ہیں۔ کبھی صرف
آج کا ایک قدم کافی ہوتا ہے—ایک صفحہ پڑھ لینا، ایک نئی کوشش کرنا، کسی سے مشورہ
مانگ لینا یا تھک جانے پر کچھ دیر آرام کر لینا۔ زندگی ہمیشہ ایک ہی دن میں نہیں
بدلتی، مگر روز کے چھوٹے فیصلے آہستہ آہستہ پوری سمت بدل دیتے ہیں۔
اسلام بھی ہمیں یہی توازن سکھاتا ہے۔ مشکل کے ساتھ
آسانی ہے۔ کوشش ہماری ذمہ داری ہے اور نتیجہ اللہ کے اختیار میں۔ ہمیں فائدہ دینے
والی چیز کے لیے کوشش کرنی ہے، اللہ سے مدد مانگنی ہے اور بے بسی کو اپنا مقدر
نہیں سمجھنا۔
کبھی دعا کے ساتھ محنت چاہیے، کبھی صبر کے ساتھ حکمت،
اور کبھی آگے بڑھنے کے لیے کسی چیز کو چھوڑ دینا ضروری ہوتا ہے۔ کیونکہ ہر چیز کو
پکڑے رکھنا بہادری نہیں؛ بعض اوقات غلط راستہ چھوڑ دینا ہی خود کو بچانے کا نام
ہے۔
اگر کبھی دل کہے کہ بس، اب مزید نہیں، تو اسی لمحے اپنی
پوری زندگی کا فیصلہ نہ کیجیے۔ کچھ دیر رک جائیے، رو لیجیے، کسی اپنے سے بات کر
لیجیے، اللہ کے سامنے دل کھول دیجیے، پھر اپنے قدم دوبارہ دیکھیے۔ رفتار کم کرنا
جائز ہے، راستہ بدلنا جائز ہے، آرام کرنا بھی جائز ہے—مگر کسی ایک برے دن کو یہ حق
نہ دیجیے کہ وہ آپ کے پورے مستقبل کا فیصلہ کر دے۔
رات کتنی بھی طویل ہو، سورج کا وجود ختم نہیں ہو جاتا۔
اور بیج جب مٹی میں دب جاتا ہے تو دیکھنے والے کو لگتا ہے کہ وہ دفن ہو گیا،
حالانکہ حقیقت میں وہ اگنے کے سفر پر ہوتا ہے۔
شاید آپ بھی آج کسی ایسے ہی مرحلے سے گزر رہے ہوں۔
اس لیے ناکامی سے سبق لیجیے، بند راستے پر دوسرا راستہ
تلاش کیجیے، تھک جائیں تو آرام کیجیے، سمجھ نہ آئے تو مشورہ لیجیے اور دل ٹوٹ جائے
تو اسے اللہ کے سامنے رکھ دیجیے۔
جب تک زندگی ہے، امکان ہے۔
اور جب تک امکان ہے—ہار ماننا آپشن نہیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں