اوور تھنکنگ کا اصل علاج کیا ہے؟
اوور تھنکنگ (Overthinking) دراصل
زیادہ سوچنا نہیں، بلکہ ایک ہی مسئلے کے بارے میں بار بار، بے نتیجہ اور غیر
ضروری سوچتے رہنا ہے۔ انسان ماضی کی غلطیوں پر پچھتاتا رہتا ہے یا مستقبل کے
اندیشوں میں اس قدر کھو جاتا ہے کہ حال میں جینا بھول جاتا ہے۔
نفسیات کے مطابق اوور تھنکنگ ایک "ذہنی لوپ" (Mental Loop) ہے، جس میں دماغ
ایک ہی خیال کو بار بار دہراتا رہتا ہے۔ اس کا مقصد مسئلہ حل کرنا نہیں ہوتا بلکہ
دماغ خطرات سے بچنے کی کوشش میں خیالات کو دہراتا رہتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ
انسان ذہنی تھکن، بے چینی، اضطراب، نیند کی کمی اور فیصلہ نہ کر پانے جیسی مشکلات
کا شکار ہو جاتا ہے۔
سائنسی تحقیق بتاتی ہے کہ جب انسان مسلسل منفی خیالات
میں الجھا رہتا ہے تو جسم میں کورٹیسول
(Cortisol) یعنی
تناؤ کا ہارمون بڑھ جاتا ہے۔ اگر یہ کیفیت طویل عرصہ رہے تو دماغ کی توجہ،
یادداشت، جذباتی توازن اور جسمانی صحت بھی متاثر ہونے لگتی ہے۔
تو پھر اس کا اصل علاج کیا ہے؟
علاج صرف "سوچنا بند کر دو" نہیں، کیونکہ
دماغ حکم سے خاموش نہیں ہوتا۔ اصل علاج یہ ہے کہ سوچ کو صحیح سمت دی جائے۔
- ہر خیال پر یقین نہ
کریں؛ ہر سوچ حقیقت نہیں ہوتی۔
- جس مسئلے پر آپ کا
اختیار ہے، اس پر عمل کریں۔ جس پر اختیار نہیں، اسے قبول کرنا سیکھیں۔
- خیالات کو ذہن میں
قید رکھنے کے بجائے کاغذ پر لکھیں؛ اس سے ذہنی بوجھ کم ہوتا ہے۔
- جسم کو متحرک رکھیں؛
ورزش اور چہل قدمی دماغ میں ایسے کیمیکلز پیدا کرتی ہیں جو ذہنی سکون میں مدد
دیتے ہیں۔
- مناسب نیند، متوازن
غذا اور سوشل میڈیا کے غیر ضروری استعمال میں کمی بھی اوور تھنکنگ کو کم کرنے
میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
- اگر اوور تھنکنگ
روزمرہ زندگی، عبادت، تعلقات یا کام کو شدید متاثر کر رہی ہو تو کسی مستند
ماہرِ نفسیات سے رہنمائی لینا دانش مندی ہے، کمزوری نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اوور تھنکنگ کا خاتمہ خیالات سے لڑنے
میں نہیں بلکہ صحیح عمل، حقیقت پسندانہ سوچ اور موجودہ لمحے پر توجہ دینے
میں ہے۔ جب انسان اپنے قابو میں موجود کام پر توجہ دیتا ہے تو دماغ آہستہ آہستہ
غیر ضروری سوچ کے چکر سے باہر آنا شروع ہو جاتا ہے۔
"اسلام
ہمیں سکھاتا ہے کہ اسباب اختیار کریں، پھر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں؛ بے مقصد
اندیشوں میں نہیں، توکل میں دل کا سکون ہے۔"
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں