فلسطین کی
باتیں (مزاحمتی تحریکوں کے کارنامے )
تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش
(دوٹھلہ
نکیال آزادکشمیر)
ہم
جب فلسطین کی جدوجہد کو پڑھتے ہیں اس کے تاریخی منظر نامہ کی جانب نظر ڈالتے ہیں
تو ہمیں اس کی مزاحتمی تحریکوں میں یوں تو بہت سے نام ملتے ہیں لیکن چند ایسی
تحریکیں ہیں جو سرفہرست ہیں ۔آئیے ذرا ان کا طائرانہ مطالعہ کرلیتے ہیں
الفَتح
(Fatah) — تاریخ و قیام:
الفتح
کی بنیاد 1959 میں یاسر عرفات، خلیل الوزیر (ابو جہاد)
اور دیگر فلسطینی طلباء نے کویت میں رکھی۔
باضابطہ
عسکری کارروائیوں کا آغاز 1965 میں
کیا گیا۔
نظریہ
و مقاصد:
فلسطین
کی مکمل آزادی!!مسلح جدوجہد اور سیاسی سفارتکاری کا امتزاج!!اسرائیل کو تسلیم کیے
بغیر فلسطینی خودمختاری کا قیام
اندازِ
مزاحمت:
1960–1980:
فدائی
حملے، سرحد پار کارروائیاں، ہوائی جہازوں کے ہائی جیکنگ کیسز!!!1987
کے
بعد سیاسی حکمت عملی، اوسلو معاہدہ (1993)
حاصل
شدہ اہداف:
1974
میں
اقوامِ متحدہ میں PLO کو فلسطینی نمائندہ کے طور پر تسلیم کرایا!!فلسطینی
اتھارٹی کا قیام (1994)
دنیا
کے 138 ممالک سے فلسطین کو تسلیم کروایا۔
حماس (Hamas) —تاریخ و قیام:
قیام:
1987 میں،
پہلے انتفاضہ کے دوران اس کے بانی شیخ احمد یاسین، عبدالعزیز رنتیسی، اسماعیل
ہنیہ تھے ۔اگر ہم حماس کا مخفف دیکھیں تو Harakat al-Muqawamah al-Islamiyyah (بنتاہے
نظریہ
و مقاصد:
فلسطین
کی مکمل آزادی — صرف غزہ یا مغربی کنارہ نہیں!!اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا اصولی
مؤقف!!اسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد
اندازِ
مزاحمت:
غزہ
میں عسکری و سیاسی کنٹرول!!القسام بریگیڈ کے ذریعے راکٹ حملے، سرنگوں کا جال!!سوشل
ویلفیئر، تعلیمی ادارے، مساجد، ہسپتالوں کا نیٹ ورک
حاصل
شدہ اہداف:
2006
کے
الیکشن میں حیران کن کامیابی!!!غزہ میں مکمل کنٹرول (2007 سے اب تک)!!اسرائیلی
قبضے کو روایتی جنگی انداز میں چیلنج
اسلامی
جہاد
(PIJ – Palestinian Islamic Jihad)
قیام:1981،
غزہ میں ڈاکٹر فتحی شقاقی نے قائم کی!!ایران سے روحانی و مالی حمایت
مقاصد:اسرائیل
کے خلاف صرف عسکری مزاحمت!!!فلسطین کی مکمل آزادی، بغیر سیاسی مذاکرات کے
انداز:
راکٹ
حملے، سرنگوں سے کارروائیاں، اسرائیلی تنصیبات پر حملے
حاصل
شدہ پہلو:
محدود
لیکن مؤثر مزاحمت!!!غزہ میں القادسیہ بریگیڈ کے ذریعے اسرائیل پر کاری ضربیں
پاپولر
فرنٹ (PFLP – Popular Front for the Liberation of Palestine)
قیام:
1967،
ڈاکٹر جارج حبش کی قیادت میں!!سوشلسٹ نظریے پر مبنی مزاحمتی تنظیم
مقاصد:
فلسطین
کی آزادی + عرب قوم پرستی!!!سرمایہ دارانہ سامراج کے خلاف جدوجہد
اندازِ
مزاحمت:
1970–80
کے
درمیان ہوائی جہاز ہائی جیکنگ!!اسرائیلی مقامات پر حملے، عسکری تربیت
اہم
کردار:
بین
الاقوامی سطح پر مسئلہ فلسطین کو اجاگر کیا۔!آج نسبتاً محدود مگر نظریاتی طور پر
فعال
قارئین
:
یہ
فلسطین کی بڑی مزاحمتی تحریکیوں کا ایک جائزہ تھا۔آئیے دیگر تنظیموں کابھی ذکر کردیتے
ہیں ۔
⚪ دیگر
تنظیمیں اور اتحاد:
|
تنظیم کا نام |
قیام |
اہم پہلو |
|
DFLP (Democratic Front for the Liberation of
Palestine) |
1969 |
مارکسسٹ نظریہ، سیاسی مذاکرات میں شمولیت |
|
لجنۃ المقاطعہ (BDS Movement) |
2005 |
بائیکاٹ، ڈس انویسٹمنٹ، سینکشنز — غیر مسلح مزاحمت |
|
Lions’ Den (عسکری گروپ |
2022 |
مغربی کنارے میں نئی نسل کی مزاحمتی تحریک |
قارئین ہم نے کوشش کی ہے کہ فلسطین کے حوالے سے ہر جہت اور ہر پہلو سے بہتراور مصدقہ معلومات پیش کرسکیں ۔ہم نے اپنے حصے کی کوشش کی ہے ۔ہم بشر ہیں بشر سے خطاممکن ہے ۔لہذاکمی کی گنجائش تو ضروری باقی رہتی ہے ۔لیکن اپنے ذرائع ،علمی کاوششوں کی بدولت جو میسر آتاہے آپ کے مطالعہ کی نظر کردیتاہوں ۔اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں