ادویات کے بننے میں مختلف اجزا
تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش
ادویات
میں استعمال ہونے والے اجزاء کو سمجھنا حلال و حرام کے فیصلے کے لیے ضروری ہے۔
ادویات کی تیاری میں عام طور پر درج ذیل اقسام کے اجزاء شامل ہوتے ہیں، جنہیں
مختلف ذرائع سے حاصل کیا جاتا ہے:
1.
فعال
اجزاء (Active Ingredients)
یہ
اجزاء دوا کے بنیادی اثر کے ذمہ دار ہوتے ہیں، مثلاً بیماری کا علاج یا علامات میں
کمی۔
مثالیں:
انسولین
(Insulin): بعض
اوقات جانوروں سے حاصل ہوتی ہے۔
اینٹی
بایوٹکس (Antibiotics): مائکروبیل ذرائع یا مصنوعی طور پر تیار کی
جاتی ہیں۔
حلالیت
کا فیصلہ:
اگر
فعال جزو حیوانی ذرائع سے حاصل ہوا ہے، تو اس کے ذرائع کا حلال ہونا ضروری ہے۔
2.
غیر
فعال اجزاء (Excipients)
یہ
اجزاء دوا کی شکل، رنگ، ذائقہ، اور استحکام فراہم کرتے ہیں۔
مثالیں:
بائنڈرز
(Binders): دوا
کو ایک ساتھ رکھنے والے اجزاء، جیسا کہ جیلاٹن۔
پریزرویٹوز
(Preservatives): دوا کو خراب ہونے سے بچاتے ہیں، جیسے بینزوئک ایسڈ۔
فلرز
(Fillers): گولی
کی مکمل ساخت کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جیسے کارن اسٹارچ۔
حلالیت
کا فیصلہ:
ان
اجزاء کے ذرائع کی جانچ ضروری ہے، جیسے جیلاٹن کا حلال ہونا۔
3.
جیلاٹن
(Gelatin)
استعمال: کیپسولز،
گولیاں، اور جیل کی تیاری میں۔
ذرائع:
سور: حرام۔
گائے: حلال،
اگر اسلامی طریقے سے ذبح کیا گیا ہو۔
پودے: مکمل
طور پر حلال۔
4.
الکحل
(Alcohol)
استعمال: دوا کو
مائع شکل میں رکھنے، ذائقہ بہتر کرنے، یا بطور پریزرویٹو۔
اقسام:
Ethyl
Alcohol (نشہ آور): عام
طور پر حرام، لیکن علاج کے لیے مخصوص حالات میں مشروط اجازت۔
Isopropyl
Alcohol: حلال،
کیونکہ یہ نشہ آور نہیں ہے اور طبی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
5.
انزائمز
(Enzymes)
استعمال: دوا کے
کیمیائی عمل کو تیز کرنے کے لیے۔
ذرائع:
جانور: سور یا
غیر حلال جانور سے حاصل کردہ انزائمز حرام۔
مائیکروبیل
یا نباتاتی: حلال۔
6.
حیوانی
اجزاء (Animal-Derived Ingredients)
مثالیں:
لانولین
(Lanolin): بھیڑ
کی چربی سے حاصل کردہ، عام طور پر حلال۔
اسٹیئرک
ایسڈ (Stearic Acid): جانوروں یا پودوں
سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ہارمونز: جیسے
انسولین، اگر سور یا غیر حلال جانور سے ہو تو حرام۔
حلالیت
کا فیصلہ:
جانور
کا ذبح اسلامی طریقے سے ہونا ضروری ہے۔
7.
مائیکروبیل
اجزاء (Microbial Ingredients)
استعمال: اینٹی
بایوٹکس اور ویکسین کی تیاری میں۔
ذرائع:
خمیر
یا بیکٹیریا: عام طور پر حلال۔
فریمنٹیشن
(Fermentation) پروسیس: اگر الکحل شامل نہ
ہو تو حلال۔
8.
مصنوعی
اجزاء (Synthetic Ingredients)
استعمال: کیمیکل
کے ذریعے تیار شدہ اجزاء، جو قدرتی اجزاء کی نقل کرتے ہیں۔
مثالیں:
مصنوعی
خوشبو (Artificial Flavors)۔
مصنوعی
رنگ (Synthetic Dyes)۔
حلالیت
کا فیصلہ:
عام
طور پر حلال، بشرطیکہ غیر حلال اجزاء شامل نہ ہوں۔
9.
نباتاتی
اجزاء (Plant-Based Ingredients)
استعمال: پودوں
سے حاصل کردہ اجزاء، جیسے ہربل ادویات۔
مثالیں:
ایلو
ویرا (Aloe Vera)۔
پودینہ
(Mint)۔
حلالیت
کا فیصلہ:
تمام
نباتاتی اجزاء عام طور پر حلال ہوتے ہیں۔
10.
دیگر
اجزاء
(i)
ایمولسیفائرز
(Emulsifiers):
استعمال: دوا کے
مختلف اجزاء کو یکجا رکھنے کے لیے۔
مثالیں: سورس
کی بنیاد پر حرام یا حلال۔
(ii)
فلورنگ
ایجنٹس (Flavoring Agents):
استعمال: ذائقہ
بہتر کرنے کے لیے۔
مثالیں: مصنوعی
یا حیوانی ذرائع۔
(iii)
کوٹنگز
(Coatings):
استعمال: گولی
کو آسانی سے نگلنے کے لیے۔
مثالیں: شیلک،
جیلاٹن۔
11.
حلال
و حرام کے فیصلے کے اصول
ذریعہ
معلوم کریں:
کیا
یہ حیوانی، نباتاتی، یا مصنوعی ہے؟
سرٹیفیکیشن
چیک کریں:
حلال
سرٹیفائیڈ اجزاء کو ترجیح دیں۔
استحالہ
(Transformation):
اگر
اجزاء اپنی اصل حالت تبدیل کر لیں، تو اس پر علماء کی رائے لیں۔
شک
کی صورت میں اجتناب کریں:
جہاں
ذرائع واضح نہ ہوں، متبادل تلاش کریں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں