بچوں کو صفائی کا عادی بنانے کے طریقے
Ways to get kids used to cleaning
تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش
ہمیں صاف ستھرے بچے اچھے لگتے ہیں ہم ان سے پیار بھی کرتے
ہیں لیکن گندے اور آلود بچوں کی جانب اتنی جلدی میلان نہیں بڑھتا۔کیا آپ بھی
چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے بھی قابل توجہ بنیں اچھے لگیں پیارے لگیں توپھر انھیں
صفائی کی عادت ڈالیں ۔یہاں ہم آپ کو کچھ tipsبتائیں گے جن کی مدد سے آپ اپنے بچوں کو صفائی کا عادی
بناسکتے ہیں آئیے جانتے ہیں ۔
واضح توقعات قائم کریں: Set Clear
Expectations
اپنے بچوں کو واضح
طور پر بتائیں کہ آپ ان سے کیا صاف کرنے کی توقع رکھتے ہیں صاف ستھرا رہنے کے حوالے سے آپ ان سے کس قسم کی
توقع رکھتے ہیں ۔
روٹین بنائیں: Create a Routine:
صفائی کا باقاعدہ معمول بنائیں تاکہ یہ ایک عادت بن جائے۔
مثال کے طور پر، سونے سے پہلے یا کھیلنے کے وقت کے بعد کھلونے صاف کرناوغیرہ۔
اسے تفریح بنائیں: Make It Fun:
صفائی کو ایک کھیل یا چیلنج میں تبدیل کریں۔ آپ ٹائمر سیٹ کر
سکتے ہیں اور دیکھ سکتے ہیں کہ آیا وہ بند ہونے سے پہلے صفائی کر سکتے ہیں، یا بہن
بھائیوں کے درمیان صفائی کی دوڑ لگا سکتے ہیں۔ان میں صفائی کا مقابلہ ترتیب دیں کہ
دیکھتے ہیں کہ اپنے دانت روزانہ کون صاف رکھتاہے اپنے کپڑے صاف ستھرے کون پہنتاہے
وغیرہ وغیرہ
حوصلہ افزا ئی فراہم کریں: Use Positive
Reinforcement:
اپنے بچوں کی تعریف
کریں جب وہ بغیر پوچھے صفائی کرتے ہیں یا جب وہ صفائی ستھرائی کے کام مکمل کرتے ہیں۔ اس رویے سے
انھیں مزید صاف ستھرا رہنے کا جذبہ و حوصلہ ملے گا۔
انتخاب کی پیشکش کریں:
Offer Choices:
اپنے
بچوں کو choiceدیں کہ وہ کیسے کیسے صفائی کرسکتے ہیں ۔وہ کیا کیا طریقے
اپنا کر اپنے جسم ،لباس اور گھر کو صاف رکھ سکتے ہیں ۔جب آپ ان کو چوائس فراہم
کریں گے تو وہ احساس ذمہ دار کی صورت میں صفائی کے عادی ہوتے چلے جائیں گے
مثال قائم كریں :
Lead by Example
بچے اکثر اپنے والدین کے رویے کی نقل کرتے ہیں۔والدین
کو چاہیے کہ وہ بھرپور انداز میں خود صاف ستھرارہیں گھر کو صاف ستھرا رکھنے کی
کوشش کریں آپ کے اس مثالی انداز سے بچے سیکھتے ہیں وہ جلد اس عادت کو اپنانے کی
کوشش بھی کرتے ہیں ۔
عمر کے مطابق :
Make It Age-Appropriate
صفائی کے کاموں کو اپنے بچوں کی عمر اور
صلاحیتوں کے مطابق بنائیں۔ چھوٹے بچے سادہ کاموں میں مدد کر سکتے ہیں جیسے کھلونے
دور رکھنا، جبکہ بڑے بچےبڑے کاموں کو سنبھال سکتے ہیں۔اس تقسیم سے بچے باآسانی
صفائی کے عادی ہوتے چلے جائیں گے ۔
وژول ایڈز کا استعمال کریں: Use Visual
Aids:
چھوٹے
بچوں کے لیے، آپ ان کو یہ بتانے کے لیے تصاویر یا چارٹ استعمال کر سکتے ہیں کہ کن
چیزوں کو صاف کرنے کی ضرورت ہے اور چیزیں کیسے صاف رکھتے ہیں وغیرہ ۔
صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں:
Be Patient and Consistent
آپ ایک
دن میں بچوں کو صفائی کاعادی نہیں بنا سکتے ۔بلکہ آہستہ آہستہ آپ بچوں کے اذہان
میں صفائی و ستھرائی کی اہمیت اور فوائد بتاتے رہیں ۔وقت کے ساتھ ساتھ آپ کے
بچے نفاست پسند ہوتے چلے جائیں گے
ذمہ داری سکھائیں:
Teach Responsibility:
اپنے
بچوں اپنے جسم اور لباس کی صفائی کے لیے ذمہ دار بنائیں ان میں یہ احساس اجاگر
کریں کہ یہ جسم اور لباس آپ کا ہے لہذا اس کی صفائی ستھرائی بھی آپ کی ذمہ داری
ہے ۔اسی طرح جس بستر پر سوتے ہیں ۔جس برتن میں کھاتے ہیں ان کی صفائی کی ذمہ داری
بھی ان کی لگائیں ۔بچے جب ذمہ داری لیں گے تو وقت کے ساتھ ساتھ اس کے عادی بھی ہوتے
چلے جائیں گے ۔
قارئین:آپ حکمت عملی سے بچوں سے کچھ اند از میں پیش آتے
رہیں ۔
()صبح
اُٹھنے کے بعد انہیں سب سے پہلے ہاتھ منہ دھونے ، دانت صاف کرنے اور بالوں میں کنگھا کرنے کاکہیئے
() کھانے سے پہلے ان کے ہاتھ ضرور دھلوائیے
() ہفتے یا 10 دن میں ایک بار بچوں کے ناخن ضرور تراشیں
()بچّوں کو اس بات کا شعور دلائیے کہ اسکول یا
مدرسے سے آنے کے بعد اپنا یونیفارم ، اسکول بیگ اور جوتے وغیرہ ان کی مقررہ جگہ پر
رکھیں
()بچوں کو بتائیں کہ وہ گندی جگہوں پر نہ کھیلیں ، کھانا احتیاط سے کھائیں
تاکہ کپڑے کھانے وغیرہ کے داغ سے محفوظ رہیں ، کپڑے دھلنے کے بعد اپنے کپڑے انہیں
خودتہہ کرکے الماری میں ترتیب سے رکھنا سکھائیے۔
()بچّوں کو اس بات کا بھی عادی بنائیے کہ وہ چیزیں
کھانے کے بعد کچرا ڈسٹ بِن میں پھینکیں ۔
()بچوں کو صفائی کے جہاں طبی فوائد بتائیں وہاں
انھیں صفاتئی و ستھرائی کے دنی فوائد ضرور بتائیں تاکہ وہ اس اہمیت کی روشنی میں
بھی صفائی کے عادی بن سکیں
ان حکمت عملیوں کو مستقل طور پر استعمال کرنے سے، آپ اپنے بچوں کو وقت کے ساتھ ساتھ صفائی وستھرائی کا عادی بناسکتے ہیں ۔اللہ پاک ہمارے تن اور ہمارے من کو ستھرافرمائے آمین
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں