نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

بچوں کو بجٹ مینجمنٹ سیکھائیں



بچوں کو بجٹ مینجمنٹ سیکھائیں

Teach kids budget management

تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش

بچے والدین کو بہت پیارے ہوتے ہیں ۔سب ہی ماں باپ کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد قابل بنے ،خوش حال رہے ۔انھیں کبھی کوئی پریشانی نہ ہو۔مسکراتے رہیں ۔یہ محبت فطری تعلق ہے لیکن اس دنیا میں جینے اور سروائیو کرنے کے لیے ہمیں اپنے بچوں کو knowledgeبھی فراہم کرناہوگا۔تاکہ وہ زندگی کی شاہراہ پر محتاط اور خوشحال طریقے سے سفرکرسکیں ۔ساری زندگی والدین نے ہی کفالت نہیں کرنی بلکہ بچوں کو بڑاہوکر اپنی معاشی ذمہ داریاں بھی نبھانی ہیں ۔لہذابچوں کو اس چھوٹی عمر ہی سے بجٹ مینجمنٹ سیکھا دیں ۔ہم آپ کو کچھ مشورے دیتے ہیں جن کی مدد سے آپ اپنے بچوں کو بجٹ مینجمنٹ سیکھا سکتے ہیں ۔


. بنیادی باتوں سے شروع کریں: Start with the Basics:

بجٹ کی وضاحت کریں: Define Budgeting:  

اپنے بچوں کو لفظ بجٹ کی تعریف سمجھائیں پھر انھیں پیسہ خرچ کرنے اور بچانے کے درمیان فرق بھی واضح کریں



ضروریات بمقابلہ خواہشات: Needs vs. Wants

بچے تو بچے ہیں انھیں ہزار کا نوٹ بھی دیں گے تو وہ کچھ بھی خرید کر لے آئیں گے اب یہ بات ہمیں اپنے بچوں کو سیکھانا ہے کہ کیا خرید نا ضروری ہے اور کیا نہیں خریدنا۔نیز انہیں ان چیزوں کے درمیان فرق سکھائیں جن کی انہیں ضرورت ہے (جیسے کھانا، کپڑے، اسکول کا سامان وغیرہ) اور سہولیات کے بارے میں بھی بتائیں کہ ضروریات کے بعد سہولیات کی باری آتی ہے ۔

. اہداف مقرر کریں: Set Goals:

اہداف پر تبادلہ خیال کریں: Discuss Goals:

بچے چیزوں کا تقاضا تو کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے لیکن آپ بچوں کے تقاضے کو دو طرح سے تقسیم کریں ۔(1)طویل مدنی ۔یعنی جو چیز وہ طلب کررہے ہیں اس کا دورانیہ اتنا لمبا ہے بیٹایہ چیز اتنے عرصے تک آپکو مل جائے گی( سائیکل ،لیب ٹاپ )۔(2)قلیل مدنی :یعنی بچے جن چیزوں کا تقاضا کررہے ہیں انھیں جلدی خریدنا ممکن ہے خرید بھی جاسکتاہے تو بچوں کو یہ فرق بھی ضرور بتائیں (کھلونا خریدنا) ۔اس سے بچوں کی شخصیت پر ایک بہتر مثبت اثر مرتب ہوگاوہ ناراض ہونے کی بجائے مطمئن ہوں گے ۔

 https://islamicrevolutionpk.blogspot.com/2024/07/blog-post_15.html

اہداف کے لیے بجٹ بنانا: Budgeting for Goals:

بچوں  دکھائیں کہ کس طرح باقاعدگی سے رقم الگ کرنے سے ان کے اہداف کو تیزی سے حاصل کرنے میں مدد ملتی ہےاور ان کی ضروت پوری ہوجاتی ہے ۔

آمدنی اور اخراجات کو ٹریک کریں: Track Income and Expenses:

آمدنی: Income:

 انہیں پیسے کے ذرائع کے بارے میں سکھائیں۔بچوں کو کن کن ذرائع سے پیسہ ملتے ہیں ۔جو ان کی جمع پونجی کا ذریعہ بن سکتے ہیں ۔جیسے کسی کی طرف سے تحفہ ،عید پر عیدی ،کامیابی پر انعام وغیرہ

اخراجات: Expenses:

 ایک سادہ نوٹ بک یا بجٹنگ ایپ کا استعمال کرتے ہوئے ان کی مدد کریں کہ وہ کس چیز پر پیسہ خرچ کرتے ہیں۔

سادہ بجٹ شیٹ: Simple Budget Sheet:

 آمدنی اور اخراجات کے لیے مختلف انداز کے ساتھ ایک بنیادی بجٹ شیٹ بنائیں (مثلاً، کھلونے، کھانے پینے کی چیزیں، بچت)۔

رقم مختص کریں: Allocate Money:

 اس بات پر تبادلہ خیال کریں کہ کس طرح رقم کو زمروں میں تقسیم کیا جائے اور ایک حصہ بچانے کی ترغیب دی جائے۔

. بچت کی حوصلہ افزائی کریں: Encourage Saving:

اکاؤنٹس: Accounts:

بچوں کو کوئی گلک یا کوئی ایسا باکس لے دیں جس میں بچے اپنی اضافی رقم saveكرتے چلے جائیں ۔گویا یہ ان کا اکاونٹ ہے جس میں ان کو سیونگ تھیوری سمجھائی جارہی ہے ۔پڑھنے میں تو یہ آپ کو چھوٹی سی بات لگ رہی ہوگی لیکن یہی بچے جب پروفیشنل لائف میں آئیں گے تو انھیں بجٹ ،ایکسپنس،سیونگ  ہر چیز کے بارے میں نہ صرف علم ہوگا بلکہ وہ اس کے فوائد سے واقف بھی ہوں گے ۔

تفریحی بنائیں: Make Fun:

چارٹس اور گراف: Charts and Graphs:

بچوں کو گراف یا چارٹ کی مدد سے  اپنی آمدنی ،گھرکے رینٹ ،بلز ،اسکول فیسسز ،گروسری کے بارے میں میں سمجھائیں ۔تاکہ بچے یہ بات اچھے سے سمجھ سکیں کہ آمدنی اور اخراجات کو کیسے بیلنس رکھ کر گھر چلایاجاتاہے ۔

مثال کے ذریعے لیڈ: Lead by Example:

خاندانی بجٹ: Family Budget:

گھریلو بجٹ کے بارے میں  بچوں کی عمر کے لحاظ سے مناسب بحث میں انہیں شامل کریں۔

ذاتی مالیاتی عادات: Personal Finance Habits

اچھی مالی عادات کا نمونہ بنائیں جیسے بچت کرنا، اخراجات وغیرہ۔

. جائزہ لیں اور ایڈجسٹ کریں: Review and Adjust:

باقاعدگی سے چیک ان: Regular Check-Ins:

بچوں کے  بجٹ کا باقاعدگی سے جائزہ لیں (ہفتہ وار یا ماہانہ) یہ دیکھنے کے لیے کہ وہ کیسے کر رہے ہیں۔والدین اس بات پر نظر رکھیں کہ بچے ویکلی ،منتھلی بیس پر پیسوں کا خرچ ،چیزوں کا لین دین اور سیونگ  کرنے میں کیا غلطیاں کررہے ہیں یا کس حد تک ٹھیک جارہے ہیں ۔

ایڈجسٹمنٹ: Adjustments:

 آمدنی یا اخراجات میں تبدیلی کی بنیاد پر ضرورت کے مطابق اپنے بجٹ کو ایڈجسٹ کرنے میں ان کی مدد کریں۔

مالیاتی انتخاب پر بحث کریں: Discuss Financial Choices:

سمارٹ خرچ: Smart Spending:

انہیں قیمتوں کا موازنہ کرنا، چیزوں کا بھاو تاو کرنا سیکھائیں ۔

تاخیر سے تسکین: Delayed Gratification:

 کسی چیز کے انتظار اور بچت کی قدر پر تبادلہ خیال کریں جو وہ چاہتے ہیں نہ کہ زبردستی خریدیں۔

. کریڈٹ اور قرض کے بارے میں سکھائیں (بڑے بچوں کے لیے):

Teach About Credit and Debt (for older kids):

قرض سے آگاہی: Debt Awareness:

بچوں کو ادھار لینے اور ادھار دینے کے بنیادی کانسپٹ کا شعور ضرور دیں ۔تاکہ بچوں کو معلوم ہوکہ جو رقم دی جاتی ہے اس کو واپس کیسے لیتے ہیں اور جس سے رقم لی ہو اس کو مناسب وقت پر واپس بھی کرنی ہوتی ہے تاکہ وہ بجٹ مینجمنٹ  کا یہ ٹول بھی اچھے سے سمجھ سکیں

غیر متوقع اخرجات: Unexpected Expenses

اچانک مہمان آگئے یا کسی شادی وغیرہ میں شرکت کرنا پڑی یا کوئی چیز گم ہوگئی، موبائل یا بائیک وغیرہ چھن گئی یا چوری ہوگئی تو اب ایسے میں ان اخراجات کے لیے بھی ہمیں ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے ۔آپ اپنے بچوں کو بھی اس کے حوالے سے آگاہ کریں ۔

قارئین:

ہمارے ہاں ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو تعلیم کے لیے اسکول ،کالجز ،یونیورسٹیز  میں داخل کرواتے ہیں ۔ان کے تعلیمی اخراجات میں دیتے ہیں ۔نیز ہمارے معاشرے کا عمومی رویہ ہے کہ والدین کہتے ہیں ہم جب تک زندہ ہیں خرچے کی ٹینشن نہیں لینا۔ابھی صرف پڑھو،کھاو پیو۔لیکن ہم نے اپنے تجربہ و مشاہدہ سے یہ سیکھا کہ یہ رویہ کسی طور پر بھی سود مند ثابت نہیں ہوتا۔لہذاوالدین مناسب عمر ہی سے بچوں کو بجٹ مینجمنٹ سیکھائیں ۔انھیں وقت کے ساتھ ساتھ زندگی کے گُر سیکھانا شروع کردیں ۔ہمیشہ حالات یکساں نہیں رہتے ۔آج آپ کے پاس مال اور دولت ہے ضروری نہیں کہ ہمیشہ آپ کے معاشی حالات یاسے رہیں ۔چنانچہ اپنے بچوں کو اس قابل کردیجئے کہ وہ آئندہ کسی کے محتاج نہ ہوں ۔بلکہ بھروقت زندگی کا سلیقہ سیکھ کر اچھی اور منظم زندگی گزارسکیں ۔ہمیں امید ہے کہ ہماری یہ کوشش آپ اور آپ کے بچوں کے لیے مفید ثابت ہوگی ۔اللہ کریم ہم سے راضی ہو۔

وٹس ایپ:03042001099

رابطہ نمبر:03462914283 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورت کائنات کا حیرت انگیز کردار

عورت کائنات  کا حیرت انگیز کردار تحریر: حافظہ نورالایمان  بنت ظہور حمد ) دوٹھلہ نکیال آزاد کشمیر ( عورت محض کائنات کا ایک کردار نہیں، بلکہ انسانی تہذیب کی خاموش معمار، جذبات کی ترجمان اور نسلوں کے مستقبل کی امین ہے۔ وہ کبھی ماں بن کر زندگی کو جنم دیتی ہے، کبھی بیٹی بن کر گھر میں رحمت کی خوشبو بکھیرتی ہے، کبھی بہن بن کر محبت کا حصار قائم کرتی ہے اور کبھی شریکِ حیات بن کر زندگی کے دشوار راستوں کو سکون اور رفاقت سے روشن کردیتی ہے۔ عقل یہ تسلیم کرتی ہے کہ جس ہستی کی تربیت سے انسان کا کردار تشکیل پاتا ہو، اسے کمزور یا غیر اہم قرار دینا خود انسانی عقل کی توہین ہے۔ ایک تعلیم یافتہ، باکردار اور ذہنی طور پر مضبوط عورت صرف اپنی زندگی نہیں سنوارتی؛ وہ ایک خاندان، ایک نسل اور بالآخر پورے معاشرے کی فکری سمت بدل سکتی ہے۔ نفسیات بتاتی ہے کہ انسان کی شخصیت کی بنیاد ابتدائی تعلقات، جذباتی تحفظ، گفتگو اور تربیت سے بنتی ہے۔ اس عمل میں ماں اور خاندان کی دیگر خواتین کا کردار اکثر نہایت گہرا ہوتا ہے۔ عورت کی ہمدردی، جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت، صبر اور تعلقات کو جوڑنے کی قوت معاشرتی استحکام...

پرامٹ انجئیرنگ کی عملی ورکشاپ اور مشقیں

پرامٹ انجئیرنگ کی عملی ورکشاپ اور مشقیں تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) پرامپٹ انجینئرنگ صرف پڑھنے سے نہیں آتی — یہ ویسا ہی ہے جیسے ڈرائیونگ کی کتاب پڑھ لینے کے بعد بھی اسٹیئرنگ پکڑنا ضروری ہوتا ہے۔اس باب میں ہم عملی مثالوں اور مشقوں کے ذریعے یہ فن آپ کے ہاتھ میں دیں گے، تاکہ آپ آج سے ہی بہتر پرامپٹ لکھنا شروع کر دیں۔ تعلیمی سبق تیار کرنا مقصد : AI سے ایسا سبق تیار کروانا جو ایک استاد کلاس میں استعمال کر سکے۔ پرامپٹ مثال : " آٹھویں جماعت کے لیے سورۃ الفیل کی تشریح تیار کرو، آسان اردو میں، ہر آیت کے بعد مفہوم اور اس سے ملنے والا سبق لکھو " بلاگ آرٹیکل رائٹنگ اس میں ہم کنٹینٹ رائٹنگ میں پرامپٹ کی طاقت کو آزماتے ہیں اور پھر اسی طرز پر اس کے نتائج حاصل کرتے ہیں۔ پرامپٹ مثال : " گرمیوں میں پانی زیادہ پینے کی اہمیت پر 500 الفاظ کا بلاگ لکھو، طبی فوائد اور اسلامی نقطہ نظر کے ساتھ " سوشل میڈیا مہم ڈیزائن کرنا اب ہم مارکیٹنگ میں AI کا استعمال کرکے اپنے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ پرامپٹ مثال : " عیدالفطر کے موقع پر ک...

نوجوانوں کے لیے امید بھرا پیغام

Life is a race, in which some get tired and stop moving towards the destination, and some reach the destination by facing every difficulty. (Drzahoordanish) نوجوانوں کے لیے امید بھرا پیغام تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہوں ۔جہاں و جب جاتاہوں تو ایک سوال ضرورت ہوتاہے ۔ہمارا مستقبل کیاہے ۔یعنی آج کا نوجوان اپنے مستقبل کی فکروں میں گھُلتاچلاجارہاہے ۔اسٹریس تو گویااس کی ذات کا حصہ بن گئی ہے ۔اب ایسے میں میں بہت دل جلاتاتھا کہ آخر ایسا کیا کیا جائے کہ  یہ قوم کہ معمار ٹینشن فری ہوں ۔خیر اپنے حصے کی جو ممکن کوشش تھی کرتارہا۔کافی دنوں سے سوچ رہاتھا کہ اس موضوع پر کوئی مختصر کی بات ضرور کروں ۔شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات کے حصول کے لیے ۔یہ مضمون بھی اُسی کی ایک کڑی ہے ۔ پیارے قارئین: موجودہ دور میں نوجوانوں میں مستقبل کے بارے میں بے چینی اور خوف ایک عام منظر بن چکا ہے۔ یہ خوف نہ صرف ذہنی سکون چھین لیتا ہے بلکہ زندگی کی توانائی، تخلیق اور کوششوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس مضمون میں ہم اس خوف کی نوعیت، اس کے اسباب، دنیاوی و دین...