تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش
دل کی دنیا اور حواس خمسہ
انسان کے جسم میں ایک لوتھڑا ہے، اگر وہ درست ہے
تو سارا جسم ٹھیک ہے، اگر وہ خراب ہے تو پورا بدن ناکارہ ہے۔ خبردار، سن لو! وہ دل
ہے۔‘‘ انسان کے جسم میں دل کا کردار بہت عظیم ہے۔قلب، انسانی بدن میں تمام اعضا کا
سردار ہے، جسم کے تمام اعضا کا دارومدار اسی پر ہے، اسی لیے حضور a نے امت کو دل کے بارے میں ہدایات دیں۔ یہ دل کیا ہے؟ یہ پٹھوں
کے مجموعے پر مشتمل ایک ایسا عضو ہے جو انسانی بدن کو مسلسل خون پہنچاتاہے۔ یہ
انسانی تن میں موجود خون کے نظامِ گردش کے درمیان واقع ہے۔ یہ پورانظام، خون کی
رگوں کے ایک جال پر مشتمل ہے۔ خون‘ دل سے پورے انسانی بدن کے مختلف حصوں سے ہوتا
ہوا پھر واپس دل کی طرف لوٹتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دل کا نظام ایسا رکھا ہے کہ اس
میں غور کرتے ہوئے انسان کی عقل حیران رہ جاتی ہے۔
آئیے ذرا اس دل کی دنیا کو حواس کے اعتبار سے
جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔
اِ اللہ ربُّ العزت نے
اِنسان کو ذریعۂ علم کے طور پر ایک اور باطنی سرچشمہ بھی عطا کر رکھا ہے، جسے ’وِجدان‘
(intuition) کہتے ہیں۔ ’وِجدان‘ بعض
ایسے حقائق کا اِدراک کرنے میں بھی کامیاب ہو جاتا ہے جن میں حواسِ ظاہری و باطنی
ناکام رہ جاتے ہیں۔
وِجدان کے بھی پانچ ہی
گوشے ہیں جنہیں ’لطائفِ خمسہ‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے :
1. لطیفۂ قلب
2. لطیفۂ رُوح
3. لطیفۂ سِرّ
4. لطیفۂ خفی
5. لطیفۂ اَخفی
اِن لطائف کے ذرِیعے
اِنسان کے دِل کی آنکھ بینا ہو جاتی ہے، حقائق سے پردے اُٹھنا شروع ہو جاتے ہیں،
رُوح کے کان سننا شروع کر دیتے ہیں اور یوں اِنسانی قلب بعض اَیسی حقیقتوں کا
اِدراک کرنے لگتا ہے جو حواس و عقل کی زد میں نہیں آ سکتے لیکن اِنسانی وِجدان کی
پرواز بھی محض طبیعی کائنات تک ہی محدُود ہے۔
امام غزالی رحمۃ اللہ
علیہ اِس سلسلے میں اِرشاد فرماتے ہیں :
وَ وراءُ
العقل طورٌ أخر، تنفتح فيه عين أُخريٰ، فيبصربها الغيب و ما سيکون في المستقبل و
أُموراً أخر، العقل معزول عنها.
(المنقذ
من الضلال : 54)
https://www.youtube.com/@kidstime2907/shorts
اور
عقل کے بعد ایک اور ذرِیعہ ہے جس میں باطنی آنکھ کھل جاتی ہے۔ اُس کے ذرِیعے غیبی
(اوجھل اور مخفی) حقائق اور مستقبل میں ظہور پذیر ہونے والے واقعات کو دیکھا
جاسکتا ہے اور اُن دِیگر اُمور کو بھی جن کے اِدراک سے عقل قاصر رہتی ہے۔
وِجدان
طبیعی کائنات کے مخفی حقائق کا اِدراک کرنے پر قادِر ہے لیکن وہ حقائق جو طبیعی
کائنات کی وُ سعتوں سے ماوراء ہیں، جو خدا کی ذات و صفات سے متعلق ہیں اور اِنسانی
تخلیق اور اُس کے مقصدِ تخلیق، نیز اُس کی موت اور مابعدالموت سے تعلق رکھتے ہیں،
اُن کے بارے میں حتمی اور قطعی علم کے سلسلے میں وِجدان بھی ’حواس خمسہ ظاہری‘ اور
’عقل‘ کی طرح قاصر ہے۔ اِنسان نے یکے بعد دِیگرے تینوں ذرائعِ علم کے دروازوں پر
دستک دی، اُن میں سے ایک ایک کو پکارا مگر ہر ایک نے اُسے مایوس کر دیا۔ کوئی بھی
ذرِیعہ اُس کے علم کو حتمیت اور قطعیت نہ دے سکا۔ اب اِنسان خدا کی ذات کو پکارتا
اُٹھتاہے :
اے
ربِّ کائنات! میں خود اپنی ذات، اِس کائنات اور تیری ذات کو یقینی طور پر سمجھنا
چاہتا ہوں مگر میرے پاس کوئی ایسا ذرِیعہ نہیں جو مجھے مطمئن کر سکے۔ اس لئے اس
کائنات میں میرے لئے علم کا کوئی ایسا سرچشمہ پیدا کر دے، علم کا کوئی ایسا منبع
تخلیق کر دے، جو مجھے اِن حقائق کے بارے میں حقیقی آگہی بخش سکے۔ جہاں تمام حواس
ناکام ہوجائیں، وہاں اُسے پکارا جا سکے، جہاں اِنسانی عقل خیرہ ہو جائے وہاں اُس
سے مدد کی درخواست کی جا سکے، جہاں اِنسانی وِجدان بھی نامراد لوٹ آئے وہاں اُس
سرچشمۂ علم سے فیضان کی بھیک مانگی جائے۔
اللہ
پاک ہمارے دل کو ستھرا کردے ۔ہمارے دل کی دنیا حق و سچ سے شاد و آباد رہے ۔کبھی دل
کی دنیا آلودہ اور ویران نہ ہو۔قارئین :ہماری یہ کوشش آپ کے لیے مفید ثابت ہوتو
ہماری مغفرت کی دعاکردیجئے گا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں