نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

دنیا کا خطرناک علاقہ comfort zone

 



()دنیا کا خطرناک علاقہ

comfort zone

ہم خوش رہنا چاہتے ہیں اور کامیاب بھی ہونا چاہتے ہیں ۔دنیا بدلنے کے دعوے اور تبصرے ہمارے روز مرہ زندگی کا شیڈول بن گیاہے ۔

صبح اُٹھو وہی روٹین وہی رسمی زندگی اور ایسے کرتے کرتے زندگی کا اکثر حصہ بیت جاتاہے ۔

پیچھے پلٹ کردیکھتے ہیں تو پھر خود کو کوستے ہیں ۔یا پھر طفل تسلی دے کر اس دنیا سے گمنام چلے جاتے ہیں ۔




آپکو معلوم ہے ایسا کیوں ہوتاہے ۔و ہ اس وجہ سے کہ ہمcomfort zone میں رہ رہے ہوتے ہیں۔۔

یہ ایک ایسا علاقہ ہے جس میں تحریک اور بہترین کے لیے کوشش کرنے کا جذبہ سرد پڑ 

جاتاہے ۔



اس میں رہتے ہوئے ،آپ زندگی کو بہتر بنانے یا پروفیشنل لائف میں ترقی کرنے ، آگے بڑھنے کی منصوبہ بندی نہیں کرتے۔آپ ایک خاص لیول تک کامیابی ، اپنے گولز حاصل کر چکے ہوتے ہیں لیکن اگلے لیول پر جانے کی کوشش نہیں کرتے ۔ 



کمفرٹ زون میں رہتے ہوئے آپ آرام طلب اور سست ہو جاتے ہیں ۔ اس میں چیزیں آپ کے لیے آسان بن چکی ہوتی ہیں۔ جو عادات پختہ ہو چکی ہوتی ہیں زندگی بس ان کے اردگرد گھوم رہی ہوتی ہے ۔ چیزیں آٹو پائلٹ پر ہوتی ہیں۔ آپ کی زندگی میں ایک روٹین اور 

یکسانیت ہوتی ہے۔ 



قارئین:

زندگی کے اس زون میں آپکا رہن بہت خطرناک ہے بہت خطرناک ہے ۔یہاں رہنے والے اعتماد اور خوشی سے محروم ہوجاتے ہیں ۔ دیمک کی طرح صلاحیتیں ماند پڑ جائیں گیں ۔ہمیں اس انداز سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ہم صرف اسی وقت اچھا محسوس کریں گے جب ہمارے پاس چیلنج ہوں گے، جب ہم grow کر رہے ہوں۔



اگر خود کو نمایاں اور کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں تو ا س علاقے کی شہریت منسوخ کرنی ہوگی ۔اس زون کا حصار توڑ کرنکلناہوگا۔



یاد رکھیں کہ  comfort zone سے باہر جو بھی کام ہو گا وہ آپ کےلیے کچھ مشکل ہو گا۔ جب آپ اس کو کرنے کا سوچیں گے تو یہ آپ کو خوف سے بھر دے گا۔ سوچیں اندیشے مفروضے سرچکرادیں گے ۔اف ایسا ہوجائے گا ۔اف ایسا نہ ہوجائے اف اگر ہوگیاتو ،اگر 

ناکام ہوگیا تو،لوگ کیا کہیں گے ۔ایسے کئی شک وہم کے بادل برستے رہیں گے ۔


کمفرٹ   زون سے باہر جو بھی کام ہو گا اس کے لیے آپ کو اپنی ہمت جمع کرنی پڑے گی ، خود کو بار بار قائل کرنا پڑے گا۔ آپ کو سٹریس میں سے گزرنا پڑے گا۔ آپ کو خود کو stretch کرنا پڑے گا۔ خود کو بدلنا پڑے گا۔ آپ کو پورا زور لگانا پڑے گا۔اس کے لیے آپ کو اپنا علم بڑھانا ہو گا۔ نئی منصوبہ بندی کرنا ہو گی ۔ تخلیقی صلاحیت کو جگانا پڑے گا۔اپنا جائزہ لیں کہ کیا آپ سیلف امپروومنٹ کے لیے کچھ نیا سیکھنے یا کرنے کا سوچ رہے ہیں ؟ جو آپ کے لیے چیلنج ہو۔نئے خوابوں ، نئے منصوبوں پر کام شروع کریں ۔ نئے لیول پر جانے کی تیاری کریں ۔ اپنی زندگی کو جامد نہ ہونے دیں، اس میں نیا ولولہ ، نیا جوش لے کر آئیں ۔زندگی کا مزہ اسی میں ہے کہ کمفرٹ زون سے باہر قدم رکھا جائے۔ کیا آپ اس کے لیے تیار ہیں ؟کمفرٹ زون سے باہر ایک شاندار زندگی آپ کی منتظر ہے۔



آپ ذرا کمفرٹ زون کے علاقے سے نکل کر ذرا باہر جھانک کر تودیکھیں

 ۔دنیا آپ کے استقبال کے لیے منتظر ہے ۔بہت بڑی کامیابیاں آپ کا انتظار کررہی ہیں ۔

باہر تو نکلیں ۔کچھ بھی نہیں ہوگا۔ارے ہاں سچ کچھ بھی نہیں ہوگا۔۔

۔نکل باہر ۔



۔۔توڑوخوف کا دروازہ ،اس وسوسے کی دیوار کو ڈھادو۔۔آپ بہت بڑے آدمی ہو۔خود کو

 پہنچان تو لو۔۔۔۔




comfor zone ایک خاموش زہر ،ایک چھپادشمن اور زندگی کی کامیابیوں و مسروتوں کو چاٹ

 جانے والی دیمک ہے ۔۔۔

اُٹھواور چھاجاو۔۔۔ہاں آپ کرسکتے ہو دوستو!!!!!!!!




تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش

دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر

 


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورت کائنات کا حیرت انگیز کردار

عورت کائنات  کا حیرت انگیز کردار تحریر: حافظہ نورالایمان  بنت ظہور حمد ) دوٹھلہ نکیال آزاد کشمیر ( عورت محض کائنات کا ایک کردار نہیں، بلکہ انسانی تہذیب کی خاموش معمار، جذبات کی ترجمان اور نسلوں کے مستقبل کی امین ہے۔ وہ کبھی ماں بن کر زندگی کو جنم دیتی ہے، کبھی بیٹی بن کر گھر میں رحمت کی خوشبو بکھیرتی ہے، کبھی بہن بن کر محبت کا حصار قائم کرتی ہے اور کبھی شریکِ حیات بن کر زندگی کے دشوار راستوں کو سکون اور رفاقت سے روشن کردیتی ہے۔ عقل یہ تسلیم کرتی ہے کہ جس ہستی کی تربیت سے انسان کا کردار تشکیل پاتا ہو، اسے کمزور یا غیر اہم قرار دینا خود انسانی عقل کی توہین ہے۔ ایک تعلیم یافتہ، باکردار اور ذہنی طور پر مضبوط عورت صرف اپنی زندگی نہیں سنوارتی؛ وہ ایک خاندان، ایک نسل اور بالآخر پورے معاشرے کی فکری سمت بدل سکتی ہے۔ نفسیات بتاتی ہے کہ انسان کی شخصیت کی بنیاد ابتدائی تعلقات، جذباتی تحفظ، گفتگو اور تربیت سے بنتی ہے۔ اس عمل میں ماں اور خاندان کی دیگر خواتین کا کردار اکثر نہایت گہرا ہوتا ہے۔ عورت کی ہمدردی، جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت، صبر اور تعلقات کو جوڑنے کی قوت معاشرتی استحکام...

پرامٹ انجئیرنگ کی عملی ورکشاپ اور مشقیں

پرامٹ انجئیرنگ کی عملی ورکشاپ اور مشقیں تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) پرامپٹ انجینئرنگ صرف پڑھنے سے نہیں آتی — یہ ویسا ہی ہے جیسے ڈرائیونگ کی کتاب پڑھ لینے کے بعد بھی اسٹیئرنگ پکڑنا ضروری ہوتا ہے۔اس باب میں ہم عملی مثالوں اور مشقوں کے ذریعے یہ فن آپ کے ہاتھ میں دیں گے، تاکہ آپ آج سے ہی بہتر پرامپٹ لکھنا شروع کر دیں۔ تعلیمی سبق تیار کرنا مقصد : AI سے ایسا سبق تیار کروانا جو ایک استاد کلاس میں استعمال کر سکے۔ پرامپٹ مثال : " آٹھویں جماعت کے لیے سورۃ الفیل کی تشریح تیار کرو، آسان اردو میں، ہر آیت کے بعد مفہوم اور اس سے ملنے والا سبق لکھو " بلاگ آرٹیکل رائٹنگ اس میں ہم کنٹینٹ رائٹنگ میں پرامپٹ کی طاقت کو آزماتے ہیں اور پھر اسی طرز پر اس کے نتائج حاصل کرتے ہیں۔ پرامپٹ مثال : " گرمیوں میں پانی زیادہ پینے کی اہمیت پر 500 الفاظ کا بلاگ لکھو، طبی فوائد اور اسلامی نقطہ نظر کے ساتھ " سوشل میڈیا مہم ڈیزائن کرنا اب ہم مارکیٹنگ میں AI کا استعمال کرکے اپنے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ پرامپٹ مثال : " عیدالفطر کے موقع پر ک...

نوجوانوں کے لیے امید بھرا پیغام

Life is a race, in which some get tired and stop moving towards the destination, and some reach the destination by facing every difficulty. (Drzahoordanish) نوجوانوں کے لیے امید بھرا پیغام تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہوں ۔جہاں و جب جاتاہوں تو ایک سوال ضرورت ہوتاہے ۔ہمارا مستقبل کیاہے ۔یعنی آج کا نوجوان اپنے مستقبل کی فکروں میں گھُلتاچلاجارہاہے ۔اسٹریس تو گویااس کی ذات کا حصہ بن گئی ہے ۔اب ایسے میں میں بہت دل جلاتاتھا کہ آخر ایسا کیا کیا جائے کہ  یہ قوم کہ معمار ٹینشن فری ہوں ۔خیر اپنے حصے کی جو ممکن کوشش تھی کرتارہا۔کافی دنوں سے سوچ رہاتھا کہ اس موضوع پر کوئی مختصر کی بات ضرور کروں ۔شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات کے حصول کے لیے ۔یہ مضمون بھی اُسی کی ایک کڑی ہے ۔ پیارے قارئین: موجودہ دور میں نوجوانوں میں مستقبل کے بارے میں بے چینی اور خوف ایک عام منظر بن چکا ہے۔ یہ خوف نہ صرف ذہنی سکون چھین لیتا ہے بلکہ زندگی کی توانائی، تخلیق اور کوششوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس مضمون میں ہم اس خوف کی نوعیت، اس کے اسباب، دنیاوی و دین...