نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ٹرانسجینڈر (جنس کی تبدیلی) کیا حقیقت اور کیا افسانہ



ٹرانسجینڈر (جنس کی تبدیلی) کیا حقیقت  اور کیا افسانہ

ٹرانس جینڈر ایک مغربی اصطلاح ہے اور یہ ایک پوری کمیونٹی کی نمائندگی کرتی ہےجسےعرفِ عام میں LGBTیعنی لیزبیئن،گے، بائی سیکسوئل اور ٹرانس جینڈرکہتے ہیں۔

پیارے قارئین :جس دور میں ہم جی رہے ہیں یہاں تو ایسے ہورہاہے کہ رات کو سوصبح اُٹھوتوایک نئی دریافت ہوچکی ہوتی ہے ۔ٹیکنالوجی لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹ ہورہی ہے ۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ انسانی فکر میں بھی  انقلابی تبدیلیاں ہورہی ہیں ۔





یعنی یہ سمجھ لیں کے وہ 90 اینگل سے مروجہ زندگی کو بدلنے پر تلا ہواہے ۔اسی کی آواز ٹرانس جینڈر بھی ہے۔ اِس وقت پوری دنیا اور خصوصاً مغربی ممالک میں بہت سے افراد تبدیلیِ جنس یعنی مرد سے عورت اورعورت سے مرد بننے کے ذریعہ اپنی نامراد جنسی تسکین میں مبتلا ہیں،
 اور دن بہ دن یہ ناپاک اور فطرتِ الٰہی سے متصادم جذبہ، بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔ اس سنگین اور بہت سے دنیوی ودینی مفاسد پر مشتمل، عمل کو نئی قسم کی ایجادات کے ذریعہ اتنا آسان بنادیاگیا ہے 
کہ اگر کوئی شخص اپنی ظاہری جنس تبدیل کرانا چاہے تو ماہر ڈاکٹروں کے ذریعے بہ سہولت کراسکتا ہے
؛ چوں کہ یہ عمل براہِ راست فطرتِ الٰہی سے مُتَصَادِم اور بلا واسطہ تغیر لخلق اللہ کا مصداق ہے،
 نیز پورے معاشرے کے لیے اور خصوصاً اس عمل کے مرتکب کے جسم وروح کے لیے ایک بہت بڑے خطرے کا پیش خیمہ ہے؛ اس لیے ضروری ہوا کہ اس موضوع پر تفصیل سے بحث کی جائے۔

 



جنس کی تبدیلی سے مراد :

تبدیلی جنس سے مراد یہ ہے کہ مرد و عورت کے ظاہری اعضا  تبدیل کرناہے ۔ٹرانس جینڈر کا طریقہ :

قارئین یہ اس قدر حساس موضوع ہے کہ جب میں ریسرچ کے بعد تحریر لکھ رہاہوں تو شرم سے لکھتے ہوئے بعض مرتبہ رک جاتاہے ہوں ۔نوبت ہی کچھ ایسی آئی کہ لکھنا اور بتانا اپنی ذمہ سمجھتے ہوئے آپ پیاروں کو مطلع کرنا ضروری تھااسلیے لکھ رہاہوں ۔اب ذرا اس ٹرانس جینڈر کا طریقہ بھی سمجھ لیجئے کہ اس میں کیا کیا جاتاہے ۔ایک ماہر ڈاکٹر کی مدد لی جاتی ہے ۔وہ ڈاکٹر آلہٴ تناسل وخصیتین کو آپریشن کے ذریعے نکال دیتا ہے اور اس کی جگہ عورت کی شرمگاہ کے مثل ایک سوراخ بنادیتا ہے، نیز دواؤں کے ذریعے وہ مرد کے جسم میں عورت کے ہارمونز - ایسی آمیزش جو دورانِ خون کے ذریعہ جسم کے سیال مادوں میں تحلیل ہوکر، افعالِ اعضاء کا سبب بنتی ہے - ڈال دیتا ہے؛ جس کی وجہ سے اس کے سینے پر ابھارپن پیدا ہوجاتا ہے اور اس کی آواز، چال ڈھال عورت کی طرح ہوجاتی ہے،اور اگر عورت اپنی جنس تبدیل کرانا چاہتی ہے، تو ڈاکٹر آپریشن کے ذریعہ اس کے سینے کے ابھار، رحم وغیرہ کو ختم کردیتا ہے اور بچہ دانی کے سوراخ کو بند کردیتا ہے، اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مرد کے آلہٴ تناسل کے مماثل ایک مصنوعی آلہ عورت کی شرمگاہ کی جگہ لگادیتا ہے، جس کے ذریعے اگرچہ اس کے اندر جماع کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے؛ مگر اس سے مادہ منویہ کا خارج ہونا اوراس سے حمل ٹھہر جانا اس کا کوئی امکان نہیں رہتا، نیز وہ عورت کے اندر مرد کے ہارمونز ڈال دیتا ہے، جس سے اس کی آواز، چال ڈھال مرد کی طرح ہوجاتی ہے اوراس کے چہرے پر بال نکلنے لگتے ہیں۔



الامان الامان ۔یااللہ توکرم کردے ۔انسان کس قدر فطرت سے ٹکرانے پر تلا ہواہے ۔یااللہ تو رحم والا معاملہ فرما۔ہمیں سمجھ عطافرما۔



ٹرانس جینڈر مرد کو مرد اور عورت کو عورت بنادیتاہے ؟

ڈاکٹرڈاکٹراگرچہ تبدلی جنس کی کوشش کرتاہے لیکن حقیقی معنوں میں مرد مرد اور عورت عورت ہی رہتی ہے ۔البتہ  ان حربوں سے ان کے خواص میں تبدیلی ضرور واقع ہوتی ہے ۔لیکن ایسا ہر گز نہیں ہوتاہے کہ : عورت بننے والے مرد کے لیے ممکن نہیں ہے کہ اس کو حیض آئے یا اس کو حمل ٹھہرے، اسی طرح مرد بننے والی عورت کے لیے ناممکن ہے کہ اس کے آلہٴ تناسل سے مادئہ مَنَوِیّہ خارج ہو۔






قارئین :تکلیف دہ بات دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی پیداہوگئے جو اس عمل کا ارتکاب کرتے ہیں؛ بل کہ افسوس اس پر ہے کہ اب مغربیت سے متاثر مسلمانوں میں سے بھی کچھ نام نہاد محققین فطرتِ الٰہی کے خلاف اور عذابِ خداوندی کو نازل کرانے والے اس عمل کو شریعت کے نقطئہ نظر سے جائز قرار دینے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔اے اللہ توکرم کردے ۔




قارئین :مزید کیا لکھوں مطالعہ تو کافی کیا ہے لیکن دل بیٹھ سا گیا ہے اور دکھی بھی ہوگیا ہے کہ میری آئندہ نسلوں کو کیسے کیسے فتنوں کا سامنا کرنا ہوگا۔سوچ سوچ کر ٹوٹ جاتاہوں ۔خیر آئیے ذرا ہم دلائل کی روشنی میں اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

دلیل :

عورتوں سے مشابہت کی ممانعت مطلق ہے جیساکہ بخاری کی روایت ہے: عن ابن عباس رضی اللہ عنہ أنہ قال: لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم المتشبھین من الرجال بالنساء والمتشبھات من النساء بالرجال۔


دلیل :

وَّ لَاُضِلَّنَّہُمۡ وَ لَاُمَنِّیَنَّہُمۡ وَ لَاٰمُرَنَّہُمۡ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الۡاَنۡعَامِ وَ لَاٰمُرَنَّہُمۡ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلۡقَ اللّٰہِ ؕ وَ مَنۡ یَّتَّخِذِ الشَّیۡطٰنَ وَلِیًّا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَقَدۡ خَسِرَ خُسۡرَانًا مُّبِیۡنًا ﴿۱۱۹ؕ( سورۃالنسا ،آیت:119)

 

ترجمہ :اور میں انہیں ضرور گمراہ کروں گا اور انہیں آرزوؤں میں ضرور مبتلا رکھوں گا اور انہیں حکم دوں گا تو وہ ضرور جانوروں کے کان پھاڑیں گے اور میں انہیں حکم دوں گا تو وہ اللہ کی بنائی ہوئی صورت میں ضرور رد و بدل کریں گے اور جس نے اللہ کے سوا شیطان کو اپنا سرپرست بنا لیا پس یقینا وہ صریح نقصان میں رہے گا۔


دلیل:

حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن منصور، عن إبراهيم، عن علقمة، عن عبد الله رضي الله عنه،" لعن الله الواشمات والمستوشمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغيرات خلق الله، ما لي لا العن من لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في كتاب الله۔(بخاری شریف ، حدیث نمبر5948)".

ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ گودنے والیوں پر اور گدوانے والیوں پر، بال اکھاڑنے والیوں پر اور خوبصورتی کے لیے دانتوں کے درمیان کشادگی کرنے والیوں پر جو اللہ کی پیدائش میں تبدیلی کرتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے لعنت بھیجی ہے پھر میں بھی کیوں نہ ان پر لعنت بھیجوں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے اور وہ کتاب اللہ میں بھی موجود ہے۔


دلیل:

قال أبو جعفر الطبری: في حدیث ابن مسعود دلیل علی أنہ لایجوز تغییر شيء من خلقھا الذي خلقھا اللہ علیہ بزیادة أو نقصان التماسَ الحسن للزوج أو غیرہ۔

وہر یا دوسروں کی نیک خواہشات کو بڑھا کر یا گھٹا کر اللہ تعالیٰ نے جو کردار بنایا ہے اس میں کوئی تبدیلی کرنا جائز نہیں۔



دلیل :

لعن اللہ الواشمات والمستوشمات والنّامصات والمتنمّصات للحسن المغیرات لخلق اللہ)     (القرطبی: ۵/۲۵۲۔)

خدا کی لعنت ہو گودنے والے پر، گودنے والی پر، غیبت کرنے والی عورت پر، اور خدا کی مخلوق کو بدلنے والی نیکیوں کو چوسنے والی پر۔


دلیل :

 حدثنا معاذ بن فضالة، حدثنا هشام، عن يحيى، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال:" لعن النبي صلى الله عليه وسلم المخنثين من الرجال والمترجلات من النساء، وقال اخرجوهم من بيوتكم" قال: فاخرج النبي صلى الله عليه وسلم فلانا، واخرج عمر فلانا. (بخاری شریف حدیث نمبر5886)

ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخنث مردوں پراور مردوں کی چال چلن اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی اور فرمایا کہ ان زنانہ بننے والے مردوں کو اپنے گھروں سے باہر نکال دو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں ہیجڑے کو نکالا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ نے فلاں ہیجڑے کو نکالا تھا۔

 


قارئین :بات طویل ہوجائیگی ۔۔ممکن ہے کہ کسی مقام پر آپ میں سے مجھے کوئی کلیم نہ کردیں ۔کیونکہ مجھے بحثیت مقرر اور محرر  کچھ مقامات پر سچ کی سزابھی کاٹنی پڑی ۔چنانچہ بس اتنی ہی بات کرتاہوں جو مجھے بھی ہضم اور آپ کا بھی بھلاہوجائے ۔مزید شرعی رہنمائی  کے لیے کسی مفتی صاحب سے رجوع کیجئے اور ٹرانس جینڈر کے میڈیکل اثرات کے حوالے سے کسی ایکسرپٹ ڈاکٹر سے رابطہ کرلیجئے ۔بس اتنا کہوں گا کہ ہوشیار رہیں۔کہیں ایسا نہ ہو کہ گھر بھی لٹ جائے اور معلوم بھی ہو۔


ہم نے جو بھی بیان کیا وہ خالصتاآپ کی بھلائی کی نیت سے پیش کیا ہے ہم بشر ہیں غلطی کا اقرار بھی ہے ۔جو اچھا لگے وہ سب رب کا فضل تھا۔ہماری تحریر سے آپکوفائدہ ہوتوہماری مغفرت کی دعا کردیجئے گا۔


تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش


دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر


 

رابطہ نمبر:03462914283

  

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورت کائنات کا حیرت انگیز کردار

عورت کائنات  کا حیرت انگیز کردار تحریر: حافظہ نورالایمان  بنت ظہور حمد ) دوٹھلہ نکیال آزاد کشمیر ( عورت محض کائنات کا ایک کردار نہیں، بلکہ انسانی تہذیب کی خاموش معمار، جذبات کی ترجمان اور نسلوں کے مستقبل کی امین ہے۔ وہ کبھی ماں بن کر زندگی کو جنم دیتی ہے، کبھی بیٹی بن کر گھر میں رحمت کی خوشبو بکھیرتی ہے، کبھی بہن بن کر محبت کا حصار قائم کرتی ہے اور کبھی شریکِ حیات بن کر زندگی کے دشوار راستوں کو سکون اور رفاقت سے روشن کردیتی ہے۔ عقل یہ تسلیم کرتی ہے کہ جس ہستی کی تربیت سے انسان کا کردار تشکیل پاتا ہو، اسے کمزور یا غیر اہم قرار دینا خود انسانی عقل کی توہین ہے۔ ایک تعلیم یافتہ، باکردار اور ذہنی طور پر مضبوط عورت صرف اپنی زندگی نہیں سنوارتی؛ وہ ایک خاندان، ایک نسل اور بالآخر پورے معاشرے کی فکری سمت بدل سکتی ہے۔ نفسیات بتاتی ہے کہ انسان کی شخصیت کی بنیاد ابتدائی تعلقات، جذباتی تحفظ، گفتگو اور تربیت سے بنتی ہے۔ اس عمل میں ماں اور خاندان کی دیگر خواتین کا کردار اکثر نہایت گہرا ہوتا ہے۔ عورت کی ہمدردی، جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت، صبر اور تعلقات کو جوڑنے کی قوت معاشرتی استحکام...

پرامٹ انجئیرنگ کی عملی ورکشاپ اور مشقیں

پرامٹ انجئیرنگ کی عملی ورکشاپ اور مشقیں تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) پرامپٹ انجینئرنگ صرف پڑھنے سے نہیں آتی — یہ ویسا ہی ہے جیسے ڈرائیونگ کی کتاب پڑھ لینے کے بعد بھی اسٹیئرنگ پکڑنا ضروری ہوتا ہے۔اس باب میں ہم عملی مثالوں اور مشقوں کے ذریعے یہ فن آپ کے ہاتھ میں دیں گے، تاکہ آپ آج سے ہی بہتر پرامپٹ لکھنا شروع کر دیں۔ تعلیمی سبق تیار کرنا مقصد : AI سے ایسا سبق تیار کروانا جو ایک استاد کلاس میں استعمال کر سکے۔ پرامپٹ مثال : " آٹھویں جماعت کے لیے سورۃ الفیل کی تشریح تیار کرو، آسان اردو میں، ہر آیت کے بعد مفہوم اور اس سے ملنے والا سبق لکھو " بلاگ آرٹیکل رائٹنگ اس میں ہم کنٹینٹ رائٹنگ میں پرامپٹ کی طاقت کو آزماتے ہیں اور پھر اسی طرز پر اس کے نتائج حاصل کرتے ہیں۔ پرامپٹ مثال : " گرمیوں میں پانی زیادہ پینے کی اہمیت پر 500 الفاظ کا بلاگ لکھو، طبی فوائد اور اسلامی نقطہ نظر کے ساتھ " سوشل میڈیا مہم ڈیزائن کرنا اب ہم مارکیٹنگ میں AI کا استعمال کرکے اپنے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ پرامپٹ مثال : " عیدالفطر کے موقع پر ک...

نوجوانوں کے لیے امید بھرا پیغام

Life is a race, in which some get tired and stop moving towards the destination, and some reach the destination by facing every difficulty. (Drzahoordanish) نوجوانوں کے لیے امید بھرا پیغام تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہوں ۔جہاں و جب جاتاہوں تو ایک سوال ضرورت ہوتاہے ۔ہمارا مستقبل کیاہے ۔یعنی آج کا نوجوان اپنے مستقبل کی فکروں میں گھُلتاچلاجارہاہے ۔اسٹریس تو گویااس کی ذات کا حصہ بن گئی ہے ۔اب ایسے میں میں بہت دل جلاتاتھا کہ آخر ایسا کیا کیا جائے کہ  یہ قوم کہ معمار ٹینشن فری ہوں ۔خیر اپنے حصے کی جو ممکن کوشش تھی کرتارہا۔کافی دنوں سے سوچ رہاتھا کہ اس موضوع پر کوئی مختصر کی بات ضرور کروں ۔شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات کے حصول کے لیے ۔یہ مضمون بھی اُسی کی ایک کڑی ہے ۔ پیارے قارئین: موجودہ دور میں نوجوانوں میں مستقبل کے بارے میں بے چینی اور خوف ایک عام منظر بن چکا ہے۔ یہ خوف نہ صرف ذہنی سکون چھین لیتا ہے بلکہ زندگی کی توانائی، تخلیق اور کوششوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس مضمون میں ہم اس خوف کی نوعیت، اس کے اسباب، دنیاوی و دین...