مایوسی سے کیسے بچیں؟
انسان کی زندگی میں ہر قسم کا وقت اور طرح طرح کے موڑ آتے ہیں، جب
کبھی خوشیاں اور آسائشیں ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے غافل کرتی ہیں، تو ہم راستہ
بھٹک کر مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ امتحانات اور آزمائشیں دنیا میں نظام الٰہی
کا حصہ ہیں۔
امتحانات اور مشکلات کے بھنور میں بسا اوقات حالات انتہا درجے تک
بگڑ بھی جاتے ہیں، مصیبتیں بڑھ جاتی ہیں، ظلم کے بادل چھٹنے میں اتنی تاخیر ہو
جاتی ہے کہ بدگمانیاں، مایوسی اور ناامیدی دل میں گھر کر جاتی ہے۔
قارئین :
انسان مایوسی ہوجاتاہے ۔ناامید ہوجاتاہے زندگی کا ہر ذائقہ ختم ہر خوشی بے رنگ دکھائی دیتی ہے
۔لیکن اسلام کتنا قابل رشک دین ہے ۔یہ ہمیں کہیں بھی تنہا نہیں چھوڑتاہے
۔ہر قدم پر ہماری رہنمائی اور مدد کے لیے مشفق سائبان کی طرح ساتھ ساتھ ہے ۔آئیے دین اسلام سے اپنی مایوسی کا حل چاہتے ہیں ۔
مایوسی :
اللہ کی رحمت اور اس کےفضل واحسان سے خود کومحروم سمجھنا ’’مایوسی ‘‘ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۳۲۷
)
ارشاد باری تعالیٰ:
قُلْ یٰعِبَادِیَ
الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ
اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًاؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ
الرَّحِیْمُ(۵۳))(پ۲۴، الزمر: ۵۳) ترجمۂ کنزالایمان: ’’تم فرماؤ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو بیشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘
فرمان مصطفی ﷺ:
حضور سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سوال کیا گیا :’’کبیرہ گناہ کون سے ہیں ؟‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا، اس کی رحمت سے مایوس ہونا اور اس کی خفیہ تدبیر سے بے خوف رہنا اور یہی سب سے بڑا گناہ ہے۔‘‘[1] (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۳۲۸
قارئین :آئیے مایوسی سے بچنے کے کچھ طریقے بھی جان لیتے ہیں
مایوسی کے تین اسباب و
علاج:
(1)…
مایوسی کا پہلا سبب جہالت ہے کہ بندہ اپنی جہالت اور کم علمی کے سبب رحمت الٰہی سے
مایوسی جیسے موذی گناہ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ دنیوی علوم
کے ساتھ ساتھ دینی علوم بھی حاصل کرے، قرآن وحدیث کا علم حاصل کرے، جہنم
میں لے جانے والے اعمال اوران پر ملنے والے عذابات پر غور وفکر کرے تاکہ اس کے دل
میں خوف آخرت پیدا ہو، جنت میں لے جانے والے اعمال اور ان پر ملنے والے عظیم
اجروثواب پر نظر رکھے تاکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت کاملہ پر اس کا
یقین مزید پختہ ہوجائے اور مایوسی اس سے دور بھاگ جائے۔
(2)…مایوسی کا دوسرا سبب
بے صبری ہے۔ کسی آزمائش یا مصیبت پر بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے واویلا کرنے سے
رحمت الٰہی سے مایوسی پیدا ہوتی ہے۔اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ مصیبتوں پر صبر کرنے
کی عادت ڈالے کیوں بے صبر ی کی وجہ سےنکلنے والے کلمات بسا اوقات ’’کفریات‘‘پر مشتمل
ہوتے ہیں جو ایمان کو برباد کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ کسی بھی تکلیف یا مصیبت پر بندہ
یہ مدنی ذہن بنائے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے اس آزمائش میں مبتلا کیا ہے تو میں اس پر
بے صبری کا مظاہرہ کرکے اجر وثواب کیوں ضائع کروں ؟ بلکہ میں اس کی رحمت کاملہ پر
نظر رکھوں اور اس مصیبت یا پریشانی سے نجات کے لیے اس کی بارگاہ میں التجا کروں۔
(3)… مایوسی کا تیسرا سبب
دوسروں کی پر آسائش زندگی پر نظر رکھنا ہے۔جب بندہ کسی کو پرآسائش زندگی پر غور
وفکر کرتا ہے تو اسے اپنی زندگی پر سخت تشویش ہوتی ہےیوں بندہ رحمت الٰہی سے مایوس
ہوجاتا ہے۔اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ دوسروں پر نظر رکھنے کے بجائے اپنی زندگی پر
غور وفکر کرے ، ربّ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کرتے ہوئے قناعت اختیار کرے،یہ مدنی
ذہن بنائے کہ جس ربّ عَزَّ
وَجَلَّ نے
اسے پرآسائش زندگی عطا فرمائی ہے یقیناً وہ مجھے ویسی ہی زندگی عطا کرنے پر قادر
ہے لیکن یہ اس کی مشیت ہے اور میں اس کی مشیت پر راضی ہوں۔ نیز بندہ اس بات پر بھی
غور کرے کہ جو شخص دنیا میں جتنی بھی پرآسائش زندگی بسر کرے گا ہوسکتا ہے کل بروز
قیامت اسے اتنا ہی سخت حساب وکتاب دینا پڑے، لہٰذا پرآسائش زندگی کی خواہش
کرنے کے بجائے سادہ طرز زندگی اپنانے ہی میں عافیت ہے۔
(4)… مایوسی کا چوتھا سبب
بری صحبت ہے۔جب بندہ ایسے دنیا دار لوگوں کی صحبت اختیار کرتا ہے جو خود مایوسی کا
شکار ہوتے ہیں تو ان کی صحبت کی وجہ سے یہ بھی مایوسی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس کا
علاج یہ ہے کہ بندہ سب سے پہلے ایسے لوگوں کی صحبت ترک کرکے نیک پرہیزگار اور متقی
لوگوں کی صحبت اختیار کرے، اللہ والوں کے پاس بیٹھے تاکہ
مایوسی کے سیاہ بادل چھٹ جائیں اور رحمت الٰہی پر یقین کی بارش نازل ہو۔
قارئین:
جب بھی آپ تحریر پڑھیں اسے فقط مطالعہ یا وقتی یاداشت کا
حصہ نہ بنائیں بلکہ اسے اپنی عملی زندگی میں نافذ بھی کریں اسی صورت میں آپ کا
علم آپکو نفع دے گا اس سکے ثمرات آپ کو نصیب ہوں گے ۔
آپ کو ہماری تحریر سے فائدہ ہوتوآپ کی زندگی میں امن سکون
چین آئے تو ہماری مغفرت کی دعا کردیجئے گا۔
تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش
دوٹھلہ نکیال
آزادکشمیر
رابطہ
نمبر:03462914283
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں