نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ماہِ رجب المرجب کی افادیت


تحریر:ظہوراحمد دانش
ماہِ رجب المرجب کی افادیت
ہجری کلینڈرکے بارہ مہینے اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں کئی حکمتیں اور کئی تاریخی واقعات ۔ہر مہینے کی اپنی اہمیت ہے ۔ حرمت والے مہینوں میں سے ایک مہینہ ماہِ رجب المرجب ہے ۔
لغت کی کتابوں میں رجب کے معنی عظمت و بزرگی کے بیان ہوئے ہیں اور ترجیب بمعنی تعظیم آیا ہے ۔(٣)
(۔ ابن منظور افریقی لسان العرب زیر مادہ رجب)
ماہ رجب میں پیش آنے والے چند اہم تاریخی واقعات!!
تاریخ اسلام میں ماہ رجب میں متعدد تاریخی واقعات پیش آنے کا ذکر ہے ان میں سے ایک ہجرت حبشہ اولیٰ ہے جب مسلمان پر سختیاں زیادہ ہوگئیں ۔تکالیف و مصائب کے پہاڑ توڑے جارہے تھے۔ تو ایسے میں رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم عازم حبشہ ہوئے۔
ماہ ِ رجب المرجب ہی وہ مہینہ ہے جس میں ہجری میں پیش آنے والا عظیم غزوہ غزوہ تبوک بھی ماہ رجب ہی میں پیش آیا تھا جسے غزوہ ذات العسرہ کا نام دیا گیا۔ یہی وہ غزوہ ہے جس میں سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ نے اپناگھر بار خالی کرکے تن من دھن حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں پیش کرنے کا شرف ایک بار پھر حاصل کیا اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲعنہ نے تہائی لشکر کا سازوسامان اپنی گرہ سے پیش کرکے جنت کا پروانہ اور یہ سند حاصل کی۔ ماہِ رجب المرجب میں کئی بزرگان دین کے شان و شوکت اور مذہبی عقیدت سے اعراس منائے جاتے ہیں ۔
حضرت شیخ بزرگ خواجہ معین الدین اجمیری چشتی رحمتہ اﷲعلیہ کا وصال 6 رجب میں ہو۔ا جن کے خلفاء و مریدین نے ہند میں اسلام کی نشوونما کے سلسلہ میں تاریخ ساز کردار ادا کیا اور ظلمت کدہ میں حضرت شیخ بزرگ رحمتہ اﷲعلیہ کی روشن کردہ شمع اسلام کی بھرپور حفاظت کا فریضہ انجام دیا۔ ماہِ رجب کے مہینے میںخواجہ معین الدین اجمیری چشتی رحمتہ اﷲعلیہ کی یاد منائی جاتی ہے۔ان کے علاوہ کئی بزرگان دین کے ایام وصال رجب المرجب کے مہینے سے تعلق رکھتے ہیں ۔
ہجری کلینڈر کا ساتواں مہینے ماہ رجب المرجب اپنے ضمن میں بہت سے برکتیں سمیٹے ہوئے ہے۔اے اللہ عزوجل !ہمیں ماہِ رجب المرجب کی برکتوں ،رحمتوں و سعادتوں سے بہر ہ مند فرما۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورت کائنات کا حیرت انگیز کردار

عورت کائنات  کا حیرت انگیز کردار تحریر: حافظہ نورالایمان  بنت ظہور حمد ) دوٹھلہ نکیال آزاد کشمیر ( عورت محض کائنات کا ایک کردار نہیں، بلکہ انسانی تہذیب کی خاموش معمار، جذبات کی ترجمان اور نسلوں کے مستقبل کی امین ہے۔ وہ کبھی ماں بن کر زندگی کو جنم دیتی ہے، کبھی بیٹی بن کر گھر میں رحمت کی خوشبو بکھیرتی ہے، کبھی بہن بن کر محبت کا حصار قائم کرتی ہے اور کبھی شریکِ حیات بن کر زندگی کے دشوار راستوں کو سکون اور رفاقت سے روشن کردیتی ہے۔ عقل یہ تسلیم کرتی ہے کہ جس ہستی کی تربیت سے انسان کا کردار تشکیل پاتا ہو، اسے کمزور یا غیر اہم قرار دینا خود انسانی عقل کی توہین ہے۔ ایک تعلیم یافتہ، باکردار اور ذہنی طور پر مضبوط عورت صرف اپنی زندگی نہیں سنوارتی؛ وہ ایک خاندان، ایک نسل اور بالآخر پورے معاشرے کی فکری سمت بدل سکتی ہے۔ نفسیات بتاتی ہے کہ انسان کی شخصیت کی بنیاد ابتدائی تعلقات، جذباتی تحفظ، گفتگو اور تربیت سے بنتی ہے۔ اس عمل میں ماں اور خاندان کی دیگر خواتین کا کردار اکثر نہایت گہرا ہوتا ہے۔ عورت کی ہمدردی، جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت، صبر اور تعلقات کو جوڑنے کی قوت معاشرتی استحکام...

پرامٹ انجئیرنگ کی عملی ورکشاپ اور مشقیں

پرامٹ انجئیرنگ کی عملی ورکشاپ اور مشقیں تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) پرامپٹ انجینئرنگ صرف پڑھنے سے نہیں آتی — یہ ویسا ہی ہے جیسے ڈرائیونگ کی کتاب پڑھ لینے کے بعد بھی اسٹیئرنگ پکڑنا ضروری ہوتا ہے۔اس باب میں ہم عملی مثالوں اور مشقوں کے ذریعے یہ فن آپ کے ہاتھ میں دیں گے، تاکہ آپ آج سے ہی بہتر پرامپٹ لکھنا شروع کر دیں۔ تعلیمی سبق تیار کرنا مقصد : AI سے ایسا سبق تیار کروانا جو ایک استاد کلاس میں استعمال کر سکے۔ پرامپٹ مثال : " آٹھویں جماعت کے لیے سورۃ الفیل کی تشریح تیار کرو، آسان اردو میں، ہر آیت کے بعد مفہوم اور اس سے ملنے والا سبق لکھو " بلاگ آرٹیکل رائٹنگ اس میں ہم کنٹینٹ رائٹنگ میں پرامپٹ کی طاقت کو آزماتے ہیں اور پھر اسی طرز پر اس کے نتائج حاصل کرتے ہیں۔ پرامپٹ مثال : " گرمیوں میں پانی زیادہ پینے کی اہمیت پر 500 الفاظ کا بلاگ لکھو، طبی فوائد اور اسلامی نقطہ نظر کے ساتھ " سوشل میڈیا مہم ڈیزائن کرنا اب ہم مارکیٹنگ میں AI کا استعمال کرکے اپنے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ پرامپٹ مثال : " عیدالفطر کے موقع پر ک...

نوجوانوں کے لیے امید بھرا پیغام

Life is a race, in which some get tired and stop moving towards the destination, and some reach the destination by facing every difficulty. (Drzahoordanish) نوجوانوں کے لیے امید بھرا پیغام تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہوں ۔جہاں و جب جاتاہوں تو ایک سوال ضرورت ہوتاہے ۔ہمارا مستقبل کیاہے ۔یعنی آج کا نوجوان اپنے مستقبل کی فکروں میں گھُلتاچلاجارہاہے ۔اسٹریس تو گویااس کی ذات کا حصہ بن گئی ہے ۔اب ایسے میں میں بہت دل جلاتاتھا کہ آخر ایسا کیا کیا جائے کہ  یہ قوم کہ معمار ٹینشن فری ہوں ۔خیر اپنے حصے کی جو ممکن کوشش تھی کرتارہا۔کافی دنوں سے سوچ رہاتھا کہ اس موضوع پر کوئی مختصر کی بات ضرور کروں ۔شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات کے حصول کے لیے ۔یہ مضمون بھی اُسی کی ایک کڑی ہے ۔ پیارے قارئین: موجودہ دور میں نوجوانوں میں مستقبل کے بارے میں بے چینی اور خوف ایک عام منظر بن چکا ہے۔ یہ خوف نہ صرف ذہنی سکون چھین لیتا ہے بلکہ زندگی کی توانائی، تخلیق اور کوششوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس مضمون میں ہم اس خوف کی نوعیت، اس کے اسباب، دنیاوی و دین...