Poverty Alleviation: مدینہ ماڈل اور آج کی دنیا تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) غربت صرف خالی جیب کا نام نہیں، یہ کبھی کبھی بجھی ہوئی آنکھوں، خاموش چہروں، لرزتے ہاتھوں اور ٹوٹتے ہوئے حوصلوں کا نام بھی ہوتی ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں انسان روٹی سے پہلے عزت مانگتا ہے، کپڑے سے پہلے تحفظ چاہتا ہے، اور خیرات سے پہلے یہ خواہش رکھتا ہے کہ کوئی اسے انسان سمجھ کر دیکھے۔ دنیا نے غربت مٹانے کے لیے بڑے بڑے معاشی منصوبے بنائے، ادارے قائم کیے، اعداد و شمار مرتب کیے، بجٹ مختص کیے، مگر سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے: کیا غربت صرف پیسے سے ختم ہوتی ہے؟ یا اس کے لیے ایک ایسا نظام چاہیے جس میں انسان کی ضرورت کے ساتھ اس کی عزت، اس کے احساسات، اس کا حق اور اس کا مستقبل بھی محفوظ ہو؟ اسی سوال کا سب سے روشن جواب ہمیں مدینہ منورہ کے اس معاشرتی ماڈل میں ملتا ہے جس کی بنیاد رسول اللہ ﷺ نے رکھی۔ مدینہ صرف ایک شہر نہیں تھا، وہ ایک تصور تھا؛ ایک ایسا تصور جس میں بھوکے کو کھانا دینے کے ساتھ اسے معاشرے کا باعزت فرد بنایا گیا، بے گھر کو پناہ دینے کے ساتھ اسے بھائی چارے کا حصہ بنایا گیا، کمزور کو ...