بے سکون دنیا کے لیے رحمتِ عالم ﷺ کا عملی ماڈل
تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش
انسانی تاریخ کے ہر دور میں انسان کسی نہ کسی آزمائش،
پریشانی اور بے یقینی کا شکار رہا ہے، مگر موجودہ دور کی بے چینی اپنی نوعیت کے
اعتبار سے پہلے تمام ادوار سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ آج انسان کے پاس آسائشیں ہیں
مگر سکون نہیں، سہولیات ہیں مگر اطمینان نہیں، رابطے کے بے شمار ذرائع ہیں مگر دل
تنہائی کا شکار ہیں۔ معاشی دباؤ، ذہنی تناؤ، خاندانی اختلافات، بے مقصدیت، خوف،
حسد، نفرت اور روحانی خلا نے جدید انسان کو اندر سے کھوکھلا کردیا ہے۔ بظاہر ترقی
یافتہ یہ دنیا حقیقت میں ایک شدید اضطراب کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ ایسے ماحول میں
اگر کوئی کامل، متوازن اور قابلِ عمل نمونہ انسانیت کی رہنمائی کرسکتا ہے تو وہ
صرف سیرتِ طیبۂ حضور نبیِّ کریم ﷺ ہے۔
رسول اللہ ﷺکی مبارک زندگی محض چند مذہبی تعلیمات کا
مجموعہ نہیں بلکہ انسانی زندگی کے ہر شعبے کے لیے ایک مکمل اور دائمی رہنمائی ہے۔
آپ ﷺ نے صرف عبادت کا طریقہ نہیں سکھایا بلکہ غمزدہ دلوں کو حوصلہ دیا، ٹوٹے ہوئے
معاشروں کو جوڑا، بے سکون انسانوں کو سکینت عطا فرمائی، مظلوموں کو انصاف دیا اور
مایوس لوگوں کو امید کی روشنی دکھائی۔ آپ ﷺ کی پوری حیاتِ مبارکہ انسانیت کے زخموں
پر رحمت و شفقت کا مرہم نظر آتی ہے۔
آج ذہنی دباؤ دنیا کا ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ نوجوان
بے یقینی کا شکار ہیں، والدین فکروں میں مبتلا ہیں، اور زندگی کی دوڑ نے انسان کو
روحانی طور پر تھکا دیا ہے۔ ایسے حالات میں سیرتِ مصطفیٰ ﷺ انسان کو صبر، توکل اور
امید کا درس دیتی ہے۔ مکۂ مکرمہ میں کفار کے مظالم، طائف کی سنگ باری، شعبِ ابی
طالب کی سختیاں اور اپنے جانثار صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی تکالیف دیکھنے کے
باوجود حضور اکرم ﷺ نے کبھی مایوسی کو قریب نہ آنے دیا۔ ہر مشکل میں آپ ﷺ کا تعلق
اپنے رب سے مزید مضبوط ہوتا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کی مبارک زندگی انسان کو یہ
سبق دیتی ہے کہ حقیقی سکون دنیاوی سامان میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس
پر کامل بھروسے میں ہے۔
حضور نبیِّ رحمت ﷺ کی تعلیمات معاشی مسائل کے حل میں
بھی بے مثال رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ آج بے روزگاری، مہنگائی اور مالی دباؤ نے لاکھوں
خاندانوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ ایسے میں سیرتِ طیبہ ہمیں محنت، دیانت اور قناعت
کا درس دیتی ہے۔ آپ ﷺ نے تجارت میں ایسا اعلیٰ کردار پیش فرمایا کہ دشمن بھی آپ ﷺ
کو “الصادق” اور “الامین” کہنے پر مجبور ہوگئے۔ آپ ﷺ نے حلال رزق کو باعثِ برکت
قرار دیا اور انسان کو یہ احساس دلایا کہ رزق کی کشادگی صرف ظاہری اسباب سے نہیں
بلکہ سچائی، امانت اور اللہ تعالیٰ پر اعتماد سے حاصل ہوتی ہے۔ موجودہ دور کا
انسان اگر اپنے معاملات میں دیانت داری اختیار کرلے تو نہ صرف اس کی کمائی میں
برکت پیدا ہوسکتی ہے بلکہ اس کے دل کو بھی سکون نصیب ہوسکتا ہے۔
خاندانی اختلافات اور گھریلو ناچاقیاں بھی عصرِ حاضر کا
ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہیں۔ معمولی باتیں رشتوں کے ٹوٹنے کا سبب بن جاتی ہیں اور
محبت کی جگہ انا نے لے لی ہے۔ ایسے حالات میں حضور اکرم ﷺ کی گھریلو زندگی پوری
انسانیت کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ نہایت شفقت، محبت
اور نرمی کا معاملہ فرماتے تھے۔ گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانا، بچوں کے ساتھ محبت
کرنا، ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کی دلجوئی فرمانا اور رشتوں کو عزت دینا آپ ﷺ
کی مبارک عادات تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بہترین انسان وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے
لیے بہترین ہو۔ اگر آج کا انسان صرف اس ایک تعلیم کو اپنی زندگی میں اختیار کرلے
تو بے شمار گھریلو مسائل خودبخود ختم ہوسکتے ہیں۔
معاشرے میں بڑھتی ہوئی نفرت، انتقام اور عدم برداشت بھی
انسانیت کے لیے خطرناک صورت اختیار کرچکی ہے۔ معمولی اختلافات دشمنیوں میں بدل
جاتے ہیں اور انسان معاف کرنے کے بجائے بدلہ لینے کو ترجیح دیتا ہے۔ مگر سیرتِ
مصطفیٰ ﷺ انسان کو معافی، درگزر اور رحمت کا درس دیتی ہے۔ فتحِ مکہ انسانی تاریخ
کا وہ عظیم لمحہ ہے جب حضور رحمتِ عالم ﷺ اپنے بدترین دشمنوں کے سامنے فاتح کی
حیثیت سے موجود تھے۔ وہ لوگ جنہوں نے آپ ﷺ اور آپ کے جانثاروں پر ظلم کی انتہا
کردی تھی، آج خوفزدہ کھڑے تھے، مگر اس وقت آپ ﷺ نے انتقام کے بجائے رحمت کا اعلان
فرمایا اور انہیں معاف کردیا۔ یہ کردار اس بات کا اعلان تھا کہ حقیقی عظمت طاقت کے
اظہار میں نہیں بلکہ معاف کردینے میں ہے۔
آج کا نوجوان بھی شدید فکری اور اخلاقی بحران کا شکار
دکھائی دیتا ہے۔ بے مقصدیت، فحاشی، منشیات اور سوشل میڈیا کی یلغار نے نوجوان نسل
کی سوچ کو متاثر کیا ہے۔ ایسے ماحول میں سیرتِ حضور نبیِّ کریم ﷺ نوجوانوں کے لیے
امید اور کردار سازی کا عظیم سرچشمہ ہے۔ آپ ﷺ نے نوجوان صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم
کی ایسی تربیت فرمائی کہ وہ دنیا کے بہترین انسان بن گئے۔ ان میں علم بھی تھا،
کردار بھی، عبادت بھی اور قیادت بھی۔ سیرتِ طیبہ نوجوانوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ
کامیابی صرف ظاہری ترقی کا نام نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاق، پاکیزہ کردار اور اللہ
تعالیٰ کی اطاعت ہی حقیقی کامیابی ہے۔
حضور سیدِ عالم ﷺ کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے
کہ آپ ﷺ نے ہر حال میں انسانیت کو آسانی، محبت اور خیر کا راستہ دکھایا۔ آپ ﷺ ایک
عظیم عبادت گزار بھی تھے، بہترین قائد بھی، مثالی شوہر بھی، شفیق باپ بھی، عادل
حکمران بھی اور انسانیت کے سب سے بڑے محسن بھی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم نے آپ ﷺ
کی مبارک زندگی کو پوری انسانیت کے لیے بہترین نمونہ قرار دیا۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کو محض عقیدت کے چند رسمی مظاہر تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ اگر ایک پریشان حال انسان حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات کو اپنا لے، صبر اور توکل کو اختیار کرے، معاملات میں دیانت پیدا کرے، رشتوں میں نرمی لے آئے اور اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کرلے تو اس کی زندگی حقیقی معنوں میں بدل سکتی ہے۔ سیرتِ طیبہ انسان کو یہ یقین دلاتی ہے کہ مشکلات کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، اللہ تعالیٰ کی رحمت ان سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔یہی وہ پیغام ہے جس کی آج کی بے سکون دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں