مصنوعی ذہانت کے بچوں پر اثرات اور انجام تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) میں ایک والد ہوں ۔میں شدت سے اس بات کو محسوس کرتاہوں کہ میرے بچے تیزی کے ساتھ فزیکل ایکٹویٹی سے زیادہ دیجیٹل ایکٹویٹی میں دلچسپی لے رہے ہیں ۔چنانچہ میں نےکافی دنوں کے مشاہد ہ کے بعد اندازہ لگایاکہ اگر اِسی تیزی سے ڈیجیٹل دنیا میں رومرہ تبدیلیاں آتی رہیں اور ہمارے بچے اس مصنوعی ذہانت کے جہاں میں گُم ہوگے تو ایک تجزیہ و اندازہ کیا کہتاہے کہ آئندہ نسلیں کس حال میں ہوں گیں ۔اسی کیفیت کو میں نے محسوس کیا تو سوچاکیوں نہ وہ سب باتیں جو میں نے محسوس کیں ۔جن کا مطالعہ کیا ۔جن کا مشاہدہ کیا۔اللہ کی رضا کی خاطر باقی والدین تک بھی پہنچادوں ۔خیر بانٹنے کا نام ہے ۔جو میسر ہے وہ تو پیش کروں ۔یہ مضمون بھی ایسی ہی ایک کوشش ہے ۔ قارئین: انسان نے جب مشینوں کو سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی طاقت دی، تو وہ دن بھی آیا جس کا سب سے بڑا اثر بچوں کی نسل پر پڑا۔ موبائل، یوٹیوب، گیمز، چیٹ بوٹس، ڈیجیٹل ٹیچرز، AR اور VR… یہ سب آج کے بچے کی دنیا ہیں۔ لیکن یہ دنیا صرف روشن نہیں، اس کے اندر گہری اندھیری ...