مصنوعی ذہانت کے بچوں پر اثرات اور انجام
تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش
(دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر)
میں ایک والد ہوں ۔میں شدت سے اس بات کو محسوس کرتاہوں
کہ میرے بچے تیزی کے ساتھ فزیکل ایکٹویٹی سے زیادہ دیجیٹل ایکٹویٹی میں دلچسپی لے رہے ہیں ۔چنانچہ میں نےکافی دنوں
کے مشاہد ہ کے بعد اندازہ لگایاکہ اگر اِسی تیزی سے ڈیجیٹل دنیا میں رومرہ
تبدیلیاں آتی رہیں اور ہمارے بچے اس مصنوعی ذہانت کے جہاں میں گُم ہوگے تو ایک
تجزیہ و اندازہ کیا کہتاہے کہ آئندہ نسلیں کس حال میں ہوں گیں ۔اسی کیفیت کو میں
نے محسوس کیا تو سوچاکیوں نہ وہ سب باتیں جو میں نے محسوس کیں ۔جن کا مطالعہ کیا
۔جن کا مشاہدہ کیا۔اللہ کی رضا کی خاطر باقی والدین تک بھی پہنچادوں ۔خیر بانٹنے
کا نام ہے ۔جو میسر ہے وہ تو پیش کروں ۔یہ مضمون بھی ایسی ہی ایک کوشش ہے ۔
قارئین:
انسان نے جب مشینوں کو سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی طاقت دی، تو وہ دن بھی آیا جس کا سب سے بڑا اثر بچوں کی نسل پر پڑا۔ موبائل، یوٹیوب، گیمز، چیٹ بوٹس، ڈیجیٹل ٹیچرز، AR اور VR… یہ سب آج کے بچے کی دنیا ہیں۔ لیکن یہ دنیا صرف روشن نہیں، اس کے اندر گہری اندھیری سرنگیں بھی موجود ہیں۔
دماغ کی ساخت پر AI کے اثرات
بچوں کا دماغ مکمل طور پر ’’تشکیل‘‘ کے دور میں ہوتا
ہے۔نیوروسائنس کے مطابق 0 سے
14 سال تک دماغ میں ہر سیکنڈ 10 لاکھ نیورل کنکشن بنتے
اور ٹوٹتے ہیں۔AI ویڈیوز،
ریلز اور گیمز بہت تیز، رنگین اور دماغ کو جھٹکے دینے والی ہوتی ہیں۔
دماغ ’’سلو‘‘ حقیقت کو قبول کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
قارئین سائنسی تحقیق بتاتی ہے کہ 2022 کی ایک تحقیق کے مطابق بتدریج AI اسکرینوں کے سامنے رہنے والے بچوں کی Attention Span 60 فیصد
تک کم ہو جاتی ہے۔AI بچوں
کو تیار جواب دیتا ہے۔دماغ کو محنت کی ضرورت نہیں رہتی۔تخلیقی سوچ دم جاتی ہے۔AI
گیمز اور موبائل کے استعمال سےڈوپامین میں غیرمعمولی
اضافہ ہوتا ہے۔
اب ایسے میں بچوں میں چڑچڑاپن،بے صبری،ننھی ذہنی تھکن نشے جیسے اثرات بھی پیداہوتے ہیں جوکہ قابل
تشویش امر ہے ۔
قارئین:
بچے AI آواز
یا چیٹ بوٹ کو ’’دوست‘‘ سمجھنے لگتے ہیں۔یہ مصنوعی رشتہ اصل رشتوں سے قربت کم کر
دیتا ہے۔
آئیے میں آپکو واقعہ بتاتاہوں آپ خود سمجھ جائیں گے
۔2023 میں
امریکہ کی ایک 10 سالہ بچی نے
Alexa سے بات کرتے کرتے ’’احساسِ تنہائی‘‘ کی شدت
بتائی۔وہ ماں سے زیادہ وقت Alexa سے
بات کرتی تھی۔
ماہرین نے اسے
’’Artificial Attachment Syndrome‘‘ قرار دیا۔AI
ہر جواب دے دیتا ہے۔
بچہ سوچتا ہے:“میں
کمزور ہوں، مشین مجھ سے بہتر ہے۔
قارئین:
عام بات چیت، کھیل، دوست بنانا، جذبات سمجھنا — سب
کمزور ہوتے جاتے ہیں۔VR گیمز
کے ذریعے بچوں کا دماغ حقیقی اور مصنوعی تکلیف میں فرق کرنا بھول جاتا ہے۔آئیے
میں ایک اور واقعہ بتاتاہوں جو ہم تک سوشل میڈیا کے ذریعے پہنچا۔چین میں ایک
13 سالہ لڑکے نے گیم میں شکست کے بعد خود کو نقصان پہنچایا۔گیم کا
’’نیورو-ایکسائٹمنٹ‘‘ اس کی نفسیاتی برداشت سے زیادہ تھا۔
قارئین:اسلامی نقطۂ نظر
سے بچوں کی تربیت میں توجہ،حیا،عبادت،گفتگو کا سلیقہ،نظریں محفوظ رکھنا،سب بنیاد
ہیں۔مصنوعی ذہانت ان بنیادوں میں خلل ڈال رہی ہے۔AI
گیمز بچوں کا ’’وقت‘‘ کھا جاتی ہیں۔یہ سب سے بڑا خسارہ
ہے۔AI کے ذریعے غلط مواد، ڈیپ
فیکس، غیر مناسب تصاویر…صرف ایک کلک
دور۔بچے AI کے
ساتھ اتنا جڑ جاتے ہیں کہ نماز، قرآن، گھر کی
گفتگو سب پیچھے چلے جاتے ہیں۔اسلام حقیقت کی تعلیم دیتا ہے۔AI
بچے کو حقیقت سے دور کرتی ہے۔یہ فطرت کے خلاف ہے۔AI
ہوم ورک، اسائنمنٹس، پریزنٹیشنز… سب تیار کر دیتا
ہے۔بچے کا ذہن ’’سوچنے‘‘ سے محروم ہو جاتا ہے۔AI
سوشل میڈیا ’’جھوٹی شخصیت‘‘ بناتا ہے۔بچے اپنی اصلیت
چھوڑ کر AI فلٹرز
میں کھو جاتے ہیں۔
آنے والے وقت میں جن بچوں کے پاس
تخلیق،تحقیق،ریئل لائف اسکل،ٹیم ورک،نہ ہوگا وہ معاشی
طور پر بہت پیچھے رہ جائیں گے۔AI کا
استعمال بچوں میں ڈپریشن،اینگزائٹی،Hyper-activity،سوشل ڈر،نیند کی خرابی پیدا کر رہا ہے۔
قارئین:برطانیہ میں ایک
بچہ روزانہ 8 گھنٹے Roblox AI-gamified ماحول
میں گزارتا تھا۔نیورولوجسٹ نے اسے ’’ڈیجیٹل نشہ‘‘ قرار دیا۔AI-generated
“cute characters” سے بات کرتے کرتے لڑکی نے زندگی کو
’’گیم‘‘ سمجھنا شروع کر دیا۔ہر کامیابی کو ’’پوائنٹس‘‘ کے زاویے سے دیکھنے لگی۔VR-AI
شوٹنگ گیم کھیلتے کھیلتے،اس کا دماغ حقیقی اور گیم تشدد
میں فرق کھونے لگا…ماں پر چیخنا، غصہ
کرنا اس کے لیے نارمل بن گیا۔
مصنوعی ذہانت کی وجہ سےآنے والی نسل ’’توجہ‘‘ کھو بیٹھے
گی۔وہ حقیقی رشتوں سے دور ہو جائے گی۔مصنوعی دنیا میں زندہ رہے گی۔ذہنی دباؤ بڑھ
جائے گا۔خود اعتمادی کم ہو جائے گی۔کردار بگڑ جائے گا۔دینی حوالے کمزور پڑ جائیں
گے۔اخلاقی حدود مٹ جائیں گی۔اور سب سے خوفناک انجام یہ ہے بچہ انسان کی بجائے
ایک ’’ڈیجیٹل پروڈکٹ‘‘ بن کر رہ جائے گا۔
قارئین:
- وقت کی حد مقرر کریں!AI-free
family hours رکھیں!بچے کو باہر کھیلنے دیں!قرآن
سنت کی تعلیم مضبوط رکھیں!AI کو
“خادم” بنائیں، “حاکم” نہیں!
قارئین :مصنوعی ذہانت کے اثرات حقیقت ہیں،لیکن انسان کی
عقل، محبت اور تربیت اس سے زیادہ طاقتور ہیں۔
یہ دور مشینوں کا نہیں،بلکہ اُن لوگوں کا ہوگاجو اپنے
بچوں کے دل، دماغ اور کردار کو مضبوط بنا لیں گے۔مشینیں صرف سہولت دیتی ہیں،مستقبل
انسانی تربیت سے بنتا ہے۔اگر ہم آج اپنے بچوں کا ہاتھ تھام کر صحیح سمت میں
چلنے لگیں،
تو کل یہ وہ نسل ہوگی جو
AI کو انسانیت کے فائدے کے لیے استعمال کرے گی،نہ کہ نقصان
کے لیے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں