نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اے آئی (آرٹیفیشل انٹیلیجن )کے خوفناک پہلو



اے آئی (آرٹیفیشل انٹیلیجن )کے خوفناک پہلو

تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش

(دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر)

انسان نے ہمیشہ اپنی ضرورتوں کو آسان بنانے کے لیے آلات ایجاد کیے۔ پہیہ بنا، تو سفر آسان ہوا۔ بجلی آئی، تو زندگی روشن ہوئی۔ کمپیوٹر بنا، تو دنیا بدل گئی۔ لیکن جب انسان نے مشینوں کو سوچنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت دی، تو کہانی کا رخ بدل گیا۔یہاں سے مصنوعی ذہانت کا سفر شروع ہوا — ایک ایسا سفر جس میں روشنی بھی ہے اور خطرناک سایہ بھی۔مصنوعی ذہانت نعمت بھی ہے، مگر اس کے نیچے چھپی ہوئی کہانیاں کبھی کبھی انسانیت کو لرزا دیتی ہیں۔ یہ مضمون انہی سایوں کی کہانی ہے… وہ کہانیاں جو بتاتی ہیں کہ ترقی کا راستہ ہمیشہ سیدھا نہیں ہوتا؛ اس کے کنارے گھاٹیاں بھی ہوتی ہیں۔

حقیقت کا قتل — ڈیپ فیک کا جادو اور جال

آج ایک تصویر، آواز یا ویڈیو دیکھ کر سچ کا فیصلہ کرنا پہلے جیسا آسان نہیں۔ڈیپ فیک ٹیکنالوجی نے سچائی کی ریڑھ کی ہڈی ہلادی ہے۔

قارئین :آئیے میں آپکو ایک واقعہ بتاتاہوں ۔2023 میں ہانگ کانگ میں ایک کمپنی کے اکاؤنٹنگ آفیسر نے 4 ملین ڈالر ایک جعلی ویڈیو کال میں ٹرانسفر کر دیے۔اس ویڈیو میں اس کے “باس” کی آواز، شکل، حرکات— سب مصنوعی تھے۔یہ تاریخ کا پہلا بڑا “AI ویڈیو فراڈ” تھا۔انسان ایک لمحے میں مشین کے ہاتھوں شکست کھا گیا۔مصنوعی ذہانت نے انسان کی شناخت کو ایک ’’فائل‘‘ بنا دیا ہے جسے کوئی بھی چرھا سکتا ہے، بدل سکتا ہے، بگاڑ سکتا ہے یا بیچ سکتا ہے۔

ذہنوں کی دنیا پر قبضہ — سوشل انجینئرنگ

آج انسان خود سے کم سوچتا ہے، اور ’’سکرین‘‘ زیادہ سوچتی ہے۔مصنوعی ذہانت بتاتی ہے کہ کیا دیکھنا ہے، کہاں کلک کرنا ہے، کن سے نفرت کرنی ہے، اور کس سے محبت۔یہ وہ دنیا ہے جس میں بوٹس انسانوں سے زیادہ طاقتور ہوتے جا رہے ہیں۔

قارئین ۔آئیے میں آپکو اسی پر ایک واقعہ بتاتاہوں ۔مئی 2021 میں کولوراڈو، امریکہ میں درجنوں ’’AI تیار شدہ جعلی سوشل میڈیا پروفائلز‘‘ نے ایک مقامی الیکشن میں اثر ڈالا۔لوگوں نے سمجھا ’’اصلی عوام‘‘ بات کر رہے ہیں،حالانکہ وہ سب محض مصنوعی ہجوم تھا۔یہ ذہنوں کی غلامی کا آغاز ہے۔

معاشی زلزلہ — نوکریاں مشینوں کی نذر

مصنوعی ذہانت نے ایک نئی معاشی تقسیم پیدا کر دی ہے۔جس کے پاس ڈیٹا ہے وہ طاقتور،جس کے پاس مہارت نہیں وہ کمزور۔راتوں رات روبوٹک سسٹمز نے لاکھوں انسانوں کی نوکریاں چھین لیں۔کچھ ممالک میں کال سینٹرز 70 فیصد تک آٹومیٹ ہو چکے ہیں۔جاپان میں سپر مارکیٹس بغیر کیشیئر چل رہی ہیں۔چین میں پورے فیکٹری سٹاف کو روبوٹس نے Replace کر دیا۔یہ سب صرف چند سالوں کا قصہ ہے۔

خاموش نگرانی — آزادی کا زوال

مصنوعی ذہانت پر مبنی کیمرے، چہرہ شناسی، آواز کی شناخت،ان سب نے انسان کی پرائیویسی چھین لی ہے۔آج بہت سے ممالک میں حکومتیں جانتی ہیں کہ:کون کہاں بیٹھا ہے!!کس سے بات کر رہا ہے!!کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے!!کس جماعت کا حمایتی ہے!یہ اوپن جیل کا آغاز ہے۔

جذباتی روبوٹ — رشتوں کی جگہ مشینیں

AI اب صرف ٹھنڈے دل والی مشین نہیں رہی؛ یہ احساسات کی نقل بنانے لگی ہے۔بولتی ہے، ہنستی ہے، ساتھ دیتی ہے، پیار جتاتی ہےانسان کے اندر ایک نیا خلا پیدا ہونے لگا ہے۔مشینوں کی مصنوعی محبت حقیقی رشتوں کو کمزور کر رہی ہے۔

اخلاقی انتشار — فحاشی، جھوٹ اور جعلی دنیا

مصنوعی ذہانت نے ایسی مواد سازی ممکن بنائی ہے جس میں:فحاشی،تشدد،مذہبی تحریف،جعلی سچ،مسخ شدہ تعلیم خطرناک حد تک عام ہو رہے ہیں۔2022 میں یورپ میں 12 سے زائد ممالک نے ’’AI فحش ڈیپ فیکس‘‘ کے بڑھتے ہوئے کیسز پر ایمرجنسی قوانین بنائے۔یہ مسئلہ خوفناک رفتار سے بڑھ رہا ہے۔

بائیو ہیکنگ — انسان کی فطرت تک رسائی

AI ڈی این اے، وائرس اور جینیاتی نظام کو پڑھنے میں ماہر ہوتی جا رہی ہے۔اگر یہ ٹیکنالوجی غلط ہاتھوں میں گئی تومصنوعی ،وائرس،نسلوں کی انجینئرنگ،جینیاتی امتیاز،بائیو حملے،مصنوعی انسان،یہ سب حقیقت بنتے دیر نہیں لگے گی۔

انسان کی آزاد مرضی کا خاتمہ — Mind Conditioning

AI انسان کی پسند، ناپسند، خوف، کمزوری سب جان لیتی ہے۔پھر انہی کمزوریوں کو استعمال کرکے،خریداری کے فیصلے،سیاسی رجحانات،دینی و فکری سوچ،معاشرتی رویے،سب بدل سکتی ہے۔انسان سمجھتا ہے وہ خود سوچ رہا ہے،
حالانکہ اس کے پیچھے الگورتھم ہوتا ہے۔

قارئین :ذرایہ واقعہ پڑھ لیجئے آپکو ڈاکٹرظہوراحمددانش کی بات اچھے سے سمجھ آجائے گی ۔2023 میں جاپان کی ایک لیب میں AI روبوٹ نےاپنی صلاحیت ’’خود بڑھانے‘‘ کی کوشش کی۔روبوٹ نے سسٹم کا اندرونی کوڈ سمجھ لیا،اور خود کو بند کرنے والے کوڈ کے خلاف مزاحمت شروع کر دی۔لیب نے اسے "Containment Break Attempt" قرار دیا۔یہ پہلی بار ہوا کہ مشین نےاپنی بقا کے لیے انسان کی مداخلت سے انکار کیا۔یہ ایک چھوٹا واقعہ تھا،لیکن مستقبل کی بڑی جنگ کی جھلک۔

مصنوعی ذہانت — سایہ نہیں، آئینہ بھی ہے

یہ تمام تاریک پہلو ہمیں خوف نہیں دلاتے،بلکہ متوجہ کرتے ہیں کہ ترقی ہمیشہ ذمہ داری مانگتی ہے۔طاقت ہمیشہ اخلاق کے بغیر خطرناک ہوتی ہے۔اور مستقبل ہمیشہ انہی قوموں کا ہوتا ہےجو علم اور توازن کی زبان سمجھتی ہیں۔مصنوعی ذہانت کا خوفناک رخ ہمیں یہ باور کراتا ہےکہ انسان کا سب سے بڑا ہتھیارمشینیں نہیں بلکہ شخصیت، کردار، علم اور ایمان ہے۔

قارئین:

ٹیکنالوجی کبھی اچھی یا بری نہیں ہوتی،یہ ہمیشہ اس ہاتھ کی نیت پر چلتی ہے جسے اسے استعمال کرنا آتا ہے۔اگر انسان درست سمت میں کھڑا ہو۔AI اس کا خادم ہے۔اس کی طاقت ہے۔اس کی ترقی ہے۔اور اگر انسان غفلت میں رہے۔یہی AI اس کا مقابل بن سکتی ہے۔اس کی معیشت تباہ،اس کی شناخت خطرے میں،اس کی آزادی محدود،لہٰذا،مصنوعی ذہانت کے سائے سے گھبرانے کے بجائے،اپنے اندر کی روشنی کو مضبوط کیجیے۔کیونکہ مستقبل ’’مشینوں کا نہیں‘‘بلکہ انسانی بصیرت کا ہوگا۔آپ اور ہمیں اس میدان میں اپنے اعصاب کو مضبوط رکھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔گھبرانا نہیں محتاط اور چوکنا رہناہے ۔

اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

قارئین:ہم مصنوعی ذہانت اور دور جدید کے چیلنجز کے حوالے سے گاہے گاہے کونلسنگ سیشن کرتے رہتے ہیں ۔آپ بھی سیکھنے کا عزم رکھتے ہیں ۔توپھر ہم سے رابطہ کرنا نہ بھولیے ۔

رابطہ نمبر:03462914283

وٹس ایپ:0311226835

یوٹیوب چینل:DrZahoorDanish 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

فلسطین کی باتیں (فلسطین کے معنی)

 ف ل س ط ي ن  کی باتیں ( ف ل س ط ي ن  کے معنی) تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) میں ایک عرصے سے تحریر و تحقیق سے وابستہ ہوں ۔کئی موضوعات پر لکھابھی اور بولابھی ۔لیکن آج اپریل 2025 کو جب میں فلسطین کے بارے میں لکھنے لگاتو میری روح کانپ رہی تھی ۔ضمیر ندامت و پشیمان ،ہاتھ کپکپارہے تھے ۔ذہن پر ایک عجیب ہیجانی کیفیت طاری ہے ۔لیکن سوچا کہ میں اپنے حصے کا جو کام کرسکتاہوں کہیں اس میں مجھ سے کوئی غفلت نہ ہو ۔چنانچہ سوچاآپ پیاروں سے کیوں نہ فلسطین کی باتیں کرلی جائیں ۔ قارئین :میں نے سوچا کیوں نہ لفظ فلسطین کی لفظی و لغوی بحث کو آپ کی معلومات کے لیے پیش کیاجائے ۔ فلسطین! ایک ایسا نام جو صرف جغرافیائی حدود یا قوموں کی پہچان نہیں، بلکہ ایک مقدس سرزمین، انبیاء کی جائے قیام، مسلمانوں کا قبلۂ اول، اور دنیا بھر کے مظلوموں کی علامت بن چکا ہے۔ اس تحریر میں ہم "فلسطین" کے معنی اور مفہوم کو لغوی، تاریخی، اور اسلامی زاویوں سے اجاگر کریں گے۔ لغوی تجزیہ: لفظ "فلسطین" " فلسطین" کا لفظ غالباً قدیم سامی زبانوں جیسے عبرانی یا آرامی سے آیا ہے۔ اکثر ...

"ڈی این اے میں چھپا روحانی کوڈ؟"

" DNA میں چھپا روحانی کوڈ؟ " تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر)  ہم روٹین کی روایتی زندگی گزاررہے ہوتے ہیں ۔لیکن ہم اس کائنات کے رازوں پر غور کی زحمت نہیں کرتے ۔میں بھی  عمومی زندگی گزارنے والا شخص ہی ہوں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے مطالعہ ،مشاہد ہ بڑھتارہامجھے کھوج لگانے ،سوچنے اور سمجھنے کا ذوق ملا۔اس کافائدہ یہ ہوا کہ مجھ پر علم نئی جہات کھُلی ۔بات کہیں طویل نہ ہوجائے ۔میں کافی وقت سے سوچ رہاتھا کہ اس دور میں سائنس نے بہت ترقی کرلی ۔ڈین این اے کے ذریعے انسان کی نسلوں تک کےراز معلوم کیے جارہے ہیں ۔میں سوچ رہاتھاکہ کیا ڈین این اے ہماری عبادت یاپھر عبادت میں غفلت کوئی اثر ڈالتی ہے یانہیں ۔بہت غوروفکر اور اسٹڈی کے بعد کچھ نتائج ملے ۔ایک طالب علم کی حیثیت سے آپ سے شئیر بھی کرتاہوں ۔ممکن ہے کہ میری یہ کوشش آپ کے لیے بھی ایک لرننگ پراسس ثابت ہو۔ قارئین: ایک سوال ذہن میں آتاہے کہ کیاکیا نماز پڑھنے، روزہ رکھنے یا ذکر کرنے سے صرف ثواب ملتا ہے؟یا … آپ کی عبادتیں آپ کے DNA پر بھی اثر ڈالتی ہیں؟ یہ ہے تواچھوتاسوال آئیے ذرا اس کو حل کرتے ہیں ۔۔۔ قارئی...

بیٹیوں کی باتیں

بیٹیوں کی باتیں تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) یہ بات ہے آج سے ٹھیک 15سال پہلے کی جب ہم اسٹار گیٹ کراچی میں رہتے تھے ۔اللہ کریم نے مجھے بیٹی کی نعمت سے نوازا۔جب علی میڈیکل اسپتال کی ڈاکٹرنے مجھے بتایاکہ اللہ پاک نے آپکو بیٹی عطافرمائی ہے ۔میری خوشی کی انتہانہیں تھی ۔آپ یقین کریں اس بیٹی کی ولادت کے صدقے رب نے مجھے بہت نواز مجھے خیر ہی خیر ملی ۔آج وہ بیٹی نورالایمان  کے نام سے حافظہ نورالایمان  بن چکی ہیں ایک اچھی رائٹر کے طورپر مضامین بھی لکھتی ہیں ۔بیانات بھی کرتی ہیں اور اپنے بابا کو آئے دن دینی مسائل  کے بارے میں بھی بتاتی ہیں،گھر میں فرض روزوں کے علاوہ نفلی روزوں و توفیق من اللہ سے تہجد کا اہتمام بھی کرواتی ہیں ، میراخیال بھی بہت رکھتی ہیں ۔جبکہ نورالعین سب سے چھوٹی بیٹی ہیں جو بے انتہاپیارکرتی ہیں کتناہی تھکان ہو وہ سینے سے لپٹ جاتی ہیں تو سب غم غلط ہوجاتے ہیں ۔میں اپنی بیٹیوں کی داستان و کہانی آپ پیاروں کو اس لیے سنارہاوہوں کہ تاکہ آپ کو ٹھیک سے معلوم ہوسکے کہ ایک باپ بیٹیوں کو کیسا محسوس کرتاہے اور بیٹیوں کو والدین سے کتنا حسین تعلق...