جدید دور کا انسان کیوں سیرتِ مصطفی ﷺ کا محتاج ہے؟
تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش
انسان نے چاند پر قدم رکھ لیا، سمندر کی تہوں تک جا
پہنچا، مصنوعی ذہانت کو اپنی خدمت پر لگا دیا، فاصلے سمیٹ دیے، رفتار بڑھا دی،
معلومات کے انبار جمع کر لیے؛ مگر اس ساری ترقی کے باوجود وہ آج بھی اندر سے بے
سکون، ذہنی طور پر منتشر، معاشرتی طور پر الجھا ہوا، اخلاقی طور پر کمزور، اور
روحانی طور پر پیاسا ہے۔ جدید دنیا نے انسان کو سہولت تو دی ہے، مگر سکون نہیں؛
آواز دی ہے، مگر معنی نہیں؛ رابطہ دیا ہے، مگر ربط نہیں۔ ایسے میں یہ سوال نہایت
اہم ہو جاتا ہے کہ آخر جدید دور کا انسان اپنی فکری، اخلاقی، نفسیاتی اور معاشرتی
پریشانیوں کے حل کے لیے کس دروازے پر دستک دے؟ اس سوال کا سب سے روشن، مکمل اور
قابلِ اعتماد جواب سیرتِ مصطفی ﷺ ہے۔
سیرتِ رسولِ اکرم ﷺ محض ایک تاریخی داستان نہیں، نہ صرف
مذہبی جذبات کا عنوان ہے، اور نہ فقط وعظ و نصیحت کا ایک موضوع؛ بلکہ یہ انسانی
زندگی کا وہ کامل نقشہ ہے جس میں فرد کی اصلاح بھی ہے، معاشرے کی تعمیر بھی، دل کی
طہارت بھی ہے، عقل کی رہنمائی بھی، قیادت کا اصول بھی ہے، تعلقات کا حسن بھی،
عبادت کا نور بھی ہے اور دنیا کے معاملات میں توازن بھی۔ یہی وجہ ہے کہ جدید دور
کا انسان، جتنا زیادہ ترقی کے نام پر پیچیدگیوں میں گھرا ہے، اتنا ہی زیادہ وہ
سیرتِ مصطفی ﷺ کا محتاج ہو چکا ہے۔
سب سے پہلے یہ حقیقت سمجھنا ضروری ہے کہ انسان کی
بنیادی ضرورتیں زمانے کے بدلنے سے تبدیل نہیں ہوتیں۔ زمانہ بدلتا ہے، آلات بدلتے
ہیں، طرزِ زندگی بدلتا ہے، مگر انسان کے اندر کا خوف، امید، محبت، غم، حرص، حسد،
کمزوری، تنہائی، اضطراب اور سکون کی تلاش ہمیشہ ایک جیسی رہتی ہے۔ آج کا انسان بھی
عزت چاہتا ہے، محبت چاہتا ہے، امن چاہتا ہے، مقصد چاہتا ہے، اور ایسا نظام چاہتا
ہے جو اسے اندر سے مضبوط کر دے۔ سیرتِ مصطفی ﷺ اسی انسانی فطرت کے عین مطابق ایک
ایسا جامع نمونہ پیش کرتی ہے جو نہ صرف روح کو سیراب کرتا ہے بلکہ عقل کو مطمئن
بھی کرتا ہے۔
جدید انسان کی سب سے بڑی بیماری شاید بے مقصدیت ہے۔ وہ
جانتا بہت ہے، مگر یہ نہیں جانتا کہ جینا کس لیے ہے۔ اس کے پاس مشینیں ہیں مگر مشن
نہیں، معلومات ہیں مگر معرفت نہیں، مواقع ہیں مگر منزل واضح نہیں۔ سیرتِ مصطفی ﷺ
انسان کو مقصد دیتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ انسان محض کھانے، کمانے، مقابلہ کرنے، نام
پیدا کرنے اور مر جانے کے لیے نہیں آیا؛ بلکہ وہ اللہ کی بندگی، انسانیت کی خدمت،
اخلاق کی تکمیل، اور حق و خیر کے قیام کے لیے دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ جب زندگی
مقصد سے جڑ جاتی ہے تو انسان کا بکھراؤ سمٹنے لگتا ہے، اس کے فیصلے واضح ہونے لگتے
ہیں، اور اس کے وجود میں سنجیدگی پیدا ہوتی ہے۔ سیرتِ نبوی ﷺ یہی سنجیدگی عطا کرتی
ہے۔
نفسیاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو آج کا انسان شدید
دباؤ، اضطراب، احساسِ محرومی، تنہائی، غصے، خوف اور بے یقینی کا شکار ہے۔ سوشل
میڈیا نے تقابل کو بڑھا دیا ہے، دنیا کی چمک نے خواہشات کو بے قابو کر دیا ہے، اور
مادّی کامیابی کے معیار نے انسان کو مسلسل ایک دوڑ میں لگا دیا ہے۔ ایسے میں سیرتِ
مصطفی ﷺ سکون اور توازن کا ایک حیرت انگیز سرچشمہ بن کر سامنے آتی ہے۔ حضور ﷺ کی
زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ مشکلات کے ہجوم میں بھی وقار کے ساتھ جیا جا سکتا ہے،
محرومیوں کے باوجود دل کو امیر رکھا جا سکتا ہے، مخالفتوں کے باوجود زبان کو مہذب
رکھا جا سکتا ہے، اور شدید آزمائشوں کے باوجود امید کا چراغ بجھنے نہیں دیا جاتا۔
غور کیجیے، مکہ کی وادیاں ہوں یا طائف کی سنگ باری،
شعبِ ابی طالب کی تنگی ہو یا مدینہ کے سیاسی و سماجی مسائل، ہر مرحلے پر رسولِ
اکرم ﷺ نے بے مثال صبر، استقامت، حکمت اور توکل کا عملی نمونہ پیش فرمایا۔ جدید
نفسیات آج Resilience،
Emotional
Intelligence، Stress Management
اور Conflict Resolution جیسے
عنوانات پر طویل بحث کرتی ہے، مگر سیرتِ مصطفی ﷺ ان سب کا زندہ اور متوازن نمونہ
پیش کرتی ہے۔ حضور ﷺ نے دکھایا کہ جذبات کو دبانا نہیں، سنوارنا ہوتا ہے؛ غصے کو
آزاد چھوڑنا نہیں، اخلاق کے تابع کرنا ہوتا ہے؛ اور خوف کو انسان کی تقدیر بننے
نہیں دینا چاہیے، بلکہ یقین اور توکل سے اسے مات دینی چاہیے۔
اخلاقی اعتبار سے جدید دنیا ایک بڑے بحران سے گزر رہی
ہے۔ علم بڑھا ہے مگر کردار گھٹا ہے۔ زبانیں شیریں ہیں مگر نیتیں کڑوی؛ چہرے روشن
ہیں مگر باطن تاریک؛ دعوے بڑے ہیں مگر دیانت کمزور۔ سیاست سے تجارت تک، میڈیا سے
معاشرت تک، جھوٹ، دھوکا، خود نمائی، بد زبانی، تحقیر، حسد، مفاد پرستی اور بے رحمی
ایک عام چلن بنتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں سیرتِ مصطفی ﷺ اخلاقی بحالی کی آخری امید
دکھائی دیتی ہے۔ آپ ﷺ نے سچائی کو صرف ایک وصف نہیں بنایا بلکہ زندگی کی بنیاد
بنایا؛ امانت کو صرف مالی معاملہ نہیں سمجھا بلکہ شخصیت کی شناخت بنایا؛ رحم کو
فقط کمزوروں پر شفقت تک محدود نہیں رکھا بلکہ پوری انسانیت کے ساتھ معاملے کا اصول
بنایا۔
حضور ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرنے والا شخص یہ دیکھتا ہے
کہ طاقت آنے کے بعد بھی عاجزی باقی رہتی ہے، فتح ملنے کے بعد بھی انتقام نہیں لیا
جاتا، اختلاف ہونے کے باوجود انصاف برقرار رہتا ہے، اور دشمنی کے ماحول میں بھی
انسانیت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا جاتا۔ یہی وہ اخلاقی عظمت ہے جس کی آج کے
انسان کو شدید ضرورت ہے۔ دنیا کو ذہین افراد بہت مل جائیں گے، مگر محفوظ ہاتھ، سچی
زبان، نرم دل، اور بااصول کردار والے انسان سیرتِ مصطفی ﷺ ہی پیدا کرتی ہے۔
معاشرتی سطح پر جدید انسان خاندانی ٹوٹ پھوٹ، نسلی
تعصب، طبقاتی کشمکش، عدم برداشت، نسوانی و خاندانی حقوق کے بحران، بچوں کی تربیت
کے مسائل، اور تعلقات کی سرد مہری سے دوچار ہے۔ جدید معاشرہ بظاہر connected ہے مگر حقیقت میں fragmented ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے
قریب رہتے ہیں مگر دل دور ہیں؛ خاندان ساتھ ہوتے ہیں مگر رشتے کمزور؛ گفتگو زیادہ
ہے مگر سماعت کم؛ حقوق کا شور ہے مگر ذمہ داریوں کا شعور کم۔ سیرتِ مصطفی ﷺ اس
معاشرتی بکھراؤ کے مقابل ایک نہایت حسین، عادلانہ اور رحمت بھرا معاشرتی ماڈل پیش
کرتی ہے۔
آپ ﷺ بطور شوہر بہترین، بطور والد بے مثال، بطور ہمسایہ
کریم، بطور دوست وفادار، بطور قائد منصف، بطور معلم حکیم، اور بطور انسان سراپا
رحمت تھے۔ آپ ﷺ نے عورت کو عزت دی، بچے کو محبت دی، غلام کو انسانیت دی، یتیم کو
سہارا دیا، پڑوسی کو حق دیا، کمزور کو تحفظ دیا، اور مخالف کو بھی انصاف دیا۔ جدید
دنیا جس Social Justice،
Human
Dignity اور
Inclusive Society کی بات کرتی ہے، سیرتِ نبوی ﷺ نے اس
کا متوازن اور عملی نمونہ چودہ صدیاں پہلے پیش کر دیا تھا۔ یہاں نہ نعروں کی
زیادتی ہے، نہ جذباتی مبالغہ؛ بلکہ باعمل رحمت، زندہ انصاف اور تہذیبی وقار ہے۔
عقلی پہلو سے بھی سیرتِ مصطفی ﷺ جدید انسان کے لیے غیر
معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ آج کا انسان ہر بات دلیل سے سمجھنا چاہتا ہے، اور یہ ایک
حد تک درست بھی ہے۔ اسلام اندھی تقلید کا مذہب نہیں بلکہ غور و فکر، تدبر، مشاورت،
حکمت اور بصیرت کا دین ہے۔ سیرتِ رسول ﷺ میں ہمیں ایک ایسی شخصیت دکھائی دیتی ہے
جو وحی سے رہنمائی پاتی ہے مگر دنیا کے معاملات میں حکمت، منصوبہ بندی، مشاورت،
حالات شناسی، تدریج اور مصلحتِ صحیحہ کو بھی اختیار کرتی ہے۔ ہجرت کا منصوبہ،
مدینہ کی اجتماعی تشکیل، مواخاتِ مدینہ، میثاقِ مدینہ، صلحِ حدیبیہ، دعوتی حکمت،
جنگی نظم و ضبط، اور معاملات میں عدل و اعتدال—یہ سب اس بات کی روشن دلیل ہیں کہ
سیرتِ مصطفی ﷺ صرف روحانی عظمت ہی نہیں، بلکہ عقلی پختگی اور عملی بصیرت کا بھی
اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔
بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سیرتِ نبوی ﷺ صرف مذہبی لوگوں
کے لیے مفید ہے، یا صرف مسجد، عبادت اور آخرت کے مباحث تک محدود ہے۔ یہ تصور سیرت
کے حقیقی دائرے کو بہت محدود کر دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیرتِ مصطفی ﷺ زندگی کو
ٹکڑوں میں تقسیم نہیں کرتی، بلکہ اسے ایک مربوط اکائی کے طور پر دیکھتی ہے۔ عبادت
بھی ہے، تجارت بھی؛ اخلاق بھی ہے، سیاست بھی؛ محبت بھی ہے، قانون بھی؛ رحمت بھی
ہے، ہیبت بھی؛ نرمی بھی ہے، اصول بھی۔ جدید دنیا کی ایک بنیادی خرابی یہی ہے کہ اس
نے انسان کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے: دفتر کا انسان الگ، گھر کا الگ، سوشل میڈیا کا
الگ، باطن کا الگ، ظاہر کا الگ۔ سیرتِ مصطفی ﷺ انسان کو دوبارہ ایک وحدت عطا کرتی
ہے؛ وہی اندر، وہی باہر؛ وہی نماز میں سچا، وہی بازار میں سچا؛ وہی گھر میں رحیم،
وہی منصب میں عادل۔
طبی اور جسمانی اعتبار سے بھی سیرتِ نبوی ﷺ میں جدید
انسان کے لیے بڑی رہنمائی ہے۔ آج انسان بیماریوں، بے اعتدالی، نیند کے بحران،
خوراک کی خرابی، صفائی کے مسائل، سستی، ذہنی تھکاوٹ، اور غیر فطری طرزِ زندگی سے
پریشان ہے۔ سیرت ہمیں اعتدال، طہارت، سادگی، نظم، پاکیزہ خوراک، کم خوری، جسمانی
چستی اور روحانی سکون کی طرف بلاتی ہے۔ یہاں صحت ایک فیشن نہیں بلکہ امانت ہے؛
صفائی ایک رسم نہیں بلکہ ایمان کا حصہ ہے؛ نیند اور خوراک صرف عادت نہیں بلکہ
مزاجِ نبوی کے تابع ایک متوازن نظام ہے۔ جدید طبی تحقیق بار بار اعتدال، صفائی، پرہیز،
ذہنی سکون، اور نظمِ حیات کی افادیت ثابت کر رہی ہے، جبکہ سیرتِ مصطفی ﷺ نے ان
اصولوں کو زندگی کے روزمرہ معمول میں شامل کر کے دکھایا۔
سائنسی اور فکری اعتبار سے بھی سیرتِ رسول ﷺ جدید انسان
کے لیے تحریک کا سرچشمہ ہے۔ اسلام نے کائنات میں غور کرنے، آفاق و انفس میں
نشانیاں دیکھنے، علم حاصل کرنے، اور حقیقت کی تلاش کرنے کی دعوت دی۔ سیرتِ مصطفی ﷺ
میں علم کی قدر، لکھنے پڑھنے کی اہمیت، قیدیوں سے تعلیم دلوانے کی حکمت، اور علم
والوں کے مقام کا احترام واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوی
تعلیمات علم دشمن نہیں بلکہ جہالت دشمن ہیں۔ سیرت کا تقاضا یہ نہیں کہ انسان دنیا
سے کٹ جائے؛ بلکہ یہ ہے کہ علم کو اخلاق کے تابع کرے، سائنس کو انسانیت کے مفاد
میں استعمال کرے، اور ترقی کو تباہی کا ذریعہ نہ بننے دے۔
جدید انسان ایک اور شدید بحران کا شکار ہے، اور وہ ہے
آزادی کے نام پر بے لگامی۔ اسے بتایا گیا کہ تم پر کوئی حد نہیں، کوئی قدغن نہیں،
کوئی ذمہ داری نہیں؛ بس تمہاری خواہش ہی تمہارا قانون ہے۔ مگر ایسی آزادی انسان کو
آزاد نہیں کرتی، بلکہ نفس، عادت، لذت اور خواہشات کا غلام بنا دیتی ہے۔ سیرتِ
مصطفی ﷺ انسان کو سکھاتی ہے کہ اصل آزادی نفس کی غلامی سے نجات ہے۔ جو شخص اپنی
زبان، نگاہ، خواہش، غصے، حرص اور قوت پر قابو پا لے، وہی حقیقی معنوں میں آزاد ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سیرتِ نبوی ﷺ ضبطِ نفس کو جبر نہیں بناتی بلکہ شخصیت کی عظمت بناتی
ہے۔
آج کی دنیا میں کامیابی کا تصور بھی بہت محدود ہو چکا
ہے۔ کامیاب وہ سمجھا جاتا ہے جس کے پاس دولت ہو، شہرت ہو، اثر و رسوخ ہو، اور
لوگوں کی نگاہوں میں چمک ہو۔ مگر سیرتِ مصطفی ﷺ کامیابی کی تعریف بدل دیتی ہے۔
یہاں کامیاب وہ ہے جو اللہ کے نزدیک محبوب ہو، انسانوں کے لیے نفع بخش ہو، کردار
میں بلند ہو، معاملات میں پاکیزہ ہو، آزمائش میں ثابت قدم ہو، اور اختیار ملنے کے
باوجود حدودِ حق سے تجاوز نہ کرے۔ یہ تصور جدید انسان کو ایک بہت بڑا فکری نجات
نامہ فراہم کرتا ہے، کیونکہ جب کامیابی کا معیار درست ہو جاتا ہے تو زندگی کی بہت
سی بے چینی خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔
ادبی اور جمالیاتی اعتبار سے بھی سیرتِ رسول ﷺ دلوں کو
چھو لینے والی حقیقت ہے۔ اس میں محبت ہے مگر بے عقلی نہیں، عظمت ہے مگر تصنع نہیں،
رقت ہے مگر کمزوری نہیں، جلال ہے مگر ظلم نہیں۔ ایک طرف یتیم کے سر پر شفقت بھرا
ہاتھ ہے، دوسری طرف ظالم کے سامنے حق کا اعلان؛ ایک طرف ازواج کے ساتھ حسنِ معاشرت
ہے، دوسری طرف امت کے لیے شب بھر دعائیں؛ ایک طرف بچوں کے ساتھ کھیلتی مسکراہٹ ہے،
دوسری طرف میدانِ کارزار میں جرأت و حکمت؛ ایک طرف مسجد کی روحانی فضا ہے، دوسری
طرف بازار میں دیانت و عدل۔ یہی جامع حسن جدید انسان کو مسحور کرتا ہے، کیونکہ وہ
ایک ایسی شخصیت کی تلاش میں ہے جو صرف مقدس ہی نہ ہو بلکہ قابلِ اتباع بھی ہو؛ صرف
بلند ہی نہ ہو بلکہ قریب بھی ہو؛ صرف عظیم ہی نہ ہو بلکہ انسان کے لیے قابلِ فہم
بھی ہو۔ یہ سب کمالات صرف اور صرف سیرتِ مصطفی ﷺ میں جمع نظر آتے ہیں۔
یہ بھی ایک اہم حقیقت ہے کہ جدید انسان نے رول ماڈلز کا
شدید بحران پیدا کر لیا ہے۔ کبھی وہ فلمی شخصیات سے متاثر ہوتا ہے، کبھی کھلاڑیوں
سے، کبھی دولت مندوں سے، کبھی سوشل میڈیا کے مصنوعی چہروں سے۔ مگر یہ تمام نمونے
جزوی، وقتی، مفاد زدہ یا ظاہری ہوتے ہیں۔ ان میں بعض کے پاس شہرت ہوتی ہے مگر سیرت
نہیں، بعض کے پاس صلاحیت ہوتی ہے مگر اخلاق نہیں، بعض کے پاس اثر ہوتا ہے مگر
امانت نہیں۔ سیرتِ مصطفی ﷺ اس بحران کا آخری اور کامل جواب ہے، کیونکہ یہاں کردار
بھی ہے، علم بھی؛ قیادت بھی ہے، عبادت بھی؛ محبت بھی ہے، ہیبت بھی؛ نجی زندگی کا
حسن بھی ہے، اجتماعی زندگی کی کامیابی بھی۔
مختصر یہ کہ جدید دور کا انسان سیرتِ مصطفی ﷺ کا محتاج
اس لیے ہے کہ وہ ظاہری ترقی کے باوجود باطنی و اخلاقی افلاس کا شکار ہے۔ اسے رفتار
ملی مگر رخ کھو گیا؛ اسے طاقت ملی مگر توازن کھو گیا؛ اسے معلومات ملیں مگر حکمت
کھو گئی؛ اسے اسباب ملے مگر سکون کھو گیا۔ سیرتِ مصطفی ﷺ اسے رخ بھی دیتی ہے، مقصد
بھی؛ سکون بھی دیتی ہے، وقار بھی؛ اصول بھی دیتی ہے، محبت بھی؛ فکر بھی دیتی ہے،
عمل بھی۔ یہ انسان کو محض اچھا مسلمان نہیں بناتی، بلکہ اچھا انسان، اچھا شہری،
اچھا رہنما، اچھا والد، اچھا پڑوسی، اچھا دوست اور اچھا بندہ بناتی ہے۔
آج اگر انسان اپنے اندر کے اندھیروں، اپنے معاشرے کی
ٹوٹ پھوٹ، اپنی تہذیب کی بے سمتی، اور اپنی روح کی پیاس کا حقیقی علاج چاہتا ہے تو
اسے سیرتِ مصطفی ﷺ کی طرف سنجیدگی، محبت، فہم اور عمل کے ساتھ لوٹنا ہوگا۔ یہی
واپسی اس کے دل کو سکون، عقل کو روشنی، کردار کو بلندی، اور زندگی کو معنی عطا کرے
گی۔ دنیا کے شور میں اگر کوئی آواز آج بھی یقین، وقار، رحمت، حکمت اور نجات کے
ساتھ انسان کو پکارتی ہے، تو وہ سیرتِ رسولِ رحمت ﷺ کی آواز ہے۔
آخر میں یہی کہنا بجا ہے کہ جدید انسان کو صرف ٹیکنالوجی
نہیں، تہذیب بھی چاہیے؛ صرف سہولت نہیں، سیرت بھی چاہیے؛ صرف کامیابی نہیں، خیر
بھی چاہیے؛ اور یہ سب کچھ کامل، متوازن اور روشن صورت میں اگر کہیں ملتا ہے تو وہ
سیرتِ مصطفی ﷺ ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں