مشاورت کا نبوی سسٹم
تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش
(دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر)
انسانی زندگی کا ایک بڑا المیہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس
راستے نہیں ہوتے—بلکہ یہ کہ راستوں کی کثرت ہمیں ٹھہرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اسی
کیفیت کو آج کی زبان میں Decision Paralysis
کہا جاتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر، اس جدید اصطلاح کا حل
صدیوں پہلے ہمیں سیرتِ طیبہ میں ملتا ہے—وہ حل جسے ہم “مشاورت” کہتے ہیں۔
نبوی اسلوبِ مشاورت
حضرت محمد ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا
کہ آپؐ اپنی غیر معمولی بصیرت اور وحی کی رہنمائی کے باوجود، صحابہ کرامؓ سے مشورہ
فرمایا کرتے تھے۔ یہ صرف ایک سماجی روایت نہیں تھی، بلکہ ایک تربیتی اور ادارہ
جاتی نظام تھا—ایسا نظام جس نے ایک منتشر قوم کو متحد امت میں بدل دیا۔
قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
"وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ" (سورۃ
آل عمران: 159ٌ)
یعنی: “اور
(اے نبی!) ان سے معاملات میں مشورہ کیا کریں”۔
یہ آیت صرف ایک ہدایت نہیں، بلکہ ایک اصولِ حکمرانی
ہے—جس میں قیادت اور اجتماعیت کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔
مشورے کی برکت
نبوی دور میں مشاورت کے بے شمار عملی نمونے ملتے ہیں:
- غزوۂ بدر
میں جنگی حکمت عملی کے حوالے سے ایک صحابی، حضرت حباب بن منذر کی رائے کو
قبول کیا گیا، جس کے نتیجے میں پانی کے ذخائر پر کنٹرول حاصل ہوا—اور یہ
فیصلہ فتح کی بنیاد بنا۔
- غزوۂ احد
میں نوجوان صحابہؓ کی رائے پر مدینہ سے باہر نکل کر مقابلہ کیا گیا، حالانکہ
ابتدائی رائے شہر کے اندر دفاع کی تھی۔ یہ مثال اس بات کا ثبوت ہے کہ مشاورت
میں اختلافِ رائے کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
- صلح حدیبیہ
کے موقع پر، جب جذبات عروج پر تھے، آپؐ نے اپنی اہلیہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ
عنہا سے مشورہ فرمایا، اور ان کی حکیمانہ رائے نے ایک ممکنہ بحران کو حکمت
میں بدل دیا۔
یہ واقعات ہمیں بتاتے ہیں کہ مشاورت صرف معلومات کا
تبادلہ نہیں، بلکہ دلوں کو جوڑنے اور ذہنوں کو ہم آہنگ کرنے کا عمل ہے۔
اجتماعی ذہانت (Collective
Intelligence)
نبوی مشاورت کا بنیادی اصول یہ تھا کہ سچائی صرف ایک
ذہن میں محدود نہیں ہوتی۔ مختلف زاویوں سے دیکھنے والے افراد مل کر ایک جامع
اور متوازن فیصلہ تک پہنچتے ہیں۔ یہی تصور آج کے دور میں Collective
Intelligence کے
نام سے جانا جاتا ہے۔
جدید ترجمہ:
Collaborative Decision-Making
آج کی کارپوریٹ دنیا میں، بڑی بڑی کمپنیاں جیسے Google
اور Microsoft ٹیم
ورک اور collaborative decision-making کو
اپنی کامیابی کی بنیاد قرار دیتی ہیں۔ ان اداروں میں:
- فیصلے ایک فرد نہیں،
بلکہ ٹیم کرتی ہے
- ہر رکن کی رائے کو
سنا جاتا ہے
- اختلاف کو دبایا
نہیں، بلکہ سسٹم میں شامل کیا جاتا ہے
یہ سب وہی اصول ہیں جو صدیوں پہلے مدینہ کی گلیوں میں
سکھائے گئے تھے۔
فیصلہ سازی کی الجھن کا علاج
Decision
paralysis دراصل خوف، غیر یقینی، اور ذمہ داری کے
بوجھ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ مشاورت اس بوجھ کو تقسیم کر دیتی ہے:
- ذہنی وضاحت پیدا
ہوتی ہے
- جذباتی دباؤ کم ہوتا
ہے
- فیصلے میں اعتماد
بڑھتا ہے
جب انسان تنہا نہیں ہوتا، تو وہ بہتر سوچتا ہے، بہتر
سمجھتا ہے، اور بہتر فیصلہ کرتا ہے۔
عصری تقاضوں سے ہم آہنگی
آج کے ڈیجیٹل دور میں، مشاورت کے ذرائع بھی بدل گئے ہیں:
- آن لائن میٹنگز
- collaborative tools جیسے Slack، Zoom
- crowdsourcing اور feedback systems
لیکن اصول وہی ہے:
مشورہ، اشتراک، اور احترامِ رائے۔
قارئین:
مشاورت صرف عقل کا کھیل نہیں، یہ دلوں کی مجلس ہے۔ یہ
وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان اپنی انا کو ایک طرف رکھ کر دوسرے کی بات سنتا ہے۔ یہ وہ
مقام ہے جہاں “میں” کی جگہ “ہم” لے لیتا ہے۔
یہی وہ روح ہے جس نے ایک امت کو جنم دیا—اور یہی وہ روح ہے جو آج بھی ہمارے اداروں، گھروں، اور معاشروں کو سنوار سکتی ہے۔نبوی مشاورت کوئی ماضی کا قصہ نہیں، بلکہ مستقبل کا راستہ ہے۔ اگر ہم واقعی decision paralysis سے نکلنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اس سنت کو صرف پڑھنا نہیں، بلکہ اپنانا ہوگا۔کیونکہ بعض فیصلے عقل سے نہیں، مشورے سے روشن ہوتے ہیں۔آپ چاہتے ہیں کہ زندگی آسان بھی ہو اور خوشحال بھی تو پھر سیرت رسول ﷺ کو اپنی زندگی میں نافذ کرلیجئے ۔آپ خود اس کے ثمرات محسوس کریں گے ۔اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطافرمائے ۔آمین
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں