نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مصروف ترین دور میں پُرسکون زندگی



مصروف ترین دور میں پُرسکون زندگی

تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش

(دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر)

آج کا انسان ایک عجیب دوڑ میں شامل ہے۔ وقت کم ہے، کام زیادہ ہیں، توقعات بلند ہیں، اور دل کی تھکن بڑھتی جارہی ہے۔ بظاہر سہولتیں بڑھ گئی ہیں، مگر سکون کم ہوگیا ہے۔ موبائل ہاتھ میں ہے مگر دل بےقرار ہے، کیلنڈر بھرا ہوا ہے مگر روح خالی محسوس ہوتی ہے، اور مصروفیت اتنی زیادہ ہے کہ انسان خود اپنے آپ سے بھی دور ہوتا جارہا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی شخصیت کامل رہنمائی کے ساتھ سامنے آتی ہے تو وہ صرف اور صرف رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے۔ سیرتِ نبوی ﷺ صرف مذہبی تاریخ نہیں، بلکہ یہ انسانی زندگی کے لیے ایک زندہ، متوازن، نفسیاتی، عقلی اور عملی ضابطۂ حیات ہے۔ خاص طور پر اس دور میں، جب ذہنی دباؤ، اضطراب، بے معنویت اور جذباتی تھکن عام ہوچکی ہے، سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ مصروف ترین زندگی بھی پُرسکون ہوسکتی ہے، بشرطیکہ اس کی بنیاد درست ہو۔

رسولِ کریم ﷺ کی زندگی بظاہر انتہائی مصروف تھی۔ آپ ﷺ صرف ایک عبادت گزار فرد نہ تھے، بلکہ ایک داعی، معلم، مصلح، قائد، قاضی، سربراہِ ریاست، سپہ سالار، شوہر، والد، پڑوسی، دوست اور پوری انسانیت کے خیرخواہ تھے۔ آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی، امت کی تربیت فرماتے، وفود سے ملاقاتیں کرتے، مسائل حل فرماتے، معاشرتی اصلاح کرتے، جنگ و امن کے فیصلے فرماتے، عبادات میں کمال رکھتے اور گھریلو ذمہ داریاں بھی ادا فرماتے۔ اگر مصروفیت کی تعریف یہ ہے کہ ایک انسان پر کئی جہتوں سے ذمہ داریاں ہوں، تو دنیا کی تاریخ میں رسولِ اکرم ﷺ سے بڑھ کر مصروف مگر متوازن زندگی کی مثال مشکل سے ملے گی۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس سب کے باوجود آپ ﷺ کی شخصیت میں اضطراب نہیں، توازن ہے؛ گھبراہٹ نہیں، وقار ہے؛ بوجھ نہیں، رحمت ہے؛ اور جلد بازی نہیں، حکمت ہے۔

یہاں ایک اہم عقلی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیسے ممکن ہوا؟ ایک انسان جو مسلسل ذمہ داریوں میں گھرا ہو، وہ اندر سے پُرسکون کیسے رہ سکتا ہے؟ عقل اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ سکون کا تعلق مصروفیت کی کمی سے نہیں، بلکہ زندگی کے نظام، فکر کے استحکام، مقصد کی وضاحت اور قلبی مرکزیت سے ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں سکھاتی ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی کا مرکز دنیاوی ہجوم نہیں بلکہ ربِّ کائنات کی رضا تھی۔ جس انسان کا مقصد واضح ہو، ترجیحات متعین ہوں، دل اللہ تعالیٰ سے جڑا ہو، اور عمل حکمت پر مبنی ہو، وہ شدید مشاغل کے باوجود بھی بکھرتا نہیں۔ اس کے برعکس جس شخص کے پاس مقصد نہ ہو، وہ کم کام میں بھی تھک جاتا ہے۔ گویا سیرتِ نبوی ﷺ یہ سبق دیتی ہے کہ سکون، مصروفیت کے خاتمے سے نہیں بلکہ مقصدی زندگی سے پیدا ہوتا ہے۔

سائنسی اعتبار سے بھی یہ حقیقت قابلِ غور ہے کہ انسانی دماغ اس وقت زیادہ دباؤ محسوس کرتا ہے جب اسے بے ترتیبی، غیر یقینی صورتِ حال، جذباتی تناؤ اور مسلسل ذہنی انتشار کا سامنا ہو۔ جدید نفسیات اور اعصابی علوم ہمیں بتاتے ہیں کہ واضح معمولات، بامعنی تعلقات، روحانی وابستگی، شکرگزاری، دعا، باقاعدہ آرام، جسمانی اعتدال اور امید پر مبنی سوچ انسان کے اعصاب کو متوازن رکھتے ہیں۔ جب ہم سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ کرتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ یہ تمام اصول نہایت حسین صورت میں آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں موجود ہیں۔ آپ ﷺ کی عبادت محض رسم نہ تھی بلکہ روح کی تجدید تھی۔ آپ ﷺ کی دعا محض الفاظ نہ تھی بلکہ باطن کی تسکین تھی۔ آپ ﷺ کی خاموشی بھی معنی رکھتی تھی، آپ ﷺ کی گفتگو بھی حکمت سے بھرپور تھی، اور آپ ﷺ کا تبسم بھی دوسروں کے لیے نفسیاتی سہارا بن جاتا تھا۔

نفسیاتی پہلو سے دیکھا جائے تو آج کے انسان کی ایک بڑی مشکل جذباتی بوجھ ہے۔ لوگ غم بھی اٹھاتے ہیں، خوف بھی سہتے ہیں، ناکامی بھی دیکھتے ہیں، اور تعلقات کی پیچیدگیاں بھی جھیلتے ہیں، مگر ان کے پاس ان سب کو سنبھالنے کا صحت مند طریقہ نہیں ہوتا۔ سیرتِ نبوی ﷺ اس باب میں غیر معمولی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے حزن بھی دیکھا، مخالفت بھی سہی، ہجرت بھی فرمائی، عزیزوں کی وفات بھی برداشت کی، طائف کا کرب بھی جھیلا، جنگوں کی سختیاں بھی دیکھیں، منافقین کے رویے بھی سہے، اور امت کے مستقبل کی فکر بھی فرمائی۔ مگر ان تمام حالات میں آپ ﷺ نے نہ تو امید چھوڑی، نہ بدگمانی کو جگہ دی، نہ انتقام کو اصول بنایا، نہ جذباتی ٹوٹ پھوٹ کو اپنی شناخت بننے دیا۔ یہ محض روحانی کمال نہیں، بلکہ انسانی نفسیات کی اعلیٰ ترین تربیت بھی ہے۔

طائف کا واقعہ اس ضمن میں خاص طور پر غور طلب ہے۔ ایک عام انسان اگر شدید جسمانی و جذباتی اذیت سے گزرے تو اس کے اندر ردِّعمل، نفرت اور بددعا کا طوفان اٹھتا ہے۔ مگر رسولِ رحمت ﷺ نے ایسے موقع پر بھی امید، رحم اور دعوت کا دامن نہ چھوڑا۔ یہ رویہ نفسیاتی بلوغت کی انتہا ہے۔ آج کی اصطلاح میں اسے جذباتی ذہانت، ردِّعمل پر ضبط، اور اخلاقی استقامت کہا جاسکتا ہے۔ سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں سکھاتی ہے کہ مضبوط وہ نہیں جو کبھی زخمی نہ ہو، بلکہ مضبوط وہ ہے جو زخمی ہونے کے باوجود خیر کا راستہ نہ چھوڑے۔

رسولِ اکرم ﷺ کی پُرسکون زندگی کا ایک بڑا راز نماز ہے۔ نماز کو اگر صرف ایک شرعی فریضہ سمجھ کر دیکھا جائے تو اس کا ایک پہلو سامنے آتا ہے، لیکن اگر اسے روح، دماغ اور جذبات کے استحکام کے زاویے سے دیکھا جائے تو اس کی گہرائی اور بڑھ جاتی ہے۔ آپ ﷺ نماز میں وہ سکون پاتے تھے جسے الفاظ پوری طرح بیان نہیں کرسکتے۔ نماز میں قیام، رکوع، سجدہ، تلاوت، دعا، ذکر اور کامل توجہ؛ یہ سب مل کر انسان کے باطن میں ایسی ترتیب پیدا کرتے ہیں جو بکھری ہوئی ذہنی کیفیت کو جمع کرتی ہے۔ آج دنیا mindfulness اور mental centering کی بات کرتی ہے، مگر سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں اس سے کہیں زیادہ بامعنی، ربانی اور جامع صورت دکھاتی ہے۔ سجدہ صرف جسم کا جھکاؤ نہیں، دل کے بوجھ کو اتارنے کا مقام بھی ہے۔

اسی طرح دعا کا پہلو نہایت اہم ہے۔ جدید نفسیات یہ تسلیم کرتی ہے کہ وہ انسان جو اپنے اندر کے احساسات کو مثبت، پُرامید اور بامعنی انداز میں ظاہر کرسکے، وہ ذہنی طور پر زیادہ متوازن رہتا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کی دعائیں دیکھئے تو وہ انسان کے خوف، امید، غم، کمزوری، شکر، احتیاج اور توکل سب کو نہایت خوبصورت انداز میں اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ دعا انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ میں اکیلا نہیں ہوں، میرا ایک رب ہے جو سنتا ہے، جانتا ہے، رحم فرماتا ہے اور راستہ نکالتا ہے۔ یہی احساس اضطراب کو توکل میں بدل دیتا ہے۔ سیرتِ نبوی ﷺ کا یہ پہلو آج کے بے چین انسان کے لیے زندگی بخش نسخہ ہے۔

رسولِ کریم ﷺ کی زندگی میں نظم و توازن بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ آپ ﷺ نے عبادت کو بھی حق دیا، اہلِ خانہ کو بھی وقت دیا، صحابہ رضی اللہ عنہ کی تربیت بھی فرمائی، معاشرتی معاملات بھی سنبھالے، اور جسمانی صحت کا بھی لحاظ فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پُرسکون زندگی کا تعلق صرف ذکر و فکر سے نہیں، بلکہ متوازن تقسیمِ وقت سے بھی ہے۔ آج بہت سے لوگ اس لیے ذہنی دباؤ میں رہتے ہیں کہ ان کی زندگی میں حد بندی نہیں۔ کام گھر میں داخل ہوجاتا ہے، سوشل میڈیا نیند کھا جاتا ہے، غیر ضروری تعلقات توجہ چھین لیتے ہیں، اور اہم امور پیچھے رہ جاتے ہیں۔ سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر چیز کا ایک حق ہے، اور جب حقوق میں توازن ہو تو دل میں سکون پیدا ہوتا ہے۔

گھریلو زندگی میں رسولِ اکرم ﷺ کا اسوہ بھی پُرسکون زندگی کی عظیم مثال ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جو انسان باہر بہت بڑی ذمہ داریاں نبھاتا ہو، وہ گھر میں سخت یا بے توجہ ہوجاتا ہے، مگر آپ ﷺ کی زندگی اس تصور کی نفی کرتی ہے۔ آپ ﷺ ازواجِ مطہرات کے ساتھ حسنِ معاشرت فرماتے، گھریلو معاملات میں تعاون کرتے، نرمی اور محبت سے پیش آتے، اور اپنے مقام کے باوجود تکلف اور غرور سے پاک رہتے۔ یہ پہلو نہ صرف اخلاقی عظمت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ اصل سکون انسان کے اس رویے میں ہے جس میں وہ دوسروں کے لیے آسانی بن جائے۔ سخت مزاجی، برتری کا احساس، اور مسلسل تنقید ماحول کو زہر آلود بناتے ہیں، جبکہ نرمی، مزاحمت کے بجائے محبت، اور خدمت کا جذبہ گھر کو سکون کا گہوارہ بناتا ہے۔

صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رسولِ اکرم ﷺ کا تعلق بھی نفسیاتی و سماجی اعتبار سے بہت معنی خیز ہے۔ آپ ﷺ صرف حکم دینے والے قائد نہ تھے، بلکہ دلوں کو جوڑنے والے مربی تھے۔ آپ ﷺ لوگوں کے احوال جانتے، ان کے جذبات کا لحاظ فرماتے، کمزور کو سہارا دیتے، غلطی کرنے والے کو رسوا کرنے کے بجائے سنوارتے، اور ہر شخص میں خیر کے امکان کو زندہ رکھتے۔ جدید leadership studies میں آج empathetic leadership، humane authority، اور trust-based influence کی جو باتیں کی جاتی ہیں، ان کا اعلیٰ ترین نمونہ سیرتِ نبوی ﷺ میں پہلے سے موجود ہے۔ ایک ایسا قائد جو مصروف بھی ہو اور مہربان بھی، فیصلہ کن بھی ہو اور نرم بھی، باوقار بھی ہو اور قریب بھی؛ یہی وہ توازن ہے جو دلوں میں محبت اور معاشروں میں امن پیدا کرتا ہے۔

یہاں ایک اور علمی نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ انسان صرف جسم نہیں، نہ صرف دماغ ہے، بلکہ وہ روح، عقل، جذبات اور تعلقات کا مجموعہ ہے۔ جب نظامِ زندگی صرف جسمانی آسائش یا معاشی کامیابی تک محدود ہوجائے تو اندر خلا پیدا ہوتا ہے۔ سیرتِ نبوی ﷺ انسان کو ایک ہمہ جہت وجود کے طور پر مخاطب کرتی ہے۔ آپ ﷺ نے رزق کی فکر بھی سکھائی مگر رزاق پر توکل بھی سکھایا؛ معاملات کی درستگی بھی سکھائی مگر نیت کی پاکیزگی کو بھی بنیاد بنایا؛ محنت کی تلقین بھی فرمائی مگر دل کے سکون کے لیے ذکرِ الٰہی کی طرف بھی متوجہ فرمایا۔ یہی جامعیت سیرتِ نبوی ﷺ کو ہر دور کے لیے زندہ اور مؤثر بناتی ہے۔

اگر عام معلومات کے زاویے سے دیکھا جائے تو دنیا کے بڑے مفکرین، مورخین اور سماجی ماہرین نے بھی اس حقیقت کو محسوس کیا ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ کی شخصیت تاریخِ انسانیت کی غیر معمولی شخصیات میں نمایاں ترین ہے۔ اس کی وجہ صرف مذہبی اثر نہیں، بلکہ آپ ﷺ کی عملی کامیابی، اخلاقی برتری، تہذیبی انقلاب اور انسانی تربیت کی قوت بھی ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں قبائلی تعصب، اخلاقی زوال، جہالت، انتقام اور بے نظمی عام تھی، وہاں رسولِ اکرم ﷺ نے نہ صرف ایمان کی شمع روشن کی بلکہ انسان کے باطن، معاشرت، سیاست، معیشت، عدالت اور اخلاق سب کو نئی سمت دی۔ یہ تبدیلی کسی ایک میدان کی نہیں تھی؛ یہ ایک مکمل انسانی انقلاب تھا۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اس عظیم انقلاب کے قائد کی راتیں دعا میں گزرتی تھیں، گفتگو میں نرمی ہوتی تھی، چہرے پر تبسم ہوتا تھا، اور دل میں امت کی فکر۔ یہی وہ حسن ہے جو سیرت کو محض تاریخ نہیں رہنے دیتا بلکہ دلوں کی زندگی بنا دیتا ہے۔

سیرتِ نبوی ﷺ کے دلچسپ پہلوؤں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے بڑی سے بڑی ذمہ داری کو بھی انسانی لطافت سے خالی نہیں ہونے دیا۔ آپ ﷺ بچوں سے محبت فرماتے، ان سے شفقت سے بات کرتے، ان کی دلجوئی فرماتے۔ آپ ﷺ بوڑھوں کا احترام فرماتے، کمزوروں کو نظر انداز نہ کرتے، غلاموں اور محتاجوں کو انسانیت کا پورا مقام دیتے۔ آپ ﷺ کی مجلس میں وقار بھی تھا اور اپنائیت بھی۔ گویا زندگی صرف فرائض کا بوجھ نہیں تھی، بلکہ تعلقات کا حسن بھی تھی۔ آج کے مصروف انسان کے لیے یہ ایک بڑا سبق ہے۔ اگر مصروفیت انسان سے اس کی مسکراہٹ چھین لے، اس کے اخلاق کو سخت کردے، اور اسے دوسروں کے درد سے بے خبر بنادے، تو ایسی مصروفیت ترقی نہیں، خسارہ ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ کی زندگی میں سادگی بھی سکون کا ایک بنیادی سبب نظر آتی ہے۔ آج کی دنیا انسان کو یہ یقین دلاتی ہے کہ زیادہ سامان، زیادہ آسائش، زیادہ نمود، اور زیادہ اختیار ہی خوشی اور سکون لائیں گے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جتنا انسان خواہشات کے بوجھ تلے دبتا جاتا ہے، اتنا ہی اس کا دل بے چین ہوتا جاتا ہے۔ سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں بتاتی ہے کہ سادہ زندگی دل کو ہلکا رکھتی ہے۔ قناعت، شکر، اعتدال اور مقصدیت انسان کو غیر ضروری بوجھ سے بچاتی ہے۔ یہ سادگی محرومی نہیں، بلکہ آزادی ہے؛ کیونکہ جو شخص ہر وقت دنیا جمع کرنے میں لگا رہے، وہ کبھی سکون جمع نہیں کرسکتا۔

سیرتِ نبوی ﷺ کا ایک عظیم درس یہ بھی ہے کہ سکون کا مطلب مسائل کا نہ ہونا نہیں، بلکہ مسائل کے درمیان درست طرزِ زندگی اختیار کرنا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے مشکلات سے بھری دنیا میں کامل سکون کا راستہ دکھایا۔ آپ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ زندگی میں آزمائش نہیں ہوگی، بلکہ عملاً یہ سکھایا کہ آزمائش کے اندر بھی وقار، صبر، حسنِ ظن، دعا، مشاورت، حکمت اور توکل کے ساتھ کیسے جیا جاتا ہے۔ یہ حقیقت خاص طور پر آج کے نوجوان، والدین، اساتذہ، دینی کارکنان، پیشہ ور افراد اور ذمہ دار شہریوں کے لیے نہایت اہم ہے۔ کیونکہ اصل کمال فراغت میں اچھا ہونا نہیں، بلکہ دباؤ کے ماحول میں بھی اخلاق اور ایمان کو سلامت رکھنا ہے۔

مثال کے طور پر ایک طالب علم کو امتحانات، مستقبل اور خاندان کی توقعات کا دباؤ ہے؛ ایک ملازم کو دفتر، اہداف اور مالی ذمہ داریوں کی فکر ہے؛ ایک تاجر کو نفع و نقصان کی بے یقینی ہے؛ ایک ماں کو گھر، بچوں اور وقت کی تقسیم کی مشقت ہے؛ ایک دینی خادم کو خدمت، اصلاح اور لوگوں کے رویوں کا سامنا ہے۔ ان سب کے لیے سیرتِ نبوی ﷺ الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی جامع راستہ دیتی ہے: نیت درست کرو، تعلق باللہ مضبوط کرو، وقت کو منظم کرو، جسم و روح دونوں کے حقوق ادا کرو، دوسروں کے ساتھ حسنِ اخلاق اختیار کرو، اور نتیجہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردو۔ یہی وہ نسخہ ہے جو مصروفیت کو عبادت، تھکن کو معنی، اور زندگی کو روشنی میں بدل دیتا ہے۔

ادبی اعتبار سے دیکھا جائے تو سیرتِ نبوی ﷺ ایک ایسی خوشبو ہے جو صدیوں کے فاصلے کے باوجود تازہ محسوس ہوتی ہے۔ یہ محض واقعات کا مجموعہ نہیں، بلکہ نور، حکمت، رحمت اور انسانیت کی جیتی جاگتی تفسیر ہے۔ جب انسان سیرت پڑھتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ زندگی کی دھول میں کہیں ایک روشن راستہ موجود ہے؛ کہ اندھیروں میں بھی چراغ جل سکتے ہیں؛ کہ تھکا ہوا دل بھی پھر سے زندہ ہوسکتا ہے؛ کہ مصروفیت تقدیر کا بہانہ نہیں، بلکہ حسنِ عمل کا میدان بن سکتی ہے۔ سیرتِ نبوی ﷺ دل کو صرف معلومات نہیں دیتی، بلکہ سمت دیتی ہے؛ صرف واقفیت نہیں دیتی، بلکہ نسبت دیتی ہے؛ صرف سوچ نہیں بدلتی، بلکہ زندگی بدلنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سیرتِ نبوی ﷺ کو صرف میلاد کے جلسوں، تقریروں یا رسمی تذکروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اسے اپنے روزمرہ کے نظامِ حیات میں داخل کریں۔ ہم یہ دیکھیں کہ رسولِ اکرم ﷺ نے دباؤ میں کیسے بات کی، اختلاف میں کیسے وقار رکھا، گھر میں کیسے نرمی فرمائی، عبادت میں کیسے سکون پایا، قیادت میں کیسے عدل کیا، اور مصروفیت میں کیسے توازن برقرار رکھا۔ جب سیرت اس زاویے سے پڑھی جاتی ہے تو وہ ماضی کی داستان نہیں رہتی، بلکہ حال کی ضرورت بن جاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پُرسکون زندگی کوئی افسانہ نہیں، مگر یہ صرف ظاہری سہولتوں سے حاصل نہیں ہوتی۔ یہ دل کی ترتیب، نیت کی اصلاح، مقصد کی وضاحت، تعلق باللہ، حسنِ اخلاق، متوازن معمولات اور صبر و توکل کے مجموعے سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ جس کامل ترین صورت میں سیرتِ نبوی ﷺ میں ملتا ہے، وہ کسی اور نظام میں اس جامعیت کے ساتھ نظر نہیں آتا۔ اسی لیے جو شخص واقعی سکون چاہتا ہے، اسے سیرتِ رسول ﷺ کی طرف آنا ہوگا؛ پڑھنے کے لیے بھی، سمجھنے کے لیے بھی، اور جینے کے لیے بھی۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر آج کا بے چین انسان سچائی کے ساتھ سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ شروع کردے، تو وہ صرف ایک عظیم ہستی کی سوانح نہیں پڑھے گا، بلکہ اپنے ہی منتشر وجود کے لیے دوا پائے گا۔ اسے معلوم ہوگا کہ مصروفیت بیماری نہیں، بے سمتی بیماری ہے۔ ذمہ داریاں بوجھ نہیں، بے ربطی بوجھ ہے۔ دنیا میں رہتے ہوئے بھی دل کا آسمان روشن رکھا جاسکتا ہے، اور یہ راز ہمیں سب سے زیادہ رسولِ اکرم ﷺ کی مبارک زندگی سے ملتا ہے۔ سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ زندگی چاہے کتنی ہی بھری ہوئی کیوں نہ ہو، دل پھر بھی خالی، پاکیزہ اور مطمئن رہ سکتا ہے؛ بشرطیکہ اس میں محبتِ رسول ﷺ، اتباعِ رسول ﷺ، اور تعلق باللہ کی روشنی موجود ہو۔

یہی سیرتِ نبوی ﷺ کا معجزانہ پیغام ہے:
مصروف رہو، مگر بکھرو نہیں۔
ذمہ دار بنو، مگر سخت نہ ہوجاؤ۔
لوگوں میں رہو، مگر دل اللہ تعالیٰ سے جوڑے رکھو۔
اور زندگی ایسے جیو کہ تمہاری رفتار تیز ہو، مگر تمہارا باطن پُرسکون رہے۔

یہی سکون ہے۔
یہی کامیابی ہے۔
اور یہی سیرتِ طیبہ ﷺ کی طرف پلٹنے کی سب سے خوبصورت دعوت ہے۔

  

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"ڈی این اے میں چھپا روحانی کوڈ؟"

" DNA میں چھپا روحانی کوڈ؟ " تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر)  ہم روٹین کی روایتی زندگی گزاررہے ہوتے ہیں ۔لیکن ہم اس کائنات کے رازوں پر غور کی زحمت نہیں کرتے ۔میں بھی  عمومی زندگی گزارنے والا شخص ہی ہوں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے مطالعہ ،مشاہد ہ بڑھتارہامجھے کھوج لگانے ،سوچنے اور سمجھنے کا ذوق ملا۔اس کافائدہ یہ ہوا کہ مجھ پر علم نئی جہات کھُلی ۔بات کہیں طویل نہ ہوجائے ۔میں کافی وقت سے سوچ رہاتھا کہ اس دور میں سائنس نے بہت ترقی کرلی ۔ڈین این اے کے ذریعے انسان کی نسلوں تک کےراز معلوم کیے جارہے ہیں ۔میں سوچ رہاتھاکہ کیا ڈین این اے ہماری عبادت یاپھر عبادت میں غفلت کوئی اثر ڈالتی ہے یانہیں ۔بہت غوروفکر اور اسٹڈی کے بعد کچھ نتائج ملے ۔ایک طالب علم کی حیثیت سے آپ سے شئیر بھی کرتاہوں ۔ممکن ہے کہ میری یہ کوشش آپ کے لیے بھی ایک لرننگ پراسس ثابت ہو۔ قارئین: ایک سوال ذہن میں آتاہے کہ کیاکیا نماز پڑھنے، روزہ رکھنے یا ذکر کرنے سے صرف ثواب ملتا ہے؟یا … آپ کی عبادتیں آپ کے DNA پر بھی اثر ڈالتی ہیں؟ یہ ہے تواچھوتاسوال آئیے ذرا اس کو حل کرتے ہیں ۔۔۔ قارئی...

نوجوانوں کے لیے امید بھرا پیغام

Life is a race, in which some get tired and stop moving towards the destination, and some reach the destination by facing every difficulty. (Drzahoordanish) نوجوانوں کے لیے امید بھرا پیغام تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہوں ۔جہاں و جب جاتاہوں تو ایک سوال ضرورت ہوتاہے ۔ہمارا مستقبل کیاہے ۔یعنی آج کا نوجوان اپنے مستقبل کی فکروں میں گھُلتاچلاجارہاہے ۔اسٹریس تو گویااس کی ذات کا حصہ بن گئی ہے ۔اب ایسے میں میں بہت دل جلاتاتھا کہ آخر ایسا کیا کیا جائے کہ  یہ قوم کہ معمار ٹینشن فری ہوں ۔خیر اپنے حصے کی جو ممکن کوشش تھی کرتارہا۔کافی دنوں سے سوچ رہاتھا کہ اس موضوع پر کوئی مختصر کی بات ضرور کروں ۔شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات کے حصول کے لیے ۔یہ مضمون بھی اُسی کی ایک کڑی ہے ۔ پیارے قارئین: موجودہ دور میں نوجوانوں میں مستقبل کے بارے میں بے چینی اور خوف ایک عام منظر بن چکا ہے۔ یہ خوف نہ صرف ذہنی سکون چھین لیتا ہے بلکہ زندگی کی توانائی، تخلیق اور کوششوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس مضمون میں ہم اس خوف کی نوعیت، اس کے اسباب، دنیاوی و دین...

مصنوعی ذہانت اور کسانوں کی دنیا

مصنوعی ذہانت اور کسانوں کی دنیا تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) کسان کی زندگی ہمیشہ مٹی، پانی، بارش اور دھوپ کے رحم و کرم پر رہی ہے۔ہزاروں برس سے کھیتی کا ہر عمل ہاتھ اور آنکھ کی محنت سے جڑا ہوا تھا۔لیکن اب ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے — ایسا دور جہاں بیج دیکھنے والی آنکھ انسان کی نہیں،ڈرون کی ہے۔مٹی کا مزاج بتانے والا ہاتھ کسان کا نہیں،مصنوعی ذہانت کا ہے۔زمین آج بھی سچ بولتی ہے،مگر اس سچ تک پہنچنے والے راستے بدل گئے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں کاشتکار، مٹی اور مشین کی مثلث عجیب مگر حیرت انگیز ہم آہنگی کے ساتھ مستقبل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت نے زراعت کو اندازے سے نکال کراعداد و شمار، سینسرز، ڈرون اور سیٹلائٹس کی دنیا میں داخل کر دیا ہے۔ AI اب مٹی کے راز آنکھ جھپکتے بتا دیتا ہے۔آئیے اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔نمی کتنی ہے،کس غذائی عنصر کی کمی ہے،فصل کی جڑ کتنی صحت مند ہے،کہاں کھاد کم یا زیادہ لگ رہی ہے،کب پانی دینا ضروری ہے، FAO کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق AI-assisted analysis سے پیداوار میں 20 سے 30 فیصد اضافہ ممکن ہے۔ یہ وہ انقلاب ہے جو پہلے صدیوں میں ب...