مصنوعی ذہانت اور فتاویٰ کا خطرناک امکان
(تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش)
عصرِ حاضر میں مصنوعی ذہانت
(Artificial Intelligence) نے انسانی زندگی کے
تقریباً ہر شعبے میں اپنی مؤثر موجودگی ثبت کر دی ہے۔ تعلیم، طب، تجارت، قانون اور
انتظامی نظام کے بعد اب اس کا دائرہ اثر مذہبی میدان تک بھی وسیع ہوتا جا رہا ہے۔
اسی تناظر میں ایک نیا رجحان ابھر رہا ہے جسے "اے آئی فتاویٰ" کہا جا
سکتا ہے، یعنی ایسے شرعی جوابات جو انسانی مفتی کے بجائے مشین یا الگورتھم کے
ذریعے فراہم کیے جائیں۔ بظاہر یہ ترقی رفتار، سہولت اور فوری رہنمائی کا حسین
امتزاج معلوم ہوتی ہے، لیکن اس کے پس منظر میں ایسے سنجیدہ خطرات اور فکری
پیچیدگیاں موجود ہیں جو امتِ مسلمہ کے دینی، فقہی اور روحانی ڈھانچے پر گہرے اثرات
مرتب کر سکتی ہیں۔
فتویٰ درحقیقت محض ایک رائے یا عمومی جواب نہیں بلکہ
ایک نہایت حساس اور ذمہ دارانہ شرعی عمل ہے۔ یہ قرآن و سنت، اجماع اور قیاس جیسے
اصولی مصادر پر مبنی ہوتا ہے اور اس کے لیے گہرے علمی رسوخ کے ساتھ ساتھ اصولِ فقہ
پر عبور، حالاتِ زمانہ کا شعور، اور تقویٰ و دیانت جیسی صفات کا ہونا ناگزیر ہے۔
ایک مستند مفتی نہ صرف نصوص کو سمجھتا ہے بلکہ ان کے اطلاق میں حکمت، احتیاط اور
ذمہ داری کو بھی ملحوظ رکھتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مصنوعی ذہانت اپنی فطری
محدودیت کا شکار ہو جاتی ہے، کیونکہ اس میں نہ روحانی بصیرت ہوتی ہے اور نہ ہی
اخلاقی جوابدہی۔
اگرچہ مصنوعی ذہانت تیز رفتار معلومات فراہم کرنے کی
غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہے اور چند لمحوں میں پیچیدہ سوالات کے جوابات دے سکتی
ہے، لیکن یہ سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ کیا ہر فراہم کردہ جواب واقعی
"فتویٰ" کہلانے کا مستحق ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اے آئی محض ڈیٹا، الگورتھمز
اور پیٹرن ریکگنیشن پر کام کرتی ہے۔ یہ الفاظ کو ترتیب دیتی ہے مگر دلائل کی
گہرائی، ترجیح اور شرعی وزن کا تعین نہیں کر سکتی۔ نتیجتاً بعض جوابات بظاہر درست
محسوس ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ سیاق و سباق سے خالی یا گمراہ کن ہو سکتے ہیں۔
اس حوالے سے سب سے بڑا خطرہ سیاق و سباق کی عدم تفہیم
ہے۔ شریعت میں ایک ہی مسئلہ مختلف حالات، افراد اور ماحول کے لحاظ سے مختلف حکم
رکھ سکتا ہے، جبکہ اے آئی عمومی اور سطحی جواب فراہم کرتی ہے۔ مزید برآں، چونکہ اے
آئی کا انحصار انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل مواد پر ہوتا ہے، اس لیے اگر اس کے ڈیٹا میں غیر
مستند یا متنازع معلومات شامل ہوں تو وہ بھی بغیر تمیز کے جواب کا حصہ بن سکتی
ہیں۔ اس طرح ایک غلط بنیاد پر قائم جواب بآسانی "شرعی رہنمائی" کے طور
پر پیش ہو سکتا ہے۔
اسی طرح اجتہاد، جو اسلامی فقہ کا ایک نہایت اہم اور
زندہ پہلو ہے، مصنوعی ذہانت کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ اجتہاد میں نہ صرف نصوص کا
فہم بلکہ عقل، بصیرت، حالات کا ادراک اور امت کے مصالح کا خیال بھی شامل ہوتا ہے۔
اے آئی چونکہ ماضی کے ڈیٹا کو دہراتی ہے، اس لیے وہ نئے اور پیچیدہ مسائل میں
تخلیقی اور اصولی اجتہاد نہیں کر سکتی۔
ایک اور سنگین خدشہ مذہبی انتشار کا ہے۔ اگر ہر فرد
اپنی سہولت کے مطابق اے آئی سے فتویٰ حاصل کرنے لگے تو مختلف اور بعض اوقات متضاد
آراء عام ہو جائیں گی، جس سے عوام میں کنفیوژن اور فکری انتشار پیدا ہوگا۔ مزید
برآں، اس رجحان سے مستند علماء کی حیثیت اور ان کے علمی مقام کو بھی نقصان پہنچنے
کا اندیشہ ہے، کیونکہ لوگ براہِ راست اہلِ علم سے رجوع کرنے کے بجائے مشین پر
اعتماد کرنے لگیں گے، جس سے علم کی سندی روایت متاثر ہو سکتی ہے۔
چند عملی مثالیں اس خطرے کو مزید واضح کرتی ہیں۔ مختلف
تجربات میں دیکھا گیا کہ ایک ہی سوال کے جواب میں اے آئی نے مختلف اوقات میں متضاد
آراء پیش کیں۔ بعض مواقع پر اس نے اقوال کو غلط طور پر علماء کی طرف منسوب کیا،
جبکہ پیچیدہ فقہی مسائل کو نہایت سادہ اور غیر تسلی بخش انداز میں حل کرنے کی کوشش
کی گئی۔ یہ تمام مثالیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اے آئی کی حدود کو سمجھے
بغیر اس پر اندھا اعتماد کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
اگر عقلی بنیادوں پر تجزیہ کیا جائے تو یہ فرق مزید
واضح ہو جاتا ہے۔ فتویٰ علم، فہم، تقویٰ اور ذمہ داری کا مجموعہ ہے، جبکہ اے آئی
ڈیٹا، الگورتھم اور پیٹرن شناخت کا نظام ہے۔ دونوں کی ماہیت اور دائرہ کار بنیادی
طور پر مختلف ہیں۔ اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ اے آئی معلومات فراہم کرنے
کا ذریعہ تو بن سکتی ہے، لیکن حکمِ شرعی دینے کا اختیار نہیں رکھتی۔
عالمی سطح پر بھی متعدد جید علماء اور دینی ادارے اس
بات پر متفق ہیں کہ مصنوعی ذہانت کو صرف ایک معاون آلے کے طور پر استعمال کیا جا
سکتا ہے، نہ کہ ایک خودمختار مفتی کے طور پر۔ عوام کے لیے ضروری ہے کہ وہ دینی
مسائل میں براہِ راست مستند علماء سے رجوع کریں اور اے آئی کو محض ابتدائی معلومات
تک محدود رکھیں۔
چنانچہ ایک معتدل اور متوازن رویہ یہی ہو سکتا ہے کہ نہ
تو اس ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر رد کیا جائے اور نہ ہی اسے اندھا دھند قبول کیا جائے۔
دینی ادارے اگر نگرانی اور احتیاط کے ساتھ اے آئی کو تحقیق اور معلومات کی فراہمی
کے لیے استعمال کریں تو یہ مفید ثابت ہو سکتی ہے، لیکن حتمی فتویٰ بہرحال ایک
صاحبِ علم اور باعمل مفتی ہی کا حق ہونا چاہیے۔
آخر میں یہ حقیقت ذہن نشین رہنی چاہیے کہ مصنوعی ذہانت ایک طاقتور ایجاد ہے، مگر ہر طاقت کے ساتھ ذمہ داری وابستہ ہوتی ہے۔ اگر "اے آئی فتاویٰ" کے تصور کو بغیر احتیاط کے فروغ دیا گیا تو یہ دینی فہم کو سطحی اور غیر مستند بنا سکتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم علمِ دین کی اصل روح کو محفوظ رکھیں، اہلِ علم کی رہنمائی کو مقدم جانیں، اور ٹیکنالوجی کو خادم کے طور پر استعمال کریں، حاکم کے طور پر نہیں۔ بصورت دیگر وہ وقت دور نہیں جب سوال انسان کرے گا، جواب مشین دے گی، مگر اس کے نتائج کی ذمہ داری کسی کے پاس نہیں ہوگی۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں