وائرل کلچر اور اخلاقی زوال
تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش
انسانی تاریخ میں ابلاغ کے ذرائع ہمیشہ تہذیب کی سمت
متعین کرتے رہے ہیں، مگر سوشل میڈیا نے اس عمل کو جس سرعت، شدت اور ہمہ گیری کے
ساتھ بدل دیا ہے، اس کی مثال ماضی میں کم ملتی ہے۔ آج خبر، رائے، شہرت، احتجاج،
محبت، نفرت، تجارت، تعلیم، تفریح، حتیٰ کہ مذہبی اور اخلاقی گفتگو بھی بڑی حد تک
ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے زیرِ اثر ہے۔ سنہ 2025 کے آغاز تک دنیا میں انٹرنیٹ استعمال
کرنے والوں کی تعداد تقریباً 5.56 ارب تک پہنچ چکی تھی، جبکہ فعال سوشل میڈیا
شناختیں 5.24 ارب کے قریب تھیں۔ پاکستان میں بھی جنوری 2025 تک انٹرنیٹ صارفین کی
تعداد تقریباً 11 کروڑ 60 لاکھ بتائی گئی، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ سوشل میڈیا اب
کوئی اضافی سہولت نہیں بلکہ اجتماعی زندگی کا مرکزی ڈھانچہ بنتا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا سے پہلے معاشرتی اثر پذیری نسبتاً سست تھی۔
رائے خاندان، درس گاہ، مسجد، محلے، اخبارات اور سنجیدہ علمی حلقوں کے ذریعے تشکیل
پاتی تھی۔ کسی خیال کے عام ہونے میں وقت لگتا تھا، اور یہی تاخیر ایک طرح کی
تہذیبی چھان بین کا کام دیتی تھی۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ ایک مختصر ویڈیو، ایک
اشتعال انگیز جملہ، ایک ادھورا کلپ یا ایک سنسنی خیز الزام چند گھنٹوں میں لاکھوں
لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ پہلے “اچھا” وہ سمجھا جاتا تھا جو باوقار، مفید اور
پائیدار ہو؛ اب بہت سے حلقوں میں “کامیاب” وہ سمجھا جاتا ہے جو زیادہ دیکھا جائے،
زیادہ شیئر ہو، اور جلدی وائرل ہو جائے۔ یوں معیارِ قدر میں خاموش مگر نہایت گہری
تبدیلی واقع ہوئی ہے۔
“وائرل
کلچر” دراصل اسی تبدیلی کا نام ہے جس میں سچائی، سنجیدگی اور اخلاق کے بجائے توجہ،
تیزی اور تماشائیت کو اصل سرمایہ بنا دیا جاتا ہے۔ وائرل ہونے کے لیے مواد میں
اکثر مبالغہ، جذباتی ہیجان، نجی زندگی کی نمائش، دوسروں کی تحقیر، یا ایسی غیر
معمولی حرکت شامل کی جاتی ہے جو دیکھنے والے کو چونکا دے۔ اس کلچر نے اظہار کو
جمہوری تو بنایا، مگر اس کے ساتھ اظہار کی سطحیت بھی بڑھا دی۔ اب کسی خیال کی وقعت
اس کی علمی بنیاد سے کم اور اس کی “انگیجمنٹ” سے زیادہ ناپی جاتی ہے۔ اسی لیے کبھی
مذہبی موضوعات کو تفریحی قالب میں، کبھی سماجی المیوں کو میم میں، کبھی انسانی دکھ
کو ریلز کے بیک گراؤنڈ میوزک کے ساتھ، اور کبھی علمی بحث کو ذاتی طنز میں بدلتے
دیکھا جاتا ہے۔
اخلاقی زوال کی بحث میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ سوشل
میڈیا نے برائی کو صرف پھیلایا نہیں، بعض اوقات اسے معمول بھی بنا دیا ہے۔ جو عمل
پہلے معیوب سمجھا جاتا تھا، وہ بار بار نظر آنے کے سبب ذہنی مزاحمت کو کم کر دیتا
ہے۔ تحقیر، غیبت، کردار کشی، فحش اشاریت، جھوٹ، خود نمائی، مصنوعی طرزِ زندگی، اور
دوسروں کی لغزشوں سے تفریح حاصل کرنا اب بہت سے پلیٹ فارموں پر روزمرہ ثقافت کا
حصہ بن چکا ہے۔ یونیسکو کے 2023 کے ایک بین الاقوامی سروے میں زیادہ تر شرکاء نے
یہ رائے دی کہ غلط معلومات اور “فیک نیوز” سب سے زیادہ سوشل میڈیا فیڈز میں پھیلتی
ہیں، جبکہ 2024 میں یونیسکو کے ایک اور سروے کے مطابق 62 فیصد ڈیجیٹل کانٹینٹ
کریئیٹرز نے کہا کہ وہ مواد شیئر کرنے سے پہلے باقاعدہ اور سخت نوعیت کی فیکٹ
چیکنگ نہیں کرتے۔ یہ صورتِ حال محض معلوماتی بحران نہیں بلکہ اخلاقی بحران بھی ہے،
کیونکہ جب نشر سے پہلے تحقیق کی ذمہ داری کمزور ہو جائے تو جھوٹ، بہتان اور اشتعال
معاشرتی فضا کو آلودہ کر دیتے ہیں۔
سوشل میڈیا کے بعد انسانی نفسیات بھی نمایاں طور پر
متاثر ہوئی ہے۔ عالمی و علاقائی اداروں نے خاص طور پر نوجوانوں میں “مسئلہ انگیز”
یا “problematic” سوشل
میڈیا استعمال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے یورپی خطے کے 2024 کے
اعداد و شمار کے مطابق 2018 سے 2022 کے درمیان نوجوانوں میں
problem social media use کی شرح 7 فیصد سے بڑھ کر
11 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 10 سے 19 سال کے
ہر سات میں سے ایک نوجوان کسی نہ کسی ذہنی عارضے کا سامنا کرتا ہے، اور اضطراب و
افسردگی اس عمر میں بیماری کے اہم اسباب میں شامل ہیں۔ پیو ریسرچ کے 2025 کے سروے
میں 48 فیصد امریکی نوعمروں نے کہا کہ سوشل میڈیا ان کی عمر کے لوگوں پر زیادہ تر
منفی اثر ڈالتا ہے، حالانکہ یہی پلیٹ فارم بعض نوجوان ذہنی صحت سے متعلق معلومات
کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا یک رخا شر نہیں،
لیکن اس کے فوائد بھی بے قاعدہ اور اس کے نقصانات بعض حالات میں زیادہ منظم اور
شدید ہیں۔
یہاں ایک اہم تقابل ضروری ہے۔ سوشل میڈیا سے پہلے
نوجوان اپنے حسن، قابلیت اور معاشرتی مقام کا موازنہ محدود دائرے میں کرتے تھے؛ آج
وہ خود کو دنیا بھر کے منتخب، ایڈٹ شدہ، فلٹر شدہ اور مصنوعی طور پر بہتر دکھائے
گئے چہروں اور زندگیوں سے موازنہ کرتے ہیں۔ نتیجتاً احساسِ محرومی، کمتر ی، بے
چینی اور خود اعتمادی میں کمی بڑھتی ہے۔ امریکی نفسیاتی انجمن نے واضح کیا ہے کہ
آن لائن نفرت، امتیازی سلوک، سائبر بُلنگ، اور رات گئے سوشل میڈیا کا استعمال
نوجوانوں کے اضطراب، افسردگی، نیند اور نفسیاتی توازن پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
یوں ڈیجیٹل دنیا میں “دیکھے جانے” کی خواہش، “پسند کیے جانے” کی ضرورت میں بدل
جاتی ہے، اور پھر انسان اپنی اصل شخصیت کے بجائے ایک قابلِ فروخت آن لائن شخصیت
تراشنا شروع کر دیتا ہے۔
خاندانی اور سماجی تعلقات پر بھی اس کلچر کے گہرے اثرات
مرتب ہوئے ہیں۔ پہلے گھر میں مکالمہ زیادہ براہِ راست ہوتا تھا؛ اب ایک ہی کمرے
میں بیٹھے افراد الگ الگ اسکرینوں میں گم ہو سکتے ہیں۔ تعلقات میں قربت کی جگہ
مسلسل “آن لائن موجودگی” نے لے لی ہے۔ بہت سے لوگ رشتہ نبھانے کے بجائے اس کی
نمائشی تصویر پیش کرنے پر زیادہ محنت کرتے ہیں۔ خوشی بھی اب نجی تجربہ کم اور
عوامی پوسٹ زیادہ بنتی جا رہی ہے۔ یہی سبب ہے کہ بعض اوقات صداقتِ جذبات کم ہوتی
ہے اور ان کی نمائش زیادہ۔ انسان دکھ بھی جیتا ہے، مگر ساتھ ہی سوچتا ہے کہ اسے کس
زاویے سے پوسٹ کیا جائے۔ اس طرزِ زندگی نے خلوص، حیا، خاموشی، وقار اور نجی حدود
جیسے اخلاقی اوصاف کو کمزور کیا ہے۔ اس کے برعکس، برانڈڈ خود نمائی، لمحاتی شہرت
اور فوری ردِعمل کو سماجی انعام ملنے لگا ہے۔ یہ تبدیلی محض عادت کی نہیں، مزاج کی
تبدیلی ہے۔
علمی و سیاسی سطح پر بھی وائرل کلچر کے مضمرات کم
خطرناک نہیں۔ کئی تحقیقی اور ادارہ جاتی جائزے اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ الگورتھم
اشتعال انگیز، منقسم اور جذباتی مواد کو زیادہ توجہ دلاتے ہیں، جس سے غلط معلومات،
انتہاپسندی، گروہی تعصب اور سماجی پولرائزیشن میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ نیچر اور دیگر
علمی ذرائع میں شائع حالیہ مباحث اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بعض پلیٹ فارم ڈھانچے falsehood، outrage اور filter bubbles کو تقویت دے سکتے ہیں،
جبکہ یونیسکو نے آن لائن disinformation اور hate speech کو سماجی ہم آہنگی کے لیے
بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ اس کا عملی مطلب یہ ہے کہ لوگ مسئلے کو سمجھنے کے بجائے
فریق بن جاتے ہیں، دلیل کے بجائے نعرہ اپناتے ہیں، اور اختلاف کے بجائے دشمنی پر
اتر آتے ہیں۔
البتہ انصاف کا تقاضا ہے کہ سوشل میڈیا کے مثبت پہلو
بھی تسلیم کیے جائیں۔ یہی پلیٹ فارم علمی مواد کی تیز تر ترسیل، دینی و تعلیمی
دعوت، چھوٹے کاروباروں کی ترقی، سماجی آگاہی، انسانی ہمدردی کی مہمات، ہنر کی
نمائش اور عالمی رابطے کا وسیلہ بھی بنے ہیں۔ بہت سے نوجوان یہاں سے سیکھتے ہیں،
روزگار پاتے ہیں، اور اپنے خیالات کو روایتی اداروں کی محتاجی کے بغیر پیش کرتے
ہیں۔ مسئلہ سوشل میڈیا کے وجود میں کم اور اس کے بے مہار، غیر اخلاقی اور غیر
متوازن استعمال میں زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی ادارے صرف پابندی کی
نہیں بلکہ safety by design،
media
literacy، parental guidance، moderation اور platform accountability کی
بات کر رہے ہیں۔
حالیہ عدالتی اور سماجی رجحانات بھی یہ ظاہر کرتے ہیں
کہ اب دنیا سوشل میڈیا کے اثرات کو محض ذاتی انتخاب کا مسئلہ نہیں سمجھ رہی۔ مارچ
2026 میں امریکہ میں جیوری کے چند نمایاں فیصلوں نے
Meta اور
YouTube جیسے بڑے پلیٹ فارموں کو نوجوان صارفین کی
ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے والے addictive design سے
متعلق ذمہ دار ٹھہرایا۔ اگرچہ یہ مقدمات ایک خاص قانونی تناظر رکھتے ہیں، لیکن یہ
اس وسیع تر تبدیلی کی علامت ہیں جس میں پلیٹ فارم ڈیزائن، کاروباری ماڈل اور
صارفین کی نفسیات کے تعلق کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
اس پس منظر میں اصل سوال یہ نہیں کہ سوشل میڈیا اچھا ہے
یا برا؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اسے تہذیبی خدمت کا ذریعہ بنایا ہے یا اخلاقی
انتشار کا؟ کیا ہم اس سے علم، خیر اور وقار پھیلا رہے ہیں، یا سنسنی، نفرت اور
سطحیت؟ کیا ہم وائرل ہونے کو معیار مان بیٹھے ہیں، یا اب بھی سچائی، شائستگی اور
ذمہ داری کو اصل قدر سمجھتے ہیں؟ اگر معاشرہ “جو بک جائے وہی درست” کے اصول پر چلے
گا، تو اخلاقی زوال ناگزیر ہوگا۔ لیکن اگر فرد، خاندان، تعلیمی ادارے، مذہبی حلقے،
ریاست اور خود پلیٹ فارم سب مل کر ڈیجیٹل اخلاقیات کی نئی بنیاد رکھیں، تو یہی
سوشل میڈیا اصلاح، تربیت اور بامقصد اجتماعی شعور کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ وائرل کلچر نے انسان کو مربوط ضرور کیا ہے، مگر متوازن نہیں رکھا؛ باخبر ضرور بنایا ہے، مگر ہمیشہ بصیرت مند نہیں بنایا؛ نمایاں ضرور کیا ہے، مگر لازماً باوقار نہیں بنایا۔ اس لیے ہماری آئندہ اخلاقی بقا اسی میں ہے کہ ہم “وائرل” ہونے کے بجائے “صالح”، “سچا” اور “مفید” ہونے کی قدر کو دوبارہ زندہ کریں۔ جب تک توجہ کی منڈی پر اخلاق کی حکومت قائم نہیں ہوتی، سوشل میڈیا کی چکاچوند انسانی باطن کے اندھیروں کو کم نہیں کر سکے گی۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں