تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش
(دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر)
آج کی دنیا میں
“Scientific Thinking” کو عموماً لیبارٹری، ڈیٹا
اور ٹیکنالوجی تک محدود سمجھا جاتا ہے، مگر اگر ہم گہرائی سے دیکھیں تو سیرتِ رسول
ﷺ ایک ایسا مکمل ذہنی ماڈل پیش کرتی ہے جو مشاہدہ
(Observation)، تدبر
(Reflection)، تجربہ
(Experimentation)، اور اخلاقی ذمہ داری
(Ethical Responsibility) کو ایک ساتھ جوڑ دیتی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ سائنس کیا کہتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ
سوچنے کا انداز کیا ہونا چاہیے؟
1️⃣
Observation-Based
Leadership —
رسولِ اکرم ﷺ کا اسلوب یہ تھا کہ پہلے معاشرتی حقیقت کو
سمجھا جائے۔ چاہے مدینہ کا سماجی معاہدہ ہو یا افراد کی نفسیات، آپ ﷺ نے فیصلوں سے
پہلے ماحول کا گہرا مشاہدہ کیا۔ جدید Cognitive Psychology بھی
یہی کہتی ہے کہ مؤثر فیصلہ سازی “Data Awareness” سے
شروع ہوتی ہے۔
2️⃣
Emotional
Intelligence —
آج Emotional Intelligence کو
لیڈرشپ کی بنیاد کہا جاتا ہے، مگر سیرت میں ہمیں اس کی عملی مثالیں ملتی ہیں۔
اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے Empathy کے
ذریعے حل کرنا ایک ایسا نفسیاتی ماڈل ہے جو
Conflict Resolution کی جدید تھیوریز سے ہم آہنگ نظر آتا
ہے۔
3️⃣
Evidence-Oriented
Dialogue —
قرآنی طرزِ دعوت اور نبوی حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ
سوال کرنا، سننا اور دلیل سے جواب دینا علمی رویہ ہے۔
Scientific Thinking بھی
Blind Acceptance کے بجائے
Critical Reflection کو ترجیح دیتی ہے۔
4️⃣
Behavioral
Transformation —
سیرتِ رسول ﷺ میں تبدیلی صرف نظری نہیں بلکہ عملی تھی۔ Habit Formation، Positive
Reinforcement اور
Social Modeling جیسے اصول آج
Behavioral Science میں زیرِ بحث ہیں، جبکہ نبوی اسلوب نے
انہیں صدیوں پہلے معاشرتی سطح پر نافذ کر کے دکھایا۔
5️⃣
Ethics
+ Science = Sustainable Civilization
جدید سائنس ہمیں “کیسے” کا جواب دیتی ہے، جبکہ سیرتِ
رسول ﷺ ہمیں “کیوں” کا شعور دیتی ہے۔ جب علم اخلاق سے جڑتا ہے تو ہی انسانیت کے
لیے مفید بنتا ہے۔
شاید Scientific Thinking صرف
فارمولوں کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسے شعور کا نام ہے جو عقل، دل اور کردار کو ہم
آہنگ کر دے — اور یہی ہم سیرتِ طیبہ میں دیکھتے ہیں۔
آپ کے خیال میں جدید دور میں سیرتِ رسول ﷺ کا کون سا
پہلو Scientific Mindset کے
سب سے زیادہ قریب ہے؟اپنی رائے ضرور دیجئے گا۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں