آرٹیفیشنل انٹیلیجنس کیسے انسان کو کنٹرول کر رہی ہے؟
تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش
(دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر)
یہ انسانی تاریخ کا سب سے دلچسپ سوال بن چکا ہےکہ کیا
مصنوعی ذہانت انسان کو کنٹرول کر رہی ہے؟اور اگر کر رہی ہے، تو کس حد تک؟یہ سوال
اس لیے سنگین ہے کہ صدیوں تک انسان نے آلات کو استعمال کیا
—مگر آج آلات انسان کو استعمال کرنے لگے ہیں۔جہاں
پہلے مشینیں تابع تھیں،آج وہ ’’مشیر‘‘، ’’تجزیہ کار‘‘، ’’فیصلہ ساز‘‘ اور ’’اثر
انداز‘‘ بن گئی ہیں۔یہی کنٹرول کا نیا فلسفہ ہے۔
اور AI کس
طرح انسان پر قابو پاتی ہے؟۔کنٹرول کا مطلب ہمیشہ ’’زبردستی‘‘ نہیں ہوتا،کبھی
کنٹرول نرم انداز میں بھی ہوتا ہے۔
سوچ پر اثر، پسند پر اثر، فیصلہ سازی پر اثر، ترجیحات کی تبدیلی، یقین اور جذبات کی سمت متعین کرنا،AI
یہی خاموش کنٹرول استعمال کرتی ہے۔
قارئین:
YouTube,
TikTok, Facebook, Netflix کے الگورتھمز آپ کی پوری
زندگی کے جذبات، لذت،
خوف، دلچسپی، کمزوریاں،
پسند ناپسند،سمجھ لیتے ہیں۔اور پھر وہی مواد آپ کے
سامنے لاتے ہیں۔جو آپ کو زیادہ دیر تک اسکرین سے چپکا کر رکھے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ
آپ ’’انتخاب‘‘ کر رہے ہیں۔اصل میں AI آپ
کو انتخاب دے رہی ہوتی ہے۔Meta کے
مطابقInstagram الگورتھم صارف کے
فیصلوں کو 27 فیصد
تک تبدیل کرتا ہے۔
آپ اگر تجارت کی دنیا میں دیکھیں تو اے آئی ہمیں کس
حد تک اپنے کنٹرول کررہی ہے کہ ہم تیزی کے ساتھ اپنی خریدوفروخت کی پسند و ناپسند
کو مشین کے کنٹرول میں دے چکے ہیں ۔Amazon، Daraz،
Alibaba…
آپ جو چیز ’’سوچتے‘‘ بھی نہیںAI
اسے آپ کے سامنے لا دیتی ہے۔Amazon
کی 35 فیصد سیلز صرف
AI recommendation سے ہوتی ہیں۔یہ کنٹرول نہیں تو کیا
ہے؟
AI
سوشل میڈیا کے ذریعے ،
سیاسی رحجانات،
انتخابی نتائج،
عوامی جذبات،
قوموں کے تقسیم ہونےتک اثر انداز ہوتی ہے۔AI-Driven
bots نے امریکی انتخابات پر اثر ڈالا۔Facebook
نے یہ بات خود تسلیم کی۔AI
اب لوگوں کے دکھ،
محرومی، تنہائی، محبت
گفتگو کی کمی کو سمجھ کر ہمارے لیے ایسے پیغامات جنریٹ کرتاہے جنھیں ذہن
اس کے اثرات کو من و عن قبول بھی کرتاہے ۔لیکن یہ سہارا بعض اوقاتانسان کو AI پر emotionally dependent بنا
دیتا ہے۔Japan میں
40 فیصد نوجوان AI-based virtual partners استعمال
کرتے ہیں۔
قارئین:
AI
جانتی ہے کہ آپ کب کمزور ہوتے
ہیں۔ کب خوش ہوتے ہیں۔ کب خریدتے ہیں۔
کب جھگڑتے ہیں
کب
سکرال کرتے ہیں۔اور یہی کنٹرول کا حقیقی ہتھیار ہے۔
قارئین:
تحقیق سے ثابت ہوا کہ
TikTok الگورتھم نوجوانوں کوکشمکش کے مناظر بہت زیادہ
دکھاتا ہے ۔کیونکہ یہ جذباتی مواد انہیں لمبے وقت تک
روکے رکھتا ہے۔اسی طرح AI نے
87 ملین
افراد کے ڈیٹا سےانہیں مخصوص سیاسی سمت میں
دھکیلا۔اس سے امریکی اور برطانوی انتخابات متاثر ہوئے۔
قارئین :اس معاملہ میں چین نے اپنا ایک مکمل میکنزم
بنارکھاہے ۔وہ AI نگرانیاں
کون
کہاں جا رہا ہے۔ کیا خرید رہا ہے۔ کس سے مل رہا ہے۔ کس بات پر ناراض ہو رہا ہے۔اگر چینی
ریکارڈ کے مطابق کوئی وائلیشن ہوتوپھروہ شخص کئی سہولیات سے محروم ہوسکتاہے ۔ایسے
شخص کو ٹرین استعمال نہیں
کر سکتے، قرض نہیں ملتا، سفر پر پابندی،
نوکری نہیں ملتییہ
AI کا ’’ریاستی کنٹرول‘‘ ہے۔اب آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ ہم
اور آپ کہاں کھڑے ہیں ۔
AI
انسان کے فیصلوں، ذوق،
رویوں، احساسات، جذبات کو بدل رہی ہے۔AI
نے خاندانوں اور کمیونٹیز کی ساخت متاثر کی ہے۔AI
رائے عامہ کو کنٹرول کرنے کا سب سے طاقتور ذریعہ ہے۔Deepfake، غلط خبریں، گمراہ کن معلومات
انسانی اخلاقی نظام کو ہلا رہی ہیں۔AI
نوکریاں چھین رہی ہے،اور فیصلہ سازی میں انسان سے آگے
جا رہی ہے۔
قارئین :آرٹیفیشل جنرل انٹیلیجنس اگر یہ تیزی سے ترقی
کرگئی توپھرشاید دنیا کے حالات یکسر بدل جائیں ۔اگر
یہ وجود میں آئیتو AI انسان
کے فیصلوں پر مکمل قبضہ کر سکتی ہے۔اگر روبوٹ، AI
ڈرونز،AI پولیس،
AI
بینکس خود فیصلہ کرنے لگےتو معاشرہ ’’مشینی بادشاہت‘‘
کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
کس تیزی سے ہم اپنے ہاں اور نا کا فیصلہ مشین سے لے رہے
ہوتے ہیں ۔AI بتائے
گی کہ کیا
کھائیں، کیا پہنیں، کس سے ملیں،
کیا سوچیں، کس چیز سے ناراض
ہوں۔ کس چیز سے خوش ہوں،یہ
انسانی خودمختاری کا خاتمہ ہے۔AI جذبات
سمجھتی نہیں۔صرف ’’simulate‘‘ کرتی
ہے۔. انسانی
روح کا تصور AI میں
ممکن نہیںخوف، محبت، قربانی، رحم، بخشش۔یہ وہ طاقتیں
ہیں جو کوئی مشین پیدا نہیں کر سکتی۔AI نے
کبھی کوئی ’’نیا تصور‘‘ ایجاد نہیں کیا—یہ انسانی علم کے
ٹکڑوں کو جوڑتی ہے۔AI صحیح
اور غلط کا فرق ’’ڈیٹا‘‘ سے دیکھتی ہے۔انسان ’’ضمیر‘‘ سے۔AI
مجبور ہے۔انسان آزاد ہے۔ٹیکنالوجی ہمیشہ انسان کی
خدمت گزار رہی ہے۔پرنٹنگ پریس،بجلی،انٹرنیٹ۔ہر انقلاب کے بعدانسان پہلے سے
زیادہ طاقتور ہوا۔AI کے
ساتھ بھی یہی ہوگا۔اگر انسان اپنے ضمیر کو زندہ رکھے۔
قارئین:
مصنوعی ذہانت کا دورانسان کو کمزور کرنے نہیں آیا۔بلکہ
انسان کو یہ یاد دلانے آیا ہے۔کہ اصل طاقت اب بھی ’’انسان‘‘ ہے—مشین نہیں۔انسان قدرت کا
عظیم شاہکار ہے ۔اسے اپنی قدرو قیمت جان لینی چاہیے۔اللہ پاک نے انسان کو احسن
تقویم کا فرمایاہے ۔جوکہ سب سے بڑااعزاز ہے انسان کے پاس۔ہمیں امید ہے کہ ہماری یہ
کوشش آپ کے لیے ضرور سیکھنے کا ذریعہ بنے گی۔آپ بس ہمارے لیے دعاکردیجئے گا۔اللہ
نگہبان
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں