نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ذہنی سکون کیسے پائیں ؟



ذہنی سکون    کیسے پائیں ؟

How     to  get      peace  of  mind

تحرير:ڈاکٹرظہوراحمددانش

(نکیال آزادکشمیر )

ذہنی سکون انسانی زندگی کا ایک ایسا اہم جزو ہے جس کی اہمیت کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جس میں انسان اپنے اندرونی تناؤ، پریشانیوں اور خوف سے آزاد ہو کر سکون اور اطمینان محسوس کرتا ہے۔لیکن بدقسمتی سے آج کا انسان اس سہولت اور اس پرسکون کیفیت سے محروم ہے ۔وہ کبھی دولت ،کبھی شہرت ،کبھی طاقت میں تلاش کرتاپھر رہاہے ۔لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ۔آئیے ہم آپ کوذہنی سکون پانے کے کچھ ایسے طریقے بتاتے ہیں جن کی مدد سے آپ پُرسکون بھی ہوجائیں گے اور زندگی کی سب رونقیں  و بہاریں بھی محسوس ہوں گے ۔اپنے اصل موضوع کی جانب جانے سے پہلے اپنی کیفیت بھی بتاتاچلوں کہ میں بھی زندگی کا ایک عرصہ بے چین رہا۔بے سکون رہا،مضطرب رہا۔لیکن اس  عمر میں مجھ پر سکون پانے ،سکون انجوائے کرنے کے طریقے و سلیقے معلوم ہوئے ۔سوچاکیوں نہ اپنے پیاروں کو بھی وہ طریقے بتاوں ۔آئیے ہم کچھ طریقے share كرتے ہیں ۔



ذہن سازی اور مراقبہ: Mindfulness and Meditation

 ذہن کو پرسکون کرنے اور حاضر رہنے میں مدد کے لیے ذہن سازی یا مراقبہ کی مشق کریں۔

جسمانی سرگرمی: Physical Activity:

 باقاعدگی سے ورزش موڈ کو بڑھا سکتی ہے اور تناؤ کو کم کر سکتی ہے۔

صحت مند طرز زندگی: Healthy Lifestyle:

متوازن غذا برقرار رکھیں، کافی نیند لیں، اور ضرورت سے زیادہ کیفین یا الکحل سے پرہیز کریں۔

اسکرین کے وقت کو محدود کریں: Limit Screen Time:

 معلومات کے زیادہ بوجھ کو روکنے کے لیے آلات، خاص طور پر سوشل میڈیا پر گزارے گئے وقت کو کم کریں۔

مثبت تعلقات: Positive Relationships:

اپنے آپ کو معاون اور سمجھنے والے لوگوں کے ساتھ گھیر لیں۔

مشاغل اور دلچسپیاں: Hobbies and Interests:

ایسی سرگرمیوں میں مشغول رہیں جن سے آپ لطف اندوز ہوں اور جو آپ کو تکمیل کا باعث بنیں۔



حدود متعین کریں: Set Boundaries:

نہ کہنا سیکھیں اور اپنے وقت کا نظم کریں تاکہ مغلوب ہونے سے بچیں۔

پیشہ ورانہ مدد حاصل کریں: Seek Professional Help:

 اگر آپ پریشانی یا دماغی صحت کے دیگر مسائل سے دوچار ہیں تو معالج یا مشیر سے بات کرنے پر غور کریں۔

شکر گزاری کی مشق کریں: Practice Gratitude:

باقاعدگی سے ان چیزوں پر غور کرنا جن کے لیے آپ شکر گزار ہیں تناؤ سے توجہ ہٹا سکتے ہیں۔

آرام کی تکنیکیں: Relaxation Techniques:

 گہرے سانس لینےکو معمول بنائیں۔

اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط بنائیں: Strengthen Your Connection with Allah:

باقاعدگی سے نماز (نماز) اور قرآن کی تلاوت اللہ کے ساتھ مضبوط تعلق برقرار رکھنے میں مدد کرتی ہے، اندرونی سکون اور سکون لاتی ہے۔

دعا (دعا): Dua (Supplication):

مستقل دعا میں مشغول رہیں، اللہ سے رہنمائی، تناؤ سے نجات، اور ذہنی سکون طلب کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف حالات کے لیے بہت سی دعائیں سکھائیں۔


ذکر (اللہ کا ذکر): Dhikr (Remembrance of Allah):

 ذکر میں مشغول ہونا جس میں اللہ کی یاد اور تسبیح شامل ہے۔ یہ مشق دماغ اور دل کو پرسکون کر سکتی ہے۔

اللہ پر بھروسہ: Trust in Allah:

اللہ کے منصوبے پر توکل (توکل) کو فروغ دیں۔ یہ یقین کرنا کہ اللہ قابو میں ہے اور ہر ایک کے لیے ایک منصوبہ رکھتا ہے پریشانی اور تناؤ کو دور کر سکتا ہے۔

استغفار کریں: Seek Forgiveness:

 پچھلی غلطیوں کے لیے باقاعدگی سے اللہ سے توبہ (توبہ) مانگیں۔ یہ راحت اور تجدید کا احساس لا سکتا ہے۔

صدقہ اور نیک اعمال: Charity and Good Deeds:

 خیراتی کام انجام دینا اور دوسروں کی مدد کرنا آپ کے مقصد اور اطمینان کو بڑھا سکتا ہے۔

اچھے کردار کو برقرار رکھیں: Maintain Good Character:

 دوسروں کے ساتھ برتاؤ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کریں۔ صبر، مہربانی، اور معافی کی مشق دماغ کی زیادہ پرامن حالت کا باعث بن سکتی ہے۔

زندگی میں توازن: Balance in Life:

مذہبی فرائض، ذاتی ذمہ داریوں اور فرصت کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کریں۔ اسلام متوازن طرز زندگی کی ترغیب دیتا ہے۔

نقصان دہ رویوں سے پرہیز کریں: Avoid Harmful Behaviors:

 ایسے کاموں سے پرہیز کریں جو خود یا دوسروں کے لیے نقصان دہ ہوں، جیسے غیبت یا بے ایمانی۔

علم کی تلاش: Seek Knowledge:

 اسلامی علم اور فہم میں مشغول رہنا زندگی کے چیلنجوں کے بارے میں وضاحت ذہنی سکون فراہم کر سکتا ہے۔

غم ہے تو کوئی لطف نہیں بستر گل پر

جی خوش ہے تو کانٹوں پہ بھی آرام بہت ہے

ہمیں امید ہے کہ ہماری پیش کردہ معلومات آپ کے لیے سکون پانے اور پرسکون رہنے کے معاملے میں مددگار ثابت ہوگی ۔آپ ہمارے لیے دعاکردیجئے گا کہ اللہ پاک ہم سے راضی ہوجائے آمین ۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"ڈی این اے میں چھپا روحانی کوڈ؟"

" DNA میں چھپا روحانی کوڈ؟ " تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر)  ہم روٹین کی روایتی زندگی گزاررہے ہوتے ہیں ۔لیکن ہم اس کائنات کے رازوں پر غور کی زحمت نہیں کرتے ۔میں بھی  عمومی زندگی گزارنے والا شخص ہی ہوں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے مطالعہ ،مشاہد ہ بڑھتارہامجھے کھوج لگانے ،سوچنے اور سمجھنے کا ذوق ملا۔اس کافائدہ یہ ہوا کہ مجھ پر علم نئی جہات کھُلی ۔بات کہیں طویل نہ ہوجائے ۔میں کافی وقت سے سوچ رہاتھا کہ اس دور میں سائنس نے بہت ترقی کرلی ۔ڈین این اے کے ذریعے انسان کی نسلوں تک کےراز معلوم کیے جارہے ہیں ۔میں سوچ رہاتھاکہ کیا ڈین این اے ہماری عبادت یاپھر عبادت میں غفلت کوئی اثر ڈالتی ہے یانہیں ۔بہت غوروفکر اور اسٹڈی کے بعد کچھ نتائج ملے ۔ایک طالب علم کی حیثیت سے آپ سے شئیر بھی کرتاہوں ۔ممکن ہے کہ میری یہ کوشش آپ کے لیے بھی ایک لرننگ پراسس ثابت ہو۔ قارئین: ایک سوال ذہن میں آتاہے کہ کیاکیا نماز پڑھنے، روزہ رکھنے یا ذکر کرنے سے صرف ثواب ملتا ہے؟یا … آپ کی عبادتیں آپ کے DNA پر بھی اثر ڈالتی ہیں؟ یہ ہے تواچھوتاسوال آئیے ذرا اس کو حل کرتے ہیں ۔۔۔ قارئی...

نوجوانوں کے لیے امید بھرا پیغام

Life is a race, in which some get tired and stop moving towards the destination, and some reach the destination by facing every difficulty. (Drzahoordanish) نوجوانوں کے لیے امید بھرا پیغام تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہوں ۔جہاں و جب جاتاہوں تو ایک سوال ضرورت ہوتاہے ۔ہمارا مستقبل کیاہے ۔یعنی آج کا نوجوان اپنے مستقبل کی فکروں میں گھُلتاچلاجارہاہے ۔اسٹریس تو گویااس کی ذات کا حصہ بن گئی ہے ۔اب ایسے میں میں بہت دل جلاتاتھا کہ آخر ایسا کیا کیا جائے کہ  یہ قوم کہ معمار ٹینشن فری ہوں ۔خیر اپنے حصے کی جو ممکن کوشش تھی کرتارہا۔کافی دنوں سے سوچ رہاتھا کہ اس موضوع پر کوئی مختصر کی بات ضرور کروں ۔شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات کے حصول کے لیے ۔یہ مضمون بھی اُسی کی ایک کڑی ہے ۔ پیارے قارئین: موجودہ دور میں نوجوانوں میں مستقبل کے بارے میں بے چینی اور خوف ایک عام منظر بن چکا ہے۔ یہ خوف نہ صرف ذہنی سکون چھین لیتا ہے بلکہ زندگی کی توانائی، تخلیق اور کوششوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس مضمون میں ہم اس خوف کی نوعیت، اس کے اسباب، دنیاوی و دین...

مصنوعی ذہانت اور کسانوں کی دنیا

مصنوعی ذہانت اور کسانوں کی دنیا تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) کسان کی زندگی ہمیشہ مٹی، پانی، بارش اور دھوپ کے رحم و کرم پر رہی ہے۔ہزاروں برس سے کھیتی کا ہر عمل ہاتھ اور آنکھ کی محنت سے جڑا ہوا تھا۔لیکن اب ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے — ایسا دور جہاں بیج دیکھنے والی آنکھ انسان کی نہیں،ڈرون کی ہے۔مٹی کا مزاج بتانے والا ہاتھ کسان کا نہیں،مصنوعی ذہانت کا ہے۔زمین آج بھی سچ بولتی ہے،مگر اس سچ تک پہنچنے والے راستے بدل گئے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں کاشتکار، مٹی اور مشین کی مثلث عجیب مگر حیرت انگیز ہم آہنگی کے ساتھ مستقبل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت نے زراعت کو اندازے سے نکال کراعداد و شمار، سینسرز، ڈرون اور سیٹلائٹس کی دنیا میں داخل کر دیا ہے۔ AI اب مٹی کے راز آنکھ جھپکتے بتا دیتا ہے۔آئیے اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔نمی کتنی ہے،کس غذائی عنصر کی کمی ہے،فصل کی جڑ کتنی صحت مند ہے،کہاں کھاد کم یا زیادہ لگ رہی ہے،کب پانی دینا ضروری ہے، FAO کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق AI-assisted analysis سے پیداوار میں 20 سے 30 فیصد اضافہ ممکن ہے۔ یہ وہ انقلاب ہے جو پہلے صدیوں میں ب...