نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

دانتوں میں درد کیوں ہوتاہے ؟علاج اور مشورے


 

تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش

(DHMS,RHMP)

دانتوں میں درد کیوں ہوتاہے ؟علاج اور مشورے

موتیوں کی طرح چمکتے دانت ایک بہترین شخصیت کی عکاسی کرتے ہیں ۔یہ انسانی شخصیت کا کتناپیاراحسن ہے ۔لیکن جب یہی دانت درد کرنا شروع کردیں تو الامان والحفیظ۔ان بے بس ساہوجاتاہے کچھ اچھا نہیں لگتا۔عجب ہیجانی کیفیت اورتکلیف ہوتی ہے ۔


میں چونکہ دانتوں کی تکلیف سے گزراہوں ۔لہذا ایک مریض اور معالج دونوں کے روپ میں آپ قارئین کو  دانتوں کے حوالے سے مفید معلومات پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔جس کی مدد سے آپ دانتوں کے درد کی وجوہات بھی جان سکیں گے اور اس کا علاج بھی جان سکیں گے ۔

تو آئیے بڑھتے ہیں اپنے موضوع کی جانب۔

دانت میں درد اس وقت ہوتا ہے جب دانت میں موجود اعصاب سوجن یا انفیکشن کا شکار ہو جائیں۔ یہ کئی وجوہات کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔آئیے ذرا یہ وجوہات بھی جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔

دانتوں کی خرابی: 
دانتوں کی خرابی دانتوں کے درد کی سب سے عام وجہ ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے
 جب پلاک، بیکٹیریا کی ایک چپچپا فلم، دانتوں پر بن جاتی ہے۔ 
وقت گزرنے کے ساتھ، تختی تامچینی، دانت کی سخت بیرونی تہہ کو کھا سکتی ہے۔
 اس سے دانت میں سوراخ ہو سکتا ہے جسے کیوٹی کہتے ہیں۔
 اگر گہا کا علاج نہ کیا جائے تو یہ گودا، دانت کے اندر موجود نرم بافتوں
 تک پہنچ سکتا ہے جس میں اعصاب اور خون کی شریانیں ہوتی ہیں۔ 
یہ سوزش اور درد کا سبب بن سکتا ہے۔
پھٹے ہوئے دانت: 

پھٹے ہوئے دانت سے بھی دانت میں درد ہو سکتا ہے۔ پھٹے ہوئے دانت
 اکثر صدمے کی وجہ سے ہوتے ہیں، جیسے کسی سخت چیز پر کاٹنا۔
 شگاف اتنا چھوٹا ہو سکتا ہے کہ یہ ننگی آنکھ سے نظر نہیں آتا۔ 
تاہم، یہ اب بھی درد کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر جب کاٹتے یا چباتے ہیں۔
مسوڑھوں کی بیماری: 

مسوڑھوں کی بیماری مسوڑھوں کا ایک دائمی انفیکشن ہے جو دانتوں کو
 سہارا دینے والی ہڈی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ 
اگر مسوڑھوں کی بیماری کا علاج نہ کیا جائے تو اس سے دانت ڈھیلے پڑ سکتے ہیں
 اور آخرکار گر سکتے ہیں۔
 مسوڑھوں کی بیماری کے ابتدائی مراحل میں، یہ درد کا باعث بھی بن سکتا ہے، 
خاص طور پر کاٹنے یا چبانے کے وقت۔
دانا یا پھوڑانکلنا:


 ایک پھوڑا دانت پیپ کا ایک مجموعہ ہے جو دانت کی جڑ میں بنتا ہے۔ یہ بیکٹیریل انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے۔ پھوڑے دانت اکثر بہت تکلیف دہ ہوتے ہیں اور آس پاس کے علاقے میں سوجن، لالی اور نرمی کا سبب بن سکتے ہیں۔
قارئین :اس کے علاوہ بھی بہت سی ایسی علامات ہیں
 جو اس مرض میں ہمیں مشاہدہ میں آتی ہیں ۔
وہ بھی ہم خالصتاآپ کی بھلائی کی نیت سے بیان کردیتے ہیں ۔
دانت پیسنا:

 دانت پیسنا اور کلینچنگ سے دانتوں پر دباؤ پڑتا ہے اور درد ہو سکتا ہے۔
Temporomandibular Joint Disorder (TMJ): TMJ:
ایک ایسی حالت ہے جو جوڑ کو متاثر کرتی ہے جو جبڑے کو کھوپڑی سے جوڑتا ہے۔ یہ جبڑے، چہرے اور دانتوں میں درد کا سبب بن سکتا ہے۔
منہ یا دانتوں پر لگنے والی چوٹیں: 

منہ یا دانتوں میں لگنے والی چوٹ بھی درد کا باعث بن سکتی ہے۔
قارئین:
اگر آپ کو دانت میں درد ہو رہا ہے تو جلد از جلد دانتوں کے ڈاکٹر سے 
ملنا ضروری ہے۔ دانتوں کا ڈاکٹر درد کی وجہ کی تشخیص کر سکے گا
 اور بہترین علاج تجویز کرے گا۔ زیادہ تر معاملات میں، 
دانت کے درد کا علاج آسان طریقہ کار سے کیا جا سکتا ہے،
 جیسے فلنگ یا روٹ کینال۔ تاہم، بعض صورتوں میں،
 زیادہ وسیع علاج، جیسے دانت نکالنا، ضروری ہو سکتا ہے۔
دانتوں کی حفاظت کے حوالے سے کچھ بنیادی مشورے بھی آپ نوٹ کرلیں ۔
()اپنے دانتوں کو دن میں دو بار فلورائیڈ ٹوتھ پیسٹ اور نرم برسٹ والے ٹوتھ برش سے برش کریں۔
()دن میں ایک بار اپنے دانتوں کے درمیان فلاس کریں۔
()دن میں دو بار اینٹی بیکٹیریل ماؤتھ واش استعمال کریں۔
()میٹھے کھانے اور مشروبات کی مقدار کو محدود کریں۔
چیک اپ اور صفائی کے لیے باقاعدگی سے اپنے دانتوں کے ڈاکٹر کے پاس جائیں۔
قارئین:

میرایہ مزاج ہے کہ آپ پیاروں کو جس بھی چیز یا مرض کے متعلق بتاوں اس کے بارے میں کامل ہمہ جہت معلومات پیش کروں ۔آئیے ذرادانتوں کے حوالے سے لیب ٹیسٹ کے بارے میں بھی جا ن لیجئے ۔
کچھ مختلف لیبارٹری ٹیسٹ ہیں جو دانتوں کی بیماریوں کی تشخیص کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
خون کے ٹیسٹ:

 خون کے ٹیسٹ کا استعمال سوزش، انفیکشن، اور غذائیت کی کمی کی جانچ کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، انفیکشن کی جانچ کرنے کے لیے خون کے سفید خلیے کی گنتی کا استعمال کیا جا سکتا ہے، اور وٹامن ڈی کی سطح کو غذائیت کی کمی کی جانچ کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جو دانتوں کے سڑنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
تھوک کے ٹیسٹ: 
تھوک کے ٹیسٹ کا استعمال ایسے بیکٹیریا کی جانچ کرنے کے لیے کیا جا سکتا ہے جو دانتوں کی خرابی اور مسوڑھوں کی بیماری سے وابستہ ہیں ۔
ایکس رے:

 ایکس رے دانتوں اور مسوڑھوں کے اندر گہاوں، دراڑیں اور ہڈیوں کے نقصان کو دیکھنے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ مسوڑھوں کی بیماری کی شدت کا اندازہ لگانے کے لیے ایکس رے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
مائیکرو بائیولوجیکل ٹیسٹ: 

مائیکرو بائیولوجیکل ٹیسٹ منہ میں موجود مخصوص بیکٹیریا کی شناخت کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ یہ معلومات علاج کی رہنمائی کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں، خاص طور پر مسوڑھوں کی بیماری کے لیے۔
بعض صورتوں میں، دانتوں کی بیماری کی تشخیص کے لیے اضافی ٹیسٹ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کسی دانتوں کے ڈاکٹر کو شک ہو کہ دانت میں پھوڑے ہیں، تو وہ اس علاقے کو بہتر طور پر دیکھنے کے لیے سی ٹی اسکین یا ایم آر آئی کا حکم دے سکتے ہیں۔
قارئین:

ہم  نے کوشش کی ہے کہ پوری دیانت اور تجربہ کی روشنی بھی بہترین معلومات آپ تک پہنچاسکیں ۔تاکہ آپ صحت مند زندگی گزار سکیں ۔یہاں ایک مشورہ ہے کہ آپ جس بھی شعبہ زندگی سے وابستہ ہیں آپ بھی اپنے فن و ہنر کے حوالے سے دوسروں کو فائدہ دینے کی کوشش کیجئے ۔۔
آپ کو ہماری پیش کردہ کوشش سے فائدہ ہوتو دوسروں کی بہترین اور خیرخواہی کی نیت سے ان سے ضرور شئیر کیجئے ۔۔آپ ہم سے آن لائن  طبی مشوروں کے لیے رابطہ کرسکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
ہماراربطہ نمبر:03462914283۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وٹس ایپ :03112268353
ای میل :zahoordanish98@gmail.com

 


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"ڈی این اے میں چھپا روحانی کوڈ؟"

" DNA میں چھپا روحانی کوڈ؟ " تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر)  ہم روٹین کی روایتی زندگی گزاررہے ہوتے ہیں ۔لیکن ہم اس کائنات کے رازوں پر غور کی زحمت نہیں کرتے ۔میں بھی  عمومی زندگی گزارنے والا شخص ہی ہوں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے مطالعہ ،مشاہد ہ بڑھتارہامجھے کھوج لگانے ،سوچنے اور سمجھنے کا ذوق ملا۔اس کافائدہ یہ ہوا کہ مجھ پر علم نئی جہات کھُلی ۔بات کہیں طویل نہ ہوجائے ۔میں کافی وقت سے سوچ رہاتھا کہ اس دور میں سائنس نے بہت ترقی کرلی ۔ڈین این اے کے ذریعے انسان کی نسلوں تک کےراز معلوم کیے جارہے ہیں ۔میں سوچ رہاتھاکہ کیا ڈین این اے ہماری عبادت یاپھر عبادت میں غفلت کوئی اثر ڈالتی ہے یانہیں ۔بہت غوروفکر اور اسٹڈی کے بعد کچھ نتائج ملے ۔ایک طالب علم کی حیثیت سے آپ سے شئیر بھی کرتاہوں ۔ممکن ہے کہ میری یہ کوشش آپ کے لیے بھی ایک لرننگ پراسس ثابت ہو۔ قارئین: ایک سوال ذہن میں آتاہے کہ کیاکیا نماز پڑھنے، روزہ رکھنے یا ذکر کرنے سے صرف ثواب ملتا ہے؟یا … آپ کی عبادتیں آپ کے DNA پر بھی اثر ڈالتی ہیں؟ یہ ہے تواچھوتاسوال آئیے ذرا اس کو حل کرتے ہیں ۔۔۔ قارئی...

نوجوانوں کے لیے امید بھرا پیغام

Life is a race, in which some get tired and stop moving towards the destination, and some reach the destination by facing every difficulty. (Drzahoordanish) نوجوانوں کے لیے امید بھرا پیغام تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہوں ۔جہاں و جب جاتاہوں تو ایک سوال ضرورت ہوتاہے ۔ہمارا مستقبل کیاہے ۔یعنی آج کا نوجوان اپنے مستقبل کی فکروں میں گھُلتاچلاجارہاہے ۔اسٹریس تو گویااس کی ذات کا حصہ بن گئی ہے ۔اب ایسے میں میں بہت دل جلاتاتھا کہ آخر ایسا کیا کیا جائے کہ  یہ قوم کہ معمار ٹینشن فری ہوں ۔خیر اپنے حصے کی جو ممکن کوشش تھی کرتارہا۔کافی دنوں سے سوچ رہاتھا کہ اس موضوع پر کوئی مختصر کی بات ضرور کروں ۔شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات کے حصول کے لیے ۔یہ مضمون بھی اُسی کی ایک کڑی ہے ۔ پیارے قارئین: موجودہ دور میں نوجوانوں میں مستقبل کے بارے میں بے چینی اور خوف ایک عام منظر بن چکا ہے۔ یہ خوف نہ صرف ذہنی سکون چھین لیتا ہے بلکہ زندگی کی توانائی، تخلیق اور کوششوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس مضمون میں ہم اس خوف کی نوعیت، اس کے اسباب، دنیاوی و دین...

مصنوعی ذہانت اور کسانوں کی دنیا

مصنوعی ذہانت اور کسانوں کی دنیا تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) کسان کی زندگی ہمیشہ مٹی، پانی، بارش اور دھوپ کے رحم و کرم پر رہی ہے۔ہزاروں برس سے کھیتی کا ہر عمل ہاتھ اور آنکھ کی محنت سے جڑا ہوا تھا۔لیکن اب ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے — ایسا دور جہاں بیج دیکھنے والی آنکھ انسان کی نہیں،ڈرون کی ہے۔مٹی کا مزاج بتانے والا ہاتھ کسان کا نہیں،مصنوعی ذہانت کا ہے۔زمین آج بھی سچ بولتی ہے،مگر اس سچ تک پہنچنے والے راستے بدل گئے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں کاشتکار، مٹی اور مشین کی مثلث عجیب مگر حیرت انگیز ہم آہنگی کے ساتھ مستقبل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت نے زراعت کو اندازے سے نکال کراعداد و شمار، سینسرز، ڈرون اور سیٹلائٹس کی دنیا میں داخل کر دیا ہے۔ AI اب مٹی کے راز آنکھ جھپکتے بتا دیتا ہے۔آئیے اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔نمی کتنی ہے،کس غذائی عنصر کی کمی ہے،فصل کی جڑ کتنی صحت مند ہے،کہاں کھاد کم یا زیادہ لگ رہی ہے،کب پانی دینا ضروری ہے، FAO کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق AI-assisted analysis سے پیداوار میں 20 سے 30 فیصد اضافہ ممکن ہے۔ یہ وہ انقلاب ہے جو پہلے صدیوں میں ب...