نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

بزنس کی دنیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔The world of business۔



تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش

بزنس کی دنیا 

The world of business۔

تاجرکون؟

بزنس مین وہ شخص ہوتا ہے جو کاروبار میں مصروف ہوتا ہے، عام طور پر کسی کمپنی یا تنظیم کے مالک یا مینیجر کے طور پر۔ وہ مختلف قسم کی کاروباری سرگرمیوں میں شامل ہو سکتے ہیں، جیسے مینوفیکچرنگ، ریٹیل، یا فنانس۔ وہ اکثر تزویراتی فیصلے کرتے ہیں اور اپنے کاروبار کو بڑھانے اور منافع بڑھانے کے لیے خطرہ مول لیتے ہیں۔

تجارت اہم ہے کیونکہ یہ ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ سامان اور خدمات کے تبادلے کی اجازت دیتا ہے، اقتصادی کارکردگی میں اضافہ اور تخصص کو فروغ دیتا ہے۔ بعض اشیا اور خدمات میں مہارت حاصل کرکے اور دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت کرکے ان چیزوں کے لیے جو وہ پیدا نہیں کرتے ہیں، ممالک اپنی مجموعی دولت اور معیار زندگی کو بڑھا سکتے ہیں۔ تجارت باہمی انحصار اور ثقافتی تبادلے کو بڑھا کر اقوام کے درمیان امن اور افہام و تفہیم کو بھی فروغ دیتی ہے۔ مزید 

رآں، تجارت کم ترقی یافتہ ممالک میں اقتصادی ترقی اور ترقی کو فروغ دینے میں بھی مدد کر سکتی ہے۔


تجارت کی اقسام:

دنیا میں کسی بھی وقت تجارت کی بہت سی مختلف اقسام ہوتی ہیں۔ کچھ مثالوں میں شامل ہیں:

ممالک کے درمیان بین الاقوامی تجارت، جہاں سامان اور خدمات سرحدوں کے پار خریدی اور فروخت کی جاتی ہیں۔ اس میں تیار کردہ سامان کی برآمد، خام مال کی درآمد، یا دوسرے ممالک میں گاہکوں کو خدمات فراہم کرنے جیسی چیزیں شامل ہوسکتی ہیں۔

ایک ملک کے اندر گھریلو تجارت، جہاں سامان اور خدمات اسی ملک کے اندر خریدی اور فروخت کی جاتی ہیں۔ اس میں اشیائے خوردونوش کی خوردہ فروخت، کاروبار کے درمیان تھوک تجارت، اور مقامی خدمات فراہم کرنے والوں کی طرف سے فراہم کردہ خدمات جیسی چیزیں شامل ہو سکتی ہیں۔

آن لائن تجارت، جہاں سامان اور خدمات انٹرنیٹ پر خریدی اور فروخت کی جاتی ہیں۔ اس میں ای کامرس ویب سائٹس، آن لائن مارکیٹ پلیسز، اور ڈیجیٹل سروسز جیسی چیزیں شامل ہوسکتی ہیں۔

بارٹر تجارت، جہاں سامان اور خدمات کا تبادلہ پیسے کے استعمال کے بغیر ہوتا ہے۔

بلیک مارکیٹ تجارت، جو کہ ایسی اشیاء اور خدمات کی غیر قانونی تجارت ہے جن کی خرید و فروخت قانونی نہیں ہے۔

مجموعی طور پر، تجارت معاشی سرگرمیوں کی ایک وسیع رینج پر محیط ہے اور عالمی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔

تاجر کے اوصاف:

ایک اچھے تاجر کے کیا اوصاف ہونے چاہیے آئیے ذرا جان لیتے ہیں ۔

ایک اچھے تاجر کی کچھ علامات میں شامل ہیں:

وقت کے ساتھ مسلسل منافع بخش

خطرے اور نقصان کو سنبھالنے کی صلاحیت

مارکیٹ کی حرکیات اور رجحانات کی مضبوط سمجھ

اچھا جذباتی کنٹرول اور معروضی طور پر فیصلے کرنے کی صلاحیت

مسلسل سیکھنا اور مارکیٹ کی تبدیلیوں کے ساتھ موافقت

پیسے کے انتظام کی مضبوط مہارت

تجارتی منصوبہ یا حکمت عملی تیار کرنے اور اس پر قائم رہنے کی صلاحیت

اچھی مواصلات کی مہارت اور دوسروں کے ساتھ تعاون کرنے کی صلاحیت، اگر ٹیم میں کام کر رہے ہوں۔

قابل غور بات یہ ہے کہ آج ”تجارت“ میں خسارے اور منافع کی کمی کارونا رویا جاتا ہے حالانکہ دھوکے اور بد دیانتی سے حاصل کیے جانے والے مال میں کبھی بھی برکت نہیں ہوسکتی۔ حدیث شریف میں ہے:”قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تاجر (دنیا کے) دونوں کونوں تک پہنچے گا لیکن اسے نفع حاصل نہیں ہوگا۔“(معجمِ کبیر،ج 9،ص297، حدیث: 9490)

حضرت علامہ محمد بن عبد الرسول برزنجی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: یہ (تجارت میں نفع نہ ہونا) اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ (قربِ قیامت) تاجروں میں دھوکہ دہی اور جھوٹ کا غلبہ ہوگا جس کی وجہ سے ”تجارت“ میں برکت نہ ہوگی۔(الاشاعۃ لاشراط الساعۃ، ص 112)

جو کام بھی کیا جائے بڑے سلیقے، امانتداری، ہنر مندی اور شریعت کا لحاظ رکھتے ہوئے کیا جائے، جو چیز بنائیں اس میں پختگی اور صفائی دونوں کا پورا پورا خیال رکھیں۔ بے دلی اور بے احتیاطی سے کوئی کام کرنا مسلمان کو زیبا نہیں۔ اگر ہم اس طریقے کو اپنائیں تو ہماری ”تجارت“ کو چار چاند لگ جائیں، ہر منڈی میں ہماری مصنوعات کی مانگ بڑھ جائے، ہماری ہنر مندی اور فنی مہارت کی دھاک بیٹھ جائے اور ساتھ ہی ساتھ ہماری معاشی حالت بھی قابلِ رشک ہوجائے۔

یاد رکھئے! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا پانے کے لیے، سچا مسلمان بننے اور دین و دنیا میں کامیاب و کامران رہنے کے لیے جیسے نماز روزے کی پابندی ضروری ہے، ایسے ہی معاملات کی درستی اور ذرائع آمدنی کی صحت وپاکی بھی نہایت ضروری ہے۔

اللہ پاک ہمیں زندگی کے ہر میدان میں درست اور جائز طریقے سے سرخرورہنے کی توفیق عطافرمائے ۔ہماری کاوش آپ کے لیے مفید ثابت ہوتو ہماری مغفرت کی دعاکردیجئے ۔۔۔۔۔۔میں آپ کا اپنا ڈاکٹرظہوراحمددانش ہمیشہ آپکی دعا کا طلبگار ہوں ۔

03462914283

وٹس ایپ:03112268353

  

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"ڈی این اے میں چھپا روحانی کوڈ؟"

" DNA میں چھپا روحانی کوڈ؟ " تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر)  ہم روٹین کی روایتی زندگی گزاررہے ہوتے ہیں ۔لیکن ہم اس کائنات کے رازوں پر غور کی زحمت نہیں کرتے ۔میں بھی  عمومی زندگی گزارنے والا شخص ہی ہوں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے مطالعہ ،مشاہد ہ بڑھتارہامجھے کھوج لگانے ،سوچنے اور سمجھنے کا ذوق ملا۔اس کافائدہ یہ ہوا کہ مجھ پر علم نئی جہات کھُلی ۔بات کہیں طویل نہ ہوجائے ۔میں کافی وقت سے سوچ رہاتھا کہ اس دور میں سائنس نے بہت ترقی کرلی ۔ڈین این اے کے ذریعے انسان کی نسلوں تک کےراز معلوم کیے جارہے ہیں ۔میں سوچ رہاتھاکہ کیا ڈین این اے ہماری عبادت یاپھر عبادت میں غفلت کوئی اثر ڈالتی ہے یانہیں ۔بہت غوروفکر اور اسٹڈی کے بعد کچھ نتائج ملے ۔ایک طالب علم کی حیثیت سے آپ سے شئیر بھی کرتاہوں ۔ممکن ہے کہ میری یہ کوشش آپ کے لیے بھی ایک لرننگ پراسس ثابت ہو۔ قارئین: ایک سوال ذہن میں آتاہے کہ کیاکیا نماز پڑھنے، روزہ رکھنے یا ذکر کرنے سے صرف ثواب ملتا ہے؟یا … آپ کی عبادتیں آپ کے DNA پر بھی اثر ڈالتی ہیں؟ یہ ہے تواچھوتاسوال آئیے ذرا اس کو حل کرتے ہیں ۔۔۔ قارئی...

نوجوانوں کے لیے امید بھرا پیغام

Life is a race, in which some get tired and stop moving towards the destination, and some reach the destination by facing every difficulty. (Drzahoordanish) نوجوانوں کے لیے امید بھرا پیغام تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہوں ۔جہاں و جب جاتاہوں تو ایک سوال ضرورت ہوتاہے ۔ہمارا مستقبل کیاہے ۔یعنی آج کا نوجوان اپنے مستقبل کی فکروں میں گھُلتاچلاجارہاہے ۔اسٹریس تو گویااس کی ذات کا حصہ بن گئی ہے ۔اب ایسے میں میں بہت دل جلاتاتھا کہ آخر ایسا کیا کیا جائے کہ  یہ قوم کہ معمار ٹینشن فری ہوں ۔خیر اپنے حصے کی جو ممکن کوشش تھی کرتارہا۔کافی دنوں سے سوچ رہاتھا کہ اس موضوع پر کوئی مختصر کی بات ضرور کروں ۔شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات کے حصول کے لیے ۔یہ مضمون بھی اُسی کی ایک کڑی ہے ۔ پیارے قارئین: موجودہ دور میں نوجوانوں میں مستقبل کے بارے میں بے چینی اور خوف ایک عام منظر بن چکا ہے۔ یہ خوف نہ صرف ذہنی سکون چھین لیتا ہے بلکہ زندگی کی توانائی، تخلیق اور کوششوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس مضمون میں ہم اس خوف کی نوعیت، اس کے اسباب، دنیاوی و دین...

مصنوعی ذہانت اور کسانوں کی دنیا

مصنوعی ذہانت اور کسانوں کی دنیا تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) کسان کی زندگی ہمیشہ مٹی، پانی، بارش اور دھوپ کے رحم و کرم پر رہی ہے۔ہزاروں برس سے کھیتی کا ہر عمل ہاتھ اور آنکھ کی محنت سے جڑا ہوا تھا۔لیکن اب ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے — ایسا دور جہاں بیج دیکھنے والی آنکھ انسان کی نہیں،ڈرون کی ہے۔مٹی کا مزاج بتانے والا ہاتھ کسان کا نہیں،مصنوعی ذہانت کا ہے۔زمین آج بھی سچ بولتی ہے،مگر اس سچ تک پہنچنے والے راستے بدل گئے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں کاشتکار، مٹی اور مشین کی مثلث عجیب مگر حیرت انگیز ہم آہنگی کے ساتھ مستقبل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت نے زراعت کو اندازے سے نکال کراعداد و شمار، سینسرز، ڈرون اور سیٹلائٹس کی دنیا میں داخل کر دیا ہے۔ AI اب مٹی کے راز آنکھ جھپکتے بتا دیتا ہے۔آئیے اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔نمی کتنی ہے،کس غذائی عنصر کی کمی ہے،فصل کی جڑ کتنی صحت مند ہے،کہاں کھاد کم یا زیادہ لگ رہی ہے،کب پانی دینا ضروری ہے، FAO کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق AI-assisted analysis سے پیداوار میں 20 سے 30 فیصد اضافہ ممکن ہے۔ یہ وہ انقلاب ہے جو پہلے صدیوں میں ب...