نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

How to write a blog ?بلاگ کیسے لکھیں ؟


تحریر:ڈاکٹر ظہوراحمددانش

بلاگ کیسے لکھیں ؟

How to write a blog ?

٭……بلاگنگ شروع کرنے کابہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ جو دیکھتے ہیں، جو محسوس کرتے ہیں ان کو سادہ الفاظ کی شکل دیں اور بلاگ لکھ دیں۔ فرض کریں آپ نے کہیں کو حادثہ دیکھا یا کوئی منفرد چیز دیکھی اب آپ اس حادثہ یا منفرد چیز سے کیا نتیجہ نکالتے ہیں؟ ایسا کیوں ہوا؟اس کے پیچھے کیا محرکات تھے؟ اس سے آپ نے اور دوسروں نے کیا اثر لیا وغیرہ وغیرہ سوچیں۔
٭……عام طور پر بلاگ 800 سے 1000 الفاظ کے درمیان ہونا چاہیے۔ اگر بلاگ نویس لکھے گئے مواد سے متعلق کسی چیز کا حوالہ دینا چاہے، تو وہ حوالہ ٹیکسٹ کے اندر ہائپر لنک کی مدد سے دینا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔



٭……بلاگ کے عنوان کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ کسی بھی تحریر کے سب سے پہلے جس حصے پر نظر پڑتی ے وہ عنوان ہے پھر آغاز کے تین چار جملے ہیں۔ یہ اگر دلچسپ ہوں تو قاری کی دلچسپی بڑھتی ہے اور
نظر خود بخود تحریر پر پھسلتی جاتی ہے۔ عنوان حتیٰ المکان مختصر اور معنی خیز ہونا چاہیے۔

 


٭…… جو لوگ کسی مخصوص شعبہ سے وابستہ ہیں وہ کوشش کریں کہ زیادہ تر اپنے شعبے سے متعلق لکھیں کیونکہ اس سے آپ کی تحریر جاندار بھی ہوجائے گی اور آپ اپنا مافی الضمیر بھی خوب اچھی طرح بیان کر سکیں گے۔
٭……آغاز کے کچھ جملے بہت اہم ہیں۔ بلاگنگ کی دنیا میں یہ تحریر کا حساس ترین حصہ ہے۔ یہی چند جملے ہیڈ لائن اور ایگریگیڑ پر بھی ابھرتے ہیں۔ یہاں اگر آپ نے قاری کو پکڑ لیا تو پکڑ لیا۔


 ٭……بلاگ کے لیے جس قدر ممکن ہو ایسے موضوع کا انتخاب کرنا چاہیے جو حقیقت سے قریب تر ہو۔

٭……من گھڑت کہانیوں کی بجائے عام زندگی میں ہونے والے تجربات پر لکھیں۔ اس سے ایک تو آپ کے تجربات اور تجزیے دوسرے لوگوں تک پہنچیں گے اور جب قارئین تبصرے یا رائے دیں گے تو آپ کو تصویر کے کئی دوسرے رخ نظر آئیں گے۔ جس سے آپ کی سوچ مزید پختہ ہو گی۔

 


٭…… بلاگ حالاتِ حاضرہ، سماجی مسائل، سیاسی واقعے و پیش رفت، اور ملکی و غیر ملکی حالات پر لکھے جائیں۔ اس کے علاوہ بلاگ کسی تاریخی واقعے پر بھی لکھے جا سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے مضبوط حوالے دینا ہر گز نہ بھولیں۔
٭……جو بھی لکھیں مکمل حوالے اور ٹھوس ثبوت کی بنا پر لکھیں تاکہ اگر کوئی کسی بات پر آپ سے بحث کرے تو آپ تسلی بخش جواب دیں سکیں۔


 

٭…… کبھی یہ نہ سوچیں کہ آپ بڑے تیس مار خاں ہیں کیونکہ آپ سیکھنے، سیکھانے اور مشورے کے انداز میں بلاگنگ کریں گے تو آپ کو بے شمار فوائد حاصل ہوں گے۔

 


٭……تحریر کے لئے کچھ نقاط بنا کر رکھیں۔ حساس موضوع کے لئے ان نقاط کو دوران تحریر زیر بحث لائیں۔
٭…… بلاگ فیچر اسٹوریز سے مختلف ہوتے ہیں۔ لوگوں سے زیادہ انٹرویوز کرنا اور ان کی باتوں کے حوالے دینا بلاگ نہیں، بلکہ فیچر کہلاتا ہے۔ بلاگز خبر سے بھی مختلف ہوتے ہیں، اس لیے کسی بھی شہ سرخی والی خبر کو مختلف الفاظ میں پیش کر دینا بھی بلاگ نہیں کہلاتا۔


 

٭……بلاگ پر کبھی بھی کوئی ایسی ذاتی معلومات شیئر نہ کریں جس سے آپ کو اسی وقت یا آنے والے وقت میں نقصان ہونے کا خدشہ ہو۔ اس لیئے جب بھی اور جو بھی لکھیں ہمیشہ سوچ سمجھ کر لکھیں۔
٭……مذہبی بحث کو جنم دینے والے اشتعال انگیز بلاگز لکھنے سے گریز کرنا چاہیے جبکہ لکھتے وقت الفاظ کے انتخاب کا خاص خیال رکھا جانا چاہیے۔ گالیوں یا کسی کی ذات پر حملے کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔


 

٭……تحریر کی ادارت بہت ضروری ہے۔ بلاگ کی تحریر کو کبھی بھی خام حالت میں یونہی نہیں شائع کردینا چاہیے۔ اپنے ڈرافٹ پر نظر ثانی کریں۔ ہجے اور لغوی اغلاط کے علاوہ جملوں کی ترتیب پر بھی ایک سے زیادہ بار نظرثانی کریں۔

ہماری تحریر آپ کے لیے یقینا مفید ہوگی ۔جب جب آپ استفادہ کریں ہماری مغفرت 

کی دعا کردیجئے گا۔

رابطہ نمر:03462914283

وٹس ایپ:0311-2268353

 

 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نوجوانوں کے لیے امید بھرا پیغام

Life is a race, in which some get tired and stop moving towards the destination, and some reach the destination by facing every difficulty. (Drzahoordanish) نوجوانوں کے لیے امید بھرا پیغام تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہوں ۔جہاں و جب جاتاہوں تو ایک سوال ضرورت ہوتاہے ۔ہمارا مستقبل کیاہے ۔یعنی آج کا نوجوان اپنے مستقبل کی فکروں میں گھُلتاچلاجارہاہے ۔اسٹریس تو گویااس کی ذات کا حصہ بن گئی ہے ۔اب ایسے میں میں بہت دل جلاتاتھا کہ آخر ایسا کیا کیا جائے کہ  یہ قوم کہ معمار ٹینشن فری ہوں ۔خیر اپنے حصے کی جو ممکن کوشش تھی کرتارہا۔کافی دنوں سے سوچ رہاتھا کہ اس موضوع پر کوئی مختصر کی بات ضرور کروں ۔شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات کے حصول کے لیے ۔یہ مضمون بھی اُسی کی ایک کڑی ہے ۔ پیارے قارئین: موجودہ دور میں نوجوانوں میں مستقبل کے بارے میں بے چینی اور خوف ایک عام منظر بن چکا ہے۔ یہ خوف نہ صرف ذہنی سکون چھین لیتا ہے بلکہ زندگی کی توانائی، تخلیق اور کوششوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس مضمون میں ہم اس خوف کی نوعیت، اس کے اسباب، دنیاوی و دین...

عورت کائنات کا حیرت انگیز کردار

عورت کائنات  کا حیرت انگیز کردار تحریر: حافظہ نورالایمان  بنت ظہور حمد ) دوٹھلہ نکیال آزاد کشمیر ( عورت محض کائنات کا ایک کردار نہیں، بلکہ انسانی تہذیب کی خاموش معمار، جذبات کی ترجمان اور نسلوں کے مستقبل کی امین ہے۔ وہ کبھی ماں بن کر زندگی کو جنم دیتی ہے، کبھی بیٹی بن کر گھر میں رحمت کی خوشبو بکھیرتی ہے، کبھی بہن بن کر محبت کا حصار قائم کرتی ہے اور کبھی شریکِ حیات بن کر زندگی کے دشوار راستوں کو سکون اور رفاقت سے روشن کردیتی ہے۔ عقل یہ تسلیم کرتی ہے کہ جس ہستی کی تربیت سے انسان کا کردار تشکیل پاتا ہو، اسے کمزور یا غیر اہم قرار دینا خود انسانی عقل کی توہین ہے۔ ایک تعلیم یافتہ، باکردار اور ذہنی طور پر مضبوط عورت صرف اپنی زندگی نہیں سنوارتی؛ وہ ایک خاندان، ایک نسل اور بالآخر پورے معاشرے کی فکری سمت بدل سکتی ہے۔ نفسیات بتاتی ہے کہ انسان کی شخصیت کی بنیاد ابتدائی تعلقات، جذباتی تحفظ، گفتگو اور تربیت سے بنتی ہے۔ اس عمل میں ماں اور خاندان کی دیگر خواتین کا کردار اکثر نہایت گہرا ہوتا ہے۔ عورت کی ہمدردی، جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت، صبر اور تعلقات کو جوڑنے کی قوت معاشرتی استحکام...

مصنوعی ذہانت اور کسانوں کی دنیا

مصنوعی ذہانت اور کسانوں کی دنیا تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) کسان کی زندگی ہمیشہ مٹی، پانی، بارش اور دھوپ کے رحم و کرم پر رہی ہے۔ہزاروں برس سے کھیتی کا ہر عمل ہاتھ اور آنکھ کی محنت سے جڑا ہوا تھا۔لیکن اب ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے — ایسا دور جہاں بیج دیکھنے والی آنکھ انسان کی نہیں،ڈرون کی ہے۔مٹی کا مزاج بتانے والا ہاتھ کسان کا نہیں،مصنوعی ذہانت کا ہے۔زمین آج بھی سچ بولتی ہے،مگر اس سچ تک پہنچنے والے راستے بدل گئے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں کاشتکار، مٹی اور مشین کی مثلث عجیب مگر حیرت انگیز ہم آہنگی کے ساتھ مستقبل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت نے زراعت کو اندازے سے نکال کراعداد و شمار، سینسرز، ڈرون اور سیٹلائٹس کی دنیا میں داخل کر دیا ہے۔ AI اب مٹی کے راز آنکھ جھپکتے بتا دیتا ہے۔آئیے اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔نمی کتنی ہے،کس غذائی عنصر کی کمی ہے،فصل کی جڑ کتنی صحت مند ہے،کہاں کھاد کم یا زیادہ لگ رہی ہے،کب پانی دینا ضروری ہے، FAO کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق AI-assisted analysis سے پیداوار میں 20 سے 30 فیصد اضافہ ممکن ہے۔ یہ وہ انقلاب ہے جو پہلے صدیوں میں ب...