نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مشکل وقت کی اصل طاقت



مشکل وقت کی اصل طاقت

تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش

زندگی میں آسانیاں انسان کو سکون دیتی ہیں، مگر مشکل وقت انسان کو بناتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ عظیم شخصیات کی اصل تعمیر آسائشوں میں نہیں بلکہ آزمائشوں میں ہوئی۔ بظاہر مشکلات انسان کو توڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں، لیکن حقیقت میں وہ اس کی شخصیت کو نئے سانچے میں ڈھال رہی ہوتی ہیں۔

قارئین:
جدید نفسیات کے مطابق انسان میں ایک حیرت انگیز صلاحیت موجود ہے جسے Resilience (لچک اور دوبارہ سنبھلنے کی قوت) کہا جاتا ہے۔ یہی صلاحیت انسان کو صدموں، ناکامیوں اور بحرانوں کے بعد دوبارہ کھڑا ہونے کا حوصلہ دیتی ہے۔

  • انسان اپنی اصل صلاحیتوں کو دریافت کرتا ہے۔
  • جذباتی برداشت (Emotional Regulation) مضبوط ہوتی ہے۔
  • فیصلے کرنے کی صلاحیت میں پختگی آتی ہے۔
  • خود اعتمادی وقتی کامیابیوں سے نہیں بلکہ آزمائشوں سے جنم لیتی ہے۔
  • مسائل سے نمٹنے کی ذہنی قوت (Problem Solving Ability) بہتر ہوتی ہے۔

اسی لیے ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ "Comfort Zone انسان کو محفوظ رکھتا ہے، مگر Growth Zone اسے مضبوط بناتا ہے۔"

قارئین :نیورو سائنس (Neuroscience) کے مطابق جب انسان مشکل حالات کا مثبت انداز میں مقابلہ کرتا ہے تو دماغ میں نئے اعصابی روابط (Neural Connections) بنتے ہیں۔ اس عمل کو Neuroplasticity کہا جاتا ہے، یعنی دماغ خود کو نئے حالات کے مطابق بہتر بناتا ہے۔

تحقیقات یہ بھی بتاتی ہیں کہ:

  • مناسب دباؤ (Healthy Stress) انسان کی کارکردگی میں اضافہ کر سکتا ہے۔
  • مشکلات سے گزرنے والے افراد میں مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔
  • مسلسل مسائل کا حل تلاش کرنے سے دماغ کی تخلیقی اور تجزیاتی صلاحیت مضبوط ہوتی ہے۔

یعنی اگر انسان ہمت نہ ہارے تو مشکل وقت صرف حالات نہیں بدلتا، بلکہ دماغ، شخصیت اور سوچ کے انداز کو بھی ترقی دیتا ہے۔

قارئین:مشکل وقت کی اصل طاقت خود مشکل میں نہیں، بلکہ اس ردِعمل میں ہے جو انسان اس کے جواب میں اختیار کرتا ہے۔ ایک ہی آزمائش کسی کو مایوس کر دیتی ہے، جبکہ دوسرے کو پہلے سے زیادہ مضبوط، سمجھدار اور باکردار بنا دیتی ہے۔

یاد رکھیں۔

  • مشکل وقت ہمیشہ مستقل نہیں رہتا۔
  • لیکن اس سے حاصل ہونے والا تجربہ زندگی بھر ساتھ رہتا ہے۔
  • آزمائشیں اکثر ہماری وہ صلاحیتیں سامنے لے آتی ہیں جن کا ہمیں خود بھی اندازہ نہیں ہوتا۔

قارئین :اسلام مشکلات کو سزا نہیں بلکہ ایمان، صبر اور کردار کی تربیت کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔ قرآنِ کریم صبر کرنے والوں کو اللہ کی معیت اور کامیابی کی بشارت دیتا ہے، اور یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ اس لیے مؤمن مشکل وقت میں مایوس نہیں ہوتا بلکہ صبر، دعا، توکل اور مثبت عمل کے ذریعے اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہوئے آگے بڑھتا ہے۔ 

تبصرے