نسلی تعصب کا خاتمہ
تحریر:ڈاکٹرظہور احمددانش
انسانی تاریخ میں بہت سے نظریات آئے، بہت سی کتابیں
لکھی گئیں، اور نفسیات نے جذبات کو سمجھنے کے لیے بے شمار ماڈلز پیش کیے۔ مگر حیرت
کی بات یہ ہے کہ جس چیز کو آج کی جدید سائنس
“Emotional Intelligence” کہہ کر دریافت کر رہی ہے،
اس کی کامل اور زندہ مثال ہمیں سیرتِ رسولِ اکرم ﷺ میں صدیوں پہلے نظر آتی ہے۔
نفسیاتی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو Emotional Intelligence کی
بنیاد خود آگاہی (Self-Awareness)،
جذباتی ضبط (Self-Regulation)،
ہمدردی (Empathy)،
اور مثبت سماجی روابط (Social Skills) پر
ہوتی ہے۔ سیرتِ طیبہ ﷺ ان تمام اصولوں کی عملی تفسیر ہے۔ آپ ﷺ کا غصہ بھی عدل کے
لیے تھا، خاموشی بھی حکمت کے لیے، اور مسکراہٹ بھی دلوں کو جوڑنے کے لیے۔ یہ وہ
جذباتی توازن ہے جسے آج کی Behavioral Science انسانی
کامیابی کی بنیاد قرار دیتی ہے۔
سائنسی اعتبار سے جدید تحقیق یہ بتاتی ہے کہ وہ لیڈر
کامیاب ہوتا ہے جو لوگوں کے جذبات کو سمجھتا اور ان کا احترام کرتا ہے۔ رسولِ کریم
ﷺ کی قیادت میں ہمیں یہی اصول اپنی کامل صورت میں دکھائی دیتا ہے۔ دشمن کے ساتھ
بھی نرم لہجہ، کمزور کے لیے شفقت، اور خطا کرنے والے کے لیے اصلاح کا دروازہ — یہ
سب Emotional Intelligence کی
اعلیٰ ترین مثالیں ہیں۔
معاشرتی زاویے سے دیکھا جائے تو سیرت ہمیں یہ سکھاتی ہے
کہ جذباتی پختگی صرف ذاتی کامیابی نہیں بلکہ اجتماعی امن کی بنیاد ہے۔ ایک ایسا
معاشرہ جہاں برداشت ہو، سننے کا حوصلہ ہو، اور اختلاف میں بھی اخلاق باقی رہے —
وہی معاشرہ ترقی کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کے دل جیت کر معاشرہ بدلا، محض
قوانین بنا کر نہیں۔
اسلامی نقطۂ نظر سے
Emotional Intelligence دراصل “حسنِ اخلاق” کا
جدید نام ہے۔ قرآن نے جس “خُلُقٍ عظیم” کا ذکر کیا، وہ صرف عبادات کا حسن نہیں
بلکہ جذبات کے استعمال کی وہ حکمت ہے جو انسان کو رحمت کا ذریعہ بنا دیتی ہے۔ سیرت
ہمیں سکھاتی ہے کہ طاقت اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے میں ہے، نہ کہ انہیں بے قابو
چھوڑ دینے میں۔
آج کے دور میں جب ذہنی دباؤ، غصہ، بے چینی اور سماجی
فاصلے بڑھ رہے ہیں، ہمیں جدید تھیوریز کے ساتھ ساتھ سیرتِ رسول ﷺ کی طرف بھی رجوع
کرنا ہوگا۔ کیونکہ وہاں ہمیں صرف نظریہ نہیں، بلکہ ایک زندہ نمونہ ملتا ہے — ایسا
نمونہ جو دلوں کو نرم کرتا ہے، عقل کو روشنی دیتا ہے، اور معاشرے کو توازن عطا کرتا
ہے۔
آئیے! سیرت کو صرف تاریخی واقعات سمجھ کر نہ پڑھیں، بلکہ اسے اپنی شخصیت کی تربیت کا نصاب بنائیں۔ جب ہم سیرت کو سمجھ کر پڑھیں گے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اصل Emotional Intelligence وہ ہے جو انسان کو اپنے رب سے جوڑے اور بندوں کے لیے آسانی کا سبب بنا دے۔اپنے دل کو وقت دیں، سیرت کو پڑھیں، اس پر غور کریں، اور اپنی زندگی میں وہ اخلاق زندہ کریں جنہوں نے دنیا کے اندھیروں میں رحمت کی روشنی پھیلائی۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں