رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور بحران کے وقت
جذباتی توازن
تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش
(دوٹھلہ نکیال آزادکمشیر)
قیادت (Leadership) صرف
فیصلے کرنے کا نام نہیں، بلکہ مشکل اور بحرانی حالات میں جذباتی استحکام (Emotional Stability) برقرار رکھنے کا
فن بھی ہے۔ جدید نفسیات اس بات پر متفق ہے کہ ایک کامیاب لیڈر وہی ہوتا ہے جو دباؤ،
خوف، اور غیر یقینی صورتحال میں بھی اپنے جذبات کو متوازن رکھے اور دوسروں کے لیے
اعتماد اور امید کا ذریعہ بنے۔
اسی تناظر میں اگر ہم تاریخ کی سب سے کامل قیادت کا
جائزہ لیں تو حضرت محمد ﷺ کی عظیم شخصیت ایک بے مثال نمونہ پیش کرتی ہے، جہاں ہر
موقع پر حکمت، صبر، اور جذباتی توازن اپنی بلند ترین شکل میں نظر آتا ہے۔
جذباتی توازن کیا ہے؟
(Psychological Perspective)
جدید ماہرینِ نفسیات جیسے Daniel
Goleman (Emotional Intelligence کے
بانی نظریہ سازوں میں سے ایک) کے مطابق:
“Emotional
intelligence is the ability to manage your own emotions and influence the
emotions of others.”
یعنی ایک مؤثر لیڈر وہ ہے جو:
- اپنے جذبات کو
پہچانے (Self-awareness)
- انہیں کنٹرول کرے (Self-regulation)
- دوسروں کے جذبات کو
سمجھے (Empathy)
- اور بحران میں مثبت
رویہ برقرار رکھے
📚
حوالہ:
Goleman, D. (1995). Emotional Intelligence
بحران کے وقت قیادت کا اصل امتحان
بحران (Crisis) کی
حالت میں:
- فیصلے فوری ہوتے ہیں
- معلومات نامکمل ہوتی
ہے
- اور جذبات شدت
اختیار کر لیتے ہیں
ایسے میں اگر لیڈر خود گھبرا جائے تو پوری ٹیم عدم
استحکام کا شکار ہو جاتی ہے۔ جدید ریسرچ
(Harvard Business Review) کے مطابق:
“Leaders
set the emotional tone of their organizations.”
📚
حوالہ:
Harvard Business Review, “Primal Leadership” (2001)
رسول اللہ ﷺ کا اسوۂ حسنہ: جذباتی توازن کی اعلیٰ مثال
جب ہم سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں ہر مشکل
موقع پر جذباتی توازن کی اعلیٰ ترین مثالیں ملتی ہیں:
1. غزوۂ اُحد کا
واقعہ
شدید نقصان اور تکلیف کے باوجود، حضرت محمد ﷺ صلی اللہ
علیہ واٰلہ وسلم نے:
- صبر کا مظاہرہ کیا
- انتقام کے بجائے
حکمت کو ترجیح دی
- اور صحابہ کرامؓ کے
حوصلے بلند کیے
یہ جذباتی ذہانت
(Emotional Intelligence) کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔
2. فتح مکہ: طاقت کے
وقت نرمی
فتح مکہ جیسے عظیم موقع پر، جہاں بدلہ لیا جا سکتا تھا،
وہاں حضرت محمد ﷺ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا:
“آج
تم پر کوئی گرفت نہیں”
یہ فیصلہ صرف ایک حکمران کا نہیں بلکہ ایک جذباتی طور
پر بالغ (Emotionally Mature) لیڈر
کا تھا۔
📚
حوالہ:
ابن ہشام، سیرۃ النبی ﷺ
3. طائف کا واقعہ:
صبر کی انتہا
جب شدید اذیت دی گئی، تب بھی حضرت محمد ﷺ صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم نے بددعا کے بجائے ہدایت کی دعا کی۔
یہ ہمیں سکھاتا ہے:
- جذباتی ردعمل (Reaction) کے بجائے شعوری جواب (Response) دینا ہی اصل قیادت
ہے
جدید دنیا میں اطلاق
(Modern Application)
آج کے کارپوریٹ، سوشل، اور سیاسی ماحول میں ایک لیڈر کو:
1. Stress Management
- دباؤ میں فیصلے کرنا
- Panic کو
کنٹرول کرنا
2. ٹیم کو Motivate کرنا
- اعتماد پیدا کرنا
- مثبت ماحول برقرار
رکھنا
3. Crisis Communication
- واضح، پرسکون اور
بااعتماد گفتگو
📚
حوالہ:
APA (American Psychological Association), “Stress and Leadership” Reports
سیرتِ نبوی ﷺ اور جدید نفسیات کا امتزاج
دلچسپ بات یہ ہے کہ:
- جو اصول آج Emotional Intelligence کے
نام سے بیان ہو رہے ہیں
- وہ صدیوں پہلے حضرت
محمد ﷺ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی زندگی میں مکمل طور پر موجود تھے
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سیرتِ نبوی ﷺ نہ صرف روحانی
بلکہ نفسیاتی اور قیادتی اعتبار سے بھی مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
اہم اسباق
(Key Takeaways)
ایک کامیاب لیڈر کو چاہیے کہ:
- جذبات پر قابو رکھے،
نہ کہ جذبات اس پر قابو پائیں
- مشکل وقت میں امید
اور حوصلہ دے
- فیصلے عقل، حکمت اور
صبر سے کرے
- اور اپنی ٹیم کے لیے
رول ماڈل بنے
اختتامیہ
قیادت کا اصل حسن بحران کے وقت ظاہر ہوتا ہے۔ جدید
نفسیات ہمیں جذباتی ذہانت کی اہمیت بتاتی ہے، جبکہ حضرت محمد ﷺ صلی اللہ علیہ
واٰلہ وسلم کی مبارک زندگی ہمیں اس کا عملی نمونہ دکھاتی ہے۔
اگر آج کا لیڈر اسوۂ رسول ﷺ کو اپنا معیار بنا لے تو:
- وہ نہ صرف ایک
کامیاب منتظم بن سکتا ہے
- بلکہ ایک ایسا انسان
بھی جو دلوں کو جوڑتا ہے، اعتماد پیدا کرتا ہے، اور معاشرے میں مثبت تبدیلی
لاتا ہے
اللہ تعالیٰ ہمیں حضور نبی کریم ﷺ کے اسوۂ حسنہ پر عمل
کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں