نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مصنوعی ذہانت: ترقی کی بلند اڑان یا انسانی کنٹرول کے لیے چیلنج؟

مصنوعی ذہانت: ترقی کی بلند اڑان یا انسانی کنٹرول کے لیے چیلنج؟


(تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش )

(دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر)

انسانی تاریخ میں بعض ٹیکنالوجیاں ایسی آئی ہیں جنہوں نے تہذیب کا رخ بدل دیا۔ پہیہ، طباعت، بجلی، انٹرنیٹ — اور اب مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)۔ آج AI محض ایک سافٹ ویئر یا سہولت کا نام نہیں رہا، بلکہ یہ معیشت، طب، تعلیم، قانون، دفاع، میڈیا، حکومت، کاروبار اور روزمرہ زندگی کے ڈھانچے میں داخل ہو چکا ہے۔ اسی لیے اصل سوال یہ نہیں کہ AI مفید ہے یا مضر؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا انسان اس طاقت کو حکمت، اخلاق اور قانون کے تحت قابو میں رکھ پائے گا یا نہیں؟ جدید عالمی تحقیق بتاتی ہے کہ AI نے غیر معمولی رفتار سے ترقی کی ہے، اس کی لاگت کم ہوئی ہے، کارکردگی بڑھی ہے، اور ادارہ جاتی استعمال تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ساتھ ہی، AI سے متعلق واقعات اور نقصانات کی رپورٹیں بھی نمایاں طور پر بڑھی ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ترقی اور خطرہ دونوں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔

AI کی ترقی کا سب سے روشن پہلو اس کی پیداواری صلاحیت ہے۔ Stanford HAI کے 2025 AI Index کے مطابق AI اب معیشت، حکمرانی اور سماجی شعبوں پر پہلے سے کہیں زیادہ اثرانداز ہو رہی ہے، جبکہ کئی مطالعے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ AI اکثر کارکنوں کی productivity بڑھاتی اور بعض حالات میں کم تجربہ کار افراد اور ماہرین کے درمیان skill gap بھی کم کرتی ہے۔ NBER کے ایک معروف مطالعے میں 5,000 سے زیادہ customer-support کارکنوں کے ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ generative AI معاونت نے اوسط productivity میں تقریباً 14 فیصد اضافہ کیا، جبکہ نوآموز یا نسبتاً کم مہارت رکھنے والوں کے لیے فائدہ اس سے کہیں زیادہ تھا۔ MIT کے تجرباتی مطالعے میں ChatGPT جیسے اوزار نے پیشہ ورانہ تحریری کام میں وقت کم اور معیار بہتر کیا۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ AI محض “کام چھیننے” والی طاقت نہیں؛ درست استعمال میں یہ “کام بہتر کرنے” اور انسانی صلاحیت بڑھانے” والی قوت بھی ہے۔

صحت کے میدان میں AI کی افادیت اور بھی نمایاں ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے AI for Health کے بارے میں واضح کیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی صحت کے نظام کو زیادہ people-centered، equitable اور sustainable بنانے میں مدد دے سکتی ہے، جبکہ 2025 کی WHO guidance نے بڑی multi-modal AI systems کے صحت، تحقیق، عوامی صحت اور ادویہ سازی میں وسیع استعمال کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس کے عملی معنی یہ ہیں کہ AI تصویری تشخیص، disease pattern recognition، drug discovery، clinical documentation، اور public-health surveillance میں فیصلہ سازی کو تیز اور مؤثر بنا سکتی ہے۔ مگر WHO نے ساتھ یہ بھی واضح کیا کہ صحت کے میدان میں AI کو عوامی مفاد، شفافیت، احتساب اور انسانی نگرانی کے تابع رہنا چاہیے؛ ورنہ فائدے کے ساتھ سنگین نقصان بھی جنم لے سکتا ہے۔

تعلیم اور علم کی دنیا میں بھی AI ایک انقلابی موڑ ہے۔ آج یہ ذاتی نوعیت کی تعلیم، زبانوں کے درمیان ترجمہ، special-needs learning support، research assistance اور creative ideation میں مدد دے رہی ہے۔ UNESCO کی AI ethics recommendation نے واضح کیا کہ AI systems میں auditability، traceability، transparency اور human oversight ضروری ہیں، کیونکہ تعلیم اور علم کی تشکیل میں اگر الگورتھم غیر شفاف یا متعصب ہو جائیں تو وہ صرف غلطی نہیں کرتے بلکہ نسلوں کی فکری ساخت کو متاثر کرتے ہیں۔ اس لیے تعلیمی میدان میں AI کا بہترین کردار “استاد کا متبادل” نہیں بلکہ “استاد کا معاون” ہے؛ یعنی AI معلومات فراہم کرے، مگر تربیت، تنقیدی شعور اور اخلاقی سمت انسان ہی دے۔

معاشی سطح پر AI کی تیز رفتار پیش رفت حیران کن ہے۔ Stanford AI Index 2025 کے مطابق GPT-3.5 کے درجے کی کارکردگی دینے والے نظام کی inference cost نومبر 2022 سے اکتوبر 2024 کے درمیان 280 گنا سے زیادہ کم ہوئی، جبکہ hardware level پر لاگت میں سالانہ تقریباً 30 فیصد کمی اور energy efficiency میں سالانہ تقریباً 40 فیصد بہتری دیکھی گئی۔ OECD کے مطابق 2025 میں بعض OECD ممالک میں ادارہ جاتی سطح پر AI استعمال کرنے والی firms کا تناسب 20.2 فیصد تک پہنچ گیا، جو 2023 کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ رجحان دکھاتا ہے۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ AI اب تجربہ گاہ کی چیز نہیں؛ یہ سرمایہ، صنعت اور قومی مسابقت کا بنیادی جزو بنتی جا رہی ہے۔

لیکن جہاں ترقی کی یہ بلند اڑان ہے، وہیں انسانی کنٹرول کے لیے ایک بڑا چیلنج بھی موجود ہے: AI ہمیشہ سچ نہیں بولتی، مگر بہت اعتماد سے غلط بھی بول سکتی ہے۔ یہی وہ مسئلہ ہے جسے “hallucination” کہا جاتا ہے۔ مشہور مقدمہ Mata v. Avianca میں عدالت نے اس بات پر سخت ردِعمل دیا کہ وکلاء نے ChatGPT سے بنائے گئے جعلی عدالتی حوالہ جات جمع کرا دیے تھے۔ عدالتی ریکارڈ میں واضح ہوا کہ fake quotes اور non-existent cases پیش کیے گئے۔ یہ واقعہ محض ایک قانونی لغزش نہیں تھا؛ یہ اس بڑے خطرے کی علامت تھا کہ اگر AI outputs کی انسانی جانچ نہ ہو تو فیصلہ سازی، انصاف اور ادارہ جاتی اعتبار بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔

اسی طرح کاروباری دنیا میں Air Canada کے chatbot کا واقعہ ایک سبق آموز مثال ہے۔ 2024 میں ایک مقدمے میں کمپنی کو اس غلط معلومات کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا جو اس کے chatbot نے صارف کو دی تھی۔ اس واقعے نے یہ اصول واضح کیا کہ کوئی ادارہ اپنے AI نظام سے الگ ہو کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ “مشین نے غلطی کی، ہم ذمہ دار نہیں۔” درحقیقت AI جب ادارے کے نام، ویب سائٹ یا خدمت کے تحت کام کرتی ہے تو قانونی اور اخلاقی ذمہ داری انسانوں اور اداروں ہی پر عائد ہوتی ہے۔ AI کا ایک بڑا خطرہ یہی ہے کہ لوگ اس کے فیصلوں کو “مشینی غیر جانبداری” سمجھ کر بلا تنقید قبول کر لیتے ہیں، حالانکہ اصل جواب دہی ہمیشہ انسانی ہونی چاہیے۔

AI کا دوسرا بڑا خطرہ جمہوری عمل اور معلوماتی فضا کی آلودگی ہے۔ 2024 میں امریکہ میں Biden کی آواز کی نقل پر مبنی AI-generated robocalls کا واقعہ سامنے آیا، جن کا مقصد ووٹروں کو گمراہ کرنا تھا۔ اس معاملے پر امریکی FCC نے کارروائی کی اور بعد میں لاکھوں ڈالر جرمانہ بھی عائد کیا۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ generative AI محض تفریحی deepfake بنانے کا آلہ نہیں؛ یہ سیاسی مداخلت، انتخابی فریب، reputational harm اور عوامی اعتماد کی تباہی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ جب ایک مصنوعی آواز کسی قومی رہنما کی طرح سنائی دے، تو عام آدمی کے لیے حقیقت اور جعل سازی میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں AI، آزادیٔ اظہار کے بجائے، شعوری دھوکے اور نفسیاتی manipulation کا ہتھیار بن سکتی ہے۔

تیسرا بڑا چیلنج تعصب، نگرانی اور انسانی حقوق کا ہے۔ امریکی FTC نے Rite Aid کے facial recognition surveillance استعمال پر کارروائی کرتے ہوئے کمپنی کو پانچ سال کے لیے ایسی ٹیکنالوجی کے استعمال سے روکا، کیونکہ ادارہ مناسب safeguards نافذ کرنے میں ناکام رہا اور صارفین کو نقصان پہنچا۔ یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ AI اگر چہرہ شناسی، predictive policing، یا mass surveillance میں بلا احتیاط استعمال ہو تو کمزور طبقات، اقلیتوں اور عام شہریوں کی آزادی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ الگورتھم کا تعصب صرف تکنیکی خرابی نہیں؛ یہ سماجی ناانصافی کو خودکار شکل دینے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

AI کے بارے میں جدید عالمی فریم ورکس بھی یہی کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ “ٹیکنالوجی” نہیں بلکہ “گورننس” ہے۔ NIST کا AI Risk Management Framework اور اس کا 2024 Generative AI Profile اداروں کو یہ رہنمائی دیتا ہے کہ generative AI کے منفرد خطرات — مثلاً hallucinations، privacy leakage، harmful content، misuse، اور security risks — کو منظم انداز میں identify اور mitigate کیا جائے۔ OECD نے AI incidents monitor اور 2025 کے common reporting framework کے ذریعے اس بات پر زور دیا کہ AI سے متعلق نقصانات کا باقاعدہ اور معیاری اندراج ہونا چاہیے، کیونکہ غیر منظم یا مبہم رپورٹنگ کی وجہ سے دنیا ایک ہی غلطی بار بار دہراتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، AI کا سب سے بڑا حفاظتی حصار “اچھا ارادہ” نہیں بلکہ measurable governance ہے۔

قانونی دنیا بھی اب اس چیلنج کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ یورپی یونین کا AI Act یکم اگست 2024 کو نافذ ہوا، اور 2 فروری 2025 سے unacceptable-risk AI practices پر پابندیوں کا اطلاق شروع ہوا۔ یہ قانون اس بات کی علامت ہے کہ دنیا محض AI innovation کے جشن میں مصروف نہیں؛ بلکہ اس کے لیے ضابطہ، درجہ بندی، transparency obligations، اور accountability regimes بھی بنا رہی ہے۔ اس قانون کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ہر AI برابر نہیں: کچھ low-risk ہیں، کچھ high-risk، اور کچھ ایسے ہیں جنہیں سرے سے ممنوع ہونا چاہیے۔ یہی تفریق مستقبل کے AI دور میں بہت اہم ہوگی۔

ایک اور اہم پہلو ماحولیاتی و توانائیاتی بوجھ ہے۔ اگرچہ Stanford AI Index 2025 یہ دکھاتا ہے کہ AI hardware میں energy efficiency بہتر ہو رہی ہے، لیکن International Energy Agency نے 2025 کی اپنی analysis میں خبردار کیا کہ AI کی وجہ سے high-performance servers اور data centers کی بجلی طلب میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ UNEP نے بھی AI کے مکمل lifecycle کے environmental impact پر توجہ دلائی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ AI ایک طرف بہتر planning، transport optimization اور energy management کے ذریعے ماحول کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے، مگر دوسری طرف اگر compute hunger اور data-center expansion بے قابو ہو جائیں تو یہ پانی، توانائی اور carbon footprint پر دباؤ بھی بڑھا سکتی ہے۔ لہٰذا AI کی پائیداری (sustainability) بھی انسانی کنٹرول کے ایجنڈے کا لازمی حصہ ہے۔

ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ کہنا درست ہوگا کہ AI نہ خالصتاً رحمت ہے اور نہ مکمل زحمت؛ یہ طاقت ہے، اور ہر طاقت کی طرح اس کی قدر و قیمت اس بات سے متعین ہوتی ہے کہ اسے کون، کیسے، کس مقصد سے اور کس نگرانی کے تحت استعمال کرتا ہے۔ اگر AI کو صرف منافع، رفتار اور مارکیٹ dominance کے لیے چھوڑ دیا گیا تو یہ misinformation، بے روزگاری کے دباؤ، طاقت کے ارتکاز، سماجی نگرانی، اور انسانی خودمختاری کے زوال کا سبب بن سکتی ہے۔ لیکن اگر اسے اخلاق، قانون، شفافیت، auditability، human oversight، public-interest design، اور equitable access کے اصولوں کے ساتھ آگے بڑھایا گیا تو یہی AI طب، تعلیم، تحقیق، انتظام، معیشت اور انسانی خدمت کے میدان میں حیرت انگیز انقلاب برپا کر سکتی ہے۔ UNESCO اور WHO جیسے ادارے اسی انسان-مرکوز اصول پر زور دیتے ہیں کہ AI انسان کی خدمت کرے، انسان AI کی غلامی میں نہ جائے۔

میری رائے میں اصل سوال “AI کو روکا جائے یا نہیں” نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ AI کو انسانی وقار، اخلاقی حدود، قانونی جواب دہی، اور اجتماعی بھلائی کے تابع کیسے رکھا جائے۔ ایک عمدہ AI معاشرہ وہ ہوگا جہاں الگورتھم فیصلہ کرے مگر آخری اختیار انسان کے پاس ہو؛ مشین تجویز دے مگر ذمہ داری انسان اٹھائے؛ نظام تیز ہو مگر انصاف قربان نہ ہو؛ ترقی بڑھے مگر سچ، آزادی اور انسانیت مجروح نہ ہوں۔ اسی توازن میں مستقبل کی کامیابی ہے۔ پس، مصنوعی ذہانت واقعی ترقی کی بلند اڑان بھی ہے — مگر صرف اسی وقت جب اس کے پروں پر انسانی عقل، اخلاق اور کنٹرول کا ہاتھ موجود ہو۔ ورنہ یہی پرواز انسان کو اس بلندی پر لے جا سکتی ہے جہاں سے واپسی مشکل ہو جائے۔

  

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

فلسطین کی باتیں (فلسطین کے معنی)

 ف ل س ط ي ن  کی باتیں ( ف ل س ط ي ن  کے معنی) تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) میں ایک عرصے سے تحریر و تحقیق سے وابستہ ہوں ۔کئی موضوعات پر لکھابھی اور بولابھی ۔لیکن آج اپریل 2025 کو جب میں فلسطین کے بارے میں لکھنے لگاتو میری روح کانپ رہی تھی ۔ضمیر ندامت و پشیمان ،ہاتھ کپکپارہے تھے ۔ذہن پر ایک عجیب ہیجانی کیفیت طاری ہے ۔لیکن سوچا کہ میں اپنے حصے کا جو کام کرسکتاہوں کہیں اس میں مجھ سے کوئی غفلت نہ ہو ۔چنانچہ سوچاآپ پیاروں سے کیوں نہ فلسطین کی باتیں کرلی جائیں ۔ قارئین :میں نے سوچا کیوں نہ لفظ فلسطین کی لفظی و لغوی بحث کو آپ کی معلومات کے لیے پیش کیاجائے ۔ فلسطین! ایک ایسا نام جو صرف جغرافیائی حدود یا قوموں کی پہچان نہیں، بلکہ ایک مقدس سرزمین، انبیاء کی جائے قیام، مسلمانوں کا قبلۂ اول، اور دنیا بھر کے مظلوموں کی علامت بن چکا ہے۔ اس تحریر میں ہم "فلسطین" کے معنی اور مفہوم کو لغوی، تاریخی، اور اسلامی زاویوں سے اجاگر کریں گے۔ لغوی تجزیہ: لفظ "فلسطین" " فلسطین" کا لفظ غالباً قدیم سامی زبانوں جیسے عبرانی یا آرامی سے آیا ہے۔ اکثر ...

بیٹیوں کی باتیں

بیٹیوں کی باتیں تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) یہ بات ہے آج سے ٹھیک 15سال پہلے کی جب ہم اسٹار گیٹ کراچی میں رہتے تھے ۔اللہ کریم نے مجھے بیٹی کی نعمت سے نوازا۔جب علی میڈیکل اسپتال کی ڈاکٹرنے مجھے بتایاکہ اللہ پاک نے آپکو بیٹی عطافرمائی ہے ۔میری خوشی کی انتہانہیں تھی ۔آپ یقین کریں اس بیٹی کی ولادت کے صدقے رب نے مجھے بہت نواز مجھے خیر ہی خیر ملی ۔آج وہ بیٹی نورالایمان  کے نام سے حافظہ نورالایمان  بن چکی ہیں ایک اچھی رائٹر کے طورپر مضامین بھی لکھتی ہیں ۔بیانات بھی کرتی ہیں اور اپنے بابا کو آئے دن دینی مسائل  کے بارے میں بھی بتاتی ہیں،گھر میں فرض روزوں کے علاوہ نفلی روزوں و توفیق من اللہ سے تہجد کا اہتمام بھی کرواتی ہیں ، میراخیال بھی بہت رکھتی ہیں ۔جبکہ نورالعین سب سے چھوٹی بیٹی ہیں جو بے انتہاپیارکرتی ہیں کتناہی تھکان ہو وہ سینے سے لپٹ جاتی ہیں تو سب غم غلط ہوجاتے ہیں ۔میں اپنی بیٹیوں کی داستان و کہانی آپ پیاروں کو اس لیے سنارہاوہوں کہ تاکہ آپ کو ٹھیک سے معلوم ہوسکے کہ ایک باپ بیٹیوں کو کیسا محسوس کرتاہے اور بیٹیوں کو والدین سے کتنا حسین تعلق...

"ڈی این اے میں چھپا روحانی کوڈ؟"

" DNA میں چھپا روحانی کوڈ؟ " تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر)  ہم روٹین کی روایتی زندگی گزاررہے ہوتے ہیں ۔لیکن ہم اس کائنات کے رازوں پر غور کی زحمت نہیں کرتے ۔میں بھی  عمومی زندگی گزارنے والا شخص ہی ہوں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے مطالعہ ،مشاہد ہ بڑھتارہامجھے کھوج لگانے ،سوچنے اور سمجھنے کا ذوق ملا۔اس کافائدہ یہ ہوا کہ مجھ پر علم نئی جہات کھُلی ۔بات کہیں طویل نہ ہوجائے ۔میں کافی وقت سے سوچ رہاتھا کہ اس دور میں سائنس نے بہت ترقی کرلی ۔ڈین این اے کے ذریعے انسان کی نسلوں تک کےراز معلوم کیے جارہے ہیں ۔میں سوچ رہاتھاکہ کیا ڈین این اے ہماری عبادت یاپھر عبادت میں غفلت کوئی اثر ڈالتی ہے یانہیں ۔بہت غوروفکر اور اسٹڈی کے بعد کچھ نتائج ملے ۔ایک طالب علم کی حیثیت سے آپ سے شئیر بھی کرتاہوں ۔ممکن ہے کہ میری یہ کوشش آپ کے لیے بھی ایک لرننگ پراسس ثابت ہو۔ قارئین: ایک سوال ذہن میں آتاہے کہ کیاکیا نماز پڑھنے، روزہ رکھنے یا ذکر کرنے سے صرف ثواب ملتا ہے؟یا … آپ کی عبادتیں آپ کے DNA پر بھی اثر ڈالتی ہیں؟ یہ ہے تواچھوتاسوال آئیے ذرا اس کو حل کرتے ہیں ۔۔۔ قارئی...