تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش
جدید دنیا میں انسان نے سہولت، رفتار اور معلومات کے
حصول کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو اپنا سب سے قریبی ساتھی بنا لیا ہے۔ موبائل فون،
سوشل میڈیا، آن لائن بینکنگ، کلاؤڈ اسٹوریج اور مصنوعی ذہانت نے زندگی کو بظاہر
آسان بنا دیا ہے، مگر اسی آسانی کے پردے میں ایک خاموش مگر خطرناک حقیقت چھپی ہوئی
ہے—ڈیجیٹل
پرائیویسی کا زوال اور سائبر عدم تحفظ۔یہ
محض ٹیکنالوجی کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ اب یہ ایک نفسیاتی، طبی، سائنسی اور
معاشرتی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
ڈیجیٹل پرائیویسی سے مراد یہ ہے کہ انسان کی ذاتی
معلومات—جیسے شناخت، تصاویر، پیغامات، مالی تفصیلات، لوکیشن اور خیالات—بغیر اجازت
کے کسی کے استعمال، نگرانی یا تجارت کا حصہ نہ بنیں۔
مگر آج کا ڈیجیٹل صارف اکثر یہ نہیں جانتا کہ وہ جو ایک
ایپ ڈاؤن لوڈ کرتا ہے، وہ اس کی زندگی کے کتنے دروازے کھول دیتا ہے۔ ہماری پسند،
ناپسند، کمزوریاں اور عادات ڈیٹا کی صورت میں محفوظ ہو جاتی ہیں، اور یہی ڈیٹا بعد
میں ہمارے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔
نفسیاتی پہلو: نگرانی کا خوف اور ذہنی دباؤ
جب انسان کو یہ احساس ہو کہ اس کی ہر حرکت دیکھی جا رہی
ہے، تو وہ لاشعوری طور پر عدم تحفظ کا شکار ہو جاتا ہے۔
ڈیجیٹل نگرانی (Digital Surveillance) انسان
کی آزادیِ اظہار کو محدود کرتی ہے، اعتماد کو کمزور کرتی ہے اور ذہنی دباؤ،
بے چینی اور خوف کو جنم دیتی ہے۔
سوشل میڈیا پر ڈیٹا لیکس، ہیکنگ اور بلیک میلنگ کے
واقعات نے نوجوانوں میں ڈپریشن اور خود اعتمادی کی کمی کو بڑھایا ہے۔ انسان
اب لوگوں سے نہیں، بلکہ اسکرین سے ڈرنے لگا ہے۔
طبی پہلو: ذہنی صحت اور اعصابی اثرات
سائبر حملوں کا شکار ہونے والے افراد میں نیند کی
خرابی، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا، اور مستقل خوف کی کیفیت دیکھی گئی ہے۔
آن لائن ہراسگی (Cyber Harassment) اور ڈیجیٹل بلیک
میلنگ بعض اوقات افراد کو شدید ذہنی صدمے تک پہنچا دیتی ہے، حتیٰ کہ بعض ممالک میں
ایسے واقعات خودکشی جیسے المناک انجام تک جا پہنچے۔
یہ مسئلہ اب محض کمپیوٹر سائنس کا نہیں رہا، بلکہ ذہنی
صحت (Mental
Health) کا
سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔
سائنسی پہلو: ڈیٹا، الگورتھمز اور طاقت
سائنس کی زبان میں ڈیٹا نئی دنیا کا تیل ہے۔ جدید
الگورتھمز انسان کے رویّوں کی پیش گوئی کرتے ہیں، اور بعض اوقات انہیں کنٹرول بھی
کرتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت (AI) اور بگ ڈیٹا نے یہ ممکن
بنا دیا ہے کہ انسان کو اس کی سوچ سے پہلے جان لیا جائے۔ سوال یہ نہیں کہ
ٹیکنالوجی کتنی طاقتور ہے، سوال یہ ہے کہ اس طاقت کا مالک کون ہے؟
جب ڈیٹا چند کارپوریشنز یا ریاستی اداروں کے ہاتھ میں
مرتکز ہو جائے تو انسانی آزادی ایک نظریہ بن کر رہ جاتی ہے۔
معاشرتی پہلو: اعتماد کا بحران
ڈیجیٹل عدم تحفظ نے معاشرے میں باہمی اعتماد کو کمزور
کر دیا ہے۔
آن لائن فراڈ، شناخت کی چوری، جعلی پروفائلز اور ڈیپ
فیک ویڈیوز نے سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کو دھندلا دیا ہے۔
ایک ایسا معاشرہ جنم لے رہا ہے جہاں انسان دوسرے انسان
پر نہیں، بلکہ “ویریفیکیشن” پر یقین کرتا ہے—اور یہ کسی بھی سماج کے لیے خطرے کی
گھنٹی ہے۔
ایک بین الاقوامی واقعہ: فیس بک–کیمبرج اینالیٹیکا
اسکینڈل
2018 میں سامنے آنے والا فیس
بک–کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل دنیا کے لیے ایک آنکھ کھول دینے والا واقعہ تھا۔
کروڑوں صارفین کا ذاتی ڈیٹا ان کی اجازت کے بغیر حاصل
کر کے سیاسی رائے سازی کے لیے استعمال کیا گیا۔
یہ واقعہ اس بات کا ثبوت تھا کہ ڈیجیٹل پرائیویسی صرف
فرد کا نہیں، بلکہ جمہوریت، رائے اور آزادی کا مسئلہ بھی ہے۔
فکری و اخلاقی زاویہ
ادب اور فکر کی زبان میں کہا جائے تو:
“جب انسان اپنی ذات کی
حفاظت نہیں کر پاتا، تو وہ اپنی شناخت بھی کھو دیتا ہے۔”
اسلامی تناظر میں بھی پرائیویسی کو غیر معمولی اہمیت
حاصل ہے—کسی کی اجازت کے بغیر جھانکنا، سننا یا معلومات حاصل کرنا سخت ناپسندیدہ
عمل ہے۔
ڈیجیٹل دنیا میں یہی اصول ایک نئے امتحان کی صورت میں
ہمارے سامنے ہے۔
نتیجہ: شعور ہی سب سے مضبوط سیکیورٹی ہے
قوانین، فائر والز اور اینٹی وائرس اپنی جگہ، مگر اصل
سائبر سیکیورٹی شعور سے جنم لیتی ہے۔
جب تک انسان یہ نہیں سمجھے گا کہ اس کا ڈیٹا اس کی عزت،
ذہنی سکون اور آزادی سے جڑا ہوا ہے، تب تک وہ خود ہی اپنے دروازے دشمن کے لیے کھلے
رکھے گا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ڈیجیٹل سہولتوں کو غلامی
میں بدلنے نہ دیں، اور ٹیکنالوجی کو انسان کے تابع رکھیں—نہ کہ انسان کو ٹیکنالوجی
کا تابع بنا دیں۔
ڈیجیٹل پرائیویسی اور سائبر سیکیورٹی کے خطرات سے مکمل
نجات شاید ممکن نہ ہو، مگر شعور، احتیاط اور درست رویّے کے ذریعے ان خطرات
کو بڑی حد تک کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ جدید انسان کے لیے اب یہ تدابیر اختیاری
نہیں بلکہ ناگزیر ہو چکی ہیں۔
1. معلومات
کا محتاط استعمال
ہر ایپ، ہر ویب سائٹ اور ہر آن لائن پلیٹ فارم پر اپنی
ذاتی معلومات فراہم کرنے سے پہلے یہ سوال ضرور کیا جائے:
کیا یہ معلومات واقعی ضروری ہیں؟
غیر ضروری اجازتیں (Permissions) دینا، جیسے لوکیشن،
کانٹیکٹس اور کیمرہ—اپنی پرائیویسی خود کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
2. مضبوط
پاس ورڈ اور ڈیجیٹل نظم
- ہر اکاؤنٹ کے لیے الگ
اور مضبوط پاس ورڈ استعمال کیا جائے
- دوہری تصدیق (Two-Factor Authentication)
کو لازمی اپنایا جائے
- پاس ورڈ کو کاغذ،
اسکرین شاٹ یا چیٹ میں محفوظ کرنے سے گریز کیا جائے
یہ معمولی احتیاطیں بڑے سائبر حملوں کے خلاف پہلی دفاعی
دیوار ثابت ہوتی ہیں۔
3. سوشل
میڈیا پر محتاط طرزِ عمل
سوشل میڈیا پر ہر بات شیئر کرنا خود کو غیر مرئی نگرانی
کے سپرد کرنے کے مترادف ہے۔
- ذاتی تصاویر، لوکیشن
اور نجی معاملات کی نمائش سے اجتناب
- اجنبی لنکس، میسجز
اور کالز پر فوری ردعمل نہ دینا
- جعلی اکاؤنٹس اور
جذباتی بلیک میلنگ سے ہوشیار رہنا
یاد رکھنا چاہیے:
جو چیز ایک بار انٹرنیٹ پر چلی جائے، وہ ہمیشہ کے لیے
وہیں رہتی ہے۔
4. نفسیاتی
آگاہی اور خود اعتمادی
آن لائن ہراسگی یا بلیک میلنگ کی صورت میں:
- خاموشی اختیار کرنا
حل نہیں
- قابلِ اعتماد افراد،
ماہرین یا متعلقہ اداروں سے رابطہ ضروری ہے
- خود کو قصوروار
سمجھنا سب سے خطرناک نفسیاتی غلطی ہے
ڈیجیٹل جرائم کا شکار ہونا کمزوری نہیں، بلکہ جرم کا
نشانہ بننا ہے۔
5. بچوں
اور نوجوانوں کی ڈیجیٹل تربیت
والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ:
- بچوں کو صرف موبائل
دینا نہیں، بلکہ ڈیجیٹل آداب بھی سکھائیں
- آن لائن دوستی اور
نجی گفتگو کے خطرات سے آگاہ کریں
- اعتماد کا ایسا
ماحول پیدا کریں کہ بچہ خوف کے بغیر بات کر سکے
ڈیجیٹل تعلیم، اخلاقی تربیت کے بغیر ادھوری ہے۔
قارئین :پردہ، اجازت، ستر پوشی اور حسنِ ظن—ڈیجیٹل دنیا
میں بھی اتنے ہی لازم ہیں جتنے حقیقی زندگی میں۔
اگر انسان دوسروں کی پرائیویسی کا احترام سیکھ لے تو آدھے سائبر جرائم خود بخود ختم ہو جائیں۔جدید دنیا میں اصل جنگ ہتھیاروں کی نہیں، ڈیٹا، شعور اور اختیار کی ہے۔جو قومیں اپنی ڈیجیٹل پرائیویسی کی حفاظت نہیں کرتیں، وہ آہستہ آہستہ اپنی فکری آزادی بھی کھو دیتی ہیں۔لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ٹیکنالوجی استعمال کریں—مگر ہوش کے ساتھ،اعتماد رکھیں—مگر آنکھیں کھلی رکھ کر،اور جدید دنیا میں رہیں—مگر اپنی شناخت اور اقدار کے ساتھ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں