عادی مریض شخص (Substance Use Disorder)
مادّہ جاتی لت ایک سنجیدہ جسمانی اور نفسیاتی مرض ہے جس
میں انسان نشہ آور اشیاء—جیسے منشیات، الکحل یا بعض دوائیں—استعمال کرنے پر اس حد
تک مجبور ہو جاتا ہے کہ اسے اپنے عمل کے نقصان کا پورا شعور ہونے کے باوجود وہ خود
کو روک نہیں پاتا۔ یہ مرض آہستہ آہستہ انسان کی سوچ، عادت اور زندگی پر قابض ہو
جاتا ہے۔
کیوں ہوتا ہے؟
یہ لت اکثر ذہنی دباؤ، شدید غم، جذباتی محرومی، تنہائی،
ناکامی، غلط صحبت، تجسس، یا وقتی سکون کی تلاش سے شروع ہوتی ہے۔ بعض اوقات خاندانی
ناچاقی، معاشی مسائل اور معاشرتی بے توجہی بھی انسان کو اس راستے پر دھکیل دیتی
ہے۔ علامات:
نشہ بار بار کرنے کی شدید خواہش، مقدار میں اضافہ، چھوڑنے پر گھبراہٹ، غصہ اور بے چینی، جھوٹ بولنا، چڑچڑاپن، ذمہ داریوں سے غفلت، جسمانی کمزوری، اور آہستہ آہستہ رشتوں اور عزت کا بکھر جانا۔
کیفیت:
دل میں مسلسل اضطراب، دماغ میں بے قراری، جسم میں طلب
کی تڑپ—اور روح میں ایک گہرا خلا۔ انسان جانتا ہے کہ یہ راستہ غلط ہے، مگر خواہش
کی زنجیر اُسے باندھے رکھتی ہے۔
مریض کو کیا
کرنا چاہیے؟
سب سے پہلے سچ کو قبول کرنا—کہ یہ مسئلہ ہے۔ پھر تنہا
لڑنے کے بجائے مدد مانگنا، ماہرِ نفسیات یا معالج سے رجوع کرنا، علاج شروع کرنا
اور ایسے لوگوں سے جُڑنا جو سہارا اور حوصلہ دے سکیں۔ یہی شفا کی پہلی سیڑھی ہے۔
نفسیاتی پہلو:
یہ کمزوری یا بے دینی نہیں بلکہ ایک باقاعدہ بیماری ہے۔
دماغ کے کیمیکل نظام میں بگاڑ آ جاتا ہے، اسی لیے صرف نصیحت نہیں بلکہ ہمدردی،
سمجھ اور علاج ضروری ہوتا ہے۔
معاشرتی پہلو:
یہ لت صرف ایک فرد کو نہیں، پورے خاندان کو متاثر کرتی
ہے۔ اعتماد ٹوٹتا ہے، گھر کا سکون بکھرتا ہے، اور معاشرہ ایک کارآمد انسان سے
محروم ہو جاتا ہے۔
طبی و نفسیاتی
حل:
ڈی ٹاکسیفکیشن، مناسب ادویات، کاؤنسلنگ، رویہ جاتی
تھراپی، فیملی سپورٹ اور مستقل فالو اَپ—یہ سب مل کر آہستہ آہستہ انسان کو اس قید
سے آزاد کرتے ہیں۔
اسلامی حل (خوبصورت اور ادبی انداز):
اسلام انسان کو گناہ کے بعد بھی امید دیتا ہے، مایوسی نہیں۔توبہ ایک دروازہ ہے جو کبھی بند نہیں ہوتا،دعا وہ روشنی ہے جو اندھیرے میں راستہ دکھاتی ہے،اور صبر وہ طاقت ہے جو کمزور کو مضبوط بنا دیتی ہے۔جب بندہ سچے دل سے ربّ کی طرف لوٹتا ہے،تو عادتیں بدلتی ہیں، زنجیریں ٹوٹتی ہیں،دل کو سکون ملتا ہے، اور زندگی کو نیا مقصد ملتا ہے۔ یاد رکھیں:مایوسی کفر ہے، اور امید ایمان۔آج ایک قدم اُٹھائیں—اللہ کی رحمت آپ کے قدموں سے آگے،اور شفا آپ کے ارادے کے ساتھ ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں