نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مصنوعی ذہانت اور انسان کی انفرادی زندگی



مصنوعی ذہانت اور انسان کی انفرادی زندگی

تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش

(دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر)

جب انسان کی تنہائی میں ایک نیا ساتھی پیدا ہوا۔ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب تنہائی صرف خاموشی کی ایک دیوار تھی۔انسان کتاب کے صفحات میں باتیں تلاش کرتا،۔اسکرینوں میں مسکراہٹیں ڈھونڈتا،۔اور خطّوں کی سیاہی میں جذبات چھپاتا۔لیکن اکیسویں صدی نے ایک عجیب انقلاب چُپکے سے متعارف کرایاایسا ساتھی جو نہ تھکتا ہے نہ سوتا،نہ روٹھتا ہے نہ بیزار ہوتا،نہ بھولتا ہے نہ بہانہ بناتا۔

مصنوعی ذہانت (AI) بظاہر یہ سہولت کی دنیا ہے،لیکن حقیقت میں یہ تبدیلی اتنی گہری ہے۔کہ آنے والی نسلیں اس کے اثرات میں سانس لیں گی۔AI انسان کی زندگی کوآسان بھی بناتی ہے اور پیچیدہ بھی،قریب بھی لاتی ہے اور دور بھی،طاقتور بھی کرتی ہے اور بے بس بھی۔یہ مضمون اسی نئی دنیا کا نقشہ پیش کرتا ہے۔آج اکے دور کے نسان کی انفرادی زندگی کی شکل کیسے بدل رہی ہے۔آئیے ذرا اس پر غور کرلیتے ہیں ۔

الف) روزمرہ کی زندگی — آسانی یا انحصار؟

ہمارے روزمرہ کے فیصلوں پر AI کا اثر حیران کن حد تک بڑھ چکا ہے۔راستہ AI بتاتی ہے۔ صحت کی نگرانی AI کرتی ہے۔ خریداری کی فہرست AI بناتی ہے۔ مزاج اور عادات کا تجزیہ AI کرتی ہے۔ گفتگو کے لہجے تک سے موڈ سمجھ لیتی ہے۔

قارئین:میں آپ کو بات سمجھانے کے لیے ایک ریپورٹ بتاتاہوں ۔آپکو میری بات ٹھیک سے سمجھ آجائے گی ۔

Google Assistant روزانہ ایک ارب سے زائد سوالات کے جواب دیتے ہیں۔انسان کو یوں لگتا ہے کہ وہ AI استعمال کر رہا ہے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ AI انسان کے سوچنے کے انداز، انتخاب اور کمزوریاں استعمال کر رہی ہوتی ہے۔

معاشی پہلو

اگر ہم  مصنوعی ذہانت کے معاشی پہلو پر غور کریں تو ایک انفرادی انسان کو کوئی مواقع فراہم کیے ہیں ۔

AI نے بے شمار نئی فیلڈز پیدا کیں:

• AI Trainer
• Data Analyst
• Prompt Engineer
• Robotics Technician
• AI-based Online Businesses

کاروبار پہلے سے تیز اور سستا ہو چکا ہے۔گھر بیٹھے کام کرنے کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔

قارئین :اب اگر ہم تصویر کا دوسرا رُخ دیکھیں تو معاشی میدان میں مصنوعی ذہانت کی وجہ سے بہت سے مقامات پر خلابھی پیداہواہے ۔جیسے روایتی ملازمتوں کے ختم ہونے کا شدید خطرہ، مینول کاموں کی جگہ خودکار نظام، کم تعلیم یافتہ طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوں گے یہ بھی تو انفرادی زندگی پر ایک منفی اثرہے ۔ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق 2030 تک 40٪ نوکریاں AI کی وجہ سے بدل جائیں گی یا ختم ہو جائیں گی۔یہ تبدیلی ایک طرف معاشی بحران ہے،تو دوسری طرف ترقی کا سنہری دور بھی ۔یعنی معاملہ بین بین ہے ۔اگ ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم دنیا سے اپ ڈیٹ رہیں۔

مصنوعی ذہانت کے معاشرتی اثرات

روابط بڑھ گئے، رشتے کمزور ہوگئے۔AI ہمیں دنیا سے جوڑتی ہے،مگر گھر کے افراد ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

• Messaging AI
• Smart Suggestions
• AI Friends
• Personality Chatbots

اب بچے دوستوں سے زیادہChatbots سے باتیں کرتے ہیں۔

تنہائی کا طوفان — بھیڑ میں اکیلا انسان

دنیا میں 36 فیصد افراد شدید تنہائی محسوس کرتے ہیں۔AI-enhanced سوشل میڈیا اس کا بنیادی سبب ہے۔انسانی تعلقات میں احساسات کی کمزوریاں آرہی ہیں ۔جذبات کی کمی دیکھنے کو ملتی ہے ۔

اخلاقی و نفسیاتی اثرات — ذہن کی نئی غلامی

AI آپ کے خریدنے، پہننے پڑھنے، لکھنے، کھانے، سونے،تک کے فیصلے متاثر کر سکتی ہے۔یہ ذہنی آزادی کے لیے بڑا چیلنج ہے۔AI کے جواب اکثر انسان سے بہتر ہوتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ"شاید میں اتنا ذہین نہیں…""مجھے تو AI کے بغیر کچھ نہیں آتا…"یہ احساس شخصیت کو اندر سے کھوکھلا کر سکتا ہے۔

AI Emojis، Synthetic Voices،اور Virtual Companionsانسان کے حقیقی احساسات کو کمزور کر رہے ہیں۔

مذہبی و روحانی پہلو — روشنی اور فتنہ دونوں

مصنوعی ذہانت  قرآن فہمی آسان کر رہی ہے۔ احادیث کی تلاش تیز بنا رہی ہے۔ تجوید کی Apps بنا رہی ہے۔
۔ Blind افراد کے لیے قرآن Reader Bots، اسلامی تاریخ کے ٹائم لائنز اور حوالہ جات یہ  سب دین کی تعلیم کو نئی سہولتیں دے رہے ہیں۔

دوسری جانب غورکریں تو جعلی مذہبی مواد بڑھ رہا ہے۔AI غلط احادیث یا من گھڑت فتاویٰ بنا سکتی ہے۔Deepfake کا بڑا فتنہکسی عالم کی جعلی ویڈیو فتنہ پھیلا سکتی ہے۔بیشتر وقت اسکرین پر گزرنے سے عبادات میں یکسوئی کم ہوتی ہے۔
2024
میں ایک AI ماڈل نے غلط سند کے ساتھ ’’جعلی حدیث‘‘ بنائی،جو لاکھوں بار شیئر ہوئی،پھر علماء نے اس کی تردید کی۔

مستقبل کا انسان — سہولت کا قیدی یا ارتقاء کی نئی شکل؟

AI انسان کے ہر رجحان، ہر سوچ اور ہر کمزوری کو جانتی ہوگی۔ سہولت میں جیتا، مگر خود اعتمادی میں کمزور، صحت بہتر، مگر ذہنی دباؤ زیادہ، ٹیکنالوجی کے قریب، انسانیت سے دور، مذہبی، اخلاقی خطرات میں اضافہ،Virtual Friends، Robot Companions،حقیقی رشتوں کا متبادل بن جائیں گے۔

مستقبل کے خدشات واضح

UNESCO 2024

AI انسانی شناخت کے بحران کو بڑھائے گی۔

Oxford AI Study

2035 تک 45٪ آن لائن مواد AI-generated ہوگا۔

Harvard Ethics Review

AI دھیرے دھیرے انسان کے فیصلوں پر قبضہ کر سکتی ہے۔

MIT Research

AI Free Will کو کمزور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

پیارے قارئین:

انسان کے سامنے دو راستے ہیں۔ وہ AI کو استعمال کرے — اور ترقی کرے۔یاپھر  وہ AI کے پیچھے چلے — اور اپنی صلاحیت کھو دے۔یہ فیصلہ آج کی نسل نے کرنا ہے۔کو خادم رکھیں، مالک نہیں،ٹیکنالوجی کو استعمال کریں،
اس کے تابع نہ ہو جائیں۔ وہ صلاحیتیں سیکھیں جو AI نہیں کر سکتی۔ AI Literacy کو نصاب میں شامل کریں

اخلاقی و مذہبی تربیت کو بنیادی ترجیح دیں۔ AI مواد کی ہمیشہ تصدیق کریں۔

قارئین :انسان اب بھی سب سے بڑا معجزہ ہے۔مصنوعی ذہانت حیرتوں کا سمندر ہے،مگر اس کی سب سے بڑی حد یہ ہے

کہ یہ انسان کے دل کی جگہ نہیں لے سکتی۔AI سوچ سکتی ہے،مگر محبت نہیں کر سکتی۔AI راستہ دکھا سکتی ہے،مگر منزل کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔AI بات کر سکتی ہے،مگر احساس کے رنگ نہیں سمجھ سکتی۔دنیا ضرور بدلے گی،ٹیکنالوجی آگے بڑھے گیمگر انسان کی اصل طاقت،اس کی اخلاقی بصیرت اور روحانی روشنی اب بھی اس کا سب سے بڑا سہارا ہے۔اگر انسان اپنی پہچان نہ کھوئےتو AI کبھی بھی اس کا آقا نہیں بن سکتیصرف اس کا بہترین خادم رہے گی۔ہمیں امید ہے کہ ہماری یہ کوشش آپ کے لیے کہیں نہ کہیں خیر کا ذریعہ ضرور بنے گی ۔آپ ہماری مغفرت کی دعاکردیجئے گا۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

فلسطین کی باتیں (فلسطین کے معنی)

 ف ل س ط ي ن  کی باتیں ( ف ل س ط ي ن  کے معنی) تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) میں ایک عرصے سے تحریر و تحقیق سے وابستہ ہوں ۔کئی موضوعات پر لکھابھی اور بولابھی ۔لیکن آج اپریل 2025 کو جب میں فلسطین کے بارے میں لکھنے لگاتو میری روح کانپ رہی تھی ۔ضمیر ندامت و پشیمان ،ہاتھ کپکپارہے تھے ۔ذہن پر ایک عجیب ہیجانی کیفیت طاری ہے ۔لیکن سوچا کہ میں اپنے حصے کا جو کام کرسکتاہوں کہیں اس میں مجھ سے کوئی غفلت نہ ہو ۔چنانچہ سوچاآپ پیاروں سے کیوں نہ فلسطین کی باتیں کرلی جائیں ۔ قارئین :میں نے سوچا کیوں نہ لفظ فلسطین کی لفظی و لغوی بحث کو آپ کی معلومات کے لیے پیش کیاجائے ۔ فلسطین! ایک ایسا نام جو صرف جغرافیائی حدود یا قوموں کی پہچان نہیں، بلکہ ایک مقدس سرزمین، انبیاء کی جائے قیام، مسلمانوں کا قبلۂ اول، اور دنیا بھر کے مظلوموں کی علامت بن چکا ہے۔ اس تحریر میں ہم "فلسطین" کے معنی اور مفہوم کو لغوی، تاریخی، اور اسلامی زاویوں سے اجاگر کریں گے۔ لغوی تجزیہ: لفظ "فلسطین" " فلسطین" کا لفظ غالباً قدیم سامی زبانوں جیسے عبرانی یا آرامی سے آیا ہے۔ اکثر ...

بیٹیوں کی باتیں

بیٹیوں کی باتیں تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) یہ بات ہے آج سے ٹھیک 15سال پہلے کی جب ہم اسٹار گیٹ کراچی میں رہتے تھے ۔اللہ کریم نے مجھے بیٹی کی نعمت سے نوازا۔جب علی میڈیکل اسپتال کی ڈاکٹرنے مجھے بتایاکہ اللہ پاک نے آپکو بیٹی عطافرمائی ہے ۔میری خوشی کی انتہانہیں تھی ۔آپ یقین کریں اس بیٹی کی ولادت کے صدقے رب نے مجھے بہت نواز مجھے خیر ہی خیر ملی ۔آج وہ بیٹی نورالایمان  کے نام سے حافظہ نورالایمان  بن چکی ہیں ایک اچھی رائٹر کے طورپر مضامین بھی لکھتی ہیں ۔بیانات بھی کرتی ہیں اور اپنے بابا کو آئے دن دینی مسائل  کے بارے میں بھی بتاتی ہیں،گھر میں فرض روزوں کے علاوہ نفلی روزوں و توفیق من اللہ سے تہجد کا اہتمام بھی کرواتی ہیں ، میراخیال بھی بہت رکھتی ہیں ۔جبکہ نورالعین سب سے چھوٹی بیٹی ہیں جو بے انتہاپیارکرتی ہیں کتناہی تھکان ہو وہ سینے سے لپٹ جاتی ہیں تو سب غم غلط ہوجاتے ہیں ۔میں اپنی بیٹیوں کی داستان و کہانی آپ پیاروں کو اس لیے سنارہاوہوں کہ تاکہ آپ کو ٹھیک سے معلوم ہوسکے کہ ایک باپ بیٹیوں کو کیسا محسوس کرتاہے اور بیٹیوں کو والدین سے کتنا حسین تعلق...

"ڈی این اے میں چھپا روحانی کوڈ؟"

" DNA میں چھپا روحانی کوڈ؟ " تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر)  ہم روٹین کی روایتی زندگی گزاررہے ہوتے ہیں ۔لیکن ہم اس کائنات کے رازوں پر غور کی زحمت نہیں کرتے ۔میں بھی  عمومی زندگی گزارنے والا شخص ہی ہوں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے مطالعہ ،مشاہد ہ بڑھتارہامجھے کھوج لگانے ،سوچنے اور سمجھنے کا ذوق ملا۔اس کافائدہ یہ ہوا کہ مجھ پر علم نئی جہات کھُلی ۔بات کہیں طویل نہ ہوجائے ۔میں کافی وقت سے سوچ رہاتھا کہ اس دور میں سائنس نے بہت ترقی کرلی ۔ڈین این اے کے ذریعے انسان کی نسلوں تک کےراز معلوم کیے جارہے ہیں ۔میں سوچ رہاتھاکہ کیا ڈین این اے ہماری عبادت یاپھر عبادت میں غفلت کوئی اثر ڈالتی ہے یانہیں ۔بہت غوروفکر اور اسٹڈی کے بعد کچھ نتائج ملے ۔ایک طالب علم کی حیثیت سے آپ سے شئیر بھی کرتاہوں ۔ممکن ہے کہ میری یہ کوشش آپ کے لیے بھی ایک لرننگ پراسس ثابت ہو۔ قارئین: ایک سوال ذہن میں آتاہے کہ کیاکیا نماز پڑھنے، روزہ رکھنے یا ذکر کرنے سے صرف ثواب ملتا ہے؟یا … آپ کی عبادتیں آپ کے DNA پر بھی اثر ڈالتی ہیں؟ یہ ہے تواچھوتاسوال آئیے ذرا اس کو حل کرتے ہیں ۔۔۔ قارئی...