مصنوعی ذہانت اور مستقبل کے نظامِ تعلیم کا منظرنامہ
تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش
(دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر)
جب انسان نے علم کو مشین سے باندھ دیا۔تعلیم
صدیوں سے انسان کے ہاتھوں میں پروان چڑھتی آئی ہے۔استاد کی نگاہ، شاگرد کا شوق،
کتاب کا لمس اور تختی پر چاک کی خوشبو…یہ سب مل کر علم
کی وہ دنیا بناتے رہے جس پر تہذیبیں قائم ہوئیں، قومیں اٹھیں، معاشرے بنے۔لیکن
اکیسویں صدی کے سفر میں ایک جدید انقلاب نے خاموشی سے قدم رکھا—مصنوعی ذہانت
(Artificial Intelligence)۔اب کلاس روم صرف دیواروں سے نہیں بنتا،نہ
استاد صرف انسانی آواز میں بولتا ہے۔اب تعلیم ذات کو نہیں—دماغ کے ڈیجیٹل نظام کو
ہی پڑھا رہی ہے۔سوال یہ ہے کہمصنوعی ذہانت نے تعلیم کا چہرہ کیسے بدلا؟اور
مستقبل کے بچوں کی دنیا کیسی ہونے والی ہے؟یہ مضمون اسی نئے صبح کی تصویر ہے۔میں
ڈاکٹرظہوراحمد دانش شعبہ تدریس سے تعلق رکھتاہوں ۔میں اس شعبہ میں آنے والی جدید
تبدیلیوں کو محسوس کررہاہوں ۔اسی کے پیش نظر اپنے قارئین کے لیے یہ مضمون بھی
لکھاجوکہ آپ کے لیے ایک بہترین علمی پیش رفت ثابت ہوگا۔
قارئین:یہ تحقیق کا مزاج ہے کہ جب کسی بات کوبیان
کیاجاتاہے کہ تو تقابل میں پیش کرنے سے بات بالکل واضح ہوجاتی ہے ۔ہم مستقبل کے
نظام تعلیم کے بارے میں بات کرنے سے پہلے کچھ ماضی کے جھروکوں میں آپکو لے چلتے
ہیں ۔اگر ہم غور کریں تو ماضی میں تعلیم تین
ستونوں پر کھڑی تھی۔
1. استاد کی شخصیت
اخلاق، تربیت، رہنمائی اور تعلق۔
2. کتاب اور نصاب
محدود مگر گہرے علم پر مشتمل۔
3. تجربہ اور مشاہدہ
زندگی کے ساتھ سیکھنے کا عمل۔تعلیم میں تبدیلی کی رفتار
دھیمی تھی،لیکن انسان کی تربیت میں گہرائی تھی۔
قارئین:اب آئیے ہم اپنے
اصل موضوع کی جانب بڑھتے ہیں صورتحال اب آپ پر واضح ہوجائے گی ۔موجودہ دور میں جب ڈیجیٹل ذہانت کلاس میں داخل ہوئی۔آج تعلیم
ایک نئی منزل پر کھڑی ہے۔AI نے
بچوں کی سیکھنے کی رفتار بدل دی۔اب بچوں کے سیکھنے کے نئے دور کا آغاز ہوچکاہے
۔بچے مختلف پلیٹ فارمز سے اپنے سیکھنے کی پیاس کو بجھاتے ہیں ۔
•
Adaptive Learning Platforms
• Chatbots
• Virtual Teachers
• Personalized Assessments
• Real-time Feedback
• AI-Generated Study Plans
قارئین:2030 تک
دنیا کے 70 فیصد اسکول کسی نہ کسی سطح پر
AI-based learning اپنا لیں گے۔بچے کیسے سیکھ رہے ہیں؟غور
کریں تو ہمیں معلوم ہوتاہے کہ بچے زبانی
یاد کرنے کی جگہ "سوال پوچھنے" کی تربیت کے مرحلے سے گزررہے ہیں ۔اسی
طرح کتاب
کی جگہ انٹرایکٹو سکرین، کلاس روم کی جگہ
ورچوئل لیب، محدود ٹیچر کی جگہ
مکمل Learning Ecosystem،AI
نہ صرف سکھا رہی ہےبلکہ ہر بچے کی ذہانت کا الگ پروفائل
بنا رہی ہے۔
قارئین :استاد کا کردار — کم نہیں، مگر بدل گیا۔اس بات
کا احساس استاد صاحب کو بھی ہوناچاہیے ۔تاکہ وہ وقت کے پہیے کے ساتھ چل سکیں ۔AI
نے استاد کو ختم نہیں کیابلکہ اس کے کردار کو علم
دینے والے سے سیکھنے کی راہ دکھانے والے میں بدل دیا ہے۔اب استاد AI مواد کی نگرانی کرتا ہے۔ اخلاقی تربیت دیتا ہے۔ بچوں کے اخلاق، رویوں اور جذبات کو
سنبھالتا ہے۔ سیکھنے کے سفر کو
معنی دیتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کو
ترتیب دیتا ہے۔ UNESCO
کے مطابق مستقبل کا بہترین استاد وہ ہوگا
جو AI کو
بطور معاون استعمال کرے گا۔
نصابِ تعلیم — کتاب سے
Algorithms تک
AI نے
نصاب کے خدوخال بدل دیے ہیں۔مستقبل کے نصاب میں شامل اہم عناصر کو جان کرہی
مستقبل کی پیش بندی کی جاسکتی ہے اور ٹیچنگ سے وابستہ افراد کو اس حوالے سے ہرلمحہ
اپ ڈیٹ رہنا بہت ضروری ہے ۔بچے AI کو
بطور ٹول سیکھیں گے۔Critical Thinking اور Problem Solvingکیونکہ معلومات AI دے دے گی۔ڈیٹالٹریسی ،ریبوٹک کوڈنگ یہ
بنیادی مہارت بن جائیں گی۔اسی طرح اموشنل انٹیلیجنس اور ایتھکس ،آرٹ کریٹیویٹی وہ شعبے جن میں
AI انسان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
دنیا میں موجود بہترین
AI-based تعلیمی ماڈلز
1. فن لینڈ کا Personalized Learning Model
ہر بچے کا سیکھنے کا الگ نقشہ، AI
کے ذریعے۔
2. چین کا AI Classroom Model
چہرہ شناس کیمروں سے بچوں کی دلچسپی، تھکن اور سمجھ کا
لائیو تجزیہ۔
3. دبئی کا Smart Education System
ہر طالب علم کا
AI Learning Passport، جس میں سیکھنے کی مکمل تاریخ محفوظ۔
4. سنگاپور کی Skill-based AI Education
کلاس روم کی جگہ ورک اسٹییشن، ورچوئل لیب اور پراجیکٹ
لرننگ۔
یعنی آپ سمجھ سکتے ہیں کہ دنیا جدید ایجوکیشن ماڈلز پر
کام کررہی ہے اور کہیں کہیں کام کربھی چکی ہے ۔
نظامِ تعلیم کے فوائد — روشنیاں اور امکانات
1. ہر بچے کے لیے
ذاتی نوعیت کی تعلیم
AI
بچے کی رفتار، ذہانت اور کمزوری کے مطابق درس دیتا ہے۔
2. معذور بچوں کے لیے
غیر معمولی سہولتیں
•
AI Sign Language
• Dyslexia Assist Tools
• Speech Therapy Bots
3. دور دراز علاقوں
میں تعلیم کی فراہمی
AI
ٹیچر، Virtual Classes، AR/VR۔
4. امتحانات میں
انصاف اور شفافیت
Automated
checking، bias detection۔
5. سیکھنے میں دلچسپی
میں اضافہ
Gamification، Quizzes،
Animations
سے بچے بور نہیں ہوتے۔
روشنی کے ساتھ بڑھتے سائے
1. سکرین ایڈکشن
بچے کھیلنے اور دوست بنانے کے بجائے مشینوں کے ساتھ جڑ
جاتے ہیں۔
2. استاد کا اثر کم
ہونا
تربیت اور اخلاقیات کا پہلو کمزور پڑ سکتا ہے۔
3. ڈیٹا پرائیویسی کا
خطرہ
بچوں کا ذہنی، جذباتی اور سیکھنے کا ڈیٹا کمپنیاں جمع
کر سکتی ہیں۔
4. مصنوعی ذہانت پر
حد سے زیادہ انحصار
بچے سوچنے سے پہلے
AI پوچھنے لگتے ہیں۔
5. امیر اور غریب کے
درمیان تعلیمی فرق
جن ممالک کے پاس ٹیکنالوجی کم ہے، وہ پیچھے رہ جائیں
گے۔بلکہ سچ تو یہ ہے وہ بہت ہی پیچھے رہ جائیں گے ۔
ہم اپنے نظامِ تعلیم کی اصلاح کیسے کریں؟ (عملی نکات)
1. AI Literacy کو
نصاب میں شامل کریں
بچوں کو ٹیکنالوجی استعمال کرنے کے ساتھ اسے سمجھنا بھی
ضروری ہے۔
2. استاد کی تربیت جدید خطوط پر کریں
AI Tools، Digital Pedagogy، Ethical AI — ان
پر ورکشاپس لازمی ہوں۔
3. تربیتِ اخلاق اور انسان سازی پر زیادہ زور
یہ حصہ صرف انسان دے سکتا ہے، AI
نہیں۔
4. ہر اسکول میں
AI Tools کا اخلاقی میار مقرر کیا جائے
بغیر نگرانی کے استعمال پر پابندی ہو۔
5. پاکستان میں مقامی AI پلیٹ فارمز تیار کیے
جائیں
جو دینی، اخلاقی اور ثقافتی اقدار کے مطابق ہوں۔
6. سکرین ٹائم کو محدود رکھ کر ہائبرڈ تعلیم
اپنائی جائے
آف لائن سرگرمیوں کو دوبارہ اہمیت دی جائے۔
قارئین:مصنوعی ذہانت نے تعلیم کی دنیا کو روشن، تیز اور
وسیع بنا دیا ہے۔بچے پہلے سے زیادہ سمجھ رہے ہیں، سیکھ رہے ہیں، سوچ رہے ہیں۔لیکن
یاد رہے—سیکھنا
صرف علم کا نام نہیں،بلکہ کردار، اخلاق، انسانیت اور بصیرت کا نام ہے۔AI
ہمیں ذریعہ دیتی ہے،مگر روشنی کا اصل چراغ اب بھی انسان
کے دل میں ہے۔سوچیں اور اچھی طرح سوچیں ۔کہیں ایسا نہ ہوکہ ہم بہت پیچھے رہ جائیں ۔دنیا
سے باخبر رہ کر اپنے پروفیشن میں آگے بڑھتے چلے جائیں ۔استاد ہی ملت کا حقیقی
معمارہے ۔اللہ پاک ہم سب کو علم نافع عطافرمائے ۔آمین
اگر قومیں AI کے
ساتھ
اخلاق، ذہانت اور تربیت کو بھی ساتھ رکھیں
تو مستقبل کے بچے
صرف ذہین نہیں—
دانش مند بھی ہوں گے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں