نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مصنوعی ذہانت کے نئے خطرات



مصنوعی ذہانت کے نئے خطرات

انسانیت کے لیے نیا فتنہ یا نیا امتحان؟۔دنیا کا نظام بدل رہا ہے۔انسانی ہاتھوں سے بنی ہوئی مشینیں،اب انسان کے ذہن کی جگہ لینے لگی ہیں۔مصنوعی ذہانت (AI) نے جہاں سہولتوں کے دروازے کھولے ہیں،وہیں اس نے جرم، فریب، ھوکے، بے یقینی اور عالمی سیاست کے دروازے بھی ہلا کر رکھ دیے ہیں۔یہ وہ دور ہے جس میںحقیقت اور جھوٹ، انسان اور مشین،  آواز اور دھوکہسب ایک لکیریں بن چکی ہیں۔یہ مضمون اسی نئے فتنہ کا ایک ادبی، فکری اور سائنسی تجزیہ ہے۔ڈاکٹرظہوراحمد دانش آپ تک درست اور مستند معلومات پوری دیانت سے پہنچاتا رہے گا۔

قارئین:


ڈیپ فیک ویڈیوز AI کے ذریعے ایسی بنائی جاتی ہیں کہاصل انسان بھی خود کو دیکھ کر دھوکا کھا جائے۔یہ ٹیکنالوجی ہنسی نہیں،دنیا کے بڑے بحران کی بنیاد ہے۔آئیے میں آپکو ایک واقعہ بتاتاہوں آپ کو خود اندازہ ہوجائے گا۔دہلی میں ایک ہی دن میں چار سیاست دانوں کی جعلی ویڈیوز اپ لوڈ ہوئیں۔کسی میں وہ فرقہ واریت کی بات کرتے، کسی میں الیکشن کو دھاندلی کہتے،اور کسی میں گالی دیتے ہوئے دکھائے گئے۔بعد میں ثبوت ملا کہ یہ سب AI Deepfake تھا۔


قارئین ۔بات یہاں ختم نہیں بلکہ یہ واقعات کا تسلسل جاری ہے یہ الگ بات ہے کہ ہم تک ان واقعات کی اطلاعات نہیں ملتی ۔بائیڈن کی ایک ویڈیو آئی۔ووٹ ڈالنے نہ جائیں، گھر بیٹھیں۔بعد میں تحقیق ہوئی:یہ آواز 15 سیکنڈ کے سنیپ سے بنی تھی۔

مجھے کسی نے بتایا کہ امریکہ میں ایک ماں کو اس کی بیٹی کی ’’چیختی‘‘ آواز میں اغوا کی دھمکی ملی جبکہ بیٹی اسکول میں محفوظ تھی۔


صرف 5 سیکنڈ کی ریکارڈنگ سےAI نے اس بچی کی آواز جوں کی توں بنا دی۔یہ صرف ٹیکنالوجی نہیں، خوف کی نئی شکل ہے۔

قارئین:دنیا کی بڑی طاقتیں اب فوجوں سے نہیں،الگورتھمز سے لڑتی ہیں۔اب نوبت آگے بڑھ چکی ہے ۔جھوٹی خبریں!!جعلی ویڈیوز!!تقسیم پیدا کرنا!!نسلوں، قوموں، زبانوں میں نفرت!!الیکشن ہائی جیک کرنا۔مطالعہ کے دوران ایک ریپورٹ پڑھنے کو ملی میں تو حیران رہ گیا۔یہ ریپورٹ کس حد تک حقیقت پر مبنی ہے یہ تو میں نہیں کہہ سکتالیکن ان فکٹس سے ہم مستقبل کے اندازے ضرور لگاسکتے ہیں ۔

87 ملین لوگوں کا ڈیٹا چوری کر کے AI نے مخصوص ووٹرز کے ذہن بدلےاور پوری انتخابی مہم کو پلٹ دیا۔یہ دنیا کی پہلی “AI Strategized Election Manipulation” تھی۔آج یہ کام ہزار گنا تیز رفتار، خاموش اور خطرناک ہو چکا ہے۔

قارئین :اب چور سڑک پر نہیںبلکہ انٹرنیٹ کی گہرائی میں بیٹھا ہوتا ہے۔AI نے مالی جرائم کو اتنا ذہین بنا دیا ہے کہ
عام شخص تو کیا،بینک بھی دھوکا کھا جاتے ہیں۔ایسے کئی واقعات ریپورٹ ہوچکے ہیں ۔AI سے جعلی سرٹیفکیٹ!!جعلی یونیورسٹیز!!جعلی لیسن!!جعلی ٹیچرزتک سب بننے لگے ہیں۔AI صرف تصویر، آواز اور دستخط کی نہیں بلکہ آپ کی پوری شخصیت کی کاپی بنا سکتی ہے۔

AI آپ کی آواز!!لہجہ!!غصہ!!ہنسی!!روتی آوازمیں بات کر سکتی ہے۔اب آپ خود سوچیے ۔بینک فراڈ!!پاسورڈ ری سیٹ!!فیملی سے پیسے منگوانا!!کمپنی سیکیورٹی توڑنایہ وہ دنیا ہے جہاں آپ کی اپنی آواز ہی آپ کا دشمن بن سکتی ہے۔

AI وہ کام سیکنڈوں میں کرتی ہے۔جو انسان گھنٹوں میں۔کال سینٹر!!ڈیٹا انٹری!!ابتدائی گرافکس!سوشل میڈیا مینیجمنٹ!!کسٹمر سپورٹ!!سادہ پروگرامنگ!!مینوفیکچرنگ ورکرزایک ریپورٹ کے مطابق 2030 تک 800 ملین لوگ اپنی نوکریوں سے متاثر ہوں گے۔یہ معاشی زلزلہ ہےجو غریب ملکوں کو زیادہ ہلائے گا۔

قارئین:

AI تیزی سے انسان کی نفسیات بدل رہی ہے۔AI ہوم ورک بھی لکھ دے،پروجیکٹ بھی بنا دے،تصویر بھی کھینچ دے
کہانی بھی لکھ دے،اب بچہ محنت، تخلیق، غور و فکر سے دور ہو رہا ہے۔لوگ AI سے بات کر کے خود کو سمجھا ہوا محسوس کرتے ہیں۔اصل رشتوں سے دوری۔ پرائیویسی کا خاتمہAI ہر تصویر، ہر فائل، ہر گفتگو میں موجود ہے۔ AI کے ذریعے دنیا بھر میں وہ کام ہو رہے ہیں جواخبارات میں نہیں آتے۔آئیے ذرا غور کرتے ہیں ۔حکومتی سطح پر نگرانی!!عوامی رجحانات کا کنٹرول!!نسلوں کی ذہنی تربیت!!دشمن ملکوں کے سسٹمز ہیک کرنا!!مالیاتی نظام کو متاثر کرنا!!ڈیجیٹل جنگیں!!یہ سب خاموشی سے ہو رہا ہے،اور عام آدمی کو معلوم بھی نہیں۔

قارئین:اب ذرا ان مشکلات کے حل پر بھی بات کرتے ہیں ۔بچنے کا راستہ یہ نہیں کہ AI کو روکا جائے۔بلکہ یہ ہے کہ انسان خود کو مضبوط کرے۔Deepfake پر سخت عالمی قانون ہونا چاہیے۔سائبر سیکیورٹی میں سرمایہ کاری تعلیم میں اخلاقیات، تربیت اور Critical Thinking!!بچوں کی تربیت — AI Limit کے ساتھ!!دینی رہنمائی — حق و باطل کے فرق کی تعلیم!!انسانی Skills اپنانا،درست اور غلط کے پیمانے عالمی تناظر میں تیار کیے جائیں ۔

قارئین :مصنوعی ذہانت ایک دریا ہے۔جو قومیں اسے سمجھ کر چلیں گی۔وہ روشنی تک پہنچ جائیں گی۔اور جو قومیں خوف یا غفلت کا شکار ہوئیں ۔وہ اس دریا میں ڈوب جائیں گی۔یہ وقت ہے کہ دنیا نئے سرے سے اپنے سوال اٹھائے۔سچ کیا ہے؟

جھوٹ کیا ہے؟!!انسان کیا ہے؟!!اور مشین کیا بن رہی ہے؟۔اگر علم، اخلاق، تربیت اور ایمان ہمارے ساتھ رہے۔تو AI انسانیت کی سب سے بڑی خدمت کرے گی۔اور اگر ہم نے بے فکری اختیار کی تو یہ ٹیکنالوجی انسان کے خلافایک خاموش جنگ بن جائے گی۔

قارئین:

انسان اور مشین دونوں طاقتور ہیں،لیکن فیصلہ پھر بھی انسان کے ہاتھ میں ہےوہی انسان جو خود کو بدل سکے،
دنیا کو بھی بدل سکتا ہے۔ہمیں بہت محتاط رہ کر دنیا کی جدید ترین روشن پر چلنا ہوگا۔ہاں سچ ۔ہماری اندھی تقلید کسی بڑے سانحے کا باعث بن سکتی ہے ۔اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ہماری کوشش آپ کی زندگی میں مفید اضافہ ثابت ہوتو ہماری مغفرت کی دعاکیجئے گا۔

  

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"ڈی این اے میں چھپا روحانی کوڈ؟"

" DNA میں چھپا روحانی کوڈ؟ " تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر)  ہم روٹین کی روایتی زندگی گزاررہے ہوتے ہیں ۔لیکن ہم اس کائنات کے رازوں پر غور کی زحمت نہیں کرتے ۔میں بھی  عمومی زندگی گزارنے والا شخص ہی ہوں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے مطالعہ ،مشاہد ہ بڑھتارہامجھے کھوج لگانے ،سوچنے اور سمجھنے کا ذوق ملا۔اس کافائدہ یہ ہوا کہ مجھ پر علم نئی جہات کھُلی ۔بات کہیں طویل نہ ہوجائے ۔میں کافی وقت سے سوچ رہاتھا کہ اس دور میں سائنس نے بہت ترقی کرلی ۔ڈین این اے کے ذریعے انسان کی نسلوں تک کےراز معلوم کیے جارہے ہیں ۔میں سوچ رہاتھاکہ کیا ڈین این اے ہماری عبادت یاپھر عبادت میں غفلت کوئی اثر ڈالتی ہے یانہیں ۔بہت غوروفکر اور اسٹڈی کے بعد کچھ نتائج ملے ۔ایک طالب علم کی حیثیت سے آپ سے شئیر بھی کرتاہوں ۔ممکن ہے کہ میری یہ کوشش آپ کے لیے بھی ایک لرننگ پراسس ثابت ہو۔ قارئین: ایک سوال ذہن میں آتاہے کہ کیاکیا نماز پڑھنے، روزہ رکھنے یا ذکر کرنے سے صرف ثواب ملتا ہے؟یا … آپ کی عبادتیں آپ کے DNA پر بھی اثر ڈالتی ہیں؟ یہ ہے تواچھوتاسوال آئیے ذرا اس کو حل کرتے ہیں ۔۔۔ قارئی...

نوجوانوں کے لیے امید بھرا پیغام

Life is a race, in which some get tired and stop moving towards the destination, and some reach the destination by facing every difficulty. (Drzahoordanish) نوجوانوں کے لیے امید بھرا پیغام تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہوں ۔جہاں و جب جاتاہوں تو ایک سوال ضرورت ہوتاہے ۔ہمارا مستقبل کیاہے ۔یعنی آج کا نوجوان اپنے مستقبل کی فکروں میں گھُلتاچلاجارہاہے ۔اسٹریس تو گویااس کی ذات کا حصہ بن گئی ہے ۔اب ایسے میں میں بہت دل جلاتاتھا کہ آخر ایسا کیا کیا جائے کہ  یہ قوم کہ معمار ٹینشن فری ہوں ۔خیر اپنے حصے کی جو ممکن کوشش تھی کرتارہا۔کافی دنوں سے سوچ رہاتھا کہ اس موضوع پر کوئی مختصر کی بات ضرور کروں ۔شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات کے حصول کے لیے ۔یہ مضمون بھی اُسی کی ایک کڑی ہے ۔ پیارے قارئین: موجودہ دور میں نوجوانوں میں مستقبل کے بارے میں بے چینی اور خوف ایک عام منظر بن چکا ہے۔ یہ خوف نہ صرف ذہنی سکون چھین لیتا ہے بلکہ زندگی کی توانائی، تخلیق اور کوششوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس مضمون میں ہم اس خوف کی نوعیت، اس کے اسباب، دنیاوی و دین...

مصنوعی ذہانت اور کسانوں کی دنیا

مصنوعی ذہانت اور کسانوں کی دنیا تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) کسان کی زندگی ہمیشہ مٹی، پانی، بارش اور دھوپ کے رحم و کرم پر رہی ہے۔ہزاروں برس سے کھیتی کا ہر عمل ہاتھ اور آنکھ کی محنت سے جڑا ہوا تھا۔لیکن اب ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے — ایسا دور جہاں بیج دیکھنے والی آنکھ انسان کی نہیں،ڈرون کی ہے۔مٹی کا مزاج بتانے والا ہاتھ کسان کا نہیں،مصنوعی ذہانت کا ہے۔زمین آج بھی سچ بولتی ہے،مگر اس سچ تک پہنچنے والے راستے بدل گئے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں کاشتکار، مٹی اور مشین کی مثلث عجیب مگر حیرت انگیز ہم آہنگی کے ساتھ مستقبل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت نے زراعت کو اندازے سے نکال کراعداد و شمار، سینسرز، ڈرون اور سیٹلائٹس کی دنیا میں داخل کر دیا ہے۔ AI اب مٹی کے راز آنکھ جھپکتے بتا دیتا ہے۔آئیے اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔نمی کتنی ہے،کس غذائی عنصر کی کمی ہے،فصل کی جڑ کتنی صحت مند ہے،کہاں کھاد کم یا زیادہ لگ رہی ہے،کب پانی دینا ضروری ہے، FAO کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق AI-assisted analysis سے پیداوار میں 20 سے 30 فیصد اضافہ ممکن ہے۔ یہ وہ انقلاب ہے جو پہلے صدیوں میں ب...