اے آئی اور انسانی تخلیقی صلاحیتوں کے زوال کی کہانی
تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش
(دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر)
نیا ہمیشہ آگے بڑھی ہے،لیکن ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ترقی کی رفتار نے انسان کی اپنی رفتار
کو پیچھے چھوڑ دیا۔گھروں میں خاموش بیٹھے ہوئے
مشینیں ہم سے زیادہ جاننے لگیں،زیادہ لکھنے لگیں،زیادہ
بولنے لگیں اور آہستہ آہستہ ہماری
جگہ لینے لگیں۔یہ وہ لمحہ ہے جہاں انسان رک کر سوچتا ہے:“کیا ہم نے اپنی تخلیق کو بہترین
بنایا،یا اس نے ہمیں کمزور کر دیا؟یہی وہ سوال ہے جو دنیا آج پوچھ رہی ہے۔
پیارے قارئین:انسان
وہ مخلوق ہے جس نے— غاروں
میں تصویریں بنائیں— کہانیاں
سنائیں— شعر
کہا— فلسفہ
لکھا— کتابیں
ایجاد کیں— دنیا
کو سوچنا سکھایالیکن AI کی
آمد نےذہن کی یہ چنگاری بجھانا شروع کر دی ہے۔
قارئین :آئیے میں آپکو فکٹس کی صورت میں اپنے متعلقہ
موضوع کے بارے میں بتاتاہوں آپکو بات سمجھ آجائے گی ۔
2024 کی MIT کی تحقیق کے مطابق 70 فیصد
نوجوان اپنا کلاس ورک AI سے
کراتے ہیں، خود نہیں۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیا
کے سروے کے مطابق50 فیصد
طلباء AI کے
بغیر لکھنے کی صلاحیت کھو رہے ہیں۔نئی نسل میں تخیل
کم، اور AI پر
انحصار زیادہ ہو چکا ہے۔
قارئین اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ یہ کیوں ہو رہا ہے؟۔آئیے
اس سوال کو بھی حل کرتے ہیں ۔
کیونکہ اے آئی سوچ
دیتی ہے!!خیال دیتی ہے!!جملہ لکھ دیتی ہے!!تصویر بنا دیتی ہے!پروجیکٹ تیار کر دیتی
ہے!!نتیجہ یہ کہ انسان خاموش تماشائی بن گیا۔قرآن کہتا ہے:“اَفَلَا
تَعْقِلُوْنَ؟”کیا
تم عقل سے کام نہیں لیتے؟عقل کے استعمال میں ہی تخلیق ہےاور جب انسان سوچنا چھوڑ
دےتو اس کا نور بجھ جاتا ہے۔
قارئین:آج
کا بچہ اگر ہوم ورک کرے توAI لکھ
دیتی ہے،اگر تصویر بنائے توAI بنا
دیتی ہے،اگر کہانی سوچے توAI سنا
دیتی ہے،اگر سوال پوچھے توAI جواب
دے دیتی ہے۔یہ آسانی نہیں، فکری غلامی ہے۔ریسرچ فیکٹس کے مطابق AI کے استعمال سے 11 سے 16
سال کے بچوں میںتوجہ کی صلاحیت 35 فیصد کم ہوئی۔
امریکہ میں بچوں کی 42
فیصد creative
thinking پچھلے
پانچ سال میں کم ہوئی ہے۔اسلام تعلیم دیتا ہے:محنت انسان کی حقیقت ہے۔نبی
کریم ﷺ نے فرمایا: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔جب
کام خود نہ کیا جائے۔تو نیت اور محنت دونوں ختم ہو جاتے ہیں۔اور جہاں محنت نہ ہووہاں
کردار بھی نہیں بنتا۔
قارئین ۔میں ڈاکٹرظہوراحمد دانش
بہت وثوق سے یہ بات کررہاہوں کہ AI اب
صرف کمرے میں نہیں،ہماری جیب میں،ہمارے فون میں،ہمارے کیمرے میں،اور ہماری آواز
میں بیٹھ چکی ہے۔2023 میں
6 بلین لوگوں کا ڈیٹا مختلف جگہوں سے لیک ہوا۔ہر تصویر جو اپ لوڈ کی جاتی ہے،AI اسے چہرہ شناخت میں شامل
کرتی ہے۔ہزاروں ایپس صارف کا مقام، آواز، ٹیکسٹ،اور ویڈیوز چپکے سے اسٹور کرتی
ہیں۔آپ خطرہ کو محسوس تو کریں اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ آخر خطری ہے کیا؟۔انسان
کی ذاتی زندگی ایک ڈیجیٹل لکیر بن چکی ہے۔جو ہر لمحہ محفوظ بھی ہے۔اور غیر محفوظ
بھی۔قرآن نے خبردار کیا تھا:“شیطان
تمہیں وہاں سے دیکھتا ہے جہاں تم اسے نہیں دیکھتے۔(الاعراف: 27)
آج ٹیکنالوجی بھی ایسا ہی کردار ادا کر رہی ہے— خاموش، پوشیدہ،
مگر اثرانداز۔
AI نے
انسان کو ’’محفوظ، سمجھدار اور فوری جواب دینے والا دوست‘‘ دے دیا ہے۔لیکن اس کے
بدلے انسانوں کے درمیاندوری بڑھا دی ہے۔58 فیصد نوجوان کہتے ہیں ۔ہم AI سے
بات کر کے زیادہ پرسکون محسوس کرتے ہیں۔WHO کے مطابق2024 تک دنیا میں تنہائی کو عالمی
بیماری قرار دیا جا چکا ہے۔مصنوعی دوستی حقیقی رشتوں کو Replace کر رہی ہے۔
قارئین ۔اس کا انجام کیا ہوا۔گھر میں لوگ ساتھ رہتے ہیں۔مگر
جڑے ہوئے نہیں۔اسلام نے رشتوں میں محبت، توجہ، زیارت، ملاقاتاور گفتگو کو عبادت
قرار دیا ہے۔AI ان
سب کو کم کر رہی ہے۔
دنیا آج پوچھ رہی ہے۔انسان
سوچے گا یا مشین؟تعلقات انسان سے ہوں گے یا روبوٹ سے؟بچے محنت کریں گے یا AI انہیں
ذہنی سستی میں ڈال دے گی؟knowledge
انسان کا رہے گا یا algorithm کا؟پرائیویسی کس کے ہاتھ
میں ہو گی؟یہ سارے سوال انسانیت کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔
قارئین:اب میرے اور آپ
کے پاس ایک سوال ہے کہ آخر حل کیاہے ۔تو اپنے تجربے ،مشاہدہ اور مطالعہ کی روشنی
میں میں تو آپ پیاروں کو یہی کہوں گاکہ AI کو آلہ بنائیں، آقا نہیں۔استعمال
کریں، انحصار نہ کریں۔بچوں میں عملی سرگرمیاں بڑھائیں۔پرائیویسی کی حفاظت
سکھائیں۔دینی تربیت — سچ اور جھوٹ میں فرق بتائیں ۔ڈائری لکھنا، ڈرائنگ، ہاتھ
سے پروجیکٹ بنانا۔خاندانی گفتگو، ساتھ کھانا، ساتھ وقت گزارنا۔ڈیجیٹل حدود (Digital Limits)
ہر گھر میں لازمی اصول بنائیں ۔
پیارے قارئین:
انسان نے AI بنائی
تھی۔کہ وہ اس کا مددگار ہو۔لیکن اگر انسان خودAI کے سائے میں کھو جائے۔تو
اس کا سب سے بڑی نقصان اس
کا دل، اس کی عقل اور اس کی روح کمزور ہونے لگتی ہے۔یہ وقت ہے کہ انسان فیصلہ کرے۔کیا وہ اپنی تخلیق کا
غلام بنے گایا اس کا مالک؟دنیا بہت تیزی سے بدل رہی ہے،مگر انسان اس وقت تک محفوظ
ہے۔جب تک وہ اپنے انسان ہونے کو یاد رکھے۔تخلیق، محبت، ایمان، اخلاق یہ وہ
خزانے ہیں۔جو AI کبھی
نہیں سمجھ سکتی۔اور شاید یہی وہ چیزیں ہیں جو آنے والے دور میں انسان کو انسان
ثابت کریں گی۔
آپ میری باتوں سے مایوس نہ ہوں ۔میں مایوس کرنے نہیں آپکو
تصویر کا درست زاویہ متعارف کروانے کے لیے یہ سب کوششیں کررہاہوں ۔آپ یہ بھی
جانتے ہیں کہ یہ سب کوششیں صرف و صرف خدمت اور جذبہ انسانیت کی بنیاد پر ہیں ۔میری
کوشش آپ کے لیے کسی بھی خوشی ،بہتری اور شعوری پہلو بیدار کرنے کا ذریعہ بنے تو
میری مغفرت کی دعاکردیجئے گا۔۔
نوٹ:آپ ہم سے
مشورہ و کیرئیر کونلسنگ کے لیے رابطہ کرسکتے ہیں ۔
رابطہ :03462914283
وٹس ایپ:03112268353
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں