نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

حافظ بچوں کے والدین کیا کریں ؟



حافظ بچوں کے والدین کیا کریں ؟

تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش

(دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر )

بچوں کو حافظ بنانا یہ والدین کی خواہش ہوتی ہے ۔اس سوچ کے پیچھے قرآن کے فضائل ،حفاظ والدین کے لیے بخشش کا ذریعہ بنیں گے ۔آخرت میں اجر یہ سب ہی زاویے کارفرماہوتے ہیں ۔نیز دنیاوی منفعت کے اعتبار سے بچہ معاشرے میں دیگر بچوں کی بنسبت اچھا اور مہذب سمجھا جاتاہے ۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا والدین کی یہ خواہش بچہ حافظ بن جائے اور وہ حافظ بنابھی لیں تو یہاں تک ہی ان کی ذمہ داری ہے ۔اب بچے کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیاجائے ۔یا اب پہلے سے زیادہ ذمہ داری بڑھ گئی ہے ۔یہ سوچنے کی بات ہے ۔

میں ایک استاد ہوں ،میں نے والدین کو حفظ کروانے کے بعد بچوں کی منزل بھول جانے کے بعد بہت پریشان پایا۔جو بچے آنکھوں کا تارا ہوتے ہیں وہی انہی والدین کو زہر لگنے لگتے ہیں ۔چنانچہ اسی درد کو محسوس کرتے ہوئے یہ تحریر لکھ رہاہوں ۔شاید میری یہ کوشش کسی کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔کسی کا کیرئیر بن جائے کسی کو سکون مل جائے ۔آئیے اس حوالے سے اہم اور مفید باتیں جان لیتے ہیں ۔


ڈیلی روٹین میں  قرآن دہرانے کا ماحول بنائیں

گھر میں ایک خاص وقت مقرر کریں (مثلاً: فجر کے بعد یا مغرب کے بعد) جب صرف قرآن کی تکرار ہو۔والد یا والدہ خود موجود ہوں اور بچے کے ساتھ بیٹھ کر سنیں یا نگرانی کریں۔

باقاعدہ شیڈول بنائیں

گھر کے شیڈول میں تین چیزیں لازمی ہوں:

حصہ

وضاحت

وقت

نیا سبق

مدرسے میں دیا گیا تازہ سبق گھر میں بھی دہرائیں

روزانہ

گزشتہ سبق

پچھلے دنوں یا ہفتے میں یاد کیا ہوا دہرانا

روزانہ

مکمل پارے / سورتیں

جو کچھ پہلے حفظ ہو چکا ہے، روزانہ اس میں سے تھوڑا تھوڑا پڑھیں

کم از کم ہفتے میں 2 بار

سننے کی مشق (Listening Practice)

بچے کو روزانہ اپنے حفظ کی تلاوت کسی بڑے کو سنانی چاہیے۔اگر والدین قرآن صحیح نہیں پڑھ سکتے تو بچے کو قاری صاحب کی تلاوت سنوا کر ساتھ ساتھ تلاوت کروائیں۔

. محبت بھرا حوصلہ بڑھائیں

غلطی پر ڈانٹنے کی بجائے محبت سے درست کریں۔

حفظ مکمل کرنے پر تحفے یا تعریف دیں۔

اللہ پاک سے دوستی کا ذہن

والدین دعا کریں اور بچوں سے بھی دعا کروائیں:"یا اللہ! میرے بچے کا حفظ مضبوط کر دے۔"قرآن کی برکت کی باتیں روزانہ بتائیں تاکہ دل میں قرآن کی محبت بڑھے۔

نمونہ شیڈول: (گھر کے لیے)

وقت

کام

فجر کے بعد

10-15 منٹ: نیا سبق کی دہرانا

اسکول/مدرسے سے واپسی پر

15-20 منٹ: گزشتہ سبق کی تکرار

مغرب کے بعد

20-30 منٹ: مکمل پرانے پارے یا سورتوں کی دہرائی

سونے سے پہلے

مختصر دعا: "اللّٰہم اجعل القرآن ربیع قلبی" (اے اللہ قرآن کو میرے دل کی بہار بنا دے)

قابل غور بات یہ ہے کہ  اگر بچہ زیادہ تھکا ہو تو مغرب کے بعد تھوڑا سبق کروا دیں، باقی اگلے دن مکمل کروائیں۔ ہفتے میں ایک دن تھوڑا تفریح یا قرآن کی کہانیوں کا دن رکھیں تاکہ بچہ بور نہ ہو۔

پیارے والدین توجہ کیجئے :

خود بھی روزانہ قرآن کی تلاوت کریں تاکہ بچے کو عملی نمونہ ملے۔ موبائل، ٹی وی یا کھیلوں میں وقت کا توازن رکھیں تاکہ قرآن کی تکرار میں کمی نہ آئے۔ بچے کو کبھی شرمندہ نہ کریں، ہمیشہ مثبت بات کریں: "ماشاء اللہ! تم بہت اچھا یاد کرتے ہو۔ ہفتہ وار ایک بار پورے حفظ شدہ قرآن کا جائزہ لیں۔ (مثلاً 1 سورت یا 1 ربع پارہ) قرآن سے محبت دلانے والے واقعات یا احادیث سنائیں۔

قارئین:گھر میں قرآن کو ترجیح دیں، محبت بھرا ماحول بنائیں، مستقل دہرانے کا نظام رکھیں — بچے کا حفظ زندگی بھر محفوظ ہو جائے گا، ان شاء اللہ۔

ڈیجیٹل سہولیات کا استعمال:

  • بچے کو قرآن ایپس، آڈیو ریکارڈنگز اور تجوید ویڈیوز سے فائدہ دیں۔
    • مثلاً: اگر کوئی آیت بھول جائے تو موبائل ایپ سے آسانی سے دوبارہ سن سکے۔
  • کچھ بہترین مفت ایپس:
    • Quran Companion
    • Ayat App
    • iQuran

قارئین:شرط یہ کہ صرف قرآن کی حد تک موبائل یا ٹیبلیٹ استعمال ہو، کھیلوں یا فالتو چیزوں سے بچایا جائے۔

آن لائن تجوید اور حفظ کورسز سے مدد لیں

  • اگر گھر میں کوئی صحیح تلفظ نہ جانتا ہو، تو قابل اعتماد آن لائن قاری یا مدرسہ سے ہفتہ وار چیک کروائیں۔زوم یا اسکائپ پر آج کل "حفظ ریویژن کلاسز" آسانی سے دستیاب ہیں۔اس سے بچہ باقاعدہ جائزے کے دباؤ میں رہے گا اور پروفیشنل انداز میں حفظ مضبوط ہوگا۔

. گھر میں "قرآنی زون" بنائیں

  • گھر میں ایک کمرہ یا کونا خاص قرآن کے لیے رکھیں۔
    • جہاں صرف قرآن پڑھا جائے، موبائل یا شور شرابہ نہ ہو۔
    • ایک خوبصورت رحل، قرآن پاک، دعا کی کتاب اور دعاوں کے پوسٹر لگائیں۔
  • یہ قرآن کی عظمت کا عملی احساس پیدا کرے گا۔

. ہفتہ وار قرآن ریفریشر پروگرام

  • ہفتے میں ایک دن گھر کے تمام افراد 30 منٹ نکال کر:
    • بچہ قرآن سنائے۔
    • والدین تعریف کریں۔
    • تھوڑا قرآن کا ترجمہ یا واقعہ سنایا جائے۔

اس سے بچے کو قرآن کے ساتھ تعلق جڑنے کا احساس ہوگا، اور حفظ کا جذبہ بڑھے گا۔

محترم والدین آج کل بچے کے اسکول، ٹیوشن، اور مدرسہ سب چل رہے ہوتے ہیں، اس لیے شیڈول بناتے وقت حقیقت پسند بنیں۔

  • مثلاً:
    • 15-20 منٹ فجر کے بعد دہرا لیا جائے۔
    • واپسی پر 20-30 منٹ ریویژن ہو۔
    • رات کو 10-15 منٹ مکمل دہرا لیا جائے۔

کم وقت لیکن روزانہ کا تسلسل بچہ کا حفظ ہمیشہ تازہ رکھے گا۔

قارئین:

میں نے کوشش کی ہے کہ آسان اور عام فہم انداز میں آپ پیاروں کے درد کو سمجھتے ہوئے ضروری اور اہم باتیں بتاسکوں ۔آپ ہماری پیش کردہ گزارشات پر عمل کرکے تو دیکھیں ہمیں اللہ پاک سے امید ہے کہ آپ اس کے اچھے اور بہتر نتائج پائیں گے ۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

نوجوانوں کے لیے امید بھرا پیغام

Life is a race, in which some get tired and stop moving towards the destination, and some reach the destination by facing every difficulty. (Drzahoordanish) نوجوانوں کے لیے امید بھرا پیغام تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہوں ۔جہاں و جب جاتاہوں تو ایک سوال ضرورت ہوتاہے ۔ہمارا مستقبل کیاہے ۔یعنی آج کا نوجوان اپنے مستقبل کی فکروں میں گھُلتاچلاجارہاہے ۔اسٹریس تو گویااس کی ذات کا حصہ بن گئی ہے ۔اب ایسے میں میں بہت دل جلاتاتھا کہ آخر ایسا کیا کیا جائے کہ  یہ قوم کہ معمار ٹینشن فری ہوں ۔خیر اپنے حصے کی جو ممکن کوشش تھی کرتارہا۔کافی دنوں سے سوچ رہاتھا کہ اس موضوع پر کوئی مختصر کی بات ضرور کروں ۔شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات کے حصول کے لیے ۔یہ مضمون بھی اُسی کی ایک کڑی ہے ۔ پیارے قارئین: موجودہ دور میں نوجوانوں میں مستقبل کے بارے میں بے چینی اور خوف ایک عام منظر بن چکا ہے۔ یہ خوف نہ صرف ذہنی سکون چھین لیتا ہے بلکہ زندگی کی توانائی، تخلیق اور کوششوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس مضمون میں ہم اس خوف کی نوعیت، اس کے اسباب، دنیاوی و دین...

عورت کائنات کا حیرت انگیز کردار

عورت کائنات  کا حیرت انگیز کردار تحریر: حافظہ نورالایمان  بنت ظہور حمد ) دوٹھلہ نکیال آزاد کشمیر ( عورت محض کائنات کا ایک کردار نہیں، بلکہ انسانی تہذیب کی خاموش معمار، جذبات کی ترجمان اور نسلوں کے مستقبل کی امین ہے۔ وہ کبھی ماں بن کر زندگی کو جنم دیتی ہے، کبھی بیٹی بن کر گھر میں رحمت کی خوشبو بکھیرتی ہے، کبھی بہن بن کر محبت کا حصار قائم کرتی ہے اور کبھی شریکِ حیات بن کر زندگی کے دشوار راستوں کو سکون اور رفاقت سے روشن کردیتی ہے۔ عقل یہ تسلیم کرتی ہے کہ جس ہستی کی تربیت سے انسان کا کردار تشکیل پاتا ہو، اسے کمزور یا غیر اہم قرار دینا خود انسانی عقل کی توہین ہے۔ ایک تعلیم یافتہ، باکردار اور ذہنی طور پر مضبوط عورت صرف اپنی زندگی نہیں سنوارتی؛ وہ ایک خاندان، ایک نسل اور بالآخر پورے معاشرے کی فکری سمت بدل سکتی ہے۔ نفسیات بتاتی ہے کہ انسان کی شخصیت کی بنیاد ابتدائی تعلقات، جذباتی تحفظ، گفتگو اور تربیت سے بنتی ہے۔ اس عمل میں ماں اور خاندان کی دیگر خواتین کا کردار اکثر نہایت گہرا ہوتا ہے۔ عورت کی ہمدردی، جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت، صبر اور تعلقات کو جوڑنے کی قوت معاشرتی استحکام...

مصنوعی ذہانت اور کسانوں کی دنیا

مصنوعی ذہانت اور کسانوں کی دنیا تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) کسان کی زندگی ہمیشہ مٹی، پانی، بارش اور دھوپ کے رحم و کرم پر رہی ہے۔ہزاروں برس سے کھیتی کا ہر عمل ہاتھ اور آنکھ کی محنت سے جڑا ہوا تھا۔لیکن اب ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے — ایسا دور جہاں بیج دیکھنے والی آنکھ انسان کی نہیں،ڈرون کی ہے۔مٹی کا مزاج بتانے والا ہاتھ کسان کا نہیں،مصنوعی ذہانت کا ہے۔زمین آج بھی سچ بولتی ہے،مگر اس سچ تک پہنچنے والے راستے بدل گئے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں کاشتکار، مٹی اور مشین کی مثلث عجیب مگر حیرت انگیز ہم آہنگی کے ساتھ مستقبل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت نے زراعت کو اندازے سے نکال کراعداد و شمار، سینسرز، ڈرون اور سیٹلائٹس کی دنیا میں داخل کر دیا ہے۔ AI اب مٹی کے راز آنکھ جھپکتے بتا دیتا ہے۔آئیے اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔نمی کتنی ہے،کس غذائی عنصر کی کمی ہے،فصل کی جڑ کتنی صحت مند ہے،کہاں کھاد کم یا زیادہ لگ رہی ہے،کب پانی دینا ضروری ہے، FAO کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق AI-assisted analysis سے پیداوار میں 20 سے 30 فیصد اضافہ ممکن ہے۔ یہ وہ انقلاب ہے جو پہلے صدیوں میں ب...