نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

بیمار ہوشیار



بیمار ہوشیار

تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش

(دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر)

صحت کتنی قیمتی شئے ہے ۔لیکن ہم اس کی قدر نہیں کرتے ۔میں اپنی زندگی میں اپنے ابو جان مرحوم و مغفور کی طویل بیماری کا صدمہ دیکھ چکاہوں ۔ایک خوبصورت قدآور تناور جسم رکھنے والی ہستی کو بیماری دیمک کی طرح کھاتی چلی گئی ۔حوصلے کا کوہ ہمالیہ آخری دم تک باہمت رہے ۔لیکن مجھے اُسے شدت سے احساس ہواکہ ابو کے اردگرد کی دنیا ابو کو بالکل بیکار نظر آرہی تھی ۔میرے ابو ایک تہجد گزار نیک متقی انسان تھے ۔لیکن ایک بشر ہونے کے ناطے وہ جس موذی مرض سے لڑرہے تھے وہ تکلیف میں ضرور تھے لیکن رب کے شاکر بندے تھے ۔پھر جب جب اسپتال جاناہوتایا عیادت کا موقع ملتاہے تو میں سوچتاہوں یہ صحت کتنی پیاری چیز ہے ۔ہم دولت دولت دولت کے گیب گاتے ہیں ۔چھوڑوسب اپنی صحت سنھبال کے رکھوسب مل جائے گا۔

ورنہ کار بنگلہ ،کوٹھی ،طرح طرح کے کھانے میوے سب بے ذائقہ ہوجائیں گے ۔میں نے خود بھی بہت بیماری دیکھی ہے ایک وقت ایساتھا میں چلتے پھرتے انسانوں کو کائنات کا سب سے امیر انسان سمجھتاتھا کہ کتنے بخت والے ہیں جو چل سکتے ہیں پھر سکتے ہیں مگر میں نہیں ۔

خیر ان دنوں میرے بچوں کی والدہ کے نیوروسسٹم میں کچھ مسائل ہیں بلڈ بلاکیج کا مسئلہ ہے تو میں بہت کرب سے گزررہاہوں ۔اسی نیت سے کہ آپ میرے پیارے اپنا خیال رکھیں ۔مناسب اور اچھا کھائیں ،فکر نہ کریں پیارے کریم رب پر توکل کریں زیادہ کی ہوس نہ کریں ۔رب سے امید رکھیں اور چلتے چلے جائیں ۔سب اچھا ہوگا۔اپنے آپ کو ہلکان مت کریں ۔

صحت وہ انمول تحفہ ہے جسے ہم اکثر معمولی سمجھ بیٹھتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ صحت کے بغیر زندگی کے ہر لمحے کا لطف ادھورا رہ جاتا ہے۔ صحت ایک ایسی نعمت ہے جس کی قدر انسان صرف تب جان پاتا ہے جب وہ اسے کھو بیٹھتا ہے۔

صحت وہ بنیادی ستون ہے جس پر انسان کا جسمانی اور ذہنی استحکام قائم ہوتا ہے۔ یہ ہمیں نہ صرف توانائی فراہم کرتی ہے بلکہ ہمارے حوصلوں کو بھی بلند رکھتی ہے۔ ایک صحت مند جسم میں، خوابوں کی پرواز کو پنکھ ملتے ہیں اور امیدوں کی روشنی ہمیشہ دل کو منور کرتی رہتی ہے۔

آج کے دور میں جہاں ہر طرف مقابلہ بازی اور مصروفیات کا شور ہے، صحت کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ایک مستحکم دل و دماغ کے بغیر زندگی کے رنگ ماند پڑ جاتے ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہم صحت کی قدر کریں، اس کی حفاظت کریں اور ہر لمحے اپنے آپ کو اس کی نعمت سے مالا مال سمجھیں۔

صحت مند رہنے کے لیے ہمیں چاہیے کہ متوازن غذا، مناسب ورزش اور باقاعدگی سے طبی معائنہ کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ یہ وہ بنیادی اصول ہیں جن پر نہ صرف ہمارے جسم کا بامقصد ارتقاء ممکن ہے بلکہ ہماری روح کو بھی سکون اور چین ملتا ہے۔ صحت کی دیکھ بھال دراصل اپنے آپ کے اور اپنے پیاروں کے لیے ایک محبت بھرا عہد ہے۔

یہ بات یاد رکھیں کہ زندگی میں بہت سی نعمتیں ہیں، مگر صحت ان تمام نعمتوں کا مرکزی محور ہے۔ جب تک صحت برقرار رہے گی، تب تک انسان زندگی کے ہر چیلنج کا مقابلہ ہمت اور اعتماد سے کر سکتا ہے۔ صحت کو برقرار رکھنا صرف ایک ذاتی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک معاشرتی فرض بھی ہے، کیونکہ ایک صحت مند فرد ہی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔

آئیں، ہم سب مل کر اس انمول نعمت کی قدر کریں اور اپنے اندر یہ شعور پیدا کریں کہ صحت کے بغیر زندگی کی کوئی قیمت نہیں۔ یاد رکھیں، صحت ہزار نعمت ہے اور اسی نعمت کا شکر ادا کرنا ہی اصل خوشی اور کامیابی ہے۔

جب صحت کا دھیما سا دیا بجھ جائے تو زندگی ایک بے رنگ و بے رونق داستان بن جاتی ہے۔ صحت کی کمی انسان کو اس کے خوابوں، امیدوں اور توانائی سے محروم کر دیتی ہے۔

زندگی کی رونق اُتر جاتی ہے:
جب جسمانی و ذہنی توانائی ختم ہو جائے، تو ہر کام بوجھ سا محسوس ہوتا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی خوشی بھی بے مزہ لگتی ہے، اور ہر لمحہ ایک لمبی مایوسی کا احساس دلانے لگتا ہے۔

·         ذہنی و روحانی بوجھ بڑھ جاتا ہے:
بیمار ہونے سے نہ صرف جسم کمزور پڑتا ہے بلکہ ذہنی تھکن اور افسردگی بھی سر چڑھ کر بولتی ہے۔ دل میں اداسی کے سائے گہرے ہو جاتے ہیں، اور زندگی کی ہر خوشی دھندلی محسوس ہونے لگتی ہے۔

·         معاشرتی اور جذباتی تعلقات متاثر ہوتے ہیں:
صحت کی عدم موجودگی میں انسان کی سماجی سرگرمیاں محدود ہو جاتی ہیں۔ دوستیاں، محبت اور خاندانی تعلقات پر بھی بوجھ پڑتا ہے، کیونکہ زندگی کی جدوجہد انسان کو تنہا کر دیتی ہے۔

·         امید کی کرن مدھم ہو جاتی ہے:
بے صحتی میں مستقبل کے خواب ماند پڑ جاتے ہیں۔ ہر دن ایک نئی آزمائش بن جاتا ہے اور امید کی وہ کرن جو کبھی دل کو روشن کرتی تھی، دھند میں کھو جاتی ہے۔

یہ سمجھ لیں کہ صحت نہ ہونے کا اثر محض جسمانی نہیں بلکہ ذہنی، روحانی اور معاشرتی سطح پر بھی گہرا ہوتا ہے۔ اسی لیے صحت کو ایک انمول نعمت سمجھ کر اس کی قدر اور حفاظت کرنا ضروری ہے۔ ہر لمحے کو زندگی کی اس روشنی میں گزاریں، کیونکہ صحت کی موجودگی ہی ہمیں زندگی کے اصل مفہوم اور خوشیوں سے جوڑے رکھتی ہے۔

اپنی صحت کا خیال رکھیں یہ اللہ کی نعمت ہے ۔اُس لاغر و تڑپتے مریض سے پوچھیں جو آپ جیسی زندگی کے لیے ترس رہاہے ۔اپنا خیال رکھیں رب کے شکر گزار بندے بنیں اس کی تابعداری کو ڈیلی روٹین بنائیں ۔اس کے دیے ہوئے رزق کو اچھے انداز میں صرف کریں ۔

قارئین :سچ بتاوں صحت بہت بہت بہت بڑی ہے خداکے لیے اس کی قدرکریں ۔اللہ سب بیماروں کو شفاعطافرمائے ۔آمین

آپ ہم سے طبی مشورہ بھی کرسکتے ہیں ۔

وٹس ایپ:03112268353

نمبر:03462914283

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورت کائنات کا حیرت انگیز کردار

عورت کائنات  کا حیرت انگیز کردار تحریر: حافظہ نورالایمان  بنت ظہور حمد ) دوٹھلہ نکیال آزاد کشمیر ( عورت محض کائنات کا ایک کردار نہیں، بلکہ انسانی تہذیب کی خاموش معمار، جذبات کی ترجمان اور نسلوں کے مستقبل کی امین ہے۔ وہ کبھی ماں بن کر زندگی کو جنم دیتی ہے، کبھی بیٹی بن کر گھر میں رحمت کی خوشبو بکھیرتی ہے، کبھی بہن بن کر محبت کا حصار قائم کرتی ہے اور کبھی شریکِ حیات بن کر زندگی کے دشوار راستوں کو سکون اور رفاقت سے روشن کردیتی ہے۔ عقل یہ تسلیم کرتی ہے کہ جس ہستی کی تربیت سے انسان کا کردار تشکیل پاتا ہو، اسے کمزور یا غیر اہم قرار دینا خود انسانی عقل کی توہین ہے۔ ایک تعلیم یافتہ، باکردار اور ذہنی طور پر مضبوط عورت صرف اپنی زندگی نہیں سنوارتی؛ وہ ایک خاندان، ایک نسل اور بالآخر پورے معاشرے کی فکری سمت بدل سکتی ہے۔ نفسیات بتاتی ہے کہ انسان کی شخصیت کی بنیاد ابتدائی تعلقات، جذباتی تحفظ، گفتگو اور تربیت سے بنتی ہے۔ اس عمل میں ماں اور خاندان کی دیگر خواتین کا کردار اکثر نہایت گہرا ہوتا ہے۔ عورت کی ہمدردی، جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت، صبر اور تعلقات کو جوڑنے کی قوت معاشرتی استحکام...

پرامٹ انجئیرنگ کی عملی ورکشاپ اور مشقیں

پرامٹ انجئیرنگ کی عملی ورکشاپ اور مشقیں تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) پرامپٹ انجینئرنگ صرف پڑھنے سے نہیں آتی — یہ ویسا ہی ہے جیسے ڈرائیونگ کی کتاب پڑھ لینے کے بعد بھی اسٹیئرنگ پکڑنا ضروری ہوتا ہے۔اس باب میں ہم عملی مثالوں اور مشقوں کے ذریعے یہ فن آپ کے ہاتھ میں دیں گے، تاکہ آپ آج سے ہی بہتر پرامپٹ لکھنا شروع کر دیں۔ تعلیمی سبق تیار کرنا مقصد : AI سے ایسا سبق تیار کروانا جو ایک استاد کلاس میں استعمال کر سکے۔ پرامپٹ مثال : " آٹھویں جماعت کے لیے سورۃ الفیل کی تشریح تیار کرو، آسان اردو میں، ہر آیت کے بعد مفہوم اور اس سے ملنے والا سبق لکھو " بلاگ آرٹیکل رائٹنگ اس میں ہم کنٹینٹ رائٹنگ میں پرامپٹ کی طاقت کو آزماتے ہیں اور پھر اسی طرز پر اس کے نتائج حاصل کرتے ہیں۔ پرامپٹ مثال : " گرمیوں میں پانی زیادہ پینے کی اہمیت پر 500 الفاظ کا بلاگ لکھو، طبی فوائد اور اسلامی نقطہ نظر کے ساتھ " سوشل میڈیا مہم ڈیزائن کرنا اب ہم مارکیٹنگ میں AI کا استعمال کرکے اپنے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ پرامپٹ مثال : " عیدالفطر کے موقع پر ک...

نوجوانوں کے لیے امید بھرا پیغام

Life is a race, in which some get tired and stop moving towards the destination, and some reach the destination by facing every difficulty. (Drzahoordanish) نوجوانوں کے لیے امید بھرا پیغام تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہوں ۔جہاں و جب جاتاہوں تو ایک سوال ضرورت ہوتاہے ۔ہمارا مستقبل کیاہے ۔یعنی آج کا نوجوان اپنے مستقبل کی فکروں میں گھُلتاچلاجارہاہے ۔اسٹریس تو گویااس کی ذات کا حصہ بن گئی ہے ۔اب ایسے میں میں بہت دل جلاتاتھا کہ آخر ایسا کیا کیا جائے کہ  یہ قوم کہ معمار ٹینشن فری ہوں ۔خیر اپنے حصے کی جو ممکن کوشش تھی کرتارہا۔کافی دنوں سے سوچ رہاتھا کہ اس موضوع پر کوئی مختصر کی بات ضرور کروں ۔شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات کے حصول کے لیے ۔یہ مضمون بھی اُسی کی ایک کڑی ہے ۔ پیارے قارئین: موجودہ دور میں نوجوانوں میں مستقبل کے بارے میں بے چینی اور خوف ایک عام منظر بن چکا ہے۔ یہ خوف نہ صرف ذہنی سکون چھین لیتا ہے بلکہ زندگی کی توانائی، تخلیق اور کوششوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس مضمون میں ہم اس خوف کی نوعیت، اس کے اسباب، دنیاوی و دین...