نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

بچوں کی دماغی اور جذباتی صحت



بچوں کی  دماغی اور جذباتی صحت

Mental and Emotional Health:

تحریر:ڈاکٹرظہوراحمدانش

(ایم اے ماس کمیونکیشن /ایم اے عربی و اسلامیات )

کسی کا غصیلا،جھگڑالو بچہ دیکھ کر آپ کیا محسوس کرتے ہیں ؟کسی کی بے مروت اور والدین سے لاپرواہ اولاد کو دیکھ کرآپ کی کیا کیفیت ہوتی ہے ؟یقیناآپ کہیں گے  اچھا نہیں لگے گا۔عجیب لگے گا۔توکیا آپ اپنی اولادوں کو ایسا دیکھنا چاہیں گے ؟

اگر نہیں تو پھر پوری توجہ سے یہ مضمون پڑھئے ۔

جس طرح بچوں کی جسمانی صحت کی دیکھ بحال ضروری ہے ۔اسی طرح بچوں کی mental and emotional Healthكاخيال رکھنا بھی بہت ضروری ہے ۔والدین کے مشفق و مہربان سائبان میں کھیلتے ،کودتے یہ بچے  ہر اعتبار سے بہت حُساس ہوتے ہیں لہذاان کی تعلیم و تربیت میں والدین کی سنجیدگی اور احساس ذمہ داری کا ہونا بہت ضروری ہے ۔چنانچہ ہم آپ کو بچوں کی دماغی اور جذبابی صحت کے بارے میں کچھ مفید مشورے بتاتے ہیں جو آپ کے بچوں کی شخصی تعمیر کے لیے مددگار ثابت ہوں گے ۔آئیے Tipsجانتے ہیں ۔

مضبوط کنکشن بنانا: Building Strong Connections:

کوالٹی ٹائم: Quality Time:

 اپنے بچے کے ساتھ وقفے وقفے سے یکے بعد دیگرے بات چیت کے لیے ہر روز وقت نکالیں۔ یہ ایک ساتھ کتاب پڑھنے سے لے کر گیم کھیلنے یا صرف چیٹنگ تک کچھ بھی ہو سکتا ہے۔لیکن آپ اپنا کوالٹی ٹائم اپنے بچوں کو ضرور دیں ۔

فعال سننا: Active Listening:

آپ کا بچہ جو کچھ کہہ رہا ہے اس پر توجہ دیں۔اس کی بات سنیں سمجھیں اور اس کا جواب بھی دیں تاکہ بچے کی دماغی اور جذباتی تربیت میں کوئی خلانہ رہ جائے ۔

کھلی بات چیت: Open Communication:

 اپنے بچے کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ اپنے جذبات کا آزادانہ اظہار کرے۔ انہیں بتائیں کہ اداسی، غصہ، مایوس، یا خوف محسوس کرنا فطری امر ہے۔اس میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ ہم والدین ہیں نا آپ تنہانہیں ہو۔

 مثبت ہمت و طاقت : Positive Reinforcement:

اپنے بچوں کو حوصلہ و ہمت کی مدد سے ذہنی و جذباتی تسکین  بخشیں ۔اس  سے ان کے ذہن پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے نیز جذباتی طورپر اپنے والدین کے لیے اس کے پاس ہمدردانہ احساس اجاگر ہوگا۔

روٹین اور ساخت: Routine and Structure:

روزمرہ زندگی میں کھانا پینا ،کھیل کود تو بچوں کا معمول ہوتاہی ہے لیکن آپ چونکہ والدین ہیں آپ کو ان کے لیے روٹین بنانی ہوگی ۔ہر جگہ اور ہرماحول کے اعتبار سے اپنے بچوں کو ذہنی اور جذباتی طور پر تیارکرنے کے لیے سلیقہ و طریقہ سیکھاناہوگا۔کب کس جگہ کیسے رہنا ،بولنا ،بیٹھناہے ۔یہ شعور آپ روٹین کے ذریعے بچوں کی شخصیت کا حصہ بناسکتے ہیں ۔

واضح توقعات: Clear Expectations:

یہ بچے آپکی اولاد ہیں ان سے اچھے کی امید آپ کا فطری حق ہے ۔ان کی عمر کے حساب سے ان سے کاموں کی توقع رکھیں ۔ایسا نہ ہو کہ ایک کمر عمر ترین بچے سے آپ یہ توقع کربیٹھیں کہ وہ آپ کی ہر بات کا مثبت اور آپکی توقع کے عین مطابق جواب دہ ۔یہ ایک غیر فطری سوچ اور فکر ہوگی ۔

غیر مشروط محبت: Unconditional Love:

 اپنے بچے کو بتائیں کہ آپ ان سے محبت کرتے ہیں چاہے کچھ بھی ہویہ الفاظ ان کے ذہن  کے لیے آکسیجن کا کام کریں گے ان کی جذباتی کیفیت کو مزید تقویت بخشیں گے ۔آپ کی ذات اس طرح کے احساس اور بات چیت سے محترم سے محترم ہوتی چلی جائے گی ۔بچے والدین کو اپنا مہربان سمجھیں گے ۔بچے غلطیاں کرتے ہیں لیکن اس رویہ سے بچے آپ کو پناگاہ سمجھ کر اپنی غلطیاں سدھارنے کی کوشش بھی کریں گے ۔

تنازعات کا حل: Conflict Resolution:

 اپنے بچے کو تنازعات سے نمٹنے کے صحت مند طریقے سکھائیں۔ ان کے احساسات کو پہچاننے، پرسکون انداز میں بات چیت کرنے اور حل کے لیے کام کرنے میں ان کی مدد کریں۔

جذباتی آگاہی: Emotional Awareness:

 اپنے بچے کو ان کے جذبات کی شناخت میں مدد کریں۔ انہیں مختلف احساسات کے بارے میں سکھانے کے لیے جذباتی چارٹ یا کتابیں استعمال کریں۔

مقابلہ کرنے کا طریقہ کار: Coping Mechanisms:

اپنے بچے کو مشکل جذبات پر قابو پانے کے صحت مند طریقے سکھائیں۔ اس میں سانس لینے کی گہری مشقیں، آرام کرنے کی تکنیک، یا تخلیقی آؤٹ لیٹس جیسے آرٹ یا نعت و تلاوت وغیرہ جیسے کاموں میں مشغول رہنے کی پریکٹس کروائیں ۔

جسمانی سرگرمی: Physical Activity:

باقاعدگی سے ورزش تناؤ کو کم کرنے اور موڈ کو بہتر بنانے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ اپنے بچے کو جسمانی سرگرمیاں تلاش کرنے کی ترغیب دیں جن سے وہ لطف اندوز ہوں۔

صحت مند نیند کی عادات: Healthy Sleep Habits:

 یقینی بنائیں کہ آپ کا بچہ ہر رات اپنی عمر کے گروپ کے مطابق کافی سوئے۔ یہ جذبات کو منظم کرنے اور مجموعی بہبود کے لیے بہت ضروری ہے۔

علامات کو جانیں: Know the Signs:

اپنے بچے کے رویے، مزاج، یا نیند کے انداز میں ہونے والی تبدیلیوں پر توجہ دیں۔ یہ کسی گہرے مسئلے کی نشانیاں ہو سکتی ہیں۔

اپنے ماہر اطفال سے بات کریں: Talk to Your Pediatrician

 اگر آپ اپنے بچے کی دماغی صحت کے بارے میں فکر مند ہیں تو Child specialist  سے بات کریں۔ وہ آپ کے بچے کا جائزہ لےكر وجوہات اور حل بتاسکتے ہیں اس معاملے می بالکل بھی غفلت نہ کریں ۔

 سکتے ہیں۔بچوں کی ذہنی صحت کو سہارا دینے کے لیے بہت سے وسائل دستیاب ہیں۔ آن لائن وسائل دریافت کریں یا مقامی پروگراموں یا سپورٹ گروپس کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے بات کریں۔

قارئین:اپنی اولاد کو اللہ کا انعام سمجھیں اس انعام کی قدرکریں ۔ان کی تربیت ،انکی ذہنی و جذباتی تعلیم و تربیت میں ہرگز غفلت نہ کریں ۔آپ کی توجہ اور احساس ذمہ داری بچوں کو اعصابی طور پر مضبوط اور جذباتی طور پر باہمت اور حوصلہ مند شخصیت کا حامل بنائے گا۔اللہ کریم ہمیں اور ہماری نسلوں کو نیک و پاکباز بنائے آمین

  

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

"ڈی این اے میں چھپا روحانی کوڈ؟"

" DNA میں چھپا روحانی کوڈ؟ " تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر)  ہم روٹین کی روایتی زندگی گزاررہے ہوتے ہیں ۔لیکن ہم اس کائنات کے رازوں پر غور کی زحمت نہیں کرتے ۔میں بھی  عمومی زندگی گزارنے والا شخص ہی ہوں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے مطالعہ ،مشاہد ہ بڑھتارہامجھے کھوج لگانے ،سوچنے اور سمجھنے کا ذوق ملا۔اس کافائدہ یہ ہوا کہ مجھ پر علم نئی جہات کھُلی ۔بات کہیں طویل نہ ہوجائے ۔میں کافی وقت سے سوچ رہاتھا کہ اس دور میں سائنس نے بہت ترقی کرلی ۔ڈین این اے کے ذریعے انسان کی نسلوں تک کےراز معلوم کیے جارہے ہیں ۔میں سوچ رہاتھاکہ کیا ڈین این اے ہماری عبادت یاپھر عبادت میں غفلت کوئی اثر ڈالتی ہے یانہیں ۔بہت غوروفکر اور اسٹڈی کے بعد کچھ نتائج ملے ۔ایک طالب علم کی حیثیت سے آپ سے شئیر بھی کرتاہوں ۔ممکن ہے کہ میری یہ کوشش آپ کے لیے بھی ایک لرننگ پراسس ثابت ہو۔ قارئین: ایک سوال ذہن میں آتاہے کہ کیاکیا نماز پڑھنے، روزہ رکھنے یا ذکر کرنے سے صرف ثواب ملتا ہے؟یا … آپ کی عبادتیں آپ کے DNA پر بھی اثر ڈالتی ہیں؟ یہ ہے تواچھوتاسوال آئیے ذرا اس کو حل کرتے ہیں ۔۔۔ قارئی...

نوجوانوں کے لیے امید بھرا پیغام

Life is a race, in which some get tired and stop moving towards the destination, and some reach the destination by facing every difficulty. (Drzahoordanish) نوجوانوں کے لیے امید بھرا پیغام تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) میں شعبہ تدریس سے وابستہ ہوں ۔جہاں و جب جاتاہوں تو ایک سوال ضرورت ہوتاہے ۔ہمارا مستقبل کیاہے ۔یعنی آج کا نوجوان اپنے مستقبل کی فکروں میں گھُلتاچلاجارہاہے ۔اسٹریس تو گویااس کی ذات کا حصہ بن گئی ہے ۔اب ایسے میں میں بہت دل جلاتاتھا کہ آخر ایسا کیا کیا جائے کہ  یہ قوم کہ معمار ٹینشن فری ہوں ۔خیر اپنے حصے کی جو ممکن کوشش تھی کرتارہا۔کافی دنوں سے سوچ رہاتھا کہ اس موضوع پر کوئی مختصر کی بات ضرور کروں ۔شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات کے حصول کے لیے ۔یہ مضمون بھی اُسی کی ایک کڑی ہے ۔ پیارے قارئین: موجودہ دور میں نوجوانوں میں مستقبل کے بارے میں بے چینی اور خوف ایک عام منظر بن چکا ہے۔ یہ خوف نہ صرف ذہنی سکون چھین لیتا ہے بلکہ زندگی کی توانائی، تخلیق اور کوششوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس مضمون میں ہم اس خوف کی نوعیت، اس کے اسباب، دنیاوی و دین...

مصنوعی ذہانت اور کسانوں کی دنیا

مصنوعی ذہانت اور کسانوں کی دنیا تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) کسان کی زندگی ہمیشہ مٹی، پانی، بارش اور دھوپ کے رحم و کرم پر رہی ہے۔ہزاروں برس سے کھیتی کا ہر عمل ہاتھ اور آنکھ کی محنت سے جڑا ہوا تھا۔لیکن اب ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے — ایسا دور جہاں بیج دیکھنے والی آنکھ انسان کی نہیں،ڈرون کی ہے۔مٹی کا مزاج بتانے والا ہاتھ کسان کا نہیں،مصنوعی ذہانت کا ہے۔زمین آج بھی سچ بولتی ہے،مگر اس سچ تک پہنچنے والے راستے بدل گئے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں کاشتکار، مٹی اور مشین کی مثلث عجیب مگر حیرت انگیز ہم آہنگی کے ساتھ مستقبل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت نے زراعت کو اندازے سے نکال کراعداد و شمار، سینسرز، ڈرون اور سیٹلائٹس کی دنیا میں داخل کر دیا ہے۔ AI اب مٹی کے راز آنکھ جھپکتے بتا دیتا ہے۔آئیے اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔نمی کتنی ہے،کس غذائی عنصر کی کمی ہے،فصل کی جڑ کتنی صحت مند ہے،کہاں کھاد کم یا زیادہ لگ رہی ہے،کب پانی دینا ضروری ہے، FAO کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق AI-assisted analysis سے پیداوار میں 20 سے 30 فیصد اضافہ ممکن ہے۔ یہ وہ انقلاب ہے جو پہلے صدیوں میں ب...