نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اللہ کے بندوں کی خدمت



تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش

اللہ کے بندوں کی خدمت

انسا نوں سے پیار و محبت اور ضرورت مند انسا نوں کی مددکے عمل کو ہر دین اور مذہب میں تحسین کی نظر سے دیکھا جا تا ہے لیکن دین اسلام نے خد مت ِ انسا نیت کو بہترین اخلا ق اور عظیم عبا دت قرار دیا ہے۔

قارئین آئیے ذرا فرامین مصطفی ﷺ کی روشنی اللہ کے بندوں کی خدمت کے مشن کے متعلق جانتے ہیں ۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خدمتِ خلق کو روحانی و اخلاقی بنیاد فراہم کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

خَیْرُالنَّاسِ مَنْ یَّنْفَعُ النَّاس.

(کنزالعمال، کتاب المواعظ والرقائق، باب، خطب النبی ومواعظه، ج: 16، ص: 54)

’’لوگوں میں بہتر وہ ہے جو انسانوں کو نفع پہنچاتا ہے‘‘۔

یہ نفع رسانی بغیر کسی ذاتی غرض و مصلحت کے ہے، رشتہ داروں، عام ضرورت مندوں، عام انسانوں، حتی کہ جانوروں سے حسنِ سلوک بھی پسندیدہ رویہ ہے جبکہ بدسلوکی اور ضرر رسانی ناپسندیدہ رویہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

ان شرالناس عندالله منزلته یوم القیامة من ترکه الناس اتقاء شره.

(صحیح بخاری، کتاب الادب، باب لم یکن النبی فاحشا)

’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن رتبے کے لحاظ سے بدترین انسان وہ ہوگا جس کے شر کے ڈر سے لوگ اسے چھوڑیں‘‘۔

دوسرے مقام پر فرمایا:

والذی نفسی بیده لا یومن عبد حتی یحب لاخیه مایحب لنفسه.

(سنن ترمذی، کتاب السیر، باب فی التحریق والتخریب)

’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، کوئی بندہ اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ (بھلائی) نہ چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے‘‘۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

الراحمون یرحمهم الرحمن ارحموا من فی الارض یرحمکم من فی السماء.

(مسند احمد بن حنبل، 4: 307)

’’رحم کرنے والوں پر رحمن بھی رحم کرتا ہے، زمین والوں پر رحم کرو تم پر آسمان والا رحم کرے گا‘‘۔

جی قارئین :

آج انسانیت تکلیف میں ہے ۔کبھی سوچا کہ دین تو ہمیں دوسروں کی خدمت کا پیغام دیتاہے اور ہم نے اس سبق اس درس پر کس حدتک عمل کیا ؟

ماضی کو چھوڑیں آج اور ابھی ہمت کریں اور یہ عزم کرلیں کہ ہم دوسروں کی خدمت میں کبھی غفلت نہیں برتیں گے۔جو ہوسکا جیسا ہوسکا جتنا ہوسکا ہم دوسروں کی خدمت میں اپنے حصے کی ممکنہ کوشش ضرور کریں گے ۔ہماری کوشش آپ کو فائدہ دے تو ہماری مغفرت کی دعا کردیجئے گا۔

یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں

دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر

رابطہ نمبر:03462914283 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

بچوں کو سبق کیسے یادکروائیں؟

بچو ں کو سبق کیسے یادکروائیں؟ تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) ہم تو اپنی ز ندگی گزار چکے ۔اب ہماری ہر خواہش اور خوشی کا تعلق ہماری اولاد سے ہے ۔ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد بہترین تعلیم حاصل کرے ۔اچھے عہدوں پر فائز ہو۔ترقی و عروج ان کا مقدر ہو۔جو ادھورے خواب رہ گئے وہ اب ہماری اولاد پوراکرے ۔یہ ہماراعمومی مزاج ہے ۔ بچوں کو  نشے سے کیسے بچائیں ؟ قارئین:ان خواہشوں کے پوراکرنے کے لیےایک پورا journey ہے ۔ایک طویل محنت کا سفرہے ۔جس میں والدین نے ثابت قدمی سے چلتےرہناہے ۔اس سفرمیں ابتدائی طورپر بچوں کو اسکول یامدرسہ انرول کرواناپھر اسکول و مدرسہ سے ملنے والی مشقوں وکام کو مکمل کرناہوتاہے ۔بچوں کو وہ سبق یادکرناہوتاہے ۔اب سوال یہ ہے کہ بچوں کو سبق کیسے یادکروائیں؟تاکہ وہ اچھے سے سبق یاد یادکرکے تعلیم کے میدان میں بہتر نتائج دے سکے ۔آئیے ہم جانتے ہیں کہ ہم بچوں کو کیسے سبق یاد کروائیں  ۔ v   ۔ پیارے قارئین ۔بچے کو سبق یاد کرانے کا بہترین وقت وہ ہوتا ہے جب وہ تھکا ہوا نہ ہو اور نہ ہی کسی پریشانی میں مبتلا ہو۔ خوشی اور تفریح کے موڈ میں بچہ ہر چیز آسانی سے یاد کرلیتا

درس نظامی اور مستقبل

درس نظامی کا مستقبل تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش میرے ابوڈیفنس فورس میں تھے ہم بھی اپنے ابو کے ساتھ ہی ان بیرکس میں رہتے تھے ۔یعنی ایک فوجی ماحول میں ہمارا بچپن گزرا۔جہاں وقت کی بہت اہمیت تھی ۔جس کا انداز ہ آپ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ ابو نے  کھیلنے کا وقت دیا تھا کہ پانچ بجے تک گھر پہنچنا ہے ۔تو اس پانچ سے مراد پانچ بجے ہیں پانچ بجکر 5منٹ بھی نہیں ہیں ۔اگر ایسا ہوتاتو ہمیں جواب دینا ،وضاحت دینا پڑتی ۔نفاست و نظافت   کا بہت خیال رکھاجاتا۔کپڑے کیسے استری ہوتے ہیں ۔بازو کی کف کیسے رکھتے ہیں ۔چلتے وقت سڑک کی بائیں جانب چلتے ہیں ۔وغیرہ وغیرہ ۔یعنی ایسے اصول پسند ماحول میں شروع شروع میں تو یہ سب سزامحسوس ہوتی تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ عادی ہوگئے ۔پھر جب میں نے میٹرک کی تو اللہ کے فضل سے میراشمار پڑھاکو بچوں میں ہوتاتھا میٹرک میں میرا A1 گریڈ آگیا۔جوکہ خوشی کی بات تھی ۔گھر والے مطمئن تھے ۔لیکن ابو جان نے فقط اتنا کہا کہ اس سے بھی بہتر کوشش کرتے تو نیول ایجوکیشن ٹرسٹ میں ٹاپ بھی کرسکتے تھے ۔لیکن میرے ابو ایک عظیم مفکر ،عظیم مدبر اور زمانہ ساز انسان تھے ۔جن کی باریک بینی اور دواندیشی کا ادراک  

طلبا میٹرک کے بعد کیا کریں ؟

   طلبامیٹرک  کے بعد کیا کریں؟ تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (ایم عربی /سلامیات،ایم اے ماس کمیونیکیشن) جب ہم پرائمری کلاس  میں تھے تو مڈل والوں کو دیکھ دیکھ کر سوچتے تھے کہ کب ہم مڈل میں جائیں گے ۔پھر مڈل میں پہنچ کر نویں و دسویں کے طلبا کو دیکھ کر من کرتاتھا ہم بھی میٹر ک میں جائیں ۔اسکول میں ہمارابھی دوسروں پر رُعب چلے ۔جونئیر کو ہم بھی ڈانٹ ڈپٹ کریں ۔ وغیرہ وغیرہ ۔یہ وہ عمومی خیالات ہیں جو دورِ طالب علمی میں ذہنوں میں آتے اور پھر مسافر پرندے کی طرح واپس چلے جاتے ہیں ۔لیکن وقت اپنی رفتارسے گز رتاچلاگیا اور پھر ہم ایک عملی زندگی میں داخل ہوگئے اور پلٹ کر دیکھا تو بہت سا فاصلہ طے کرچکے تھے ہم ۔بچپن ماضی کے دھندلکوں میں تھوڑا تھوڑادکھائی دیتاہے ۔کچھ زیادہ واضح نہیں ۔خیر بات طویل ہوجائے گی ۔کرنے کی بات کرتے ہیں ۔ ہم اسکول جارہے ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی سے کیرئیر کونسلنگ کی کمی اور پیرنٹنگ کے فقدان کی وجہ سے کسی منزل کسی گول کسی اسکوپ کی جانب ہماری کوئی خاص رہنمائی نہیں ہوتی ۔بلکہ ایک ہجوم کی طرح ہم بھی اپنی تعلیم اور کیرئیر کے فیصلے کررہے ہوتے ہیں ۔خیر اب تو بہت بہتری آچکی ہے ۔طلبا