نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

سیرت رسول اور شخصی تعمیر کے طریقے (سیرت سیریز)

سیرت رسول اور شخصی تعمیر کے طریقے (سیرت سیریز) تحریر:ڈاکٹرظہوراحمدانش (دوٹھلہ نکیال آزاد کشمیر ) ہر دور میں انسان شخصیت کی تعمیر کے اصول تلاش کرتا رہا ہے، مگر کامل شخصیت کا نمونہ ہمیں صرف سیرتِ محمدی ﷺ میں ملتا ہے۔ وہ ہستی جسے قرآن نے "اُسوةٌ حَسَنَة" (الاحزاب: 21) قرار دیا، نہ صرف ایک نبی تھی بلکہ انسانی نفسیات کا کے بہترین معالج ، ایک معلمِ اخلاق ، اور تعمیرِ سیرت کا معمار بھی تھے۔سیرتِ طیبہ ﷺ نہ صرف عقیدے کی روشنی ہے بلکہ نفسیاتی توازن، روحانی سکون، اور عملی بلندی کی مکمل تربیت گاہ بھی ہے۔ آئیے ہم اپنے نوجوان کی شخصی تعمیر کے لیے سیرت مصطفی ﷺ سے اصول اور طریقے جاننے کی کوشش کرتے ہیں جن کی مدد سے ہم اپنی نسلوں کی شخصی تعمیر کرسکتے ہیں ۔میں  نے کوشش کی ہے کہ ہر بات کو جداجدا اور عام فہم انداز میں پیش کروں ۔تاکہ آپ آسانی سے سمجھ سکیں ۔ہم اس مضمون میں کوشش کریں گے مختصر اور بہتر سے بہترین انداز میں  آپکو شخصی تعمیر کے لیے فکری پیغام پہنچاسکیں ۔آئیے اپنے اصل موضوع کی طرف بڑھتے ہیں ۔ خود آگہی (Self-Awareness) کی ابتدا نبی کریم ﷺ غارِ حرا کی خلوتوں میں اس ...

جنگوں کی داستان عبرت

جنگوں کی داستان عبرت تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش تاریخ انسان کے خُون سے لکھی گئی ہے۔ صدیوں سے انسان، انسان کو مٹانے پر تُلا رہا، کبھی قوم کے نام پر، کبھی مذہب کے نام پر، کبھی زمین، تو کبھی نظریہ۔ مگر جب خاک اُڑتی ہے، تو اس میں کسی فتح کی گونج نہیں سنائی دیتی—صرف بچوں کے روتے چہرے، ماؤں کی سسکیاں، اور ویران گلیاں رہ جاتی ہیں۔دنیا نے ایٹم بم بنائے، ڈرون ایجاد کیے، خلاؤں میں پہنچ گئی، لیکن ایک چیز اب تک حاصل نہ کر سکی : دلوں کا سکون اور زمین پر پائیدار امن۔آج جب ہم جدیدیت کے مینار پر کھڑے ہیں، لازم ہے کہ ماضی کے ملبے پر نظر ڈالیں—تاکہ آئندہ نسلیں انھی غلطیوں کو نہ دہرائیں۔تاریخ انسانیت کا مطالعہ کریں تو انسان نے نہ جانے کب کب اور کہاں کہاں خون کی ہولی کھیلی ۔لیکن ہم اپنے اس مضمون میں دنیا میں ہونے والے کشت و خون کے کچھ مناظر کی جھلکیاں آپ کو دکھانے کی کوشش کریں گے ۔شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات ۔۔۔۔۔۔آئیے بڑھتے ہیں تاریخ کے اوراق سے عالمی منظر نامہ جانتے ہیں ۔ ٹروجن وار یونانی اساطیر کی مشہور جنگ، جس کا محرک ایک عورت ہیلن کا اغوا تھا، درحقیقت انسانی انا اور اقتدار کی ہوس کی ...

اپنی نسلوں کودفاعی حربے سیکھائیں

اپنی نسلوں کودفاعی حربے سیکھائیں تحریر: ڈاکٹر ظہور احمد دانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) زمانے بدلتے ہیں، جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں، نظریات سے بھی لڑی جاتی ہیں۔ آج کی جنگوں میں ٹینکوں سے زیادہ ٹریننگ، بندوقوں سے زیادہ بصیرت، اور گولیوں سے زیادہ گفتار مؤثر ہو چکی ہے۔ ایسے میں ایک باشعور قوم وہی ہو سکتی ہے جو اپنی نئی نسل کو صرف کتابوں میں قید نہ رکھے، بلکہ ان کے ذہن و دل کو شعور، دفاع، اور قیادت کے رنگ میں ڈھال دے۔ دفاع کا پہلا مورچہ ماں کی گود اور باپ کی باتوں سے شروع ہوتا ہے۔جب ماں بچوں کو سلاتے وقت ” لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری “ سنائے،اور باپ روز صبح ناشتہ کرتے ہوئے غزوہ بدر کی حکمت بتائے،تو بچہ صرف پڑھا لکھا نہیں، وفادار اور مدبر پیدا ہوتا ہے۔بچوں کو چھوٹے کھیلوں میں حب الوطنی شامل کریں۔ یقین کیجیے، یہ ننھی سرگرمیاں بڑے انقلاب کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ قارئین: ہمارے تعلیمی ادارے اگر بچوں کو صرف معاشیات، سائنس یا جغرافیہ پڑھائیں، لیکن ان کے دل میں وطن، دین، اور عزتِ نفس کی قدر نہ جگائیں، تو وہ ذہین ضرور ہوں گے، لیکن غیرت مند نہیں۔ہر جماعت میں اسلامی ہیروز کے ابواب شامل...