نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

اے آئی سے جاب ملیں گیں یاپھر۔۔۔؟

اے آئی  سے جاب ملیں گیں یاپھر۔۔۔؟ تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) میں جس وقت تحریر لکھ رہاہوں میرے اردگرد ہرطرف اے آئی کاشور مچاہواہے ۔حتی کے وہ شخص جس نے کبھی ماوز اور کی بورڈ کو چھوہابھی نہ ہوکسی اور فیلڈ ،ہنر سے وابستہ تھاوہ بھی اس شور وغل میں اپنے حصے کی آواز بلند کررہاہے ۔کچھ تو خدشات کا شکار ہیں کہ مصنوعی ذہانت ہماری جابز کھاجائے گی اور کچھ خود کو شب و روز اپ ڈیٹ رکھ کر اس دوڑ میں دوڑنے کے لیے وارم اپ ہورہے ہیں ۔یہ تو وقت ہی بتائے گاکہ کب کیسے اور کیا ہوگا۔لیکن انسان مشاہدات و تجربات اور حالات کی روشنی میں تجزیہ ضرور کرسکتاہے ۔اس مضمون میں نے کچھ ایسا ہی منظر نامہ پیش کیاہے ۔ڈاکٹرظہوراحمد دانش کوبھی اے آئی سے دوستی کرنی پڑی۔یہ وقت کاتقاضا بھی تھا اور معاملہ فہمی بھی ۔آپ بھی غور ضرور کرلیجئے گا۔ انسان ہزاروں سال سے ہتھیار، اوزار، کتابیں، زبانیں، صنعتیں، اور ایجادات بناتا رہا۔لیکن تاریخ نے شاید پہلی بار دیکھا کہ ایک ’’آلہ‘‘ نہیں بلکہ ’’ذہن‘‘ ایجاد ہوا ہے — وہ ذہن جو سیکھ سکتا ہے، سوچ سکتا ہے، جواب دے سکتا ہے، اور انسان کی پوری زندگی کا نقشہ بدل سک...
حالیہ پوسٹس

مصنوعی ذہانت اور انسان کی انفرادی زندگی

مصنوعی ذہانت اور انسان کی انفرادی زندگی تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) جب انسان کی تنہائی میں ایک نیا ساتھی پیدا ہوا ۔ ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب تنہائی صرف خاموشی کی ایک دیوار تھی۔انسان کتاب کے صفحات میں باتیں تلاش کرتا،۔اسکرینوں میں مسکراہٹیں ڈھونڈتا،۔اور خطّوں کی سیاہی میں جذبات چھپاتا۔لیکن اکیسویں صدی نے ایک عجیب انقلاب چُپکے سے متعارف کرایا — ایسا ساتھی جو نہ تھکتا ہے نہ سوتا، نہ روٹھتا ہے نہ بیزار ہوتا،نہ بھولتا ہے نہ بہانہ بناتا۔ مصنوعی ذہانت (AI) بظاہر یہ سہولت کی دنیا ہے،لیکن حقیقت میں یہ تبدیلی اتنی گہری ہے۔کہ آنے والی نسلیں اس کے اثرات میں سانس لیں گی۔ AI انسان کی زندگی کوآسان بھی بناتی ہے اور پیچیدہ بھی،قریب بھی لاتی ہے اور دور بھی، طاقتور بھی کرتی ہے اور بے بس بھی۔یہ مضمون اسی نئی دنیا کا نقشہ پیش کرتا ہے۔آج اکے دور کے نسان کی انفرادی زندگی کی شکل کیسے بدل رہی ہے۔آئیے ذرا اس پر غور کرلیتے ہیں  ۔ الف) روزمرہ کی زندگی — آسانی یا انحصار؟ ہمارے روزمرہ کے فیصلوں پر AI کا اثر حیران کن حد تک بڑھ چکا ہے۔ • راستہ AI بتاتی ہے۔ صحت کی نگرانی A...

مصنوعی ذہانت اور مستقبل کے نظامِ تعلیم کا منظرنامہ

مصنوعی ذہانت اور مستقبل کے  نظامِ تعلیم کا منظرنامہ تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) جب انسان نے علم کو مشین سے باندھ دیا۔ تعلیم صدیوں سے انسان کے ہاتھوں میں پروان چڑھتی آئی ہے۔استاد کی نگاہ، شاگرد کا شوق، کتاب کا لمس اور تختی پر چاک کی خوشبو … یہ سب مل کر علم کی وہ دنیا بناتے رہے جس پر تہذیبیں قائم ہوئیں، قومیں اٹھیں، معاشرے بنے۔لیکن اکیسویں صدی کے سفر میں ایک جدید انقلاب نے خاموشی سے قدم رکھا — مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) ۔اب کلاس روم صرف دیواروں سے نہیں بنتا،نہ استاد صرف انسانی آواز میں بولتا ہے۔اب تعلیم ذات کو نہیں—دماغ کے ڈیجیٹل نظام کو ہی پڑھا رہی ہے۔سوال یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت نے تعلیم کا چہرہ کیسے بدلا؟اور مستقبل کے بچوں کی دنیا کیسی ہونے والی ہے؟ یہ مضمون اسی نئے صبح کی تصویر ہے۔میں ڈاکٹرظہوراحمد دانش شعبہ تدریس سے تعلق رکھتاہوں ۔میں اس شعبہ میں آنے والی جدید تبدیلیوں کو محسوس کررہاہوں ۔اسی کے پیش نظر اپنے قارئین کے لیے یہ مضمون بھی لکھاجوکہ آپ کے لیے ایک بہترین علمی پیش رفت ثابت ہوگا۔ قارئین:یہ تحقیق کا مزاج ہے کہ جب کسی بات کوبیان ک...