عادی مریض شخص (Substance Use Disorder) مادّہ جاتی لت ایک سنجیدہ جسمانی اور نفسیاتی مرض ہے جس میں انسان نشہ آور اشیاء—جیسے منشیات، الکحل یا بعض دوائیں—استعمال کرنے پر اس حد تک مجبور ہو جاتا ہے کہ اسے اپنے عمل کے نقصان کا پورا شعور ہونے کے باوجود وہ خود کو روک نہیں پاتا۔ یہ مرض آہستہ آہستہ انسان کی سوچ، عادت اور زندگی پر قابض ہو جاتا ہے۔ کیوں ہوتا ہے؟ یہ لت اکثر ذہنی دباؤ، شدید غم، جذباتی محرومی، تنہائی، ناکامی، غلط صحبت، تجسس، یا وقتی سکون کی تلاش سے شروع ہوتی ہے۔ بعض اوقات خاندانی ناچاقی، معاشی مسائل اور معاشرتی بے توجہی بھی انسان کو اس راستے پر دھکیل دیتی ہے۔ علامات : نشہ بار بار کرنے کی شدید خواہش، مقدار میں اضافہ، چھوڑنے پر گھبراہٹ، غصہ اور بے چینی، جھوٹ بولنا، چڑچڑاپن، ذمہ داریوں سے غفلت، جسمانی کمزوری، اور آہستہ آہستہ رشتوں اور عزت کا بکھر جانا۔ کیفیت : دل میں مسلسل اضطراب، دماغ میں بے قراری، جسم میں طلب کی تڑپ—اور روح میں ایک گہرا خلا۔ انسان جانتا ہے کہ یہ راستہ غلط ہے، مگر خواہش کی زنجیر اُسے باندھے رکھتی ہے۔ مریض کو کیا کرنا چاہیے؟ سب سے پ...
اے آئی سے جاب ملیں گیں یاپھر۔۔۔؟ تحریر:ڈاکٹرظہوراحمددانش (دوٹھلہ نکیال آزادکشمیر) میں جس وقت تحریر لکھ رہاہوں میرے اردگرد ہرطرف اے آئی کاشور مچاہواہے ۔حتی کے وہ شخص جس نے کبھی ماوز اور کی بورڈ کو چھوہابھی نہ ہوکسی اور فیلڈ ،ہنر سے وابستہ تھاوہ بھی اس شور وغل میں اپنے حصے کی آواز بلند کررہاہے ۔کچھ تو خدشات کا شکار ہیں کہ مصنوعی ذہانت ہماری جابز کھاجائے گی اور کچھ خود کو شب و روز اپ ڈیٹ رکھ کر اس دوڑ میں دوڑنے کے لیے وارم اپ ہورہے ہیں ۔یہ تو وقت ہی بتائے گاکہ کب کیسے اور کیا ہوگا۔لیکن انسان مشاہدات و تجربات اور حالات کی روشنی میں تجزیہ ضرور کرسکتاہے ۔اس مضمون میں نے کچھ ایسا ہی منظر نامہ پیش کیاہے ۔ڈاکٹرظہوراحمد دانش کوبھی اے آئی سے دوستی کرنی پڑی۔یہ وقت کاتقاضا بھی تھا اور معاملہ فہمی بھی ۔آپ بھی غور ضرور کرلیجئے گا۔ انسان ہزاروں سال سے ہتھیار، اوزار، کتابیں، زبانیں، صنعتیں، اور ایجادات بناتا رہا۔لیکن تاریخ نے شاید پہلی بار دیکھا کہ ایک ’’آلہ‘‘ نہیں بلکہ ’’ذہن‘‘ ایجاد ہوا ہے — وہ ذہن جو سیکھ سکتا ہے، سوچ سکتا ہے، جواب دے سکتا ہے، اور انسان کی پوری زندگی کا نقشہ بدل سک...